آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
پیر10؍ربیع الاوّل 1440ھ 19؍نومبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

زینب قتل کیس نےپوری قوم کو جھنجوڑ کررکھ دیا اور اسےانصاف دلانے کیلئےپوری قوم متحد ہوگئی۔ چیف جسٹس آف پاکستان کےازخودنوٹس لینے کے بعد ملزم کی گرفتاری عمل میں آئی اور گرفتاری اور بعداس کی سزاپرزینب کےخاندان اورعوام نےسکھ کا سانس لیا۔ مجرم کی سرعام پھانسی کے لیےعوام کافی دبائو ڈال رہےہیں۔ لہذا میں نےسرِعام پھانسی کے لیے سیکشن 364A PPC میں ترمیم سینیٹ میں پیش کی ہے۔ مجوزہ ترمیم زیرِغورہے کیونکہ سرِ عام پھانسی کا قانون متروک قراردیا جاچکاہےلہذا قانون میں ترمیم کرنی پڑےگی اور سرِ عام پھانسی سے پابندی ختم کرنےکیلئے اٹارنی جنرل کے ذریعے سپریم کورٹ میں پیش کرنی ہوگی۔ وہ قومیں بہتراندازمیں ترقی کرتی ہیں جو ریاست کے قوانین کےسامنےبہترجوابدہی کرتی ہیں۔ کرائم ریٹ کو کم کرنے اورقابو میں رکھنے کیلئےسزا کی شدت اورنفاذ بہت اہمیت کےحامل ہیں۔ جرم کی تعریف ہےکہ کوئی ایساغیرقانونی کام کرناجس کیلئےکسی کوقانون کےمطابق سزا دی جاسکے یا خاص طور پرقانون کی سنگین خلاف ورزی یااخلاقیات، شخص یا جائیداد کےخلاف سخت جرم کامرتکب ہونا۔ یہ ایک کائناتی سچائی ہے کہ سزاکا خوف جرم کےبالعکس متناسب ہے۔ اب سزا کےخوف کے تاریخی کردار اور اہمیت پر نظر ڈالتے ہیں۔ قانون نافذ کرنےوالےاورکرمنالوجسٹز جرائم، ان کی جوہات اورمجرمانہ

عناصر کوکم کرنے اورانھیں ختم کرنےکیلئے کرمنالوجی کامطالعہ کرتے ہیں۔ کرمنالوجی کی تاریخ کئی طرح سے تاریخِ انسانیت کا مطالعہ ہے اور ہرمذہب نےسزا کی حمایت کی ہے اور سزا جب عوام میں ہو توزیادہ اثر رکھتی ہے۔ ہابیل اور قابیل کی کہانی کو زمین پر ہونے والا پہلا جرم قراردیاجاتاہے۔ قرآنِ پاک کے مطابق قابیل اور ہابیل حضرت آدمٔ کےدوبیٹےتھے۔ دونوں نے اپنی قربانیاں کیں لیکن خدا نے ہابیل کی قربانی قبول کرلی اور قابیل کی رد کردی۔ لہذا قابیل نے حسد کے باعث ہابیل کو قتل کردیا۔ یہ روئےزمین کا پہلا جرم تھا۔ انجیل میں ہر جرم کی سزا کا ذکر کیاگیاہے۔ یہ سزائیں تاحال جدید دورمیں بھی نافذ ہیں۔ اسلام میں فوجداری قوانین کو شرعی قوانین کے ساتھ منسلک کردیاگیاہے۔ جرائم کی نوعیت کےباعث اسلام نےجرائم کوتین مختلف اقسام میں تقسیم کیاہے۔ (1)حدود: انھیں خدا کے خلاف جرم قراردیاجاتاہےاس کی سزا قرآن و حدیث میں معین ہے۔ حدود کی سزائیں سب سے زیادہ پیچیدہ ہیں اورریاست یا عوام ان میں معافی نہیں دے سکتے۔ یہ سزائیں مجرم کوعوام میں سنگسار کرنے سے کوڑے مارنےتک ہیں ۔ (2) قصاص: قصاص جرم کا شکار ہونےوالےکےوارث یا ولی کا اختیار ہے کہ وہ مجرم کے جسم کو اسی طرح نقصان پہنچائے جس طرح اس کے ساتھ ہوا۔ قصاص ’’آنکھ کے بدلے آنکھ‘‘ کے اسلامی اصول کےمطابق ہے۔ اس میں قتل اور دھوکے بازی جیسے جرائم شامل ہیں۔ اسی طرح کابدلہ یا معاوضہ سزامیں شامل ہے، جیسا کہ PPC کی شک 299 میں بیان کیاگیاہے۔ پاکستان پینل کوڈکےمطابق، ’’قصاص کامطلب ہےکہ مجرم کےجسم کےاسی حصے کو نقصان پہنچایا جائے جس طرح اس نے دوسرے کو پہنچایا یا اگر مجرم نے قتل کیاہے تو اسے بھی کیاجائے۔‘‘ (3) تازیر: یہ ’’قصاص‘‘ یا ’’دیت‘‘ کے علاوہ سزا ہے۔ یہ اسلامی قانون میں ایسےجرائم کی سزاہے جو ریاست کے جج(قاضی) یا حکمران کی صوابدید ہےاور جن کا ذکر قرآن و حدیث میں نہیں کیاگیا۔ عام طورپرانھیں ’’حکومت‘‘ کےخلاف جرائم کہاجاتاہے۔ اسلامی قوانین میں سزائوں کا تصورمنصفانہ ہے۔ یہودیت میں سزائے موت کا معاملہ انگلینڈ میں بادشاہت کی طرح ہے۔ بھارت میں ہندو دیومالائی کہانیوں میں لفظ’’کرما‘‘ کا مطلب ہے کارروائی کرنا۔ کسی شخص کےاعمال ہی اس کی قسمت کا فیصلہ کرتے ہیں۔ ہرمعاشرےمیں مجرمانہ رویے کیلئے سزا کا نظام اس سوچ کے ساتھ موجود ہے کہ سزا کا خوف مستقبل میں اس طرح کے مجرمانہ کاموں میں کمی کا باعث بنے گا۔ تحقیق سے ظاہر ہوتاہے کہ ہر مذہب جرائم کے خلاف سزائوں پر زور دیتاہے۔ یہ تسلیم شدہ حقیقت ہے کہ صحت مند معاشرےکی ترقی میں جرائم کےلیے سزا کا کردار بہت اہم ہے، یہ طریقہ کار صدیوں سے چلا آرہاہے۔ جرائم کی نوعیت تیزی سے بدل رہی ہے اور حکومتیں مئوثرسزائوں کےنئےقوانین متعارف کروا کر اِن سے نمٹ رہی ہیں۔ میں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ سزا کی شدت اہم ہے لیکن اس سے زیادہ اہم اس کا موثرنفاذہے۔ قانون کی حکمرانی کی ناکامی کی وجہ یہ ہے کہ اگرچہ قوانین سخت ہیں لیکن اِن قوانین کو مئوثرطور پراور بلاتفریق نافذ نہیں کیاجاتا، اس کےباعث مجرم کو اِن خامیوں سےفائدہ اٹھانےکاموقع ملتا ہے۔ قانون کےنفاذکےلیے ہماری کارروائی اورعدالتی عمل میں ہائی پروفائل اور عام شخص کے مقدمات میں امتیازی سلوک برتاجاتاہے۔ ہمارے عدالتی نظام پر زیرِ التواٗ مقدمات کا بوجھ بہت زیادہ ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ ناقص فوجداری نظامِ انصاف کےباعث جومقدمات میڈیا میں آتے ہیں، قانون نافذ کرنےوالے ادارے اورعدالتیں اُن مقدمات پر زیادہ توجہ دیتی ہیں۔ میڈیا میں آنے والےمقدمات کواعلیٰ عدالتوں کی توجہ ملتی ہے، اس کے باعث ازخود نوٹسز لیے جاتے ہیں۔ میری خواہش ہے کہ اِن مقدمات کو میڈیا میں جگہ ملنےسےپہلےاِن سےقانون نافذ کرنےوالے ادارے /پولیس مناسب طریقےسےنمٹیں۔ ہمیں اداروں پر عوام کا اعتماد قائم کرنے کی ضرورت ہے اور معاشرے میں قانون اور احتساب کاخوف قائم کرنا ہوگا۔ ہم دیکھتے ہیں کہ اعلیٰ عدلیہ کا زیادہ تروقت ایسےہائی پروفائل مقدمات میں استعمال ہوتا ہے، جن سے ظاہرہوتا ہے کہ قانون کے نفاذ کا نظام ناکام ہوچکاہے۔ میرا خیال ہے کہ بطور قوم ہم قانون کی حکمرانی قائم کرنے میں ناکام ہوچکے ہیں، یہ معاشرے کے تحفظ کیلئے ضروری ہے۔ قانون کی حکمرانی میں ناکامی کے باعث موجود عدالتی اور قانونی بحران پیدا ہوا ہے اور آئینی اداروں پرحملے کیے جارہے ہیں اور یہ حملے ملک کے لیےمزید خطرناک ہوسکتے ہیں۔ ہم عدم اعتماد کی اس سطح تک کیوں پہنچے؟ جرائم کے خاتمے کیلئے سزا کا کردار کسی فوجداری قانون کیلئے بنیادی چیزوں میں سے ایک ہے اور اس کا ذکر تمام مقدس کتابوں میں کیاگیاہے۔ اس کا بنیادی مقصد پکڑے جانے اور سزا کے خوف سے کسی بھی ریاستی معاشرے کےلوگوں کو ڈرانا ہے۔ جرائم کے راستے میں سب سے زیادہ مئوثر چیز ایک منصفانہ اور موثر فوجداری نظام ہے جو یہ یقینی بنائے کہ جو بھی قانون کو توڑے گا وہ یقیناً پکڑا جائے گا اور قانون کے مطابق اسے سزا ملے گی۔ ایسے ممالک جہاں جرائم کی شرح انتہائی کم ہے وہاں قانون کا نظام موثر اور بلاتفریق ہے۔ یہ بدقسمتی ہے کہ شدت پسندی، دہشتگردی اور امن و امان کی خراب صورتحال کے باعث2017میں 20خطرناک ترین ممالک کی فہرست میں پاکستان کا نمبر چوتھا ہے۔ ہمارے لیے اور آنے والی نسلوں کیلئے یہ پریشان کن امر ہےکہ زینب جیسے واقعات کے باعث دنیا بھرمیں ہمارا قومی امیج مزید خراب ہوگیاہے۔ کیا ہم اتنے نااہل ہیں کہ قانونی اور عدالتی نظام میں اپنی خامیوں کاتعین نہیں کرسکتے؟ اس میں کوئی شک نہیں کہ ترقی کے سفر میں درست سزا بنیادی اہمیت کی حامل ہے۔ اپنے نظامِ انصاف کی درستگی کیلئے کیا ہم کسی خدائی مدد کا انتظار کررہے ہیں یا معاشرے کو پاک کرنے کیلئے ہمیں جرائم کی شرح کو کم کرنا ہوگا۔ ہمارےفوجداری نظامِ انصاف کونظرثانی اور اپ ڈیٹ کرنےکی ضرورت ہے۔ میری دعاہے کہ ہمیں مستقبل میں زینب جیسا کوئی اور کیس دیکھنا نصیب نہ ہو۔ آخر میں میں یہ ضرور کہوں گا کہ ہمیں سخت قانون کے ساتھ اس کے نفاذ کو بھی یقینی بنانا ہوگا۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں