آپ آف لائن ہیں
اتوار7؍ذوالحجہ 1439ھ 19؍اگست 2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

گزشتہ ہفتے پاکستان میں ہونے والے ڈرون حملے نے ایک مرتبہ پھراسلام آباد اورواشنگٹن کے تعلقات میں پڑنے والی گہری دراڑ ظاہرکردی ۔ سب سے پہلے عالمی میڈیا نے اس کی خبر دی۔ پھر پاکستان کے سول اور عسکری افسران نے بادل ِ ناخواستہ اعتراف کیا کہ ڈرون حملہ ہوا ہے۔ اس کے بعد تضاد بیانی سامنے آئی ۔ کہا گیا کہ حملہ افغان مہاجرین کے کیمپ پر ہوا جہاں کوئی ایک دہشت گرد سرایت کرنے میں کامیاب ہوگیا تھا۔ اس کا ہدف ایسا تھاجس کی سی آئی اے نے بہت احتیاط سے نگرانی کی تھی۔ اس تنازع سے پتہ چلتا ہے کہ اگرچہ یہ دونوں ممالک اس جنگ میں حلیف ہونے کے دعویدار رہے ہیں لیکن ان کی سوچ الگ الگ دنیائوں سے تعلق رکھتی ہے ۔
ڈرون حملے جہاں ان دونوں ممالک کے بگڑتے ہوئے تعلقات کی نمائندگی کرتے ہیں وہاں یہ ایک بہت بڑے مسئلے کا چھوٹا سا پہلو بھی اجاگر کرتے ہیں۔ یہ مسئلہ تعلقات کا بگاڑ روکنے کے لئے کسی بامقصد کوشش کا فقدان ہے ۔ دونوں ممالک بیان بازی کی جنگ میں الجھے ہوئے ہیں۔ عوامی سطح پر الزامات کے تبادلے، چبھتے ہوئے جملوں اور مقبول ِعام بڑھکوںسے قوم پرستی کے نیم پختہ جذبات کو طمانیت ملتی ہوگی ، لیکن ڈیڈلاک ختم نہیں ہوتا۔ حتیٰ کہ ان کے درمیان ہونے والا تعاون ، جیسا کہ طالبان کے بارے میں معلومات کا تبا دلہ ،مختلف جنگجو گروہوں کے بات چیت

کے عمل میں شریک ہونے کے امکانات اور رجحانات ، اور فضائی اور زمینی سہولتوں سے استفادہ بھی ان کے درمیان ہونے والی پریشان کن محاذآرائی کا راستہ نہیں روک سکا۔ عدم اعتماد کا سیلاب کہیں زیادہ منہ زور تھا ۔
یہ صورت ِحال اتنی مایوس کن نہ ہوتی اگر واشنگٹن میں افراتفری اور اختلاف کی فضا طاری نہ رہتی ۔ٹرمپ انتظامیہ (یا آپ ٹرمپ فیملی کہہ لیں)نے عشروں سے قائم ہونے والا امریکی نظام ِ حکومت تہہ و بالا کردیا ہے ۔ یہ امریکی تاریخ کی سب سے متنازع انتظامیہ ہے۔ ہر روز فیصلہ سازی کسی نئے ابہام کا شکار ہوجاتی ہے ۔ اس افراتفری پر ’’واضح پالیسی ‘‘ کا پردہ چڑھایا گیا ہے ۔ اس کا اظہار سادہ دکھائی دینے والے بیانیے اورحماقت بھری ٹویٹس سے ہوتا ہے ۔
جہاں تک پاکستان سے نمٹنے کا تعلق ہے تو اس کے لئے بااثر پالیسی سازوں ، بھارت نژاد امریکیوں کا غلبہ رکھنے والے تھنک ٹینکس یا ریٹائرڈ جنرلوں کی رائے وزن رکھتی ہے ۔ یہ وہ ریٹائرڈ افسران ہیں جن کی آنکھوں پر افغانستان میں ناکامیوں کی پٹی بندھی ہوئی ہے ۔ ماضی کی لاحاصل کارروائیاں ، ناکامی اور تعصبات کے اسی ملغوبا کا واشنگٹن میں عام فہم نام ’’پاکستان کا مایوس کن رویہ ‘‘ ہے ۔ مزید برآں، جب ٹرمپ انتظامیہ انسداد ِ دہشت گردی سے توجہ ہٹاکر چین ،ر وس اور ایران کی طرف سے لاحق خطر ے کو اجاگر کررہی ہے تو اُسے کسی نہ کسی قربانی کے بکرے کی ضرورت ہے تاکہ وہ عوام کو اپنی ناکامی کی وجہ بتا کر ایک اور خطرے کی طرف توجہ دلاسکے ۔ ایسے خطرات کی طرف توجہ دلانا بھی آسان ہے کیونکہ واضح جہت رکھتے ہیں، جیسا کہ زمین، قوم، لیڈر، افعال اور مسابقت۔ اس کے برعکس دہشت گرد زیاد ہ تر غیر واضح اور مبہم گروہ ہوتے ہیں ۔ اور پھر اسامہ بن لادن کی ہلاکت کے بعد اس خطرے کی نمائندگی کرنے والا کوئی واضح چہرہ موجود نہیں۔ اس صورت ِحال میں پاکستان کو عوامی اشتعال کا ہدف بنایا جاسکتا ہے ۔ یہ چیز امریکی عوام کی بھڑاس نکالنے کے لئے کافی ہوگی ۔
دوطرفہ تعلقات میں آنے والی یہ افسوس ناک تبدیلیاں پاکستان کے لئے ساز گار نہیں۔ پاکستان کے جغرافیائی اور تزویراتی مفادات کے لئے ان تبدیلیوں کے گہرے مضمرات ہوں گے ۔تاہم ہماری سوچ ٹرمپ انتظامیہ کے رویے کو تبدیل نہیں کرسکتی ۔ امریکہ کے ساتھ روابط رکھنے کے دعوئوں کے باوجود حالات خاصے پریشان کن ہیں۔امریکہ مسلسل دبائو بڑھا رہا ہے ، اور دونوں ممالک گاہے گاہے خطرے کی اُس حد کے قریب پہنچ کر خود کو سنبھالتے دکھائی دیتے ہیں جہاں ان کے درمیان براہ ِراست تصادم ہوسکتاتھا ۔
معقول دلیل سے کان بند کرلینے والے واشنگٹن کی آنکھیں کھولنے کے لئے پاکستان کیا کرسکتا ہے ؟شاید کرنے کے لئے بہت کچھ باقی نہیں رہ گیا۔ ایک راہ باقی ہے ۔اسے اپناتے ہوئے پاکستان اپنا کیس بہتر کرسکتا ہے ۔ اس کے لئے افغان مسئلے پر مذاکرات کا عمل شروع کرنا ہوگا۔ اس میں اسلام آباد، واشنگٹن اور کابل اور کابل کے عسکری حریف شریک ہوں ۔ ہمیں ایک بات میں واضح ہونا پڑے گا ۔ پاکستان کے موجودہ مسائل کا براہ ِراست امریکہ سے زیادہ تعلق نہیں ہے ۔ ہمارے زیادہ تر مسائل کی جڑ افغانستان کی صورت ِحال ہے ۔ چونکہ یہ مسئلہ دوطرفہ تعلقات کے ہر پہلو کومتاثر کرتا ہے، لہٰذا ضروری ہے کہ افغانستان پر واشنگٹن کے ساتھ براہ ِراست بات چیت کرنے کے لئے دیگر فورمز کو کو ترک کئے بغیر واشنگٹن کے سامنے ایک وسیع تر تصویر رکھی جائے ۔
پاکستان کے تزویراتی حقائق بہت واضح ہیں۔ وہ ان سے نمٹنے کے لئے واشنگٹن سے کوئی انوکھی توقع نہیں کرتا۔ مثال کے طور پر اسلام آ باد چاہتا ہے کہ اُس کی توہین نہ کی جائے اور نہ ہی اسے جسمانی طور پر ضرب لگائی جائے، جیسا کہ ڈرون حملہ۔ ان کی وجہ سے ایک تو عوام میں اشتعال پھیلتا ہے تو دوسری طرف فوج کے افسروں اور جوانوںکو ایک منفی پیغام جاتا ہے ۔ ہوسکتا ہے کہ امریکہ کو ڈرون حملوں کا کوئی عارضی فائدہ ہوجائے لیکن ان کی وجہ سے طویل المدت مسائل پیدا ہوکر باہمی تعاون کو مشکل میں ڈال دیتے ہیں۔
پاکستان یہ بھی نہیں چاہتا کہ اُسے دوست ممالک کی فہرست سے نکال باہر کیا جائے ، یا جنوبی ایشیا کے امن اور استحکام کے لئے ہونے والی بحث میں اسے یکسر نظر انداز کردیا جائے ۔ پاکستان کے مفاد کا تقاضا ہے کہ اسے قطعی طور پر چین کے ساتھ کھڑا نہ دیکھا جائے ۔ اگرچہ اس کے بیجنگ کے ساتھ تعلقات بہت حد اہمیت کے حامل ہیں لیکن یہ اس کا پراکسی بننے کا متحمل نہیں ہوسکتا ۔ہر وہ پیش رفت جو اسلام آباد کو چین کے مزید قریب ہونے پر مجبور کرتی ہے ، اس کی چین کو نہیں، صرف پاکستان کو قیمت چکانی پڑے گی ۔ چین کو امریکہ کا متبادل قرار دینے کی باتیں کھوکھلی ہیں۔ یہ بیانیہ ایک بنیادی نکتہ فراموش کردیتا ہے۔ نکتہ یہ ہے کہ واشنگٹن پاکستان کے تزویراتی ماحول کو غیر معمولی تنائو کا شکار کرسکتا ہے ۔ بیجنگ اس تنائو کا تدراک کرنے کے لئے کچھ نہیں کرسکے گا، یا کرنا چاہے گا۔
آخری بات یہ ہے کہ پاکستان بھارت کے ساتھ کشمکش نہیں بڑھانا چاہتا۔ جنگ کے لئے تیارہونا اور دہلی کی کسی بھی جارحیت سے نمٹنے کے قابل ہونا ایک بات ہے۔
لیکن لائن آف کنٹرول پر جھڑپوں میں شدت اور ورکنگ بائونڈری پر حملے اور بات ہے ۔ پاکستان ایسا نہیں چاہتا۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان لائن آف کنٹرو ل اور ورکنگ بانڈری پر اشتعال انگیزیوں کے باوجود انتہائی تحمل کا مظاہرہ کرتا ہے ۔ حالیہ دنوں ہلاکتوں اور دیگر نقصانات کی خبروں کو بہت محتاط انداز میں سامنے لایا جاتا ہے ۔ اس کی وجہ سے عوامی اشتعال نہیں بھڑکتا۔
پاکستان کے دفاع اور خارجہ پالیسی کے لئے واشنگٹن بنیادی حیثیت رکھتا ہے ۔ لیکن افغان صورت ِحال واشنگٹن کو تائو دلاتی ہے ۔ چنانچہ فارمولہ سیدھا سادا ہے ۔ لیکن کیا موجودہ معروضی حالات میں پاکستان اس پر عمل کرسکتا ہے ؟شاید مشکل ہے ۔ لیکن اس کے باوجود کچھ عناصر ایسے ضرور ہیں جن پر کام کرکے روابط بحال کیے جاسکتے ہیں۔ مثال کے طور پر واشنگٹن کا اصرار ہے کہ پاکستان اپنے افغان سرحدی علاقوں میںمبینہ طور پر موجود طالبان کے خلاف کارروائی کرے ، یا اُنہیں مذاکرات پر آمادہ کرے ۔ افغان مہاجرین کی واپسی ایک مجموعی ڈیل کا حصہ ہوسکتی ہے ۔ افغانستا ن سے باعزت واپسی کے لئے امریکہ کو اسلام آباد کا تعاون درکار ہے ۔ اور یہی چیز دونوں کے تعلقات کا سنگ بنیاد ہوسکتی ہے ۔ ضروری ہے کہ طرفین میز پر بیٹھیں اور شکوے ، شکایات، زخم، دھوکے، الزامات کا انبار لگادیں تاکہ دل صاف کر کے اٹھیں۔ یہ ڈائریکٹ ڈائلنگ انتہائی ضروری ہے ۔ اس کے بغیر طرفین کے تعلقات میں بگاڑ آتا جائے گا۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں