آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
منگل4؍ربیع الاوّل 1440ھ13؍نومبر 2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

نصرت بھٹو سے میری پہلی ملاقات اعزازی مگر باوردی کرنل زیڈ۔ اے۔ سلہری۔ کے فوجی اخبار ’’حلال‘‘ کے نائب مدیر آغا بابر کی بیگم سکندرہ بابر کے ہاں ہوئی۔ کرنل زیڈ۔ اے۔ سلہری۔ کے بارے میں مجھ سے دو گستاخیاں ہوئیں۔ ایک ’’رنگ لایا ہے شہیدوں کا لہو‘‘ اور دوسری ’’پانچویں قسط ہے ایوب کی مداحی میں۔‘‘بیگم نصرت بھٹو نے ایک روز مجھے فون کیا کہ کیمرہ لیکر وزیراعظم ہائوس آجائو۔ میں وہاں پہنچا تو نصرت بھٹو نے دس بارہ سال کی پیاری سی لڑکی سے مجھے ملایا اور بتایا کہ یہ میر مرتضیٰ بھٹو کی بیٹی فاطمہ بھٹو ہے۔ اس کی تصویر بنا دو۔ میں نے فاطمہ کے گال تھپتھپائے تو بیگم نصرت بھٹو کے کمرے میں غالباً ’’آصف علی زرداری کے والد حاکم علی زرداری کی بیگم صاحبہ ننھے بلاول کو لے کر آگئیں۔ میں نے بیگم نصرت کی جھولی میں بلاول زرداری کو دے دیا اور ان تینوں کی تصویر ذوالفقار علی بھٹو کی قدآدم تصویر کے پائوں میں بنائی۔ باتوں باتوں میں میں نے بیگم صاحبہ سے پوچھا کہ ’’محترمہ بے نظیربھٹو کیسی ہیں؟‘‘ انہوں نے بتایا ’’خوش آمدیوں اور بے نظیر کی خوبصورتی کی تعریف کرنے والوں کے نرغے میں ہے۔‘‘ میں نے کہا ’’بیگم صاحبہ! بے نظیر بھٹو نے اپنی خوبصورتی اپنی ماں سے حاصل کی ہے۔‘‘ بیگم صاحبہ نے مسکراتے ہوئے کہا ’’کیا بکواس کرتے ہو؟

میں کہاں کی خوبصورت ہوں؟‘‘ میں نے عرض کیا کہ ’’خوب سیرتی خوب صورتی سے زیادہ اہمیت رکھتی ہے۔‘‘بیگم صاحبہ نے کہا ’’مجھے راوی کے سگیاں پل کا افتتاح کرنا ہے، اس کے لئے مجھے تقریر لکھ دو۔‘‘ میں نے کہا ’’بیگم صاحبہ کوشش کریں کہ سگیاں پل کا نام ’’دلا بھٹی‘‘ برج رکھا جائے۔ نصرت بھٹو سے اس پل کا افتتاح نہیں کروایا گیا۔ میں نے بیگم صاحبہ کی تقریر لکھی تھی مگر انہوں نے یہ تقریر نہیں کی اور راوی کے نئے پل کا نام آزادی کے متوالے دلابھٹی سے منسوب نہ ہوسکا جو کہ میرے خیال میں بہت سے معاملات میں ذوالفقار علی بھٹو سے مطابقت رکھتے تھے اور دلا بھٹی کی ماں بھی بیگم نصرت بھٹو کے ساتھ مطابقت رکھتی تھی۔پاکستان پیپلز پارٹی کی پانچویں سالگرہ سے پہلے راول پنڈی سے بھٹو کابینہ کے رکن خورشید حسن میر میرے پاس لاہور آئے اور میری بیوی سے کہا ’’مجھے آپ کے شوہر کی ضرورت ہے، میری بیوی نے کہا ’’لے جائو۔ جیاکلے بنیا، جیا چوراں کھڑیا۔‘‘ خورشید حسن میر نے کہا کہ بھٹو صاحب کو کسی نے درخواست کی ہے کہ پارٹی کی پانچویں سالگرہ پر منو بھائی سے سٹیج ڈرامہ لکھوایا جائے اور بھٹو صاحب نے اسی مقصد کے لئے مجھے تمہارے پاس بھیجا ہے۔ میں بھٹو صاحب کی خواہش اور حکم کو کیسے نظرانداز کرسکتا تھا۔ میں نے سٹیج ڈرامہ لکھنے کا وعدہ کیا اور صرف پندرہ دن کی مہلت مانگی۔ پندرہ دن کی اس مہلت کے دوران یاور حیات سے مشورہ کیا تو ہماری باتوں کے دوران یہ طے پایا کہ سٹیج ڈرامہ ’’جلوس‘‘ کے عنوان سے لکھا جائے اور یہ پاکستان پیپلز پارٹی کا جلوس ہوگا۔اس ڈرامے کا آئیڈیا میں نے بیگم نصرت بھٹو سے ہی لیا تھا۔ عورتوں کے ایک جلوس کو راولپنڈی کے نالہ لئی کے پل سے آگے جانے سے روک دیا گیا تھا۔ عورتوں نے وہیں دھرنا دے دیا۔ جب بیگم نصرت بھٹو کو پتہ چلا تو وہ اس جلوس کی عورتوں کی مدد کے لئے آئیں اور پولیس سے کہا ’’انہیں کیوں روکا ہے؟‘‘ پولیس نے بتایا ’’محترمہ اوپر سے حکم آیا ہے کہ یہ جلوس چھائونی کے علاقے میں داخل نہیں ہوسکتا۔‘‘ بیگم نصرت بھٹو نے جلوس کی عورتوں سے کہا ’’آئو میرے ساتھ ہم جبر کی چھائونی سے ہو کر آتے ہیں۔‘‘ ان عورتوں میں میری دونوں بہنیں بھی شامل تھیں۔ دھرنے کے دوران خواتین اور گارڈن کالج کی طالبات ہمارے گھر کو میری بہنوں کے تعاون سے حاجات ضروریہ کے لئے استعمال کررہی تھیں۔ میرے ڈرامے کا دوسرا ماخذ مظفرآباد کے دکان داروں کے جلوس سے لیا گیا تھا، جو میرے سامنے سیزفائر کی لائن کو توڑنے کی مہم میں نکلے تھے مگر راستے میں منتشر ہونے پر مجبور ہوگئے تھے۔ مگر جب انہیں سیز فائر توڑنے کی اجازت دی گئی تو انہوں نے منت سماجت کی کہ انہیں گرفتار کر لیا جائے۔ یہ گرفتار شدہ دکان دار جب واپس مظفرآباد آئے تو سیزفائر توڑ دو کے فلک شگاف نعرے لگا رہے تھے۔بیگم صاحبہ سے میری آخری ملاقات میر مرتضیٰ بھٹو کے قتل کے بعد سرخ چائینہ کے مرکزی شہر بیچنگ میں ہوئی۔ جب میں وزیراعظم بے نظیر کے ساتھ آنے والے پاکستانی صحافیوں کی ویگن میں بیٹھا تھا۔ میں نے دیکھا کہ ڈائیمنشیا کی بیماری کی زد میں آئی ہوئی بیگم نصرت بھٹو اپنی دو خادمائوں کے ساتھ باتھ روم میں گئی ہیں۔ باہر آئیں تو ان کی شلوار بھیگی ہوئی تھی۔ خادمائیں بیگم صاحبہ کو جہاز کی طرف لے کر جارہی تھیں ، تو میں نے بیگم صاحبہ کو اخبار نویسوں کی ویگن میں جانے کا مشورہ دیا۔ ویگن میں بیٹھ کر بیگم صاحبہ نے پوچھا یہ کون لوگ ہیں۔ میں نے بتایا پاکستان کے جرنلسٹ ہیں۔ بیگم صاحبہ نے کہا ’’ایک ہمارے منو بھائی بھی ہوتے ہیں وہ کہاں اور کیسے ہیں؟‘‘ میری آنکھیں آنسوئوں سے بھر گئیں، مگر میں یہ آنسو پی گیا اور بتایا کہ منو بھائی لاہور میں ہوتا ہے اور جنگ اخبار کے لئے کالم لکھ رہا ہے۔ اس کے بعد مجھے بیگم نصرت بھٹو سےملاقات کاکوئی شرف حاصل نہیں ہوا۔ انہوں نے چین میں دو سفید رنگ کے طوطے خریدے ایک فاطمہ بھٹو کے لئے اور دوسرا بلاول بھٹو زرداری کے لئے۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں