آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
پیر10؍ربیع الاوّل 1440ھ 19؍نومبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ذوالفقار علی بھٹو کو میں نے پہلی مرتبہ لیاقت باغ میں دیکھا جہاں وہ جنرل ایوب خان کابینہ کے وزیر قدرتی وسائل کے طور پر پریس کانفرنس سے خطاب کر رہے تھے۔ مجھے انہوں نے بہت متاثر کیا۔ بھٹو صاحب سے میری دوسری ملاقات ان کے آفس میں ہوئی جہاں میں نے انہیں بتایا کہ پاکستان ٹائمز کے سینئر رپورٹر سید سلامت علی شاہ کوگرفتار کرلیا گیا ہے۔ بھٹو صاحب نے پوچھا ’’کس جرم میں؟‘‘ میں نے بتایا ’’اپنی خبرمیں سرکاری رازوں، آفیشل سیکرٹ کو پبلک کرنے کے جرم میں۔‘‘بھٹوصاحب نے پوچھا ’’انہوں نے کون ساراز افشا کیا ہے؟‘‘میں نے بتایا کہ ’’کسی کو سرکاری ملازمت دینے سے پہلے ان کی حساس اداروں سے منظوری حاصل کی جائے گی۔‘‘ بھٹوصاحب نے کہا ’’یہ خبر دینا تو رپورٹر کافرض منصبی تھا۔ بہرحال اخبار نویس حضرات پریشان نہ ہوں مسٹر سلامت کو کچھ نہیںہوگا۔‘‘اگلے روز پولیس میرے گھر پر آئی اور بتایا کہ رپورٹ ہے جب سید سلامت علی شاہ یہ خبر چوری کرنے کے لئے سید عابد علی شاہ کے دفتر میں گئے تو آپ بھی ان کے ساتھ تھے۔ چنانچہ اس سلسلے میں آپ کو کل مجسٹریٹ درجہ اول جعفری سعد کی عدالت میں پیش ہوکر اپنی بے گناہی کا ثبوت دینا پڑے گا۔ دوسرے دن میں جعفری صاحب کی عدالت میں پیش ہوا توجعفری صاحب نے فرمایا ’’آپ کو بے گناہی کا ثبوت پیش کرنے کی

زحمت نہیں ہونی چاہئے۔ تفصیل معلوم کرنی ہے تومیری عدالت کے پرائیویٹ روم میںآجائیں۔‘‘ وہاں گیا تو جعفری صاحب نے مجھے ایک رپورٹ دکھائی اور کہا کہ ’’آپ کو منیر احمد قریشی ولد محمد امین بھٹی لکھا گیا ہے۔ اگر خدانخواستہ اس میں کوئی حقیقت ہے تو پولیس والوں کو کیسے پتہ چلا۔ اس پولیس رپورٹ پر میں آپ کے خلاف مقدمے کوداخل دفتر کر رہاہوں۔ آپ جائیں اور آرام کریں۔ ‘‘اس کے باوجود پولیس کے اعلیٰ افسران نے میری تفتیش کو جاری رکھا، ان کے سامنےمیں نے ثبوت پیش کیا ۔پی آئی اے کے ٹکٹ دکھائے اورکہا ’’جن دنوں سید سلامت علی شاہ نے مبینہ طور پر یہ راز چرایامیں ڈھاکہ میں تھا۔‘‘اعلیٰ پولیس افسر نے کہا ’’تم سلامت علی شاہ کوجیل سے باعزت طور پر رہا کرانا چاہتے ہو تویہ ثبوت کسی کے سامنے بھی پیش نہ کرنااور مجھے تفتیش سے فارغ کردیا گیا۔ اگلےروز سید سلامت علی شاہ غالباً بھٹو صاحب کی مداخلت سے جیل سے رہا ہوگئے۔اردو کے مشہور شاعر تیغ الہ آبادی جو اپنے نئے نام مصطفیٰ زیدی کے طور پر مری کے مجسٹریٹ انچارج تھے، انہوں نے مجھے بتایا کہ ایک مشہور آئل کمپنی کے منیجر سڑک پر ناجائز طور پر گاڑ ی چلا رہے تھے کہ میں نے انہیں ٹوکا تو انہوں نے کہا ’’اس ملک میں ہر شخص کی کوئی نہ کوئی قیمت ہے۔ تم بتائو کہ کتنے پیسے چاہتے ہو؟ مجھے بہت زیادہ طیش آگیاا ور میں نے انگریز منیجر کو ایک گھوڑے والے کی چابک سے معلوم نہیںکتنی دیر تک مارا۔ انگریز منیجر نے گورنر پنجاب سےرپورٹ کرنی ہے جو میری ملازمت کےلئے مخدوش ہوجائے گی۔ بھٹو صاحب نے کہا اپنے دوست سے کہو کہ وہ مری سے چھٹی لے کر لاہور چلا جائے۔ باقی میںسنبھال لوںگا۔ مصطفیٰ زیدی نے اسی مشورے پرعمل کیا اور ان کی ملازمت بچ گئی۔ بھٹو صاحب نے کہا کہ آئل کمپنی کے انگریز منیجر کو مصطفیٰ زیدی نے چابک نہیں مارے ذوالفقار علی بھٹو نے مارے ہیں۔ کسی کے ملک کو گالی دینا سب سے بڑا جرم ہے۔ بھٹوصاحب کے وزیرخارجہ بننے سے پہلے یہ میری ان سے تیسری ملاقات تھی۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں