آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
جمعہ7؍ ربیع الاوّل 1440ھ 16؍نومبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

31 دسمبر 2017تک تمام اعلیٰ اور ماتحت عدالتوں میں 1,869,886مقدمے فیصلہ طلب ہیں۔ یقیناً یہ ایک بہت بڑی تعداد ہے جو کہ لمحہ فکریہ ہونی چاہئے۔ روزانہ نئے کیس بھی فائل ہو رہے ہیں اور زیر التوا مقدمات کے فیصلے بھی ہو رہے ہیں۔ فیصلہ طلب کیسوں کی سب سے بڑی تعداد ضلعی عدلیہ کے پاس ہے۔ لاکھوں شہریوں کو روزانہ ماتحت عدالتوں سے واسطہ پڑتا ہے۔ ان عدالتوں میں انصاف کی فراہمی کی صورتحال کافی تشویش ناک ہے۔ پیشیوں پے پیشیاں پڑتی رہتی ہیں اور سالہا سال مقدمات چلتے رہتے ہیں۔ بے شمار خاندان ہیں جو اپنی زندگی کی ساری جمع پونجی ان کیسوں پر لگا چکے ہیں۔ بہت سے لوگ قتل ہو چکے ہیں اور دشمنیاں بڑھ رہی ہیں۔ ان لوگوں میں بہت سی بیوائیں بھی شامل ہیں۔ یقیناً ججوں پر بھی بہت بوجھ ہے کہ وہ کس طرح ان بے شمار کیسوں کا فیصلہ جلد از جلد کریں۔ جلد انصاف کے حصول کیلئے سب سے زیادہ توجہ ماتحت عدلیہ کی طرف دینے کی ضرورت ہے۔ یہ عدالتیں ہائی کورٹوں کے چیف جسٹس صاحبان کے ماتحت آتی ہیں جبکہ سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کا ان سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ اصلاحات کی سب سے زیادہ ضرورت لوئر جوڈیشری کیلئے ہے تاکہ سائلین کی زندگی آسان ہوسکے۔ بدقسمتی سے اس طرف زیادہ توجہ نہیں۔ چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے اپنی ایک حالیہ تقریر میں ماتحت عدلیہ کے ججوں پر بوجھ کا ذکر کیا

تھا اور اس بات پر زور دیا تھا کہ اس کو کم کیا جاناچاہئے تاکہ جلد انصاف کا حصول ممکن ہو۔ انہوں نے حکومت کی توجہ بھی اس طرف دلائی ہے کہ وہ اصلاحات کرے کیونکہ یہ پارلیمان کا کام ہے ورنہ وہ خود اس کے بارے میں کچھ اقدامات کرنے سے گریز نہیں کریں گے۔چیف جسٹس اپنے بہت سے پیش روئوں کے مقابلے میں کافی سرگرم ہیں اور مختلف تقریبات میں اپنے خیالات کا اظہار بغیر کسی لگی لپٹی کے کرتے رہتے ہیں۔ ان کے کچھ ریمارکس نے سیاسی اور دوسرے حلقوں میں خاصی گرما گرمی پیدا کی ہے۔ جونہی انہیں اس کا فیڈ بیک ملتا ہے تو وہ فوراً کسی منفی تاثر کو زائل کرنے کی کوشش بھی کرتے ہیں۔ یقیناً ان کا یہ عمل قابل ستائش ہے کہ انہوں نے عورتوں کےا سکرٹ کے بارے میں کئے گئے اپنے تبصرے پر خواتین اور عوام سے معذرت کر لی۔ ان کا کہنا ہے کہ ان کا مقصد کسی کی دل آزاری کرنا نہیں تھا تاہم پھر بھی اگر کسی کی دل آزاری ہوئی ہے تو وہ معذرت خواہ ہیں عدالت عظمیٰ اپنی ذمہ داریوں سے پوری طرح واقف ہے اور خواتین کے تحفظ کیلئے اپنا کردار ادا کرتی رہے گی۔ خواتین کی ایک نمائندہ تنظیم نے چیف جسٹس کے ریمارکس پر احتجاج کیا تھا۔ اس سے قبل میاں ثاقب نثار نے معذول وزیراعظم نوازشریف اور ان کے ساتھیوں کی تنقید کا جواب دیتے ہوئے کہا تھا کہ جج صاحبان گائوں کے بزرگ’’بابا رحمتے‘‘ کی طرح ہوتے ہیں جو فیصلہ وہ کرتے ہیں سب اس کے سامنے سرتسلیم خم کرتے ہیں۔ ان کے خواتین اور بابا رحمتے کے بارے میں ریمارکس پر خصوصاً سوشل میڈیا پر بہت لے دے ہوئی اور کافی منفی تبصرے کئے گئے۔ سوشل میڈیا ایک ایسا ذریعہ ہے جس پر ہر قسم کی ’’کھچ‘‘ چل جاتی ہے اور کسی کو نہ تو ذمہ داری کا احساس نہیں ہوتا اور نہ ہی کوئی پکڑ۔ اس کے علاوہ نون لیگ کے رہنمائوں نے بھی بابا رحمتے پر کافی سخت رد عمل کا اظہار کیا۔ وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے تو یہاں تک کہہ دیا کہ بابا رحمتے ہمارے لئے رحمت نہیں بلکہ ہمیشہ زحمت کا باعث ہی بنا ہے۔ میاں ثاقب نثار نے اس کمپین کو بہت سنجیدگی سے لیا۔چیف جسٹس نے یہ اعلیٰ عہدہ 31دسمبر 2016ء کو سنبھالا ۔وہ ایک سال تک بڑی حد تک خاموشی سے کام کرتے رہے نہ ہی تو انہوں نے بہت زیادہ تقاریب میں شرکت کی اور نہ ہی انہوں نے بہت زیادہ تقاریر کیں۔ تاہم 15 دسمبر 2017ء کو جب انہوں نے ایک تین رکنی بنچ کی سربراہی کرتے ہوئے عمران خان کو کلین چٹ دی اور انہیں صادق اور امین گردانا اور جہانگیر ترین کو نااہل قرار دیدیا کے بعد مختلف فورمز پر تقریر کی۔ جب سابق وزیراعظم اور ان کے ساتھیوں نے عمران خان کو کلیئر کرنے پر سخت تنقید کی تو چیف جسٹس نے عوامی سطح پر جاکر اس کا جواب دیا حالانکہ اس کی ضرورت نہیں تھی کیونکہ مشہور قول کے مطابق جج صاحبان اپنے فیصلے کے ذریعے بولتے ہیں اور انہیں فیصلوں کو عوام میں جاکر دفاع کرنیکی ضرورت نہیں ہونی چاہئے۔ سیاستدان تو ہر روز بلکہ ایک دن میں کئی کئی بار بیان دیتے رہتے ہیں اور اپنے مخالفین پر حملے کرتے رہتے ہیں۔ عمران خان اور جہانگیر ترین کے بارے میں اگر وہ فیصلہ نہ بھی ہوتا جو انہوں نے کیا ہے تو پھر بھی اس پر سخت تنقید تو ضرور ہونی تھی۔ پھر پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی)نے وہی کچھ کرنا تھا جو کہ نون لیگ کر رہی ہے۔ چیف جسٹس جو جنوری 2018ء میں 65 سال کی عمر کو پہنچنے کے بعد ریٹائر ہو جائیں گے نے اعلان کیا ہے کہ وہ آخری سال میں بہت کچھ کرنا چاہتے ہیں اور انہوں نے اپنی فیملی کو بھی کہہ دیا ہے کہ وہ اب صرف کام پر توجہ دیں گے اور وہ اس عرصہ میں انہیں دستیاب نہیں ہوں گے۔ وہ اتوار کے روز بھی عدالت لگا رہے ہیں جوکہ بڑی اچھی بات اور روایت ہے۔ انہیں صاف پانی مہیا کرنے، تعلیم کا نظام بہتر کرنے اور صحت کے معاملات پر توجہ ضرور دینی چاہئے جس طرح کہ وہ دے رہے ہیں مگر ان سب کے ساتھ انہیں 1,869,886زیر التوا مقدمات نمٹانے پر بھی زوردینا چاہئے اگر وہ اس بیک لاگ کو اپنے آخری سال میں کوئی چالیس پچاس فیصد کم کردیتے ہیں تو یہ ان کا بہت بڑا کارنامہ ہوگا اور انہیں تاریخ میں یاد رکھا جائے گا۔ صاف پانی، تعلیم اور صحت کے مسائل کو حل کرنا،یہ کام حکومت کے کرنے کے ہیں اور اسے ہی کرنے دینے چاہئیں۔ ابھی تک چیف جسٹس کی توجہ صرف اور صرف پنجاب اور سندھ پر ہے جہاں نون لیگ اور پیپلزپارٹی مقبول جماعتیں ہیں اور آئندہ الیکشن میں بھی بہت اچھی کارکردگی دکھانے کیلئے پرامید ہیں ۔میاں ثاقب نثار نے ابھی تک نہ تو خیبر پختونخوا اور نہ ہی بلوچستان کیلئے وقت نکالا ہے حالانکہ جس طرح کے مسائل پنجاب اور سندھ میں ہیں اسی طرح کے ان دونوں صوبوں میں بھی موجود ہیں۔ یہ دونوں سیاسی جماعتیں چیف جسٹس کے پنجاب اور سندھ پر زیادہ توجہ مرکوز کرنے کی ناقد ہیں جس کا اظہار وہ کئی بار کھلے عام کر چکی ہیں کیونکہ وہ سمجھتی ہیں کہ یہ وقت انتخابی مہم کا وقت ہے جو کہ ان کیلئے بہت اہم ہے اور وہ نہیں چاہتیں کہ کسی کے اقدامات کی وجہ سے ان کی ساکھ پر برا اثر پڑے۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں