آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
بدھ12 ربیع الاوّل 1440ھ 21؍نومبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
پاناما لیکس پر سپریم کورٹ کی جانب سے فیصلہ آنے اور جوائنٹ انوسٹی گیشن ٹیم کی تشکیل کے بعد تمام سیاسی جماعتوں نے غیر اعلانیہ الیکشن مہم کا آغاز کر دیا ہے اس حوالے سے پاکستان کی تینوں بڑی جماعتیں پاکستان مسلم لیگ ن، پاکستان پیپلز پارٹی اور پاکستان تحریک انصاف نے عوامی رابطہ مہم کا شروع کر دی ہے۔ وزیراعظم چاروں صوبوں کے مختلف اضلاع کے دورے کررہے ہیں اور بڑے بڑے ترقیاتی منصوبوں کے اعلانات کر رہے ہیں۔ پاکستان پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری ملک بھر میں سیاسی توڑ جوڑ میں مصروف ہیں اور ملک بھر سے اپنے حلقوں میں مضبوط امیدواروں کو اپنی پارٹی کے پلیٹ فارم سے الیکشن لڑنے کی پیشکش کر رہے ہیں، ان کی زیادہ توجہ کا مرکز پنجاب ہے جبکہ پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان بھی پاناما لیکس کا فیصلہ آنے کے بعد ملک بھر میں عوامی رابطہ مہم جاری رکھے ہوئے ہیں۔ یہ کہنا زیادہ مناسب ہوگا کہ الیکشن 2018ء میں پاناما لیکس کے ایشو کو خصوصی اہمیت حاصل ہوگی بالخصوص پاکستان تحریک انصاف اسی ایشو کو بنیاد بنا کر آئندہ انتخابات میں حصہ لینا چاہتی ہے۔ پی ٹی آئی کے چیئرمین عمران خان کی توجہ علاقائی سیاست پر نہ ہونے کے برابر ہے۔ تحریک انصاف کے جلسوں میں ملک بھر سے لوگ شامل ہوتے ہیں لیکن جس شہر میں ان کا جلسہ ہوتا

ہے وہاں مقامی لوگوں کی نمائندگی اتنی زیادہ تعداد میں نہیں ہوتی جتنی ہونی چاہئے۔ ہمیشہ کی طرح 2018ء کے الیکشن میں بھی اصل معرکہ پنجاب میں ہوگا جو پنجاب جیتے گا وہی وفاق میں حکومت قائم کرنے میں کامیاب ہوگا۔ پنجاب میں سب سے اچھا ہوم ورک حکمراں جماعت پاکستان مسلم لیگ ن کا ہے اور پنجاب میں ان کے کم و بیش تمام امیدوار بھی فائنل کئےجا چکے ہیں۔ پاکستان پیپلز پارٹی کی زیادہ توجہ جنوبی پنجاب پر مرکوز ہے اس کے علاوہ وہ سینٹر پنجاب کے چند حلقوں پر بھی اپنی نظریں جمائے ہوئے ہے۔ پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری کی پنجاب کے حوالےسے پالیسی انتہائی واضح ہے ان کا خیال ہے کہ پنجاب کے تمام حلقوں میں توانائیاں ضائع کرنے کی بجائے صرف ان انتخابی حلقوں پر توجہ دی جائے جہاں ان کے امیدواروں کی کامیابی کے امکانات زیادہ ہیں۔ ایک رپورٹ کے مطابق پیپلز پارٹی پنجاب کے 40حلقوں کو اہمیت دے رہی ہے جو زیادہ تر جنوبی پنجاب میں واقع ہیں۔ یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ پنجاب میں اصل انتخابی جنگ حکمران جماعت مسلم لیگ ن اور پی ٹی آئی کے درمیان ہو گی۔ کم و بیش پنجاب کے تمام حلقوں میں ن لیگ اور پی ٹی آئی کے امیدوار پنجاب کے تقریباً تمام اضلاع اور حلقوں میں ایک دوسرے کے خلاف صف آرا ہونگے۔ میری اطلاعات کے مطابق پاکستان تحریک انصاف نے ابھی تک الیکشن 2018ء کے حوالے سے اپنا ہوم ورک شروع ہی نہیں کیا جبکہ پی ٹی آئی کی خواہش ہے کہ الیکشن قبل از وقت ہو جائیں اس لئے وہ بھرپور مہم بھی چلا رہی ہے اگر انتخابات قبل از وقت ہوتے ہیں تو پی ٹی آئی کے لئے ان انتخابات میں مشکلات بڑھ جائیں گی کیونکہ پی ٹی آئی کی تیاری ابھی نامکمل ہے۔ پاکستان تحریک انصاف کے سینئر رہنما اور پارٹی چیئرمین کے قریبی حلقوں کا کہنا ہے کہ پی ٹی آئی 2018سے قبل الیکشن نہیں چاہتی اس کا مقصد صرف اور صرف حکومت پر اپنا دبائو برقرار کھنا ہے۔ ان کا موقف ہے کہ عید کے بعد الیکشن کے لئے باقاعدہ ایک پارلیمانی بورڈ قائم کیا جائے گا جو آئندہ انتخابات کے لئے امیدواروں کی فہرست کو حتمی شکل دے گا۔ پنجاب بھر کے پی ٹی آئی کے سابق ٹکٹ ہولڈر زاور مضبوط امیدوار بھی اب تک گومگو کی کیفیت میں مبتلا ہیں کیونکہ اب تک ان کو اس بات کا یقین نہیں کہ پارٹی کا ٹکٹ ان کو دیا جائے گا لہٰذا انہوں نے ابھی تک عوامی رابطہ مہم شروع ہی نہیں کی اس کی چند مثالیں پیش خدمت ہیں۔
حلقہ 124جہا ں سے شیخ روحیل اصغر ممبر قومی اسمبلی منتخب ہوئے ہیں ان کے مقابلے میں علامہ اقبال کے پوتے ولید اقبال نے الیکشن لڑا اور شکست سے دوچار ہوئے۔ حلقہ این اے 125 اور 126 لاہور کے دو ایسے حلقے ہیں یہاں پر پی ٹی آئی کی پوزیشن مضبوط تصور کی جاتی ہے۔ حلقہ 125سے خواجہ سعد رفیق ممبر قومی اسمبلی منتخب ہوئے انہوں نے 2013 ء کے الیکشن میں پی ٹی آئی کے سینئر رہنما اور قانون دان حامد خان کو شکست دی تھی۔ اب خبریں آ رہی ہیں کہ علیم خان اس حلقے سے الیکشن لڑنے کے خواہش مند ہیں جس کی وجہ سے علیم خان اور حامد خان کے درمیان شدید اختلافات پیدا ہوچکے ہیں بلاشبہ علیم خان حامد خان سے زیادہ مضبوط امیدوار ہیں لیکن اگر حامد خان کو ایک بار پھر اس حلقہ سے ٹکٹ دیدیا گیا تو خواجہ سعد رفیق کے جیتنے کے امکانات مزید روشن ہو جائینگے۔ لاہور کا قومی اسمبلی کاواحد حلقہ این اے 126 ہے جہاں سے پی ٹی آئی کے امیدوار شفقت محمود الیکشن 2013ء میں کامیاب ہوئے۔ یہ حلقہ لاہور میں پاکستان تحریک انصاف کا گڑھ سمجھا جاتا ہے، این اے 126سے تعلق رکھنے والے پی ٹی آئی کارکن شفقت محمود سے زیادہ خوش نہیں کیونکہ شفقت محمود کا اس حلقے میں اپنے کارکنوں سے زیادہ رابطہ نہیں ہے اور کارکنان کا خیال ہے کہ شفقت محمود کو اپنے حلقہ کا اندازہ ہی نہیں کہ یہ کہاں سے شروع ہوتا ہے اور کہاں جا کر ختم ہو جاتا ہے۔
اس حلقہ سے اگر شفقت محمود کو دوبارہ ٹکٹ ملا تو قوی امکان ہے کہ پاکستان مسلم لیگ کے امیدوار خواجہ احمد احسان اس نشست پر کامیاب ہو جائیں گے کیونکہ وہ اس حلقہ میں مسلسل عوامی رابطہ قائم رکھے ہوئے ہیں اور یونین کونسل کی سطح پر ان کا سب سے رابطہ ہے۔ گزشتہ بلدیاتی انتخابات میں بھی اس حلقے کی یونین کونسلوں میں پاکستان تحریک انصاف کوشکست ہوئی۔ اگر جے آئی ٹی کی تحقیقات کے نتیجے میں حکمراں جماعت کو گرین چٹ مل گئی تو پھر وہ ناصرف لاہور سے کلین سویپ کرنے کی پوزیشن میں ہوگی بلکہ پنجاب بھر میںپہلے سے کہیں زیادہ نشستیں حاصل کر سکتی ہے۔ جے آئی ٹی کا فیصلہ حکمراں جماعت کیخلاف آتا ہے تب بھی ایک محتاط اندازہ کے مطابق پی ٹی آئی پنجاب سے 50سے 60نشستیں ہی حاصل کر پائی گئی۔
سندھ اور بلوچستان میں ان کی پوزیشن سب کے سامنے ہے۔ آئندہ انتخابات کے بعد کے پی میں ایک بار پھر صوبائی حکومت قائم کرنے کے لئے پی ٹی آئی کو پیپلز پارٹی یا ن لیگ میں کسی ایک پارٹی کا سہارا لینا پڑے گا جو کہ شاید اسے قابل قبول نہ ہو۔ اگر مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی مل کر کے پی میں حکومت بنانے کا فیصلہ نہیں کر پائے تو پھر کیا ہوگا کیا دوبارہ الیکشن کرائے جائیں گے؟ موجودہ حالات میں جے آئی ٹی کا پاناما لیکس پر فیصلہ حکمراں جماعت کیخلاف آتا ہے تب بھی پی ٹی آئی کاوفاق میں حکومت بنانا ممکن نظر نہیں آتا اس حوالے سے پاکستان تحریک انصاف کو سنجیدگی سے سوچنا ہوگا۔

.

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں