آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
بدھ12 ربیع الاوّل 1440ھ 21؍نومبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

گڈگورننس کے بڑے دعوے کئے جاتے ہیں اور جس طرح اخبارات اور ٹی وی چینلز کی خبروں کی وجہ سے انتشار اور افراتفری کی کیفیت ہے ، ایسے میں کوئی عام آدمی اس حقیقت تک پہنچ ہی نہیں پاتا کہ گڈ گورننس کیا ہوتی ہے ۔ ادھر بابوئوں نے مبینہ کرپشن میں ملوث اپنے ایک بابو کی گرفتاری پر جو ردعمل ظاہر کیا ، دفاتر کو تالے لگا کر ہڑتال پر چلے گئے اور یہ دھمکی دی کہ جب تک احد چیمہ کو رہا نہیں کیا جاتا کام نہیں کریں گے ۔ انہوں نے نو مور کے بیجز لگا کر یہ تاثر دینے کی کوشش کی ہے کہ وہ شاید ریاست کے نوکر نہیں بلکہ حکمرانوں کے ذاتی ملازم ہیں اور ان کاکسی طرح کا احتساب نہیں ہوسکتا۔ دوسری طرف حکمراں اپنے ایجنڈے کی تکمیل کیلئے بغیر میرٹ اپنی پسند کے بابوئوں کو اہم سیٹوں پر بٹھادیتے ہیں جس کی وجہ سے گورننس نام کی کوئی چیز دکھائی نہیں دیتی ۔ حکمراں ہیں تو وہ ابھی تک یہی رونا رو رہے ہیں کہ مجھے کیوں نکالا ۔ غیر قانونی بل پاس کروا کے نااہل ہوتے ہوئے اپنے آپ کو پارٹی کا صدر بنوا لیا تو سپریم کورٹ کو آئین کے مطابق یہ فیصلہ کالعدم قرار دینا پڑا۔ لیکن محاذ آرائی کا یہ سلسلہ رک نہ سکا بلکہ بڑے بھائی نے چھوٹے بھائی کو ن لیگ کا صدر نامزد کیا اور چھوٹے بھائی نے بڑے کو پارٹی کا تاحیات قائد اور رہبر نامزد کر دیا حالانکہ پارٹی آئین میں بھی قائد

کا کوئی عہدہ نہیں،اور للکارا جارہا ہے کہ جو مرضی کر لیں وہ ہی سارے معاملات چلائیں گے۔ نواز شریف ہرجلسے میں کہہ رہے ہیںکہ میں ہوتا تو پٹرول مہنگا نہ ہوتا ، ہر کسی کو روز گار مل جاتا ،انہیں یہ بھی پتہ نہیں چلتا کہ وہ کن باتوں پر عوام کو بیوقوف بنا رہے ہیں جبکہ اب بھی ان کی ہی حکومت ہے۔ اب ہر ٹی وی چینل پر بحث ہو رہی ہے کہ پنجاب ن لیگ کا صدر کون ہوگا ۔ کئی چینلز مریم صاحبہ کو صدر بنوانے کے ایجنڈے پر ہر طرح کی کوشش میں مصروف ہیں ۔ کسی کو خیال نہیں کہ عام پاکستانیوں کی زندگی کیسے گزر رہی ہے۔
عوام ایسی خبروں کی وجہ سے پہلے ہی اضطرابی اور افراتفری کی کیفیت میں ہیں مزید انہیں بے سکونی میں مبتلا نہیں کرنا چاہتا لیکن پچھلے چند دنوں شائع ہونے والی دو تین رپورٹس کی طرف ان کی توجہ مبذول کرانا چاہتا ہوں۔ یونیسف نے اپنی حالیہ ایک رپورٹ میں انکشاف کیا کہ پاکستان میں آلودہ پانی کی وجہ سے 47ہزار بچے سالانہ موت کی آغوش میں چلے جاتے ہیں اور پاکستان کے دو تہائی گھرانے آلودہ پانی پینے پر مجبور ہیںاور بچے ہیضہ ، ڈائریا ، ٹائیفائیڈ اور ہیپا ٹائٹس جیسی مہلک بیماریوں میں مبتلا ہورہے ہیں جس سے پاکستان کو سالانہ 4.3ارب ڈالر کا معاشی نقصان بھی اٹھانا پڑتا ہے۔ اب گڈ گورننس دیکھئے کہ منرل واٹر کے نام پر لوگوں کو لوٹا جا رہا ہے اور حکومتیں نہ صرف بے بس نظر آتی ہیں بلکہ ایسے لوگوں کے ساتھ ملی بھگت سے لوگوں کی زندگیوں سے کھیل رہی ہیں ۔پاکستان اسٹینڈرڈ کوالٹی کنٹرول کی ایک رپورٹ کے مطابق ملک میں بند پانی کے 753برانڈز میں سے صرف 278کے پاس کار آمد لائنس ہیں ، گو کچھ کا کاروبار سپریم کورٹ کے حکم پر بندکیا گیا ہے۔ ایسے پانی میں سنکھیا کی موجودگی کا بھی انکشاف ہوا ہے جس کی زیادہ مقدار بہت ہی مضر صحت قرار دی گئی ہے ۔حکومت پنجاب نے لوگوں کو صاف پانی فراہم کرنے کے لئے ایک ’’صاف پانی ‘‘ کمپنی بنا ڈالی لیکن اس کمپنی کی آئے روز شکایات بڑھتی جا رہی ہیں کہ گزشتہ دو برس میں قوانین کے برعکس اس صاف پانی کمپنی نے ڈائریکٹ کنٹریکٹنگ کی اور پیپرا رولز کی خلاف ورزی کرتے ہوئے من پسند کمپنیوں کو نوازا ۔ 16اضلاع میں 36واٹر پلانٹس لگانے کیلئے 98کروڑ99لاکھ 80ہزار کا منصوبہ103کروڑ میں دے دیا گیا۔
ایک اور خبر سن لیجئے کہ گڈ گورننس کے نام پر محکمہ خوراک پنجاب جانوروں کے کھانے والی ناقص گندم فلو ر ملوں کو سپلائی کر رہا ہے۔ جبکہ محکمہ خوراک کی ناقص پالیسیوں کے باعث گوداموں میں 60لاکھ میٹرک ٹن صاف گندم موجود ہے جو پاکستانی شہریوں کو دینے کی بجائے من پسند 14افراد اور کمپنیوں کے ذریعے ایکسپورٹ کی جارہی ہے۔ فلور ملز ایسوسی ایشن نے یہ انکشاف کیا ہے کہ محکمہ خوراک کے ایک ڈائریکٹر نے طاقتور وزیر کی ایما پر ذاتی مفادات کے لئے 10لاکھ میٹرک ٹن گندم پر ِ2ہزار کروڑ کی سبسڈی دی ہے جو پندرہ سو روپے من والی گندم 600روپے من کے حساب سے ایکسپورٹ کر رہے ہیں۔ جس سے نہ طر ف ملکی خزانے کو نقصان پہنچایا جا رہا ہے بلکہ عام لوگوں کی صحت کو بھی خطرے میں ڈال دیا گیاہے۔
یہ حکومت لوگوں کو صحت کی سہولتیں فراہم کرنے کے دعوے کرتے نہیںتھکتی ،ان دعوئوںکی حقیقت جاننے کے لئے آپ ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی کی ویب سائٹ وزٹ کریں تو پتہ چلے گا 85ہزار ادویات کی رجسٹریشن ہے جبکہ سائٹ پر صرف 20ہزار کی فہرست موجود ہے۔ 66ہزار ادویات کا ریکارڈ ہی نہیں ۔ اب جس کمپنی کادل چاہتا ہے اپنی مرضی سےقیمتیں بڑھا لیتی ہے ۔ جس وقت 2013ء میں ن لیگ کی حکومت بنی ، فارما سیوٹیکل کمپنیوں نے خود ساختہ قیمتوں میں پندر ہ فیصداضافہ کر دیا ۔ حکومت ان کر روکنے میں ناکام رہی اور یہ کمپنیاں ڈرگ ریگو لیٹری اتھارٹی کے ساتھ ملی بھگت کر کے سندھ ہائی کورٹ چلی گئیں ، اس ملی بھگت پر انہیں حکم امتناعی مل گیا جو تاحال جاری ہے ، رپورٹس کے مطابق آج تک اس حکم امتناعی کے خلاف سرکاری وکیل پیش نہیں کیا گیا ۔ اس وقت صورتحال یہ ہے کہ ادویات کی قیمتوں میں 30فیصد تک اضافہ ہوچکا ہے مگر اس گڈ گورننس میں کوئی پوچھنے والا نہیں۔ حکومت پنجاب نے ہیلتھ فیسلیٹیز مینجمنٹ کمپنی بنا کر پنجاب کے 22اضلاع کی ڈسٹرکٹ ہیلتھ اتھارٹیز کو اس کمپنی کے ماتحت کرنے کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا ہے۔ جس کا مقصدیہ بتایا جاتا ہے کہ وہ اسپتالوں میں ڈاکٹروں کے تبادلے و تعیناتی کے ساتھ ساتھ صحت کی سہو لتیں سمیت تمام انتظاما ت ہیلتھ مینجمنٹ کمپنی دیکھے گی۔عملی طور پر لوگوں کو طبی سہولتوں کی پہنچ سے دور کر دیا گیا اور اضلاع میںسٹی اسکین مشین لگا کر انہیں سرکاری دائرہ کار سے نکال کر نجی کمپنیوں کے حوالے کر دیا گیا ۔ اخبارات میں یہ رپورٹس چھپ چکی ہیں کہ سٹی اسکین مشینوں پر بھی سیاست ہورہی ہے اور ہر رکن اسمبلی کے لئے 50مریضوں کا کوٹہ مقرر کر دیا گیا جبکہ 50 مریضوں کا کوٹہ ڈاکٹروں کے پاس ہوگا ۔ ایک سو ٹیسٹ ایمرجنسی ، ان ڈور ، آئوٹ ڈور اور دیگر مریضوں کے ہونگے ۔
صوبائی حکومت کا موقف یہ ہے کہ عوامی شکایات کے پیش نظر مشینوں کو نجی کمپنیوں کے حوالے کیا گیا ہے ۔ حکومت نجی کمپنی کو سادہ سٹی ا سکین پر فی کس 3950روپے، سٹی اسکین کمپلیکس کی فیس 45سو روپے فی کس ادا کرے گی۔ صرف آئوٹ ڈور مریضوں کے لئے دونوں ٹیسٹ ایک ہزار روپے میں ہونگے اور اسپتال کے باہر سے آنے والے مریض کو 8ہزار روپے دینے پڑیں گے۔ گڈ گورننس کے اس ٹریلر پر ہی اکتفا کریں ۔ فلم دکھا کر آپ کو مزید پریشانی میں مبتلا نہیں کرنا چاہتا!

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں