آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
جمعرات6؍ ربیع الاوّل 1440ھ 15؍نومبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
بڑے چوہدری صاحب نے واقعی بڑوں جیسی بات کی، اسپیکر قومی اسمبلی کا انتخاب اتفاق رائے سے ہو اور وہ جماعتی وابستگی سے بالاتر ہو کر اپنے فرائض انجام دے۔ قومی اسمبلی کو آئندہ اجلاس میں اسپیکر کا انتخاب کرنا ہے۔ 22 اگست کو کو الیکشن ٹریبونل کے فیصلے کے تحت لاہور کے حلقہ 122سے جناب ایاز صادق کا انتخاب کالعدم قرار پایا۔11اکتوبر کو ضمنی انتخاب میں وہ یہاں سے دوبارہ منتخب ہو گئے (مشرف دور والے، اکتوبر 2002ءکے انتخابات سے حساب کیا جائے تو یہ ان کی چوتھی جیت ہے جس میں دو بار انہوں نے عمران خان کو شکست دی)۔ الیکشن ٹریبونل کے فیصلے کے تحت وہ قومی اسمبلی کے رکن نہ رہے تو اسپیکر کا عہدہ بھی خالی ہو گیا جس کے بعد قومی اسمبلی کا اجلاس ہوتا توپہلا کام نئے اسپیکر کا انتخاب تھا۔ مسلم لیگ ن کی قیادت سردار ایاز صادق ہی کو دوبارہ اسپیکر بنانا چاہتی تھی، چنانچہ فیصلہ ہوا کہ اسمبلی کا اجلاس سردار صاحب کے دوبارہ منتخب ہونے کے بعد ہی بلایا جائے۔ حزبِ اختلاف کے ارکان کی تعداد اتنی نہیں تھی کہ اسمبلی کا اجلاس ـ’’ریکوزٹ‘‘ کر سکیں ( اس کیلئے ایوان کے کل ارکان کی ایک چوتھائی تعداد ضروری تھی)۔ جون 2013ء میں سردار ایاز صادق بھاری اکثریت کیساتھ اسپیکر منتخب ہوئے تھے۔ مسلم لیگ ن اور اسکی تحادی جماعتوں کے علاوہ انہیں پیپلزپارٹی، ایم کیو

ایم، جماعتِ اسلامی اور جنابِ شرپاؤ کی قومی وطن پارٹی کی حمایت بھی حاصل تھی اگرچہ جماعتِ اسلامی اور قومی وطن پارٹی خیبرپختونخوامیں تحریکِ انصاف کی اتحادی تھیں۔ تحریکِ انصاف نے ایاز صادق کے مقابلے میں اپنا امیدوار کھڑا کیا تھا جسے تحریک کے ارکان کے علاوہ صرف فرزندِ لال حویلی کا ووٹ مل سکا۔دو روز بعد وزیرِ اعظم کے انتخاب میں بھی یہی منظر تھاجب نواز شریف 244 ووٹوں کیساتھ وزیرِ اعظم منتخب ہوئے۔ تحریکِ انصاف جاوید ہاشمی کوان کے مقابل لائی جنہوں نے31ووٹ حاصل کئے تھے۔ نواز شریف کو مبارک باد دیتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ وہ کل بھی میرے لیڈر تھے آج بھی میرے لیڈر ہیں۔ اس پر تحریکِ انصاف کے سوشل میڈیا کی طرف سے تندوتیز یلغار ہوئی تو خیال تھا کہ ہاشمی وضاحتوں کا سہارا لیں گے لیکن قول و قرار کے پکے ’’باغی‘‘ کا کہنا تھا کہ انہوں نے ایک ایک لفظ سوچ سمجھ کر ادا کیا اور وہ اب بھی اس پر قائم ہیں۔ وہ اسے غیرجمہوری قوتوں کیلئے میسج قرار دے رہے تھے۔ اسپیکر منتخب ہونے کے بعد ایاز صادق تمیزِ من و تو سے بالاتر ہو گئے کہ اب وہ پورے ہاؤس کے کسٹودین تھے اور اس حیثیت میں انہوں نے اپنے فرائض کی ادائیگی میں کسی کوتاہی اور کسی ناانصافی کا ارتکاب نہ کیا۔ صحت یابی کے بعد عمران خان نے انہی کے روبرو قومی اسمبلی کی رکنیت کا حلف اٹھایا اور ایچی سن اسکول کے دنوں کے دوست کو اسپیکر شپ پر مبارکباد بھی دی۔ صرف فرزندِ لال حویلی تھا جسے یہ شکایت رہی کہ جنابِ اسپیکر اس کا مائیک بند کر دیتے ہیں۔ ظاہر ہے کہ اسپیکر کو قواعدوضوابط کے مطابق ایوان کی کارروائی چلانا تھی جس کے اپنے آداب تھے۔ جناب شیخ کی زبان اور لب و لہجہ ان آداب سے ماورا ہوتا تو اسپیکر فاضلِ رکن کی ’’زبان بندی‘‘ پر مجبور ہو جاتے۔اس دوران صرف دو مواقع تھے جب سردار ایاز صادق نے متنازع فیصلے دیے، یہ تحریکِ انصاف اور پھر ایم کیو ایم کے استعفوں کا معاملہ تھا۔ ناقدین کے خیال میں انہوں نے آئینی تقاضوں کی بجائے مصلحت سے کام لیا، لیکن یہ مصلحت ذاتی نہیں، سیاسی تھی اور ہمارے خیال میں اس پر جنابِ اسپیکر کو اس لئے رعایت دے دینی چاہیے کہ اس سے پہلے نظریۂ ضرورت آمریتوں کے جواز کیلئے بروئے کار آتا رہا تھا، اب ایاز صادق نے اسے عظیم تر جمہوری مقاصد کیلئے استعمال کیا تو اسے گوارہ کرنے میں کوئی حرج نہ تھا۔قومی اسمبلی کو اپنے آئندہ اجلاس میں اسپیکر کا انتخاب کرنا ہے تو فطری طور پر اس کیلئے نگاہیں سردار ایاز صادق کیلئے اٹھ رہی ہیں اور اس کے ساتھ ہی یہ تبصرے اور تجزیے بھی کہ کیا اس بار بھی انہیں پیپلزپارٹی، ایم کیو ایم، جماعتِ اسلامی اور قومی وطن پارٹی کی حمایت حاصل ہو گی؟ تحریکِ انصاف اپنا امیدوار لائے گی تو جماعتِ اسلامی اور قومی وطن پارٹی تو شاید اب اپنے سیاسی اتحادی کو ہی سپورٹ کریں لیکن پیپلزپارٹی اور ایم کیو ایم کیلئے تحریکِ انصاف کو سپورٹ کرنا شاید آسان نہ ہو اور یہ سوال بھی کہ کیا حزبِ اختلاف کی تمام جماعتیںاپنا مشترکہ امیدوار لاسکیں گی؟ ادھر یہ افواہیں بھی گردش کر رہی ہیں کہ سردار ایاز صادق کیلئے خود مسلم لیگیوں میں یکسوئی نہیں۔ ان کے متبادل کے طور پر مرنجاں مرنج لیکن وفاداری میں پکے اور سچے، پرویز ملک کا نام بھی لیا جا رہا ہے۔ میاں صاحب کی امریکہ سے واپسی پر فیصلہ ہو جائے گا اور غالب امکان یہی ہے کہ سردار ایاز صادق ہی نئے اسپیکر ہونگے لیکن بڑے چوہدری صاحب کی اس بات کو پیشِ نظر رکھنے میں بھی کوئی حرج نہیں کہ اسپیکر کا انتخاب اتفاق رائے سے ہو۔ اس کیلئے مسلم لیگ ن کی قیادت دیگر جماعتوں سے مشاورت کرے۔ہماری عاجزانہ گزارش ہے کہ اگر سردار ایاز صادق کی بجائے کسی اور کو اسپیکر بننا ہے تو اس کیلئے بلوچستان پر نظر کی جائے جس کے پاس وفاق میں کوئی بڑا عہدہ نہیں (کچھ عرصہ قبل بریگیڈئر (ر) صولت بھی یہ تجویز پیش کر چکے ہیں)۔ بلوچستان کو چھوٹے صوبوں میں سب سے چھوٹا شمار کیا جاتا لیکن وزیرِ اعلیٰ ڈاکٹر عبدالمالک نے گزشتہ دنوں لاہور میں بڑی دلچسپ بات کہی، ہم چھوٹے نہیں، رقبے ، وسائل اور ساحل کے لحاظ سے سب سے بڑے ہیں۔ آزادی ٔ کشمیر کے مجاہدِ اول جناب سردار عبدالقیوم کے انتقال کے 3ماہ بعد ان کی یاد میں اس ریفرنس کا اہتمام ہمارے دوست جناب اسلم زار ایڈووکیٹ نے اپنی تنظیم ’’پاکستان اسمبلی آف مسلم یوتھ‘‘ کے زیرِ اہتمام کیا تھا۔ اسلم زار کسی زمانے میں مسلم اسٹوڈنٹس فیڈریشن میں طلبا سیاست کے حوالے سے ایک بڑا نام تھا۔ وہ سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے جنرل سیکرٹری بھی رہے۔ مجاہدِ اول کیلئے اس کارِ خیر میں انہیں اپنے ہمدمِ دیرینہ سعد رفیق کی بھرپور مدد بھی حاصل تھی۔یہاں ریاض فتیانہ بھی تھے۔ وہ ایم ایس ایف کے صدر تھے تو سعد اس کے سیکرٹری جنرل۔لیکن عملی سیاست میں دونوں کی راہیں جدا تھیں۔ فتیانہ دو، تین سیاسی گھاٹوں کا پانی پینے کے بعد ان دنوں تحریکِ انصاف کے تالاب سے سیریاب ہونے کی کوشش کر رہے ہیں۔ سعد رفیق کا معاملہ مختلف ہے، ایک بار آنکھ لڑ گئی تو کسی اور طرف آنکھ اٹھا کر بھی نہ دیکھا۔ میاں صاحب کی جلاوطنی کے دنوں میں مشرف کے عتاب کے علاوہ وہ اپنوں کے ہاتھوں بھی ستائے گئے۔ تب عمران خان خود جا کر ملے اور تحریکِ انصاف کی سیکرٹری جنرل شپ پیش کی لیکن خواجہ رفیق شہید کا بیٹا اپنی وفاداری کا سودا کرنے پر آمادہ نہ ہوا۔
سردار قیوم کے ریفرنس کیلئے بلوچستان سے سردار قیوم کے ریفرنس کیلئے بلوچستان سے ڈاکٹر مالک بھی تشریف لائے تھے۔ ان کی اس بات سے کسے انکار ہو گا کہ بلوچستان میں وہ ڈکٹیٹر مشرف کی لگائی ہوئی آگ کو بجھانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ بزرگ بلوچ رہنما اکبر بگٹی کے قتل نے راکھ میں دبی ہوئی چنگاریوں کو الاؤ میں تبدیل کر دیا تھا جسے ٹھنڈا کرنے کیلئے نواز شریف نے 11مئی 2013 کے عام انتخابات کے بعد بلوچ قوم پرست ڈاکٹر مالک کو ڈرائیونگ سیٹ پر بٹھانے کا فیصلہ کیا۔ سوا دو سال کے عرصے میں بلوچستان میں شورش پر قابو پانے اور امن و امان بحال کرنے میں ڈاکٹر مالک کی حکومت کی کارکردگی قابلِ اطمینان ہی نہیں، لائقِ تحسین بھی ہے۔ اتوار کی شام سعد رفیق کی طرف سے دیئے گئے عشائیے میں ڈاکٹر مالک اسکا کریڈٹ سب کو دے رہے تھے۔ ان کے بقول اس میں وفاقی حکومت، مسلح افواج اور رینجرز سمیت قانون نافذ کرنے والے اداروں کا بھی اہم کردار ہے۔ ’’ناراض‘‘ بلوچوں سے مذاکرات کو وہ حوصلہ افزا قرار دے رہے تھے۔ پاک چائنہ اکنامک کوریڈور، گوادر کی بندرگاہ اور بلوچستان میں تعمیر و ترقی کے منصوبوں کے حوالے سے بھی ان کی گفتگو، دلوں کے شگوفے کھلا گئی۔ایک طویل عرصے کے بعد کوئٹہ میں بس دھماکہ اور بولان میں خود کش حملہ افسوسناک تو ہے لیکن خلاف ِ توقع نہیں کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ کو اپنی کامیابیوں کے ساتھ ابھی کچھ اور جاری رہنا ہے۔
ڈاکٹر مالک بھی تشریف لائے تھے۔ ان کی اس بات سے کسے انکار ہو گا کہ بلوچستان میں وہ ڈکٹیٹر مشرف کی لگائی ہوئی آگ کو بجھانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ بزرگ بلوچ رہنما اکبر بگٹی کے قتل نے راکھ میں دبی ہوئی چنگاریوں کو الاؤ میں تبدیل کر دیا تھا جسے ٹھنڈا کرنے کیلئے نواز شریف نے 11مئی 2013 کے عام انتخابات کے بعد بلوچ قوم پرست ڈاکٹر مالک کو ڈرائیونگ سیٹ پر بٹھانے کا فیصلہ کیا۔ سوا دو سال کے عرصے میں بلوچستان میں شورش پر قابو پانے اور امن و امان بحال کرنے میں ڈاکٹر مالک کی حکومت کی کارکردگی قابلِ اطمینان ہی نہیں، لائقِ تحسین بھی ہے۔ اتوار کی شام سعد رفیق کی طرف سے دیئے گئے عشائیے میں ڈاکٹر مالک اسکا کریڈٹ سب کو دے رہے تھے۔ ان کے بقول اس میں وفاقی حکومت، مسلح افواج اور رینجرز سمیت قانون نافذ کرنے والے اداروں کا بھی اہم کردار ہے۔ ’’ناراض‘‘ بلوچوں سے مذاکرات کو وہ حوصلہ افزا قرار دے رہے تھے۔ پاک چائنہ اکنامک کوریڈور، گوادر کی بندرگاہ اور بلوچستان میں تعمیر و ترقی کے منصوبوں کے حوالے سے بھی ان کی گفتگو، دلوں کے شگوفے کھلا گئی۔ایک طویل عرصے کے بعد کوئٹہ میں بس دھماکہ اور بولان میں خود کش حملہ افسوسناک تو ہے لیکن خلاف ِ توقع نہیں کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ کو اپنی کامیابیوں کے ساتھ ابھی کچھ اور جاری رہنا ہے۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں