آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
بدھ5؍ ربیع الاوّل 1440ھ 14؍نومبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
کیا کہوں؟ کہاں سے شروع کروں؟ اس خودساختہ نام نہاد دانشور کپتان کی کیمیائی خصوصیات کے بارےجتنا بھی بیان کروں کم ہے۔ میرا خیال ہےاس اکیلے فرد نے جمہوریت کا نام لیکر جمہوریت کو جتنا نقصان پہنچایا اتنا سلفیورک ایسڈ نے اس بیکر کو نہیں پہنچایا ہوگا جس میں اسے رکھا جاتا ہے۔ خورشید شاہ کا کہنا ہے کہ ملک بھر میں موجود یوٹرن بورڈز اتار کر عمران خان کی تصویر آویزاں کردی جائے۔ گزشتہ چند دنوں میں عمران خان کی سوشل میڈیا ٹیم نے مسلم لیگ کے لانگ مارچ کا اپنے لاک ڈائون سے موازنہ کرتے ہوئے خوب پروپیگنڈا کیا۔ عمران خان خود تو تحقیق کرنے کے قابل ہی نہیں ہیں اور کسی نے انہیں بتایا بھی نہیں کہ مسلم لیگ ن کا لانگ مارچ کا مقصد پیپلزپارٹی کی حکومت کا گرانا نہیں تھا بلکہ اس وقت تمام اپوزیشن پارٹیاں اور عوام کا یک نکاتی ایجنڈا عدلیہ کی بحالی تھا اور وہ مقصد میاں نوازشریف نے قوم کے ساتھ مل کر حاصل کرلیا۔ تیسری طاقت کی ٹیک اوور میں عدم دلچسپی کے باعث کے انتشار کی سونامی بے نام و نشان ہوگئیں۔ پانامہ لیکس میں ایک پارٹی نے اپنی ہٹ دھرمی کی بنا پر متفقہ ٹی او آر نہ بننے دیئے جس کی وجہ سے تحقیقاتی کمیشن نہ بن پایا یہ غیرملکی طاقتوں کا پلان سی تھا۔ وزیراعظم کی طرف سے سپریم کورٹ کو کمیشن بنانے کا خط بھی لکھنے کے باوجود ملک کو شدید

بے چینی اور انتشار کا شکار کرنے والی پس پردہ قوتوں نے اسلام آباد کو بند کرنے کا منصوبہ بنا لیا۔ پہلا پڑائو رائیونڈ جلسہ تھا جس میں وزیراعظم کے مستعفی ہونے تک اسلام آباد لاک ڈائون کرنے کا اعلان کیا گیا۔ لاہور کے جلسہ سے لیکر آج تک تحریک انصاف کی اندرونی سیاست کا جائزہ لیا جائے تو پتہ چلتا ہے کہ عمران خان کا رویہ اب تک سولو فلائٹ لینے والے شخص کا ہے۔ اندرون خانہ کا کہنا ہے کہ وہ مشوروں کو برملا رد کردینے کے عادی ہیں۔ ثبوت یہ ہے کہ سب سے پہلے جسٹس وجیہہ الدین اس کے بعد مخدوم جاوید ہاشمی ان کی کشتی سے اتر گئے۔ بلدیاتی انتخابات میں ریحام خان کو طلاق تحریک انصاف کی بلدیاتی انتخابات میں شکست فاش کی بڑی وجہ ٹھہری۔ گذشتہ دو سالوں میں پارٹی میں جہانگیر خان اور علیم خان کے بڑھتے ہوئے غلبہ اور نظر انداز ہونے پر شاہ محمود قریشی عمران خان اختلافات اس انتہا پر پہنچ گئےکہ شاہ محمود کے پارٹی چھوڑنے کی خبریں زبان زدعام ہوئیں۔ ریحام خان سے شادی اور بعض وجوہ کی بنا پر میانوالی سے عمران خان کے کزنز بھی ان سے علیحدہ ہوگئے۔ خوابوں کا تاج محل کرچی کرچی ہونے کے بعد سابق گورنر پنجاب چوہدری سرور بھی عمران خان سے سخت ناراض دکھائی دیتے ہیں اور پارٹی سے عملی خلع لے چکے ہیں۔ رائیونڈ جلسہ اور اسلام آباد لاک ڈائون کی پوری تحریک میں وہ غائب پائے گئے ہیں۔ قوم کے ساتھ سچ بولنے کا عہد کرنے والے عمران خان نے تو ریحام خان سےاپنی شادی کی تاریخ کے بارے میں بھی جھوٹ بولا۔ پارلیمنٹ اور پی ٹی وی حملوں میں ملوث اپنے کارکنوں کو بچانے کیلئے انھوں نے جب سارا ملبہ پاکستان عوامی تحریک پر ڈالا تو ڈاکٹر طاہر القادری کے دل میں رنجش پیدا ہوگئی۔ خرابی تعلقات کی خلیج اس وقت مزید بڑھ گئی جب رائیونڈ چڑھائی کے اعلان سے قبل عمران خان نے انھیں اعتماد میں نہ لیا جس کا برملا اظہار ڈاکٹر طاہر القادری نے کیا۔ رنجش نےمزید آگ اس وقت پکڑ لی جب عمران خان نے غرور و تکبر سے کہا میں نے کونسا رشتہ لینے جانا تھا؟ یہی وہ وقت زوال تھا جب عمران خان نے کہا میں اکیلا ہی اسلام آباد کو لاک ڈائون کروں گا۔ بعد ازاں طاہر القادری سے معافی مانگنے کے باوجود بھی وہ اس کا حصہ بننے پر راضی نہ ہوئے۔ خود اپنے گھر میں محصور رہ کر ملک بھر کے کارکنوں کو اکیلے ہی بنی گالا آنے کی دعوت دینے والے عمران خان نے اپنی سیاسی ناپختگی پر مہر ثبت کردی ہے۔ خیبر پختونخوا کے کارکنوں کو تو پرویز خٹک کا سہارا حاصل تھا جبکہ لاہور اور دیگر شہروں کے کارکن تن تنہا ہی رہے۔ شاہ محمود قریشی، علیم خان، جہانگیر ترین، اسد عمر و دیگران دس لاکھ خیالی کارکنوں کو ٹی وی پر بیٹھ کر ہی پکارتے رہے۔ شیخ رشید اور عمران خان کے درمیان اختلافات کی خلیج پیدا ہوگئی ہے جس کا ثبوت یہ ہے کہ عمران خان نے کہا کہ میں کسی کے کہنے پر باہر نہیں نکلتا بلکہ اپنی سٹریٹیجی پر عمل کرتا ہوں۔
سپریم کورٹ کا فیصلہ آنے کے بعد عمران خان نے حسب عادت ایک اور یو ٹرن لیا اور اپنی خفت مٹانے کیلئے یوم تشکر منانے کا اعلان کیا۔ ہمراہ کھڑے علیم خان اور جہانگیر ترین کی ماتم کناں باڈی لینگوئج ان کی توقعات کے برعکس تھی اور اس سے تھوڑی دیر قبل ہی نعیم الحق بڑے غصہ میں دھرنے کا دعویٰ کر چکے تھے۔ اس اعلان کے بعد شیخ رشید اسکرین سے غائب ہوچکے ہیں۔ خبر تو یہ بھی ہے کہ دھرنا ہونے اور عمران خان کے باہر نکلنے پر بھی کروڑوں کا جوا لگا ہوا تھا اور جوئے کا اصول ہے کہ جس امر کی حمایت میں زیادہ افراد بیٹنگ کرتے ہیں وہ امر واقع نہیں ہوپاتا۔ ازراہ تفنن جملہ جو زبان زد عام ہوا ہے کہ پٹھان نےکارپٹ بڑے دھڑلے سے دس ہزار کا بتایا اور پانچ سو میں بیچ دیا۔


.

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں