آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
اتوار9؍ربیع الاوّل1440ھ 18؍نومبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
S
لندن میں ہائیڈ پارک میں ایک کارنر ایسا ہے جہاں ہر شخص کو تقریر کرنے کی آزادی ہے اس کا برطانوی شہری ہونا ضروری نہیں۔ چنا نچہ یہاں غیر ملکوں سے دل جلے آتے ہیں اور اپنے دل کی بھڑاس نکالتے ہیں، حتی کہ خود برطانوی حکومت یا اس کے وزیر اعظم تک پر تنقید کرتے اور الزام لگاتےہیں نہ کوئی باز پرُس کرتا ہے، نہ کسی کی گرفتاری ہوتی ہے اور نہ کسی پر مقدمہ قائم ہوتا ہے، جس کا جی چاہے لکڑی کا ایک خالی کھوکا لے آئے اور اس پر کھڑے ہوکر سیاسی، معاشی یا کسی اور موضوع پر تقریر شروع کردے یا باغیانہ نظم سنائے۔ پارک میں تفریح کے لئے آنے والے ہر مقرر کے گرد جمع ہوجاتے ہیں، مجمع گھٹتا بڑھتا رہتا ہے بعض وقت صرف دو چارہی سامعین ہوتے ہیں اور بعض وقت چالیس پچاس کا اجتماع ہوجاتا ہے۔ برطانوی حکومت کو اس پر فخر ہے کہ یہ ملک میں آزادی تقریر کا نمونہ ہے۔
دنیا میں جنگ کا رواج بہت پرانا ہے۔ جیسے جیسے انسان ترقی کرتا گیاویسے ہی طرح طرح کے ہولناک ہتھیار حتی کہ جوہری بم تک تیار ہوگئےاور جاپان کے دو شہروں پر اس کا تجربہ کرکے لاکھوں افراد کو ہلاک اور زندہ رہنے والوں کو عمر بھر کے لئے معذور کردیا گیا۔ جنگ میں جیتنے والے اور ہارنے والے دونوں ہی اپنے زخم چاٹتے رہتےہیں۔ کچھ سیاست دانوں کو یہ خیال آیا کہ جنگ سے بچنے کا کوئی طریقہ ایجاد کرنا

چاہئے ۔ چنانچہ 1945میں لیگ آف نیشنز کی تشکیل ہوئی۔ چند سال بعد اس کو یونائٹیڈ نیشنز آرگنائزیشن میں تبدیل کردیا ، اس کے قیام کے بعد جنگ نہ رکی ویت نام، ایران اور کویت، روس وافغانستان، امریکہ اور عراق وغیرہ کے درمیان لڑائیاں ہوئیں، آج کل شام و یمن میں فلسطین و اسرائیل میں جنگ جاری ہے مگر اقوام متحدہ کو امن کا نشان باور کیاجاتا ہے۔ اس کا آغاز 63ملکوں کی رکنیت سے ہوا آج اس کے اراکین ملکوں کی تعداد 194ہے اس کا سب سے نیا رکن ملک فلسطین ہے، گو یہ عالمی ادارہ ہے مگر اس پر عمل دخل ریاست ہائے متحدہ امریکہ، برطانیہ، روس، فرانس اور چین کو حاصل ہے کوئی تجویز یا تحریک ان پانچوں کی مشترکہ تائید کے بغیر منظور نہیں ہوسکتی، اگر ایک رکن بھی اختلاف کرے تو وہ تجویز مسترد ہوجاتی ہے۔ چنانچہ بہت سے عالمی معاملات اسی وجہ سے چوپٹ ہوگئے۔
ہر سال جنرل اسمبلی کا اجلاس ہوتا ہے جس میں تمام ممالک کو شرکت کی دعوت دی جاتی ہے۔ اس سال ستمبر کے آخری دنوں میں جنرل اسمبلی کا سترواں اجلاس ہوا۔ 28ستمبر کو میں نے ٹی وی کا بٹن دبایا تو سی این این کا پروگرام آرہا تھا جس میں جنرل اسمبلی کی کارروائی دکھائی جارہی تھی۔ پہلی تقریر ریاست ہائے متحدہ امریکہ کے صدر اوباما کی تھی، انہوںنے امریکہ کی کارگزاریوں اور عالمی دہشت گردی کا ذکر کیا۔ ساتھ ہی یہ بھی کہا کہ تنہا یو ایس اے اس پر قابو نہیں پاسکتا اس میں تمام عالمی طاقتوں کو حصہ لینا چاہئے۔ انہوں نے یوکرین اور شام میں روسی مداخلت کی بڑھتی ہوئی کوشش کی مذمت کی۔ مزید یہ کہ بشارالاسد کو جانا چاہئے، دوسرے اسپیکر روس کے صدر ولادیمر پیوٹن تھے ۔ جنہوں نے شام میں امریکی مداخلت کی مذمت کی گو انہوںنے داعش کے خلاف امریکہ کے ساتھ لڑنے پر آمادگی ظاہر کی، اس کے بعد ایران کے وزیر اعظم تھے جنہوں نے امریکہ سے نیوکلیاتی معاہدے کی تعریف کی اور منیٰ سانحہ پر برادر ملک کو ذمہ دار قرار دیا۔ اس کے بعد پہلے دن کی کارروائی ختم ہوگئی۔ تیسرے دن وزیر اعظم پاکستان نے انگریزی میں تقریر کی انہوں نے داعش جیسی تنظیموں کا خاتمہ کرنے پر زور دیا، کونسل کے مستقل ارکان کو بے فائدہ بتایا اور کہا کہ سیکورٹی کونسل کو طاقت ور ملکوں کا کلب نہیں بننا چاہئے انہوں نے مسلمانوں کے ساتھ ناانصافیاں اور کشمیر اور فلسطین کی آواز اٹھائی۔ بھارت کے طرز عمل کو دیکھتے ہوئے امن کا چار نکاتی منصوبہ پیش کیا کہ کشمیر اور سیاچن سے فوجی انخلا کیا جائے ۔ بھارت اور پاکستان کنٹرول لائن پر جنگ بندی کے معاہدے کا احترام کریں، دونوں ممالک کوکسی بھی صورت میں ایک دوسرے کو دھمکیوں اور طاقت کے استعمال سے گریز کرنا چاہئے۔
کشمیر کے معاملے پر زور دیتے ہوئے انہوںنے کہا کہ یہ ایک متنازع مسئلہ ہے اور جب تک اس کو کشمیریوں کی خواہشات کے مطابق حل نہ کیا جائے گاخطے میں امن قائم نہیں ہوسکتا۔ عالمی برادری اور اقوام متحدہ کو بھارت پر دبائو ڈالنا چاہئے اجلاس میں بھارت کے وزیر اعظم موجود تھے مگر مصلحتاً انہوں نے بھارتی وزیر خارجہ سشما سوراج کو اقوام متحدہ کو مخاطب کرنے کے لئے نامزد کیا۔
موصوفہ نے ہندی میں تقریر کرتے ہوئے کہا کہ بھارت کو چار نکات کی ضرورت نہیں اس کو صرف ایک نکتہ کافی ہے۔ پاکستان دہشت گردی ختم اور صرف ہماری شرائط اور ایجنڈے پر عمل کرے۔ نیز کشمیر سے فوج نکالنا مسئلے کا حل نہیں ۔ پاکستان نے بھارت میں ملوث ہونے کے ثبوت بعد میں اقوام متحدہ میں پاکستان کی سفیر ڈاکٹر ملیحہ لودھی نے اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کو دیئے جو اقوام متحدہ کی لائبریری کی زینت بن جائیں گے کھیل ختم پیسہ ہضم سانحہ منٰی کو 17دن گزر گئے ابھی تک شہدا اور زخمیوں کی صحیح تعداد معلوم نہ ہوسکی، تازہ اطلاعات کے مطابق 94پاکستانی شہید اور 23لاپتہ ہیں۔ دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ان کا حج اور ہونے والے عمرے قبول فرمائے۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں