آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
منگل11؍ربیع الاوّل 1440ھ20؍نومبر 2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
جہاں تک ایک اسلامی ریاست میں غیر مسلموں کی شراکت داری اور دلداری کا تعلق ہے تو اس کا فیصلہ اسلامی جمہوریہ پاکستان کے 1973کے اسلامی آئین، بانیٔ پاکستان کی 11؍ اگست 1947کی تقریر سے بہت پہلے میثاق مدینہ کے تاریخی معاہدے میں ہو چکا ہے۔ مشہور مورخ ابن اسحٰق کے مطابق مہاجرین و انصار کے درمیان لکھی جانے والی اس دستاویز میں یہود بھی ایک فریق کی مانند شامل تھے۔ اسی میثاق کے مطابق ایک مسلم مملکت میں تمام شہریوں کے بنیادی، شہری اور انسانی حقوق یکساں ہوں گے۔ انسانی جان و مال کے تحفظ اور مذہبی آزادی میں مسلم اور غیر مسلم کے درمیان کوئی تفریق نہیں رکھی گئی۔ یہی بات 11؍ اگست کو قائداعظم محمد علی جناحؒ نے کہی تھی۔ تاہم تحریک پاکستان اور نظریہ پاکستان کو نظر انداز کر کے چند سیکولر حضرات قائداعظم کی 11؍ اگست والی تقریر کو جو رنگ دینے کی کوشش کرتے ہیں اس کا قائد کی تحریک، قائد کی سیاست اور قائد کے وژن سے کوئی تعلق نہیں۔ اس پس منظر میں وزیراعظم کا پاکستان کا ہندو برادری کے پُر مسرت تہوار ہولی میں شرکت بجا مگر وحدت ادیان یا فلسفۂ جنت و دوزخ پر لیکچر دینا بالکل بے موقع اور نامناسب تھا جناب وزیراعظم! ایسے موضوعات آپ کے مبلغ علم سے بہت ماورا ہیں۔آپ کے شعوری یا غیر شعوری فقروں سے مختلف کونوں کھدروں میں دبکے ہوئے مٹھی بھر

لادین دانشوروں کی حوصلہ افزائی ہوتی ہے اور وہ پھر ایمان و آئین کے خلاف محاذ آرائی پر کمر بستہ دکھائی دینے لگتے ہیں۔
قائداعظم محمد علی جناحؒ نے 23؍ مارچ 1940کو یکایک دو قومی نظریہ نہیں پیش کر دیا تھا۔ اس کے پیچھے ایک طویل تاریخ تھی۔ 1940کی قرارداد لاہور سے پہلے قائداعظم محمد علی جناح اور مسلم لیگ کی کوشش تھی کہ بہ حیثیت اقلیت مسلمانوں کو انسانی و اسلامی حقوق دلوائے جائیں۔ میثاق لکھنو 1916، دہلی مسلم تجاویز 1927اور کانگریس لیگی مفاہمت 1937اسی سلسلے کی کڑیاں تھیں لیکن مسلمانوں کو ایک خود مختار اقلیت کی حیثیت سے حقوق حاصل نہ ہو سکے۔ تب قائداعظم محمد علی جناحؒ نے ایک قانونی و آئینی ماہر اور برصغیر پاک و ہند کے مسلمانوں کے مقبول ترین رہنما کی حیثیت سے اپنا موقف اور راستہ بدل لیا۔ انہوں نے کہا کہ مسلمان ایک اقلیت نہیں ایک قوم ہیں۔ اقلیت ملکی قانون کی تابع ہوتی ہے جبکہ قوم بین الاقوامی قانون کے۔ قائداعظم کے اس نقطۂ نظر کی تائید برطانوی پارلیمنٹ میں سر ونسٹن چرچل نے کی تھی۔ انہوں نے کہا تھا کہ اقلیت کا اطلاق وہاں نہیں ہوتا جہاں آبادی کروڑوں میں گنی جاتی ہو۔
دراصل کانگریس کے اندر رہ کر اور جواہر لعل نہرو جیسے بڑے بڑے ’’روشن خیال‘‘ کانگریسی ہندوئوں سے تبادلہ خیال کر کے قائداعظم پر ان کی روشن خیالی اور مستقبل کی سیکولر بھارتی ریاست کے پیچھے چھپی ان کی ہندو تنگ نظری اور منتقم مزاجی کا پردہ چاک ہو چکا تھا۔ مشہور مصور و سنگ تراش پکاسو نے ایک بار بڑی خوبصورت بات کہی تھی کہ پتھر میں مجسمہ تو پہلے سے موجود ہوتا ہے میں تو فقط غیر ضروری حصے کو تراشخراش کر کے اسے الگ کرتا ہوں۔ ایسی ہی بات محمد علی جناحؒ نے کہی تھی۔ انہوں نے 23؍ مارچ 1940کے اجلاس سے پہلے ہندوستان ٹائمز کو اپنے ایک بیان میں کہا تھا۔ ’’پاکستان کوئی نئی چیز نہیں یہ تو صدیوں سے موجود ہے، شمال مغربی اور شمال مشرقی ہند، مسلمانوں کا حقیقی ملک ہے، ان علاقوں میں ایسی آزاد اسلامی حکومت ہونی چاہئے جس میں مسلمان اپنے مذہب، اپنے کلچر اور اپنے قوانین کے مطابق زندگی بسر کر سکیں‘‘۔ 9مارچ 1940کو مشہور انگریزی ہفت روزہ میں محمد علی جناحؒ نے ایک تاریخ ساز مضمون لکھا تھا جس میں یہ سطور مسلمانوں کے لئے مستقبل کا واضح نقشہ پیش کر رہی تھیں۔ انہوں نے لکھا کہ ’’ہندوستان میں پارلیمانی طرز کی جمہوریت قائم کرنا محال ہے، کیونکہ اسی طرز کی حکومت سے سارے ملک پر ہندو راج مسلط ہو جائے گا‘‘۔ قائداعظم محمد علی جناحؒ کی بصیرت کی داد دیجئے کہ گزشتہ ستر سالوں میں ہندوستان میں یہی کچھ ہوا اور وہاں اٹھارہ بیس کروڑ مسلمانوں پر ہی نہیں ہندو دھرم پر یقین رکھنے والے 30کروڑ دلتوں، کئی لاکھ عیسائیوں اور پارسیوں پر عرصہ حیات تنگ کرنے کے لئے ہندو اکثریت نے ظلم و جبر کی کئی دلدوز داستانیں رقم کیں۔ ہر سال کی طرح اس سال بھی مٹھی بھر سیکولر لابی پھر تصور پاکستان پر سوالات اٹھانے اور دو قومی نظریہ کو ہدف تنقید بنا رہی ہے اور اس عظیم نظریہ کو غلط ثابت کرنے کے لئے اپنے ترکش کا ہر تیر آزما رہی ہے۔ اگر دو قومی نظریہ درست نہ تھا تو بھارت کے پاس اسے غلط ثابت کرنے کے لئے ستر سال تھے۔ اگر بھارت میں مسلمانوں سے برابری کا نہ سہی محض رواداری کے سلوک بھی کیا جاتا تو دو قومی نظریہ اپنی افادیت کھو بیٹھتا۔ گزشتہ ستر سالوں میں ہندو مسلم فسادات کی آڑ میں مسلمانوں کے ساتھ جو کچھ ہوا وہ ساری دنیا کے سامنے ہے۔ موجودہ وزیراعظم نریندر مودی نے 2002میں بہ حیثیت وزیراعظم گجرات وہاں 1000مسلمانوں کو نہایت بے دردی اور بے رحمی سے قتل کروایا اور زندہ جلوایا۔ مسلمانوں کو رہائش کے لئے صرف پسماندہ علاقوں تک محدود کر دیا گیا ہے۔ انہیں اچھی تعلیم، اچھی سماجی حیثیت اور اچھی ملازمتوں سے تقریباً محروم کر دیا گیا ہے۔ دو قومی نظریہ اور تصور پاکستان کے خلاف شکوک و شبہات پھیلانے والی مٹھی بھر سیکولر لابی کو اگر توفیق ہو تو وہ یو پی میں ہونے والے حالیہ ریاستی انتخابات پر ایک نظر ڈال لیں۔ یو پی کی 20کروڑ کی آبادی میں مسلمانوں کی تعداد ساڑھے چار کروڑ ہے۔ بی جے پی نے یہاں 300سیٹیں جیتیں جن میں ایک بھی مسلمان نہیں۔ اس ہندو نواز پارٹی نے وہاں ایک انتہائی متعصب ہندو یوگی آدتیہ ناتھ کو وزیراعلیٰ نامزد کر دیا ہے جس کا نعرہ یہ ہے کہ جسے ہندوستان میں رہنا ہو گا اسے ہندو بن کر رہنا ہو گا۔
23؍ مارچ 1940کو قرارداد لاہور کے قائداعظم نے برصغیر کا تصور دیتے ہوئے فرمایا تھا کہ یہ مسلمانوں کی سب سے بڑی اسلامی، جمہوری فلاحی ریاست ہو گی۔ مارچ 1948میں قائداعظم نے ایک تقریر میں فرمایا تھا ’’اگر خدا نے مجھے توفیق بخشی تو میں دنیا کو دکھا دوں گا کہ پاکستان اسلامی اصولوں پر عمل پیرا ہو کر ساری دنیا کے لئے مشعل راہ ہے‘‘ آج 23؍ مارچ 2017 کو ہمارے حکمران اپنے اقوال و اعمال کو سامنے رکھتے ہوئے پیچھے مڑ کر دیکھیں کہ کیا وہ قائداعظم کے دیئے گئے اسلامی ریاست کے وژن پر پورا اترتے ہیں۔ وزیراعظم میاں نواز شریف کے منہ سے ’’ترقی پسند پاکستان‘‘ کا نام سن کر مٹھی بھر سیکولر بغلیں نہ بجائیں کیونکہ وزیر اعظم صاحب استمرار اقتدار کے لئے کبھی خلیفۃ المومنین بن جاتے ہیں اور کبھی روشن خیال سیاستدان!



.

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں