آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
منگل4؍ربیع الاوّل 1440ھ13؍نومبر 2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
کیا زبردست زندگی گزاری کیا ہی اعلیٰ و ارفع شخصیت پائی !بلاشبہ بیسویں صدی کے عظیم انسانوں میں سے ایک ،قدکاٹھ میں چیئرمین مائو اور ہوشی من کے مساوی، اور امتیازی وصف بھی وہی کہ اُسی جادہ ٔزیست کے پرعزم مسافر۔ کیا جائے حیرت نہیں کہ اُن کی رحلت کا ہماری عظیم جمہوریہ میں ذکر تک نہ ہوا۔ فیڈل کاسترو کی وفات پر ہمارے ہاں سرکاری طور پر کسی افسوس کا اظہار نہ کیا گیا۔ سرمایہ داری کی سنہری راہ پر گامزن، ہمارے حکمرانوں کی طرف سے کیوبا کے عوام کے لئے ہمدردی کا ایک بول تک سننے میں نہ آیا۔ اس میں کیوبا کا کوئی نقصان نہیں،ہم ہی خسارے میں ہیں۔ہمدردی اور فہم کے فقدان اور دنیا کے کروڑوں افراد کو متاثر کرنے والے کیوبا کے انقلاب سے لاعلمی ایسے فکری اور تخیلاتی قحط کی غمازی کرتی ہے جہاں ہماری حکمران اشرافیہ تاریخ کے سفر سے الگ کھڑی دکھائی دیتی ہے۔
کاسترو کی وفات پر کیوبا نے نو روزہ سوگ کا اعلان کیا۔ اگر ہم بھی کوئی روشن دماغ ملک ہوتے اور عالمی تاریخ کے حالیہ بہائو کا ہمیں بھی تھوڑا بہت ادرا ک ہوتاتو ہمارا پرچم بھی نصف مستول پر سرنگوں ہوجاتا۔ہم بھی استعماری امریکہ کے ساحلوں کے قریب ایک چھوٹے سے جزیرہ نما ملک کی تاریخی شخصیت ، جس نے ہمارے دور پر اپنا انمٹ نقش چھوڑا، کی وفات پر اپنے دکھ کا اظہار کردیتے ۔ یہ درست ہے کہ

انقلاب اور کمیونزم قصہ ٔ پارینہ بن چکے ، لیکن ہم میں سے کچھ، خاص طور پر میری نسل کے لوگوں، جن کے دلوں کی دھڑکن ’’ایشیا سرخ ہے‘‘ کا نعرہ سن کرتیز ہوجاتی اورجن کے لہو کو شی گووارا(Che Guevara) کی پر مصائب انقلابی جدوجہد گرما دیتی، کیلئے کیوبا کے انقلاب کی کشش کبھی بھی ماند نہیں پڑی تھی۔
کیوبا کے انقلاب کاتذکرہ ناقابل یقین فکشن کی طرح ہوشربا دکھائی دیتا ہے۔ فیڈل کی قیادت میںمونا کیڈا بیرکس پر حملہ ،اُن کے سرکے پاس سے گولیاں کی بوچھار، حملہ ناکام اور فیڈل کاستروقیدکرلئے گئے ۔ مقدمے کے دوران اُن کا ایک جملہ تھا ۔۔۔’’ تاریخ کی عدالت مجھے بری کرے گی۔‘‘ بائیس ماہ بعد کاسترو کی رہائی کیوبا کی کانگریس کی طرف سے دی گئی ایمنسٹی ، جس پر کیوبا کے طاقتور حکمران اور امریکہ کے دوست، Fulgencio Batistaکے دستخط تھے ، کے نتیجے میں عمل میں آئی ۔ فیڈل نے آئینی سیاست میں بھی کوشش کی لیکن یہ تجربہ بھی ناکام رہا کیونکہ تمام نظام ہی آلودہ ہوچکا تھا۔ کیوبا اور ا س کا تمام سیاسی عمل Batistaکے آہنی کنٹرول میں تھا۔ رہائی کے چھ ہفتے بعد کاسترو میکسیکو جانے والی پرواز پر سوا ر ہوئے ۔ اس سفر کے اخراجات کے لئے اُن کی بہن ، لیڈیا نے اپنا ریفریجریٹر فروخت کیا تھا۔ عوام کے نام اپناپیغام دیتے ہوئے کاسترو نے کہا ۔۔۔’’ایسی مسافت سے یا تو انسان واپس لوٹتا ہی نہیں ، اور اگر وہ واپس آنے میں کامیاب ہوجائے تو جبر کی زنجیریں ٹوٹ کر اُس کے قدموں میں گر جاتی ہیں‘‘۔
میکسیکو میں اُنھوں نے اسپین کی خانہ جنگی کے ایک تجربہ کار جنگجو لیڈر البرٹو بائیو سے ملاقات کی اور اپنے آدمیوں کو گوریلا جنگ کا فن سکھانے کو کہا۔ اُن کی بات سن کر بائیو محظوظ ہوئے کیونکہ نوجوان فیڈل جذباتی لہجے اور جوشیلی بدن بولی سے پرعزم تکلم کررہے تھے کہ اب وہ آدمیوں کے جتھے (جب اُن کے پاس ہوں گے )لے کر کیوبا اتریں گے ، اور اُن کے بحری جہاز(جب اُن کے پاس خریدنے کے لئے رقم ہوگی) کیوبا کے ساحلوں پرلنگر انداز ہوںگے ۔ بائیو کا کہنا ہے کہ اُس وقت کاسترو کے ساتھ کوئی آدمی تھا اور نہ ہی اُن کی جیب میں کوئی ڈالر تھا۔ 1986ء میں فیڈل کی سوانح عمری میں ٹیڈذولک (Tad Szulc) لکھتے ہیں ۔۔۔’’فیڈل کا میکسیکو میں پہلا ٹھکانہ ایک سستے سے ہوٹل کا ایک چھوٹا سا کمرہ تھا۔ وہ وہیں لکھنے اور پڑھنے میں مصروف رہتے تھے ۔‘‘ ۔ اسی شہر میں فیڈل کی شی گوارا سے ملاقات ہوئی ۔ شی گوارا اپنے والد کو خط میں لکھتے ہیں۔ ’’کچھ عرصہ پہلے کیوبا کے ایک نوجوان نے مجھے اپنے لوگوں کو آزاد کرانے کے لئے مسلح جدوجہد میں شریک ہونے کی دعوت دی، جو میںنے قبول کرلی۔‘‘اس طرح فیڈل اور شی گوارا کی دیومالائی افسانوں جیسی دوستی کا آغاز ہوا۔
اُنھوں نے انقلاب کی تیاری کے لئے سخت محنت شروع کردی تو میکسیکو پولیس کو ان سرگرمیوں کی بھنک مل گئی اور شی گوارا اور فیڈل گرفتار کرلئے گئے ۔ تاہم بعد میں سابق صدر، لزارو کارڈینس کی مداخلت پر اُنہیں رہائی مل گئی ۔ یہاں ذولک لکھتے ہیں ۔۔۔’’میکسیکو میں صدر سمیت کوئی بھی کارڈینس کی درخواست نہیں ٹال سکتا تھا۔‘‘اس کے بعد سے مصائب برداشت کرنے اور مزید ٹریننگ حاصل کرنے کے بعد وہ کیوبا کی طرف جانے کے لئے81 ساتھیوں سمیت ایک کشتی ، گراینما، جو صرف پچیس مسافروں کے لئے بنی تھی، میں سوار ہوئے ۔ طوفانی سمندر کی وجہ سے مسافت طویل ہوگئی۔ شی گوارا اس سفر کا حال اس طرح بیان کرتے ہیں۔۔۔’’تمام کشتی میںافسوس ناک ماحول طاری تھا۔ آدمیوں کے چہروں پر اذیت نمایاں تھی، اُنھوںنے اپنے پیٹ تھامے ہوئے تھے ، کچھ نے اپنے سر بالٹیوں میں دئیے ہوئے تھے ، کچھ دیگر عجیب وغریب انداز میں آڑے ترچھے پڑے ہوئے تھے ۔ اُن کے کپڑے قے سے آلودہ تھے۔‘‘
ساحل کے قریب اُن کی کشتی مٹی کے ڈھیر میں پھنس گئی۔ سرکاری فورسز کو بھی اُ ن کی مہم کی خبر ہوچکی تھی۔ کشتی سے ڈگمگاتے ہوئے اترنے والے جنگجوئوںکو منظم سرکاری فورسز کا سامنا تھا، چنانچہ ان کا بھاری جانی نقصان ہوگیا۔ بیاسی افراد میں سے صرف 16جنگ کرنے کے لئے بچے ۔ اس وقت سیرا میسترا(Sierra Maestra) کی پہاڑوں میں رہنے والے دیہاتیوں کی اہم کمک پہنچنے لگی۔ ان پہاڑوں میں فیڈل نے اپنا بیس کیمپ بنایا۔ اس کے تین سال بعد وہ کامیاب انقلاب کا اعلان کرتے ہوئے ہوانا میں داخل ہوئے ۔ کاسترو نے عام آدمیوں کو اپنے گرد جمع کیا ، انقلاب کو مستحکم کرتے ہوئے پرانی اشرافیہ کا ڈھانچہ توڑ دیا۔ بڑے بڑے فارمز کو توڑ دیا گیا، صنعت کو قومی تحویل میں لے لیا گیا۔ اس صورت ِحال پر امریکہ پریشان کیونکہ اس کے کاروباری مفادات پر ضرب پڑی تھی۔ کیوبا عملی طور پر ایک امریکی کالونی ہی تھا۔ اس کے بارز اور عشرت کدے امریکی سیاحوں کی تفریح گاہیں تھیں۔ چنانچہ کیوبا میں آنے والے انقلاب نے نہ صرف اس صورت ِحال کو برہم کردیابلکہ اس سے شہ پاتے ہوئے لاطینی امریکہ کے دیگر ممالک کے بھی تیور بدلنے لگے ۔ چنانچہ امریکہ نے اس انقلاب کو ناکام بنانے کے لئے کیوبا پر معاشی پابندیاں عائد کیں، اسے عالمی تنہائی سے دوچار کیا ، کاسترو کو ہلاک کرنے کی پے درپے کوششیں کیں، اور حتیٰ کہ کیوبا پر باقاعدہ فوج کشی بھی کی گئی۔ لیکن ان تمام مصائب کے باوجود انقلاب کا پرچم سرنگوں نہ ہوا۔ صرف یہی نہیں، کاسترو نے دنیا بھر میں انقلابی جدوجہد ، جیسا کہ پی ایل او اور نیلسن منڈیلا کی تحریک کی حمایت کی۔
آپ کو جس طرح کا ٹریفک جام پاکستان میں دکھائی دیتا ہے ، کیوبا میں اس کا تصور بھی نہیں کیا جاسکتا۔ ہوانا کی سڑکوں پر ابھی تک پرانے ماڈل کی امریکی کاریں چلتی ہیں۔ دکانوں پر ایسی اشیا نہیں ملتیں جیسی ہم اپنی دکانوں پر دیکھتے ہیں، لیکن کیوبا میں دنیا کا بہترین ہیلتھ کئیر سسٹم اور تعلیمی نظام ہے ۔ ہم ایک طاقت ورفوج اور جوہری طاقت رکھتے ہیں لیکن ہم امریکی امداد کے بغیر خود کو غیر محفوظ سمجھتے ہیں۔ تاریخی بدقسمتی ہے کہ ہمارے ہاں کاسترو اور شی گوارا جیسے لیڈروںکی بجائے صنعت کار ، جاگیردار اور سرمایہ دار لیڈروں نے جنم لیا ۔ ہماری قسمت میں انقلاب بس اتنا ہی ہے کہ جاگیر دار رہنما کی جگہ صنعت کار رہنما اقتدار سنبھال لے۔



.

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں