آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
جمعرات6؍ ربیع الاوّل 1440ھ 15؍نومبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
اکتوبر کا آخری عشرہ اپنے گوناگوں واقعات سے تاریخی بن گیا۔ اوّل اس میں عشرہ محرم کا پورا پہلا عشرہ آ رہا تھا، حکومت ملک میں امن و امان قائم رکھنے کی پوری کوشش کر رہی تھی، ہزاروں پولیس اہلکاروں اور رینجرز کو حسّاس مقامات پر لگایا، ڈیڑھ ہزار علما کی زبان بندی کی گئی۔ حکومت اپنی جدوجہد میں 99 فیصد کامیاب رہی۔ چند فتنہ سازوں نے اس کو سو فیصد کامیابی حاصل نہ کرنے دی۔ پہلا بم دھماکہ کوئٹہ میں چلتی بس میں ہوا جس میں 11مسافر جاں بحق اور 22 زخمی ہوئے۔ دوسرا خودکش دھماکہ نویں محرم کو جیکب آباد کے جلوس پر ہوا جس میں 23افراد جاں بحق ہوئے، ان میں دس بچّے بھی شامل تھے۔ ابتدائی رپورٹ کے مطابق 40افراد زخمی ہوئے۔ جیکب آباد کوئی بڑا شہر نہیں، دو لاکھ سے کم آبادی ہے۔ وہاں یہ حادثہ شدید نوعیت کا قرار دیا گیا۔ تیسرا دھماکہ بلوچستان کے ضلع بولان کی تحصیل بھاگ میں امام بارگاہ میں اس وقت ہوا جب لوگ نماز مغربین پڑھ کر باہر آ رہے تھے۔ اس میں دس افراد جاں بحق اور 12زخمی ہوئے۔
دوسرا یہی وہ زمانہ تھا جب وزیراعظم پاکستان، صدر اوباما کی دعوت پر واشنگٹن جا رہے تھے۔ انہوں نے جانے سے پہلے جو یہاں تقاریر کیں ان کا لب لباب یہ تھا، ہم روپے کی قدر کم نہیں کریں گے۔ دوسرے روز اسٹیٹ بینک نے ڈالر کو 104روپے کے برابر کر دیا اور بازار میں اس کی

قیمت 105روپے فی ڈالر ہو گئی۔ اس کی وجہ حج کے لئے جانے والوں نے بے تحاشہ ڈالر خریدے اور یوں ڈالر کی طلب بڑھ گئی۔ اب تو حجاج واپس آ چکے ہیں۔ 23؍اکتوبر کو ڈالر کی انٹر بینک شرح 104اور 104.20اور اوپن مارکیٹ میں 104.45 اور 104.65 روپے تھی بلکہ ڈالر کی شرح 105روپے فی ڈالر سے بھی بڑھ گئی۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ متعدد برآمد کنندگان پر بینک کا دبائو بڑھا کہ وہ ڈالر کے پرانے قرضے چکائیں۔ 16؍اکتوبر کو ختم ہونے والے ہفتے کے اختتام پر ذخائر خارجہ کی رقم 19.92ڈالر تھی، اس میں کمی اس وجہ سے آئی کہ اس ہفتے اسٹیٹ بینک نے 113ملین ڈالر خارجہ خدمات کی ادائیگی کیلئے ادا کئے۔
وزیراعظم نے ملک اور بیرون ملک اپنی تقاریر میں کہا کہ ملکی معیشت مستحکم ہو رہی ہے کیونکہ حکومت اقتصادی پالیسیوں پر عمل کر رہی ہے اور آج شرح نمو 4.5فیصد تک پہنچ گئی ہے۔ (ملک میں برآمدی رقوم وصول کرنے والے صنعتی میدان میں ٹیکسٹائل اور زرعی شعبے میں چاول ہے۔ اتفاق سے دونوں کی حالت قابل اطمینان نہیں پھر 4.5فیصد کی مجوزہ شرح کیسے حاصل کی جائے گی؟) ود ہولڈنگ ٹیکس کا جھگڑا ابھی طے نہیں ہوا، امکان ہے کہ نومبر میں تاجروں کا ایک اور اجلاس بلایا جائے، ٹیکس گوشوارے جمع کرانے کی آخری تاریخ 30؍ستمبر تھی، کہا گیا تھا کہ اس میں مزید اضافہ نہیں ہو گا۔ ممکن ہے کہ عید کی تعطیلات کی بنا پر اس کو 31؍اکتوبر کر دیا جائے۔ وزیر خزانہ نے ایف بی آر کو ہدایت کی ہے کہ وہ پوری کوشش کرے کہ گزشتہ سہ ماہی کا ہدف جو 624ارب روپے ہے، حاصل کرلے۔ وزیراعظم کا 341ارب کا جو زرعی پیکج تھا جس کو ہائی کورٹ نے روک دیا تھا، اب اس پر سے پابندی اٹھا لی گئی ہے۔ حکومت نے بڑے طمطراق سے یورو بانڈ جاری کئے۔ ان پر 8فیصد شرح سود ادا ہو گا جبکہ حکومت نے اپنے لئے تو 8 فیصد کی شرح رکھی لیکن قومی بچت کی اسکیموں خصوصاً بہبود اور پنشنرز فنڈز جو ایک طرح کی فلاحی اسکیمیں ہیں، ان پر منافع کی شرحیں کم کر دیں۔ کہا جاتا ہے کہ عیدالاضحیٰ پر بڑی رقوم کے جعلی نوٹ گردش کرنے لگے۔ شاید ان پر قابو پانے کیلئے حکومت تمام پرانے نوٹوں کے نئے ڈیزائن کے نوٹ جاری کرنے والی ہے۔
حکومت آئی ایم ایف سے معاہدے کے مطابق اسٹیل ملز اور پی آئی اے کی نج کاری کرنے کی پابند ہے۔ مل کی حکومت سندھ کو پیشکش کی گئی ہے۔ ایک خسارہ زدہ یونٹ کو وہ کیوں قبول کرے گی۔ قائمہ کمیٹی کے صدر نے انکشاف کیا ہے کہ جب تک ملز کی زمینوں کا قبضہ طے نہ ہو جائے اس کی نج کاری نہیں ہو سکتی۔ پی آئی اے ابتدا میں خالص سرکاری ادارہ تھا، اس کو کارپوریشن بنایا اور اس کے حصص عوام کو فروخت کئے گئے۔ اس وقت کمپنی کا عروج تھا، لوگوں نے بڑھ چڑھ کر حصّے خریدے۔ چار، پانچ سال معمولی منافع ملا اور آج 15/14سال سے حصّے داروں کی رقم منجمد ہو گئی ہے۔ کارپوریشن کے سارے کام معمول کے مطابق چل رہے ہیں۔ نئے جہاز خریدے جاتے ہیں، بھاری تنخواہوں اور الائونسز پر نئے ملازم رکھے جاتے ہیں۔ 25,20ملازمین کو ہر سال مفت حج کرایا جاتا ہے۔ نفع بھی ہوتا ہے مگر وہ خسارے کی بھینٹ چڑھ جاتا ہے۔ حصّہ داروں کو برسوں سے ایک پیسہ نہیں ملا بلکہ اب تو وہ سالانہ رپورٹ کی کاپی سے محروم ہو گئے ہیں۔ نج کاری میں ان کو کیا ملے گا؟
سب سے آخر میں سب سے اہم واقعہ وزیراعظم پاکستان کا صدر امریکہ کی دعوت پر امریکہ جانا، ان کی روانگی سے قبل نہ صرف ملک میں بلکہ ریاست ہائے متحدہ کے پریس میں عجیب و غریب خبریں آتی رہیں بلکہ بعض پاکستانی ان سے پریشان رہے۔ سرکاری حلقوں میں ملاقات کو کامیابی اور مخالف حلقوں میں ناکامی سے تعبیر کیا گیا۔ وزیراعظم کی امریکی وزیر خارجہ، نائب صدر، صدر، صنعت کاروں وغیرہ سے ملاقات رہی۔ صدر نے کہا نواز شریف کی قیادت میں جمہوریت مضبوط ہو رہی ہے۔ نائب صدر نے کہا دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کا کردار قابل تعریف ہے۔ امریکہ مزید8ایف۔ 16فروخت کرے گا۔ توانائی کے شعبے میں مدد کرے گا، کشمیر کو متنازع قرار دینا بڑی کامیابی ہے مگر بھارت کی شکایات پر کسی قسم کے تبصرے سے گریز۔ کافی طویل اعلامیہ جاری ہوا مگر اس پر عمل کتنا ہو گا، کولیشن سپورٹ فنڈ ختم، اب امداد کا کوئی نیا سلسلہ شروع ہو گا۔ امریکہ کی خاتون اوّل نے بیگم کلثوم اور بی بی مریم کی پذیرائی کی۔ وہ 2لاکھ بچیوں کی خصوصی تعلیم کا منصوبہ بی بی مریم کے ساتھ بنا رہی ہیں۔ اب پاکستانیوں کو انتظار کرنا چاہئے کہ کیسے اور کس طرح امداد کا سلسلہ شروع ہوتا ہے اور کیا کوئی نئے مطالبات بدلی ہوئی شکل میں پیش ہوتے ہیں؟

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں