آپ آف لائن ہیں
جمعہ 10؍محرم الحرام 1440ھ 21؍ستمبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

میں چیف جسٹس آف پاکستان کا شکرگزار ہوں جنہوں نے ہمیں یاد دلایا کہ پارلیمنٹ سپریم ہے ، معزز چیف جسٹس نے اپنے بیان میں کہا کہ ’’ میں نے سنا کہ لوگ پارلیمنٹ کی مذمت کررہے تھے، لیکن ہمارے لیے پارلیمنٹ ہی سپریم ہے‘‘۔ چیف جسٹس اپنے لیے ’’بابا رحمت ‘‘کا نام استعمال کرتے ہیں ، ان کے بیان نے مجھے بابا رحمت کے عنوان سے ایک آرٹیکل لکھنے پر آمادہ کیا جو کہ 22دسمبر 2017ء کو شائع ہوااور میں نے اس میں بابا رحمت کا حوالہ ’’آئین اور قانون کی حکمرانی‘‘ کے طور پر دیا۔ ملک آئین کے تحت چلتا ہے، قوانین پارلیمنٹ میں قانون سازی کے بعد نافذ کیے جاتے ہیں، اسی طرح پارلیمنٹ ایکٹ بناتی ہے جو ’’ایکٹ آف پارلیمنٹ ‘‘ کہلاتا ہے اور ان سب کا نفاذ قانون کی حکمرانی کہلاتا ہے۔ اسی قانون کی حکمرانی کا اطلاق تمام اداروں بشمول سیاسی جماعتوں ، سیاستدانوں اور عام عوام پر ہوتا ہے، سادہ الفاظ میں پارلیمنٹ قوانین بناتی ہے جبکہ ان کا نفاذ قانون کی حکمرانی سے ممکن بنتا ہے ، پارلیمنٹ کے بغیر جمہوریت نہیں رہتی۔ پارلیمنٹ صدر، قومی اسمبلی اور سینیٹ پر مشتمل ہوتی ہے اور پارلیمنٹ کو گالی دینے کا مطلب مذکورہ اداروں کو گالی دیناہے ، صدر افواج پاکستان کے سپریم کمانڈر بھی ہیں ، بلاواسطہ طور پر یہ ’’لعنت ملامت ‘‘ مسلح افواج اور دیگر

آئینی اداروں پرکی گئی، اپنے سیاسی مخالفین پر لعنت ضرور بھیجیں لیکن پارلیمنٹ جو کہ ملک کا مستقبل اورعوام کی امید ہے اس پر لعنت نہ بھیجیں ۔پارلیمنٹ عوام کی طاقت سے وجود میں آتی ہے اور اسے گالی دینے کا مطلب عوام کو گالی دینا ہے ۔ اگر آپ اسی پارلیمنٹ کے رکن ہوتے ہوئے اسے گالی دیتے ہیں تو آپ کس منہ کے ساتھ لوگوں کے پاس ووٹ لینے جائیں گے ؟ کیا کوئی قانون پارلیمنٹ کو گالی دینے کی اجازت دیتا ہے ؟ عوام نے آپ کو قانون سازی کا لائسنس دیا ہے نا کہ گالی دینے کا۔پارلیمنٹ پر حملہ کسی اور نے نہیں بلکہ اس کے اپنے ارکان نے کیا جنہیں شہرت ہی اسکا رکن بن کر ملی، اس لیے میں اپنے ہم وطنوں کو خبردار کرتا ہوں کہ کچھ سیاستدان جمہوریت کو دیوار سے لگانے میں لگے ہیں، براہ کرم اسے بچائیے، اگر پارلیمنٹیرینز ہی اس کی عزت نہیں کرتے تو کوئی دوسرا کیوں کرے گا؟ میں ایسے لوگوں کو خبردار کرتا ہوں کہ پارلیمنٹ کے ساتھ محاذ آرائی سے گریز کریں یہ نا ہو کہ جمہوریت کو ناقابل تلافی نقصان پہنچ جائے۔ ہم ایسے مظاہرے ماضی میں دیکھ چکے ہیں جب کچھ سیاستدانوں نے پارلیمنٹ کا وقار گھٹانے کے لیے گندا کھیل کھیلا ، ان میں سے بعض کو ڈکٹیٹروں نے وزارتوں سے نوازا، اور بعض فقط انتظار کرتے رہ گئے۔قوم پارلیمنٹ کی تحلیل کو ماضی میں دیکھ چکی ہے، پہلی بار آئین ساز اسمبلی 24اکتوبر 1954ء کو گورنر جنرل غلام محمد نے تحلیل کی، محمد علی بوگرہ اس وقت وزیر اعظم تھے ، گورنر جنرل کا یہ اقدام مشہور زمانہ مولوی تمیز الدین کیس کے ذریعے عدالت میںچیلنج کیا گیا، تاہم وفاقی عدالت نے ایک جج کے اختلاف رائے کے باوجود فیصلہ گورنرجنرل کے حق میں سنایا۔دوسری آئین ساز اسمبلی 28مئی 1955ء کو بنی ، 23مارچ 1956ء کو آئین نافذ ہوااور پاکستان ’’اسلامی جمہوریہ ‘‘قرار پایا، 7اکتوبر 1958ء کو مارشل لاء نے آئین کو ناقابل عمل قرار دیتے ہوئے معطل کردیا اور اسمبلی کا بوریا بستردوسری بارگول کر دیا گیا۔ 14اگست 1973ء کو 73ء کا آئین نافذ ہوا، اسی دن بھٹو نے وزیر اعظم جبکہ فضل الہٰی چوہدری نے صدر پاکستان کی حیثیت سے حلف لیا، 5جولائی 1977 کو جنرل ضیاء الحق نے فوجی بغاوت کے ذریعے آئین معطل کردیا، جو کہ 1985ء میں بحال کیا گیا، اسی طرح 1999ء میں جنرل مشرف نے آئین دوبارہ معطل کردیا۔ پاکستان تحریک انصاف آغاز سے ہی سخت نعرے لگاتی آئی ہے ، عمران خان نے 2014ء کے دھرنے میں پارلیمنٹ کو دشنام کا نشانہ بنایا اور قوم نے دیکھا کہ کس طرح ان کے کارکن پارلیمنٹ میں داخل ہوئے۔ عمران خان اور شیخ رشید نے پارلیمنٹ کے بارے میں اپنی ناپسندیدگی کا اظہار جاری رکھا ہے ، اس بار غیر پارلیمانی الفاظ کا استعمال بھی ان دونوں رہنمائوں نے چیئرنگ کراس لاہور پر کھڑے ہوکر کیا ، یہ ایک سنگین حملہ تھا اور آل پارٹیز کانفرنس (اے پی سی) کا مینڈیٹ نہیں تھا ، میں بھی اے پی سی کا حصہ تھا، اے پی سی کا مینڈیٹ صرف ماڈل ٹائون کے شہداء کے لواحقین کے لیے انصاف کا مطالبہ کرناتھا، تاہم پی ٹی آئی اور اس کے اتحادیوں کے سکرپٹ سے لگتا تھا کہ بہت کچھ غلط ہو رہا ہے ، دوسرا حملہ ہر روز میڈیا کے ذریعے کیا جاتا ہے کہ پارلیمنٹ بس تحلیل ہونے والی ہے، ہر نیادن پارلیمنٹ کی تحلیل کا خوف لے کر آتا ہے۔ وفاقی دارالحکومت میں پارلیمنٹ کی تحلیل سے متعلق افواہیں مخالف لابی کی طرف سے اڑائی جاتی ہیں اور وہ مسلسل پروپیگنڈہ کرتے رہتے ہیں، ان میں کچھ تو اپنی شیروانیاں بنوا کر بالکل تیار بیٹھے ہیں ، اسلام آباد میں ایسا ایک واقع ہوچکا ہے جس میں ایک ریٹائرڈ کرنل اور اس کی بیوی ایک شخص سے ٹیکنوکریٹ حکومت میں وزارت دلانے کے عوض لاکھوں روپے لوٹ کر رفوچکر ہوچکے ہیں ۔پارلیمنٹ پر کثیر الجہتی حملے ہوتے ہیں جو کہ ہماری جموریت کی نشانی ہے ،اگر کوئی وزیراعظم بننے کے قابل نہیں تو پارلیمنٹ کی مذمت کرنا قطعاََ ناجائز عمل ہے ، یہ ایک خودغرضانہ رویہ اوربیمار ذہنیت پر مبنی خواہش ہے اور قوم کسی صورت اسے پذیرائی نہیں دےسکتی۔ایسے عناصر چاہیں تو اس میں رہیں یا چھوڑ دیں لیکن اسے تباہ کرنے کی کوشش مت کریں۔ اس کے علاوہ پارلیمنٹ کو تفریح گاہ نہ بنائیں ، ہمارےکچھ سیاسی رہنمائوں کو سیاسی بلوغت کی ضرورت ہے انہیں بچگانہ رویے اور ہوس اقتدارسے بالاتر ہو کر جمہوری اداروں کی تعمیر میں کردار ادا کرنا چاہیے۔کوئی شخص پارلیمنٹ کی مذمت کرنے کا لائسنس نہیں رکھتا، ہماری سیاسی تاریخ گواہ ہے کہ کچھ سیاستدان ذاتی مفاد کے لیے پارلیمنٹ کے خلاف سازشیں کرتے رہے،اور ہماری آئینی تاریخ ایسے واقعات سے بھرپور ہے کہ کچھ سیاستدان فوج کو مداخلت کے لیے کہتے رہےہیں، ائیر مارشل (ر) اصغر خان کی موت کے ساتھ ان کا ’’غیر جمہوری خط ‘‘بھی دفن ہو گیا ہے ۔ہم یہ بھی دیکھتے رہے ہیں کہ کس طرح 2014ء کے دھرنے میں پی ٹی آئی فوج کو مداخلت کے لیے کہتی رہی، لیکن فوج جمہوریت مخالف کسی بھی اقدام سے باز رہی جس کا ساراکریڈٹ فوج کو ہی جاتا ہے ۔کچھ سیاستدانوں نے اب پھر ویسے ہی حالات پیدا کر دیے ہیں ، اور جمہوری نظام کی بساط لپیٹنے کے لیے اپنی مقدور بھر کوششیں کر رہے ہیں، میں سارا کریڈٹ موجودہ آرمی چیف کو دوں گا جو جمہوریت کے حامی ہیں اور انہوں نے سینیٹ کے سامنے اپنی بریفنگ میں بھی واضح کیا ہے کہ وہ آئین اور جمہوری نظام کے ساتھ ہیں۔ کچھ سیاستدانوں کی پارلیمنٹ تحلیل کرنے کی خواہش سسٹم کو زخم نہ لگا دے ، اور یہ اقتدار کی ہوس کہیں پس پردہ قوتوں کا راستہ صاف نہ کردے،ہو سکتا ہے پھر بھی ان سیاستدانوں کو اقتدار نصیب نہ ہو سکے۔ اپنی باری کا انتظار کرو، عوام میں جاکر مینڈیٹ لے کر آئو۔پارلیمنٹ جمہوریت کی ماں ہے ، آپ بھی اسی کے رکن ہیں ، اس لیے اسے گالی مت دیں ۔یہ دیگر اداروں کو بھی خطروں سے محفوظ رکھنے کے لیے ہےاور آپ کو بھی قانونی قوت فراہم کرتی ہے، اپنے آپ کا احتساب کرو کہ تم نے قانون کی حکمرانی کے لیے کتنی کوشش کی ۔ رکن کی حیثیت سے آپکی ذمہ داری قانون بنانے کی ہے ناکہ گالیاں دینے کی۔کیونکہ گالیاں آپکا ہی قدوقامت گھٹا رہی ہیں۔ پارلیمنٹ پر حملہ آور نہ ہوں ، ورنہ آپکو پچھتانا پڑے گا۔ایک سچا پارلیمنٹیرین ، قانون کی پاسداری کرنے والا شہری ، اور پارلیمنٹ سے محبت کرنے والا بنیں ، پارلیمنٹ پر ہر طرح کے حملوں کو روکیں ۔ میں نے یہ توہین آمیز بیانات ایک پارٹی کی طرف سے کے پی کے اور مرکز میں استعفوں سے متعلق تمہید کے طور پر پیش کیے ہیں ،آپ سب کو انہیں ایسا کرنے سے روکنے کی بھر پور کوشش کرنے چاہیے۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں