آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
بدھ5؍ ربیع الاوّل 1440ھ 14؍نومبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

امریکی صدر ٹرمپ کو عوامی مقبولیت میں کمی، میڈیا سے سخت اختلافات، خود اپنی پارٹی کے بعض قائدین سے تنقید و اختلاف کانگریس مڈٹرم انتخابات کی آمد آمد سمیت متعدد چیلنجوں کا سامنا ہے۔ امریکی انتخابات میں روس کی مداخلت کے بارے میں تحقیقات و الزامات و اثرات کانگریس کے محاذ پر مخالفت کے علاوہ اپنے ہی جاری کردہ ٹوئیٹر پیغامات سے اپنے لئے پیدا کردہ مسائل بھی شامل کرلیں تو ٹرمپ حکومت انتہائی مشکلات اور بحرانوں کا شکار نظر آتی ہے لیکن اس کے باوجود ڈونلڈ ٹرمپ جیسی متنازع اور غیرمقبولیت شخصیت کے حامل امریکی صدر اپنے ایجنڈے پر موجود اقدامات اور حکمت عملی پر عمل کرنے کا کام انجام دے رہے ہیں۔ تازہ سروے کے مطابق صدر ٹرمپ کی مقبولیت اب صرف 35فی صد رہ گئی ہے مگر وہ اپنی پالیسی اور مرضی کے مطابق حکومتی نظام کو چلا رہے ہیں معیشت کا پہیہ بھی چل رہا ہے اور حکومتی مشینری بھی ناکام یا منجمد نہیں۔ عالمی مارکیٹ، دفاع اور دیگر اہم شعبوں میں احکامات کا اجراء اور عمل و نفاذ کا کام بھی چل رہا ہے۔ مختصر یہ کہ پالیسی اور سیاسی تنازعات کی شدت کے باوجود ملکی نظام تمام تر مسائل کے باوجود چل رہا ہے اور ساتھ ہی ساتھ ری پبلکن اور ڈیموکریٹک دونوں پارٹیاں مڈٹرم الیکشن کے لئے اپنی اپنی انتخابی مہم کی تیاریاں بھی کررہی ہیں۔ معیشت اور

سیاست سمیت الیکشن ایجنڈا تیارکیاجارہا ہے تاکہ ووٹرز کو پتہ چل سکے کہ دونوں پارٹیاں کن امور پر کیا وعدے کررہی ہیں۔
ادھر اپنے وطن عزیز پاکستان کی صورت حال خاصی مختلف بلکہ متضاد اور بحرانی ہے۔ الیکشن میں حصہ لینے والی کسی بھی پارٹی نے نہ تو کوئی معاشی پالیسی یا منشور تجویز کیا ہے اور نہ ہی انسانی حقوق سے لے کر پاکستان کے گرد منڈلاتے خطرات کا سامنا کرنے کا کوئی حل پیش کیا ہے۔ انتقامی نعروں اور احتجاجی سیاست کا زور ہے دونوں طرف کی ترجمانی کرنے والے سیاسی رہنما مخالف رہنمائوں پر پھبتیاں کستے اور کشیدگی پھیلاتے ہوئے کسی منشور کا عوام سے کوئی وعدہ کئے بغیر محاذ آرائی اور بحرانی کیفیت میں اضافہ کرتے جارہے ہیں۔ عام شہری پریشان ہے کہ آخر پاکستان کا کیا بنے گا؟ نہ عمران خاں اور تحریک انصاف معاشی، صحت، تعلیم، روزگار اور دیگر امور پر کوئی منشور، عوامی وعدہ یا منصوبہ پیش کررہے ہیں اور نہ ہی مسلم لیگ (ن) نے ایسا کچھ پیش کیا ہے۔ کرپشن کے الزامات، عدالتی سماعتوں اور فیصلوں کے ہجوم میں الزامات اور جوابی الزامات کی شدت اور ایک دوسرے سے سیاسی اختلاف کی بجائے ذاتی حملوں کا شور غالب ہے۔ ملک کے اردگرد منڈلاتے خطرات اور قومی سلامتی کو لاحق عالمی اور علاقائی خطرات کا نہ تو کوئی ذکر ہے اور نہ ہی کوئی حل تجویز کیا جارہا ہے۔ فوج اور سویلین قیادت بشمول اپوزیشن قوم کو درپیش چیلنجوں کے بارے میں خطرات سے نمٹنے کے لئے نہ تو مشاورت ہے اور نہ ہی اشتراک نظر آتا ہے۔ بڑھتی ہوئی داخلی کشیدگی اور بیرونی مشکلات و خطرات کے ماحول میں اب تو پاکستان میں انتخابات کے انعقاد کے بارے میں بھی شکوک و شبہات کا اظہار کیا جانے لگا ہے اور ووٹر سوال اٹھانے لگے ہیں کہ کیا عام انتخابات پرامن اور وقت پر منعقد ہوسکیں گے؟ امریکہ اور بھارت مل کر دہشت گردی کے عنوان کے تحت پاکستان پر معاشی پابندیاں عائد کروانے کی کوشش کر رہے ہیں؟ لیکن اس بارے میں نہ جانے کس ملک کی حمایت کے زعم میں نہ تو ہم کوئی سفارتکاری کررہے ہیں اور نہ ہی اس کا راستہ روکنے کے لئے کوئی اقدام کیا جارہا ہے پاکستان مخالف حلقوں کا دعویٰ ہے کہ آئندہ جون تک پاکستان اس ادارہ کی جانب سے پابندیوں کی لپیٹ میں آجائے گا۔ پاکستان میں عام انتخابات کی قربت کے باوجود سیاسی پارٹیوں کی جانب سے کسی معاشی، سیاسی اور عوامی منشور کی عدم موجودگی بذات خود ایک المیہ ہے حالانکہ ملک کی تین بڑی پارٹیاں کسی نہ کسی طور پر صوبے یا وفاق میں اقتدار سنبھالے ہوئے ہیں۔ پی پی پی سندھ، پی ٹی آئی کے پی ، مسلم لیگ (ن) پنجاب اور وفاق میں اپنی کارکردگی کے حوالے سے عوام کے سامنے جوابدہ ہیں۔ اقتدار میں موجود پارٹی کے لئے جمہور کے سامنے انتخابات میں جو ابدہی اتنا آسان کام نہیں ہوتا۔ پاکستان میں تو انہی تین حامل اقتدار پارٹیوں نے انتشار اور غیریقنی کی جو فضا پیدا کر رکھی ہے اس نے عوام اور ملک کو مایوسی اور اندیشوں کے علاوہ کچھ نہیں دیا۔ انتخابی گہما گہمی اور مہم میں بھی نہ تو فارن پالیسی زیر بحث آئی ہے نہ معیشت نہ ہی صحت و تعلیم کی منصوبہ بندی اور مستقبل پر کوئی پارٹی عوام سے کوئی وعدہ کر رہی ہے جبکہ انتخابی منشور ہر جمہوری ملک کے انتخابات میں زیر بحث آنا ایک ضروری امر ہے۔
اس افسوسناک داخلی صورت حال اور غیر ذمہ دارانہ سیاست کے باعث خارجہ پالیسی کے شعبے میں بھی منفی اثرات مرتب ہوئے ہیں یوں بھی گزشتہ کئی سال سے فارن پالیسی کے میدان میں ہم نے ’’معمولات‘‘ کے معاملات سے آگے بڑھ کر کسی ایسی ’’تخلیقی‘‘، ’’ڈپلومیسی‘‘ کا مظاہرہ نہیں کیا جو اہم ممالک کو ہمارے ساتھ ’’انگیج‘‘ ہونے پر مائل کرسکے۔ ایک دور تھا کہ ہم گروپ 77، متحرک ’’او آئی سی‘‘، ’’نارتھ سائوتھ ڈائیلاگ‘‘ اور دیگر ممالک کے عالمی اہمیت کے گروپوں میں فعال رہ کر اپنی اہمیت کو تسلیم کرواتے تھے۔ اقوام متحدہ میں پاکستانی سفارتکار سلامتی کونسل کی توسیع کے مسئلہ پر بھارتی ارادوں کی روک تھام کے لئے ایسی تجاویز لاتے تھے کہ بھارت کے مقابلے میں اکیلا پاکستان ہی نہیں بلکہ یورپ، لاطینی امریکہ، افریقہ، مشرق وسطٰی اور یورپ کے درجنوں ممالک پاکستانی تجاویز کی حمایت میں کھڑے نظر آتے آج بھی سلامتی کونسل میں توسیع کی مخالفت کے لئے زمینی حقائق اور موقف وہی بیان کئے جاتے ہیں جو پاکستانی سفارتکاروں کی ٹیم نے دس بارہ سال قبل پیش کئے تھے۔ ہم اپنے ہی حکمرانوں کی غلطیوں اور غفلتوں کے باعث عالمی برادری میں بھارتی بالادستی، تنہائی اور مسائل کا شکار ہوئے ہیں۔ دہشت گردی کے خلاف افغانستان کی جنگ میں ہم 14؍سال فرنٹ لائن اسٹیٹ کے طور پر تمام تر قربانیاں دے کر بھی ڈٹ کر لڑتے رہے اور ہمارے حکمراں عوام کو ترقی اور خوشحالی کی بشارت دیتے رہے لیکن 14؍سال بعد اپنی معیشت، سیاست، جغرافیہ، ثقافت کو تباہی میں دھکیلنے کے باوجود الزامات کے کٹہرے میں کھڑے جوابدہی کررہے ہیں۔ حال ہی میں F.A.T.F کے ا جلاس میں پاکستان کو جس فہرست میں شامل کرنے کے فیصلے کو جون تک موخر کیا گیا وہ خود ہماری خارجہ پالیسی اور عالمی برادری میں ہماری تنہائی کا مظہر ہے۔ ہمارے وہ حکمراں کہاں ہیں جنہوں نے افغان جنگ میں ہمیں شریک کرتے وقت دعوے کئے تھے کہ اس جنگ کے خاتمہ پر پاکستان ایشیا کا ایک مضبوط ترین اور خوشحال ملک بن کر ابھرے گا۔ کیا ہم نے ان حکمرانوں کا کوئی محاسبہ بھی کیا؟ چین سے تعلقات بناتے وقت عالمی طاقت امریکہ کو بھی اپنے ساتھ ’’انگیج‘‘ رکھنے کے لئے کوئی حکمت عملی مرتب کی؟ اس عرصہ میں بھارت کی پاکستان میں مداخلت، تخریب کاری اور دیگر کارروائیوں کو دنیا کے سامنے بے نقاب کیا؟ تاکہ دنیا ہمارے کردار اور موقف کو بہتر طور پر سمجھ سکے؟ ایک دور میں بھارت اور پاکستان کو دنیا ایک دوسرے کا حریف اور تنازع کشمیر کے دو مساوی فریق سمجھ کر بھارت کویہ کہا کرتے کہ وہ جنوبی ایشیا میں تنازع کشمیر کو پاکستان کے ساتھ طے کرلے تو پھر وہ ایشیائی ممالک کی برادری کا بڑا ملک بننے کا حقدار ہوگا۔ آج کی صورت حال آپ کے سامنے ہے۔ کیا پاکستان کو اس صورت حال سے دوچار کرنے والوں میں خود ہمارے بااختیار قائدین و حکمراں شامل نہیں ہیں؟ ماضی کو چھوڑ بھی دیں تو مستقبل کی خارجہ پالیسی، قومی معیشت اور عوام کی حالت سدھارنے کے لئے انتخابات لڑنے والی سیاسی پارٹیوں کا منشور کیا ہے۔ کوئی بتلائے ہم بتلائیں کیا۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں