• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

نیوز چینلز اور سوشل میڈیا کی بندش کے دوران کیا کیا ہوا؟

What Happened During Closure Of News Channels And Social Media

فیض آباد دھرنے کے خلاف آپریشن کے دوران پہلے نیوزچینلز کو لائیوکوریج سے منع کیا گیا۔اس کے بعد چینلز کی کلی بندش کا پروانہ آیا اور پھر سوشل میڈیا یعنی ٹویٹر، فیس بک، انسٹاگرام اور یوٹیوب بند کرکے اطلاعات تک رسائی کے تمام دروازے بند کر دئیے گئے۔ایسا تو جنرل پرویزمشرف کی ایمرجنسی میں بھی نہیں ہوا تھا۔

بلیک فرائیڈے تو ہم نے نہیں منایالیکن میڈیا کے غازیانِ گفتاراور سوشل میڈیا کے باغیانِ جُبہ و دستار پاکستان میں اب ہر سال بلیک سیچرڈے ضرور منایاکریں گے۔آخر ایسا کیا ہونے جا رہا تھا جسے حکومت میڈیااور سوشل میڈیا بند کرکے چھپانا چاہتی تھی؟

لگ بھگ دوہزار لوگوں کو دھرنے سے ماربھگانے کے لیےزیادہ سے زیادہ ایک ہزارپولیس اہلکاروں کی نفری کافی تھی۔آنسو گیس کی شیلنگ اورمعمولی نوعیت کے لاٹھی چارج سے مسئلہ حل ہو سکتا تھا۔آپریشن کے دوران لائیوکوریج سے روکنے تک تو بات سمجھ میں آتی ہے لیکن نیوزچینلز اور سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کو دودن تک بندرکھنے کی تُک سمجھ سے بالاتر ہے۔

دودن کی بندش کے دوران کیا کچھ ہوا؟حکومت چونکہ واٹس ایپ بند کرنا بھول گئی تھی لہذاہرلحظہ باخبر رہنے کے متلاشی واٹس ایپ شیئرنگ کے ذریعے سرگرم ِعمل رہے اور ساتھ ہی ساتھ افواہوں اور فیک نیوز کی ترسیل کا بازار بھی گرم رہا۔

کسی نے حکومت کی جانب سے اسلام آباد میں فوج کی ٹرپل ون بریگیڈبلائے جانے کو مارشل لاءکی آمد آمد سے تشبیہہ دی تو کسی نے لاہور میں رینجرز کی طلبی کو خادمِ اعلیٰ کی گُڈگورننس کی ناکامی قراردیا۔

دھرنامظاہرین کے خلاف پولیس آپریشن کی ناکامی پولیس کی دسیوں گاڑیاں جلائے جانے اور بیسیوں پولیس اہلکاروں کے زخمی ہونے کی صورت میں سامنے آچکی تھی چنانچہ اسے چھپانے کی چنداں ضرورت نہ تھی۔زیادہ سے زیادہ کیا ہوتا؟ میڈیاوالےچوہدری نثار کو اپنے گھر سے بکتربند گاڑی میں جاتے ہوئے دکھا دیتےاور سوشل میڈیا والے ان کے اس طرح گھر سے نکلنے کو لال مسجد والے برقعہ پوش مولانا سے ملانے کی کوشش کرتے۔اتنی سی بات کا آخرچوہدری نثار نے کون سا برا منالیناتھا۔

ڈی جی ،آئی ایس پی آر کا ٹویٹ بھی ٹویٹربند ہونےسے پہلے ہی آچکا تھا جس میں وزیراعظم کو آرمی چیف کے ٹیلی فون کا ذکر تھا اور انہیں دھرنامظاہرین کو طاقت کے استعمال سے نہیں، گفت وشنیدکے ذریعے منتشر کرنے کا مشورہ دیے جانے کی بات کی گئی تھی۔یہ ٹویٹ بھی کچھ ایسا ضرررساں نہیں تھا کہ جس پر میڈیا اور سوشل میڈیا اگر بات کرتا تو خدانخواستہ جمہوریت کو کوئی خطرہ لاحق ہونے کا اندیشہ پیداہوتا۔

رہی بات دھرنامظاہرین کی جانب سے جاوید لطیف کا سرپھاڑنے،زاہدحامدکے گھرپر حملہ کرنے اورراناثناءاللہ کے ڈیرے پرہلہ بولنے کی تو اس قسم کے چھوٹے موٹے واقعات کی تشہیر سے بھی جمہوریت کمزورہونے کے بجائے کچھ نہ کچھ مضبوط ہی ہوتی ہے۔ایک تو زاہدحامداپنے گھر پرنہیںتھے، دوسرے رانا ثناءاللہ بھی اپنے ڈیرے پر موجود نہ تھے۔حکومت کو صرف ایک حکومتی رُکن کے سرپھٹنے کو ردِبلا سے تعبیر کرنا چاہیئےکہ دھرنے والے تو پوری حکومت کا ہی سر پھوڑنے کے درپے ہیں۔

اس دوران سکھر میں گرینڈڈیموکریٹک الائنس کا جلسہ ہوا۔سندھ میں پیپلزپارٹی کے خلاف بننے والے اس اتحاد کو اگلے الیکشن میں یہ توقع ہے کہ اتحاد میں شامل جماعتیں سندھ میں حکومت بنانے میں کامیاب ہو جائیں گی۔فنکشنل مسلم لیگ کے سربراہ پیرصبغت اللہ شاہ راشدی کی صدارت میں ہونے والے اس جلسہءعام سے سید غوث علی شاہ، ذوالفقار مرزا، صفدرعباسی،صدرالدین شاہ راشدی، غلام مرتضیٰ جتوئی اورایازلطیف پلیجو نے خطاب کیااوراگلے الیکشن میں سندھ سے پیپلزپارٹی کا صفایاکرنے کا دعویٰ کیا۔

ایک اور خبر یہ بھی آئی کہ فیض آباد کے دھرنا مظاہرین کے خلاف آپریشن پرسابق وزیراعلیٰ سندھ ارباب غلام رحیم خوش نہیں تھے اور انہوں مسلم لیگ ن سے لاتعلقی کا اعلان کر دیا ہے۔انہوں نے نوازشریف اورآصف زرداری کو ایک ہی سکے کے دورُخ قراردیتےہوئے اپنی آئندہ کی سیاست کا رُخ بھی متعین کر دیا ہےاوردبے لفظوں میں یہ بھی بتا دیا ہے کہ نوازشریف کو سائیڈلائن کرنے کے بعدآصف زرداری کو بھی کھلا میدان نہیں ملنے والا۔ارباب رحیم کا یہ بھی دعویٰ ہے کہ بے نظیر بھٹو کے قتل کا معمہ بھی جلد حل ہونے والا ہے۔

جب ہم اطلاعات تک رسائی سے محروم تھے ، اسی دوران یہ اطلاع بھی آئی کہ سعودی حکومت نے خانہءکعبہ اور مسجدنبوی ؑ میں تصویریں کھینچنے پر پابندی عائد کردی ہے۔سعودی حکومت کے اس فیصلے سے بھلا ہماری حکومت کی سیلف رسپیکٹ پر کیا حرف آناتھا۔یہ تو خوش آئند فیصلہ ہے کہ اب عازمینِ حج و عمرہ دورانِ طوافِ خانہ ء کعبہ سیلفیاں کھینچ کھینچ کر سوشل میڈیا پر شیئر کرنے کی بدعت سے بچے رہیں گے اور ساری توجہ عبادات پر مرکوز رہے گی۔

سعودی عرب سے یاد آیا۔اسی دوران سعودی قیادت میں تشکیل پانے والے اسلامی ملٹری الائنس کی افتتاحی تقریب بھی ہوئی۔جس میں اس بات کا واضح اعلان کیا گیا کہ یہ اتحاد خطے میں دہشت گردی کے خاتمے کے لیے وجود میں آیاہے۔اسے کسی خاص ملک یا فرقے کے خلاف نہ سمجھا جائے۔

پاکستانیوں کو تو ویسے بھی خوش ہونا چاہیے کہ جنرل راحیل شریف اس ملٹری الائنس کے کمانڈرانچیف ہیں۔زیادہ سے زیادہ چند ایک دل جلوں نے ٹویٹر پر ’’شکریہ! راحیل شریف‘‘ جیسے الفاظ لکھ دینا تھے۔جب حکومت کو سڑکوں اور چوراہوں پر اس طرح کے بینرز لگنےسے اُس وقت کوئی فرق نہیں پڑا تو اب ٹویٹر بند نہ بھی کرتے توکون سی قیامت آ جانی تھی۔

تازہ ترین