آپ آف لائن ہیں
بدھ15؍ محرم الحرام1440ھ 26؍ستمبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
دُنیا کہیں کی کہیں پہنچ گئی، قدامت پسندی کی شہرت رکھنے والی دینی جماعتیں بھی جدت پسند ہوتی جارہی ہیں۔ سینیٹ اور قومی و صوبائی اسمبلیوں سے لے کر نچلی سطح تک منتخب اِداروں میں خواتین کا کوٹہ مخصوص ہوا تو مخلوط اجتماعات کی مخالف دینی جماعتوں نے بھی اس میں اپنا حصہ (بقدر جثہ) وصول کرنے میں کوئی قباحت محسوس نہ کی۔ اب وہ اپنی مجالسِ شوریٰ میں بھی اس کا اہتمام کر رہی ہیں ۔ مولانا فضل الرحمن نے گزشتہ دِنوں سلیم صافی کے ’’جرگہ‘‘ میں دلچسپ بات کہی، 2002ءکے عام انتخابات کے بعد خیبر پختونخوا (تب صوبہ سرحد) میں متحدہ مجلس عمل کی حکومت بنی تو صوبائی اسمبلی میں اپنی عددی برتری کے باعث مولانا کی جے یو آئی وزارتِ اعلیٰ کی حقدار پائی۔ جماعتِ اسلامی کے جناب سراج الحق اس میں وزیر خزانہ اور سینئر وزیر تھے۔ جماعت کے پاس دو تین اور اہم وزارتیں بھی تھیں۔ صوبے میں مخربِ اخلا ق چیزوں کے خلاف جماعت کی حساسیت کا یہ عالم تھا کہ سڑکوں اور چوراہوں میں نصب بڑے بڑے بِل بورڈز پر خواتین کی تصاویر بھی گوارا نہ تھیں۔ مولانا کے بقول ، متعلقہ کمپنیوں کے ساتھ معاہدے کے مطابق، ان بورڈز کی صرف ایک ماہ کی مدت باقی تھی، لیکن جماعت نے ان بورڈز پر خواتین کے چہروں کو سیاہی سے ڈھانپنا ضروری سمجھا (کہ صرف ایک ماہ کے لئے بھی یہ فحاشی کیوں؟)مولانا

کو حیرت تھی کہ وہی جماعتِ اسلامی ، اب اُس سیاسی جماعت کی اتحادی ہے، جس نے مخلوط جلسے جلوسوں کا ایک نیا کلچر متعارف کرایا ہے۔ ’’عمران خان دے جلسے چہ، اج میرا نچنے نوں جی کردا‘‘۔۔۔اور بات محض ڈی جے کے ترانے تک نہیں رہتی، گانے کے ساتھ ساتھ ناچ بھی شروع ہوجاتا ہے۔
وزیراعظم نوازشریف نے گزشتہ دِنوں سرمایہ کاری کانفرنس میں لبرل پاکستان کی بات کی، تو سچ بات یہ ہے کہ ہمیں بھی حیرت ہوئی۔ میاں محمد شریف(مرحوم) اور ان کا خاندان دینداری کی قدیم شہرت رکھتا ہے۔ میاں صاحب (مرحوم) اپنے بڑے پوتے، حسین کی قرأت اور نعت خوانی سے شاد کام ہوتے۔ بیگم کلثوم نواز صاحبہ کلام ِ اقبال سے خاص رغبت رکھتی ہیں، اُنہوں نے اپنے بچوں (اوربچیوں) کو بھی اقبال سے روشناس کرانا ضروری سمجھا، کلام ِ اقبال کے بعض حصے معانی و مفاہیم کے ساتھ انہیں ازبر بھی کرادیئے تھے۔ جلاوطنی کے دِنوں میں ہمیں جدہ میں قدرے قریب سے دیکھنے کا موقع ملا تو شریف فیملی کی دینداری کا احساس مزید گہرا ہوگیا۔ سرور پیلس میں ایک آدھ بار امام صاحب کی عدم موجودگی میں حاضرین کے اصرار پرمیاں صاحب (نوازشریف) نے مصلّٰے سنبھالا اور اِن کی قرأت نے سحر سا طاری کردیا۔ رمضان المبارک میں میاں صاحب اور بیگم صاحبہ نصف شب کے بعد، جدہ سے خانہ کعبہ کے لئے روانہ ہوتے اور سحر کے بعد لوٹ آتے۔ رمضان کا آخری عشرہ حرمین میں گزارنے کا معمول (مختلف حلقوں کی طرف سے تنقید کے باوجود) اب بھی جاری ہے۔ ایسے میں میاں صاحب کی طرف سے لبرل پاکستان کی بات ہم جیسوں کے لئے بھی حیرت اور صدمے کا باعث تھی لیکن کہنے والے یہ بھی کہتے ہیں کہ میاں صاحب نے یہ بات سرمایہ کاری کانفرنس میں کہی تھی اور یہاں ’’لبرل‘‘ سے اُن کی مراد’’لبرل اکانومی‘‘ تھی، بےجا قواعد و ضوابط کی جکڑ بندیوں سے آزاد اکانومی ۔ ان کی پہلی وزارتِ عظمیٰ(1990-93) کی معاشی اصلاحات کو، اکانومی کی لبرلائزیشن کا عنوان دیا گیا تھا۔
’’لبرل پاکستان‘‘ والی اس تقریر کے بعد ، ایک اور خطاب میں وزیراعظم کا کہنا تھا، مذہب کے نام پر گلے کاٹنے کی اجازت نہیں دی جائے گی اور یہ بھی کہ پاکستان میںکسی اور کی نہیں بلکہ عوام اور آئین کی منشا چلے گی(اس آئین کی منشا، جو اسلام کو ریاستِ پاکستان کا سرکاری مذہب قرار دیتا ہے۔ جو اللہ تبارک وتعالیٰ کی ساورنٹی کا اعلان کرتا ہے اور اس کے ساتھ ہی اس امر پر اصرار کہ اس ’’امانت‘‘ کو عوام کے منتخب نمائندے ہی استعمال کریں گے (او ریوں کسی بھی قسم کی ڈکٹیٹر شپ کی جڑ کاٹ دیتا ہے)آئین کی دیگر اسلامی دفعات کی تفصیل ایک الگ کالم کا تقاضا کرتی ہے۔
قارئین! ہم بات نوازشریف کابینہ کے ایک وزیر کی کرنا چاہتے تھے ۔ وزیر ریلوے خواجہ سعد رفیق گزشتہ روز بتا رہے تھے کہ ٹرینوں کی اپ گریڈیشن اور ماڈرنائزیشن کا آغاز ہورہا ہے تو اکانومی کلاس میں پردے کا اہتمام بھی ہوگا۔ بقول اُن کے بے پردگی، بے برکتی کا باعث بنتی ہے، یہ ہمارے اخلاقی و سماجی اقدار کے بھی منافی ہے۔ وہ ٹرینوں میں پبلک ایڈریس سسٹم کی بات بھی کرتے ہیں جس میں مسافروں کے لئے اُن کی منزل کے حوالے سے اطلاعات اور ضروری ہدایات کے ساتھ، اذان کا اہتمام بھی ہوگا۔ یادآیاخواجہ سعد رفیق کی وزارت کے دوران، 2014کے اوائل میں، یہ پاکستان ریلوے کے سالانہ اسپورٹس کی تقریبِ تقسیم ِ انعامات تھی،یہاں ایتھلیٹکس میں خواتین کے کچھ آئیٹم بھی تھے، جنہیں وزیر موصوف نے یہ کہہ کر روک دیا کہ وہ طالبات اور خواتین کے کھیلوں کے مخالف نہیں، مردوں کی طرح خواتین کو بھی سپورٹس کا، فزیکل ایکسرسائز کا حق حاصل ہے لیکن وہ مردوں کی موجودگی میں اسے مناسب نہیں سمجھتے۔
گزشتہ روز وزیر موصوف نےقلیوں کے ساتھ خصوصی ملاقات کی، یہ ریلوے کی تاریخ میں اپنی نوعیت کا منفرد واقعہ تھا۔ ملک بھر میں ڈھائی ہزار کے قریب قلی، ریلوے کے ملازم نہیں۔ بلکہ ایک استحصالی ٹھیکیداری نظام کا حصہ ہیں جس میں ریلوے کو صرف2کروڑ روپے حاصل ہوتے ہیں۔ قلیوں کی خون پسینے کی محنت کا بڑا حصہ ٹھیکیدار کی جیب میں چلا جاتا ہے۔ وزیر موصوف قلیوں میں گھل مل گئے تھے۔ اِن کا کہنا تھا، آج وہ مالی لحاظ سے خوش حال ہیں لیکن اندرونِ شہر کی ان گلیوں کو کبھی نہیں بھولتے جہاں وہ اپنے جیسے لوئر مڈل کلاس اور غریب طبقے کے بچوں کے ساتھ کھیلے ، کودے اور پروان چڑھے۔ اُن کا کہنا تھا، اس ملک میں ارب پتی اور کروڑ پتی لوگ ٹیکس نہیں دیتے لیکن بے چارے قلیوں کی تنخواہ سے 27فیصد ٹیکس ، ٹھیکیدار کاٹ لیتا ہے۔ اسٹیشن پر ان کے لئے کوئی سہولت نہیں۔ باربرداری کے جانوروں کے لئے بھی گرمی، سردی سے بچنے اور فارغ وقت میں آرام کرنے کی سہولت ہوتی ہے ، لیکن باربرداری کا کام کرنے والے انسانوں کو یہ سہولت بھی حاصل نہیں۔ نانِ شبینہ کے لئے شب وروز بوجھ اُٹھانے والے انسانوں کی کہانیاں درد انگیز تھیں۔
وزیر ریلوے کا کہنا تھا، یہ ظالمانہ نظام مزید نہیں چلے گا۔ ٹھیکیداری جاری بھی رہی، تو اسے جدید خطوط پر استوار کیا جائے گا جس میں قلیوں کا استحصال نہ ہو۔ استحصال کی علامت یونیفارم سمیت، ان کے حالاتِ کار میں بنیادی تبدیلیاں لائی جائیں گی۔ ریلوے اسٹیشن پر ان کے لئے شیلٹر تعمیر کئے جائیں گے جہاں وہ فارغ وقت میں آرام کرسکیں۔
قلیوں سے بات، ریلوے کے نچلے درجے کے ملازمین تک جاپہنچی جن کی تنخواہ سے 5فیصدرقم ان کی سرکاری رہائش کی مینٹی نینس اور مرمت کے نام پر کاٹ لی جاتی ہے لیکن اس کا بیشتر حصہ بڑے افسروں کی کوٹھیوں اور بنگلوں پر خرچ ہوجاتا ہے۔ ریلوے ملازمین کے لئے خوش خبری تھی کہ اس سال اِس مد میں 30کروڑ روپے رکھے گئے ہیں(گزشتہ سال یہ تین کروڑ روپے تھے)اِن میں سے صرف5کروڑ روپے گریڈ17اور اس سے اوپر کے افسروں کے لئے اور 25کروڑ روپے نچلے اسٹاف کی سرکاری رہائش پر خرچ ہوں گے۔ ریلوے بُرے دِنوں سے نکل آئی ہے، تو اچھے دِنوں کے ثمرات سے اس کے محنت کش کیوں محروم رہیں۔ جالب کو شکایت تھی؎
وہ جس کی روشنی کچے گھروں میں بھی اُترتی ہو
نہ وہ سورج نکلتا ہے، نہ اپنے دِن بدلتے ہیں
ریلوے میں بدحالی کے اندھیرے سمٹ چکے، خوشحالی کا سورج طلوع ہورہا ہے تو محنت کشوں کے گھر اجالوں سے منور کیوں نہ ہوں؟

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں