آپ آف لائن ہیں
پیر 13؍محرم الحرام 1440ھ 24؍ ستمبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

پانامہ پیپرز میں ہونے والے انکشافات کے بعد پی ٹی آئی سمیت ملک کی تقریباً تمام سیاسی جماعتوں نے مسلم لیگ (ن) کی حکومت کو غیر فعال کرنے کی کوششیں شروع کر دی تھیں خاص طور پر پی ٹی آئی نے وفاقی دارالحکومت میں دھرنوں کا سلسلہ جاری رکھا لیکن دھرنوں کی ناکامی کے بعد پانامہ پیپرز میں ہونے والے انکشافات کو جواز بنا کر سپریم کورٹ میں پٹیشن بھی دائر کر دی ۔ گزشتہ ایک برس سے سپریم کورٹ میں وزیراعظم نواز شریف اور ان کی فیملی کے متعدد ارکان منی لانڈرنگ الزام کے تحت ٹرائل کے عمل سے گزر رہے ہیں اور سپریم کورٹ کے حکم پر تشکیل دی گئی جے آئی ٹی رپورٹ کے بعد اب فیصلہ محفوظ کرلیا گیا ہے۔کشھ لوگوں کے مطابق مسلم لیگ ن کی حکومت ختم ہو جائے گی لیکن اس سے بڑھ کر جس امر کی گونج سنائی دے رہی ہے وہ صدارتی نظام کی بازگشت ہے۔
تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان بھی اب یہ کہہ رہے ہیں کہ پاکستان میں امریکہ اور ترکی کی طرز پر صدارتی نظام ناگزیر ہوچکا ہے کیونکہ پاکستان میں پارلیمانی نظام حکومت مکمل طور پر ناکام ہوچکا ہے صدارتی نظام حکومت کے قیام کے حوالے سے ملک کی تمام تر سیاسی جماعتیں موجودہ ملکی صورتحال کے پیش نظر پارلیمانی نظام کی بجائے صدارتی نظام حکومت کے قیام پر زور دے رہی ہیں جن میں تحریک انصاف سب سے آگے ہے پیپلز پارٹی ملک

کی ایک بڑی سیاسی قوت ہے پیپلز پارٹی سمیت دیگر سیاسی جماعتیں صدارتی نظام حکومت کے حق میں نہیں ہیں اسی لئے وہ عمران خان کی تحریک انصاف اور چند دیگر سیاسی جماعتوں کے اس نکتہ سے اتفاق کرتی نظر نہیں آتیں ،جنرل پرویز مشرف کے آمرانہ دور حکومت کے بلدیاتی نظام میں بھی کرپشن ہوتی رہی ہے اور اس طرح کے بلدیاتی نظام میں ہمیشہ سے خامیاں موجود رہی ہیں۔ ایم کیو ایم اور اے این پی سمیت بہت سی دیگر سیاسی جماعتیں ہمیشہ سے علاقائی سیاست کرتی آئی ہیں اور پیپلز پارٹی بھی علاقائی سیاست پر توجہ مرکوز کئے ہوئے ہے ایسی تمام سیاسی جماعتیں کبھی بھی صدارتی نظام حکومت کے حق میں نہیں ہیں کیونکہ یہ تمام سیاسی جماعتیں سمجھتی ہیں کہ اگر پانامہ کیس میں وزیراعظم نواز شریف کو قصور وار قرار دے دیا گیا تو یہ بھی صدارتی نظام حکومت کے قیام کے حق میں بولنے والوں کے نقطہ نظر کو تقویت دینے والی بات ہوگی۔ اسی لئے پیپلز پارٹی اور چند دیگر جماعتیں وزیراعظم سے استعفے کا مطالبہ کر رہی ہیں پیپلز پارٹی سمیت بیشتر سیاسی جماعتوں کا خیال ہے کہ اگر نواز شریف منی لانڈرنگ کے مرتکب قرار پائے گئے تو پھر تمام سیاست دانوں کے احتساب کا سلسلہ مرحلہ وار شروع ہو سکتا ہے اور احتساب کے عمل سے سیاستدان ہی نہیں بلکہ تمام ریاستی اداروں کے کرپٹ افراد کو گزرنا پڑے گا ۔ بعض حلقوں کا یہ بھی کہنا ہے کہ اگر صرف نواز شریف کو ہی کرپشن کی بنیاد بنا کر سزا دی گئی اور باقی لوگوں کو احتساب کے عمل سے نہ گزارا گیا تو انارکی پھیل سکتی ہے۔
گزشتہ چار برسوں کے دوران تحریک انصاف نے انتخابی دھاندلیوں کے الزامات لگا کر حکومت کو غیر مستحکم کرنے کی کوشش کی لیکن حکومت کے خلاف دیئے گئے دھرنوں اور جلسوں سے مطلوبہ نتائج حاصل نہ ہوسکے اور اسکے بعد ان کے ہاتھ میں اپنی سیاسی ساکھ کو برقرار رکھنے کیلئے پانامہ پیپرز کی صورت میں ایک ایسا ایشو آگیا جسے بنیاد بنا کر انہوں نے وزیراعظم نواز شریف اور ان کی فیملی کے دیگر افراد کے بارے میں منی لانڈرنگ کے الزامات عائد کرنا شروع کر دیئے لیکن عمران خان سابق صدر آصف علی زرداری سمیت سیاستدانوں کی اکثریت اس مسلمہ حقیقت کو فراموش کئے ہوئے ہے کہ اگر نواز شریف کو منی لانڈرنگ کے الزام کے تحت نا اہل قرار دے دیا گیا تو پھر ایک کے بعد ایک سب کی باری لگے گی اور احتساب کا نہ ختم ہونے والا سلسلہ چل نکلے گااور اس حقیقت سے بھی انکار نہیں کیا جاسکتا کہ کرپشن ، منی لانڈرنگ ، اختیارات کے ناجائز استعمال کا سب سے پہلا الزام سیاستدانوں پر ہی عائد ہوتا ہے۔
ایسے تمام سیاستدان جو برسر اقتدار آکر عوام سے کئے گئے وعدے تو وفا نہیں کرتے اگر ہم پیپلز پارٹی کے گزشتہ دور حکومت پر نظر ڈالیں تو ہمیں وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کی مثال نظر آئے گی جنہیں اختیارات کا ناجائز استعمال کرنے کی پاداش میں نا اہل قرار دیا گیا۔ جمہوری ادوار میں ایسی مثالیں بھی موجود ہیں کہ منتخب وزرائے اعظم کو ان کے عہدوں سے برطرف کر دیا گیا جبکہ مارشل لاء ادوار میں ایک منتخب وزیراعظم کو تختہ دار پر بھی لٹکا دیا گیا۔ ملک کی موجودہ صورتحال کو پیش نظر رکھتے ہوئے ہمارے سیاستدانوں کو یہ بات ذہن میں رکھنی چاہئے کہ عوام کے منتخب کردہ نمائندے ہی ان کے حقوق کیلئے آواز بلند کرسکتے ہیں۔ صدارتی نظام حکومت کے قائم ہونے سے عام آدمی کے حقوق کا استحصال ہوگا کیونکہ ایوب خان کے دور حکومت میں بھی صدارتی نظام کا تجربہ کیا گیا تھا جو ناکام ثابت ہوا تھا اور اسی وجہ سے باشعور اور محب وطن سیاستدان پاکستان میں جمہوری اور پارلیمانی نظام حکومت کے فروغ کی بات کرتے ہیں۔ اس لئے تمام سیاستدانوں پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ پارلیمانی نظام حکومت اور جمہوریت کے عمل کو جاری و ساری رکھنے کیلئے اپنا اپنا کردار ذمہ داری کے ساتھ ادا کریں اور اس حقیقت سے بھی انکار نہیں کیا جاسکتا کہ مسلم لیگ (ن) کی حکومت نے پچھلے چار برسوں کے دوران جہاں سی پیک جیسے عظیم منصوبے کا آغاز کیا وہاں بجلی کے بحران پر قابو پانے کے لئے توانائی کے متعدد پروجیکٹس بھی مکمل کئے۔ آج پاکستان میں بجلی کے بحران پر بہت حد تک قابو پایا جاچکا ہے۔ ہمسایہ دوست ملک چین کے اشتراک سے ون بیلٹ ون روڈ کا منصوبہ بھی شروع کر دیا گیا ہے جس کا کریڈٹ وزیراعظم نواز شریف اور مسلم لیگ کی حکومت کو ہی دیا جائے گا۔ پنجاب کی سطح پر وزیر اعلیٰ شہباز شریف نے بھی درجنوں ترقیاتی اور عوامی بہبود کے منصوبوں کو پایہ تکمیل تک پہنچایا۔ شہباز شریف جنوبی پنجاب میں بھی ترقیاتی منصوبوں پر برق رفتاری سے کام کر رہے ہیں۔ وزیراعظم نواز شریف اور وزیر اعلیٰ پنجاب شہباز شریف نے پچھلے چار سالوں کے دوران ملک کو درپیش بہت سے دیرینہ مسائل سے نجات دلائی ہے اور وہ مزید ترقیاتی منصوبوں پر بھی کام کر رہے ہیں۔ان حالات میں حکومت وقت کو اپنی مدت پوری کرنے کا موقع ملنا چاہئے اور تنقید صرف اور صرف کارکردگی کی بنیاد پر کی جانی چاہئے اور ایسے سیاسی عناصر جو ملک میں صدارتی نظام حکومت کے قیام کی بات کر رہے ہیں انہیں اس طرح کی تجاویز دینے سے گریز کرنا چاہئے۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں