آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
ہفتہ 8 ؍ربیع الاوّل 1440ھ 17؍نومبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

میرے بہت ہی پیارے بزرگ دوستوں میں مشہور شاعر کرنل سید ضمیر جعفری (مرحوم) بھی شامل تھے جنہوں نے لیاقت علی خان کے پاکستان مسلم لیگ کا صدر بن جانے کے بعد دولت مشترکہ کی کانفرنس میں لندن جانے کے موقع پر کہا تھا:سر ہلائیں اگروہاں انگریز، آپ بھی اپنا سر ہلایئے گابیچ میں ہوگی صدر کی کرسی، اس پر جا کر نہ بیٹھ جایئے گاپاکستان ٹیلی ویژن کے پہلے جلسہ، تقسیم انعامات میں سید ضمیر جعفری نے کہا تھا:بوڑھے کہتے ہیں، اشفاق احمد کی ریش رسائی دیکھیں گے اور بچے کہتے ہیں کہ ہم تو، منو بھائی دیکھیں گےاپنی زندگی کے آخری ایام میں جعفری صاحب نیویارک آئے تو میں بھی وہاں گیا ہوا تھا، میں نے جعفری صاحب کا ایک شعر سنا؎کچھ جوانی کی شبیں باقی تھیں عہد پیر میںاس لئے تو آگیا ہوں شہر جوہر میر میںجوہر میر پشاور میں اپنے خلاف وارنٹ گرفتاری جاری ہونے کے بعد اپنی جلاوطنی کی زندگی گزارنے کے لئے امریکہ کے شہر نیویارک میں آگئے تھے۔ میں بھی اپنے اس پیارے دوست کے پاس قیام پذیر تھا اور ضمیر جعفری بھی۔ جوہر میر اگر جلاوطنی نہ کرتے تو جنرل ضیاء الحق کےحکم پر پاکستان پیپلز پارٹی میں سرگرم ہونے کے جرم میں پھانسی پر لٹکا دیئے گئے ہوتے۔ سید ضمیر جعفری اور جوہر میر نے نیویارک ہی میں وفات پائی۔ اور میں جوہر میر کے گھر سے نصرت چودھری کے گھر

چلاگیا۔ میرا سامان نصرت کے شوہر انور خان اپنی خوبصورت گاڑی میں اپنے گھر لائے۔ نیویارک میں میرے دوسری وزٹ میں میرے پیارے دوست جاوید شاہین (مرحوم) بھی میرے ہمراہ تھے اور نیویارک کی سڑکوں پر گرمی کی شدت سے بچنے کے لئے قمیض اتار کر ننگے بدن گھومتے تھے۔ نصرت چودھری کے ہاں ہم نے تقریباً ایک مہینہ قیام کیا، جہاں نصرت کی خوبصورت اور قابل بیٹیاں فاطمہ انور اور فروغ انور بھی موجود تھیں جو کہ غیر معمولی ذہانت کی مالک ہیں۔ نیویارک سے واپس لاہور آتے ہوئے ہمارے ساتھ نیویارک میں خدمت خلق کا انعام حاصل کرنے والی ایس ایم ظفر (سابق وفاقی وزیر پاکستان) کی بیٹی بھی ہمسفر تھی۔سید ضمیر جعفری کی شاعری میں ایک نظم میں کہا گیا ہے؎میری بیوی قبر میں لیٹی ہے جس ہنگام سےوہ بھی ہے آرام سے اور میں بھی ہوں آرام سےمعلوم نہیں اسے مزاحیہ شعر کہا جائے یا ماتمی۔ ضمیر جعفری کی اتنی ہی شہرت کا حامل ان کا بیٹا جنرل جعفری بھی ہے۔ حکومت پاکستان کی اپوزیشن پارٹی نے ضیاء الحق سے کہا کہ ’’آپ اپنے ضمیر میں جھانکیں‘‘۔ تو میں نے لکھا کہ ’’جنرل ضیاء زیادہ سےزیادہ جنرل ضمیر کے گریبان میں جھانک سکتے ہیں‘‘۔سید ضمیر جعفری کے کئی شعر بہت ہی زیادہ مشہور ہوئے؎ہم نے کتنے دھوکے میں سب جیون کی بربادی کیگال پہ اک تل دیکھ کے ان کے سارے جسم سے شادی کیo.....o.....oشوق سے لخت جگر نور نظر پیدا کروظالمو تھوڑی سی گندم بھی مگر پیدا کرومیں بتاتا ہوں زوال اہل یورپ کا پلاناہل یورپ کو مسلمانوں کے گھر پیدا کروحضرت اقبالؔ کا شاہیں تو ہم سے اڑ چکااب کوئی اپنا مقامی جانور پیدا کروo.....o.....oاور پھر ان کا یہ شعر؎ان کا دروازہ تھا مجھ سے بھی سوا مشتاق دیدمیں نے باہر کھولنا چاہا تو وہ اندر کھلاo.....o.....oدل ہو یا دلیہ ہو دانائی کی بالائی ضمیرؔزندگی ہے چند اشیاء کی خریداری کا نامo.....o.....o

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں