آپ آف لائن ہیں
اتوار 12؍محرم الحرام 1440ھ 23؍ ستمبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
خواجہ آصف نے پتے کی بات کہہ دی ، سو باتوں کی ایک بات، عدالتیں آزاد و خودمختار ہیں، کسی کے پاس ہماری کرپشن کے ثبوت ہیں تو عدالت سے رجوع کر لے۔ اس کے لئے انہوں نے خود اپنی مثال دی، گزشتہ زرداری+گیلانی حکومت کے خلاف رینٹل پاور اور ایل پی جی کوٹہ سمیت کرپشن کے چار کیس لے کر وہ سپریم کورٹ گئے۔ ثبوت و شواہد کے ساتھ اپنا مؤقف پیش کیا جس سے اتفاق کرتے ہوئے ملک کی سب سے بڑی عدالت نے مزید کارروائی کے لئے یہ کیس نیب کو ریفر کردیئے۔
فروری 2008کے عام انتخابات کے بعد، ملک میں نئے جمہوری سفر کا آغاز ہوا(ایوانِ صدر میں ڈکٹیٹر ابھی موجود تھا)۔ ملک کے سب سے بڑے صوبے میں نوازشریف کی مسلم لیگ (اپنی عددی اکثریت ) کے بَل پر برسرِ اقتدار آئی۔(سیاسی وضعداری کے طور پر اس نے پیپلزپارٹی کو بھی شریک اقتدار کرلیا)۔ معاہدہ بھوربن کے تحت وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کی وفاقی حکومت میں یہ اس شرط کے ساتھ شامل ہوئی کہ 30دِن کے اندر چیف جسٹس افتخار چوہدری والی(2نومبر2007کی )سپریم کورٹ بحال کردی جائے گی۔ زرداری صاحب یہ کہہ کر اس سے منحرف ہوگئے کہ وہ محض ایک سیاسی معاہدہ ہی تو تھا جس پر مسلم لیگ(ن)کو 13وفاقی وزارتوں سے دستبرداری میں کوئی تامّل، کوئی ملال نہ تھا۔وفاق میں حزبِ اختلاف کے طور پر اس نے معروف جمہوری و آئینی حدود کے اندر رہتے ہوئے

اپنے کردار میں کسی کوتاہی کا ارتکاب نہ کیا۔ اس کے لئے پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں کے علاوہ ، اس نے عدالتوں کا رُخ بھی کیا،وہ میڈیا کے محاذ پر بھی سرگرم رہی۔عدلیہ کی بحالی کے لئے نوازشریف نے تاریخی لانگ مارچ بھی کیا۔ لوڈشیڈنگ جیسے مسائل پر وہ سڑکوں پر بھی آئی لیکن اس سب کچھ میں یہ احتیاط ملحوظِ خاطر رہی کہ جمہوری نظام کا تسلسل برقرار رہے۔ عدالت عظمیٰ میں اپنے چار کیسوں کی بات تو خواجہ آصف بتاچکے، اس کے علاوہ بھی مسلم لیگ(ن) نے کئی معاملات میں عدالت کا دروازہ کھٹکھٹایا۔حسین حقانی والے میمو کیس میں تو خود میاں صاحب مدعی بنے۔ وہ پنجاب یونیورسٹی کے لاء گریجویٹ ہیں چنانچہ اس کیس کی پیروی کے لئے، وہ کالا کوٹ پہن کر خود عدالت کے حضور پیش ہوگئے۔ یہاں خواجہ آصف بھی موجود تھے۔ چیف جسٹس افتخار چوہدری نے اُن کی طرف اِشارہ کرتے ہوئے کہا، خواجہ صاحب کو تو ہم اکثر کورٹ روم میں، یا عدالت کی راہداریوں میں دیکھتے رہتے ہیں۔ چیف صاحب کو شاید 10ستمبر2007بھی یاد آیا ہو، جب نوازشریف لندن سے اسلام آباد ایئر پورٹ اُترے تھے۔ سپریم کورٹ نے 10سالہ جِلا وطنی کے مبینہ معاہدے کو تسلیم کرنے سے انکار کردیا تھا۔ سابق وزیراعظم، جسے ڈکٹیٹر اپنا’’دُشمن نمبر ایک‘‘ قرار دیتا تھا، ایئرپورٹ پر سیکیورٹی ایجنسیوں کے نرغے میں تھا،اور وہ اسے واپس دھکیلنے پر تُلی ہوئی تھیں۔ ادھر خواجہ آصف سپریم کورٹ میں بھاگ دوڑ کر رہے تھے کہ عدالتِ عظمیٰ میاں صاحب کی جبری واپسی کے خلاف حکمِ امتناعی جاری کردے۔ خواجہ کی یہ سعی رائیگاں گئی اور میاں صاحب کوجبراً جدّہ روانہ کردیا گیا۔ بعد میں اس پر توہینِ عدالت کا کیس جاری تھا کہ 3نومبر کا پی سی او آگیا۔
قارئین سے معذرت کہ بات کسی اور طرف نکل گئی ۔ وہ بات جس سے کالم کاآغاز ہوا، خواجہ آصف نے منگل کی صبح اسلام آباد میں ایک سیمینار میں کہی۔ ایل این جی پر اس سیمینار کا اہتمام پٹرولیم اور قدرتی وسائل کی وزارت نے کیا تھا۔ اسٹیج پر وزیرپانی و بجلی خواجہ آصف بھی موجود تھے۔ پٹرولیم اور قدرتی وسائل کے وفاقی وزیر شاہد خاقان عباسی نے اپنا کیس بڑی عمدگی کے ساتھ پیش کیا تھاجہاں ایل این جی کے حوالے سے جملہ ’’اسٹیک ہولڈرز‘‘ کے علاوہ میڈیا والے بھی بڑی تعداد میں موجود تھے اور اس سیمینار کے اصل مخاطب بھی وہی تھے۔ خواجہ آصف نے گفتگو کا آغاز بڑے دلچسپ انداز میں کیا، گزشتہ کچھ دِنوں سے میڈیا میں میرے اورشاہد خاقان کے چرچے ہیں۔ کبھی ایل این جی کا معاملہ ، کبھی نندی پور،کبھی نیلم جہلم اورکبھی (بجلی کے ناقص بلوں کے حوالے سے ) نیپرا رپورٹ ۔ یہاں انہیں احمد فراز یادآئے؎
ہم نہ ہوتے تو کسی اور کے چرچے ہوتے
خلقتِ شہر تو کہنے کو فسانے مانگے
خواجہ کو جمہوری نظام میں میڈیا کی اہمیت اور افادیت کا اِدراک تھا، اس کے لئے وہ ان ناقدین کے شکرگزار تھے اور اُن کے لئے دُعا گو بھی جو جائز تنقید کرتے ہیں، جن کا مقصد کردار کشی نہیں ہوتا اور جو غلط اعدادوشمار کا سہارا نہیں لیتے۔ انہیں گِلہ ان چند تجزیہ کاروں اور تبصرہ نگاروں سے تھا جنہیں غلط اعدادوشمار پیش کرنے میں بھی عار نہیں ہوتی۔ خواجہ کا کہنا تھا، وہ اُن کے شکر گزار تو نہیں، البتہ ان کے لئے دُعاگو ضرور ہیں (خواجہ نے بات ادھوری چھوڑدی، شاید اُن کا مطلب ، اُن کی ہدایت سے تھا)۔ اپنے ہاں اعدادوشمار کا معاملہ دلچسپ ہے۔اس میں عموماً کسی احتیاط ، کسی تکلف کی ضرورت محسوس نہیں کی جاتی۔ لاہور میں میٹرو بس کا منصوبہ تیس ، اکتیس ارب روپے کا تھا۔’’ناقدین‘‘ اس جنگلا بس پر اسّی ، بیاسی ارب روپے لُٹانے کی بات کرتے رہے۔ حال ہی میں لاہور کے حلقہ 122کے ضمنی انتخاب کے حوالے سے الیکشن کمیشن کے سابق سیکریٹری جنرل جیسا ذمہ دار شخص ، ووٹر لسٹوں میں 1 لاکھ 64ہزار ووٹوں کے اضافے کا انکشاف کرتارہا جب کہ اصل اضافہ تیئس ، چوبیس ہزار کا تھا اور یہ وہ نوجوان تھے جو 11مئی2013کی ووٹر لسٹوں کے بعد 18سال کی عمر کو پہنچے اور ووٹر بن گئے۔
نندی پور کے حوالے سے وزیرپانی و بجلی کا کہنا تھا کہ اس پر78ارب روپے لاگت کے افسانوں میں کوئی حقیقت نہیں، اصل رقم اب بھی وہی 58ارب روپے ہے(جوPC1 میں تھی)یہاں انہوں نے یہ خوشخبری بھی دی کہ نندی پور 445میگاواٹ بجلی روزانہ مہیا کر رہا ہے۔ ایل این جی کی دستیابی کے بعد یہ اپنی اصل پیداوار پر آجائے گا۔ خواجہ نے یہاں ’’آئل لابی‘‘ کا ذکر بھی کیا ۔ سالانہ بارہ، تیرہ ارب ڈالر کا تیل امپورٹ کرنے والی یہ مضبوط اور مؤثر لابی ایل این جی جیسے سستے وسائل کی دستیابی کو اپنے مفادات کے لئے خطرہ محسوس کرتی ہے، چنانچہ ان سستے منصوبوں کے خلاف پراپیگنڈے کے پسِ پردہ آئل لابی بھی موجود ہوتی ہے۔ یہ خبر عام تھی کہ اس لابی نے شاہد خاقان عباسی کو اربوں کی پیشکش کی جسے وزیرموصوف نے ٹھکرادیا۔ ایک اخبارنویس کا سوال تھا، آپ نے ان کے خلاف رشوت کی پیشکش کا مقدمہ کیوں درج نہیں کرایا؟ عباسی کا جواب تھا، یہ پیشکش تحریری طور پر تو ہوتی نہیں جسے بطور ثبوت پیش کیا جائے۔ خواجہ آصف اور شاہد خاقان، دونوں کی طرف سے کھلی پیشکش تھی کہ توانائی کے مسائل پر پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں میں بحث ہو اور اسے لائیو ٹیلی کاسٹ کیا جائے۔ وہ اس پر میڈیا میں بھی کھلی بحث پر تیار تھے۔ یادآیا، وزیرداخلہ چوہدری نثار نے گزشتہ دِنوں فرمایا تھا، نجانے بعض لوگوں کے پاس اتنا وقت کہاں سے آجاتا ہے کہ ٹائیاں لگا کر کیمرے کے سامنے آبیٹھتے ہیں۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں