آپ آف لائن ہیں
منگل14؍ محرم الحرام 1440 ھ25؍ستمبر 2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

کسی نے خوب کہا ہے کہ جمہوریت میں سچ بولنا منع ہے یقین نہیں آتا تو رضا ربانی اور فرحت اللہ بابر کا حشر دیکھ لو ، ایک چیئرمین سینیٹ اور دوسرا پارٹی ترجمانی سے فارغ، ’’ہور‘‘ بولو سچ۔ کسی اور نے سینیٹر بابر کے ریمارکس “judicialisation of politics and politicisation of the judiciary” جو انہوں نے ایوان بالا میں آخری تقریر میں دیئے کو خوب کوٹ آف دی ایئر قرار دیا ہے۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ انہیں تشویش ہوتی ہے جب ان کے گائوں کا بابا رحمتے کہتا ہے کہ آئین وہ نہیں ہے جو اس میں لکھا ہوا ہے بلکہ آئین وہ ہے جو وہ کہتا ہے۔ بلاشبہ سینیٹر بابر کے یہ تاریخی جملے ہمیشہ یاد رکھے جائیں گے جب وہ سینیٹ میں موجود نہیں ہوں گے۔ اس بار پیپلزپارٹی نے انہیں ٹکٹ نہیں دیا تھا۔ نہ صرف انہوں نے تین سال بطور سینیٹ چیئرمین بلکہ اس سے قبل بھی رضا ربانی نے سچ کا دامن نہیں چھوڑا۔ انہوں نے اپنے آپ کو ایک بہت بڑے ڈیموکریٹ کے طور پر ثابت کیا اور بغیر لگی لپٹی کے اداروں کے درمیان ٹکرائو کے مخالف رہے اور زور دیتے رہے کہ ہر انسٹی ٹیوشن کو آئین میں دیئے گئے اختیار کے اندر رہ کر کام کرنا چاہئے اگر ایسا نہیں ہوگا تو تباہی ہوگی۔ انہوں نے اس بات پر تشویش کا اظہار کیا کہ خیبر پختونخوا اسمبلی کے اسپیکر (جن کا تعلق تحریک انصاف سے ہے) کو پشاور ہائی کورٹ نے توہین عدالت کا

نوٹس دیا ہے اور اسلام آباد ہائی کورٹ نے پارلیمان کی کارروائی کا ریکارڈ طلب کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر ان کے پاس بطور سینیٹ چیئرمین وقت ہوتا تو وہ چیف جسٹس آف پاکستان سے دوبارہ ملاقات کرکے یہ بات ضرور کرتے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ آئندہ چیئرمین ایسا کریں گے۔ فوجی عدالتوں کو سویلین دہشتگردوں کے ٹرائل کیلئے اختیارات دینے کے بارے میں آئینی ترمیم پر انہوں نے اپنے کرب کا اظہار کرتے ہوئے آنسو بہائے تھے مگر اس کے حق میں یہ کہہ کر ووٹ دیا تھا کہ یہ پارٹی ڈسپلن کی بات ہے۔
بہت اچھا ہوگا اگر رضا ربانی جیسے صاف ستھرے جمہوریت پسند پارلیمنٹرین کو ہی اگلا چیئرمین متفقہ طور پر منتخب کر لیا جائے تاہم آصف زرداری کی اپنی ترجیحات ہیں اور انہوں نے صاف کہہ دیا ہے کہ وہ ایسا نہیں چاہتے۔ معزول وزیراعظم نوازشریف نے اس سے قبل کہ سابق صدر اپنی چوائس کا اعلان کرتے ہوئے رضا ربانی یا کسی اور کا نام لیتے کہہ دیا کہ وہ اور ان کے اتحادی رضاربانی کو ووٹ دینے کو تیار ہیں اگر پیپلزپارٹی انہیں نامزد کر دے۔ یقیناً یہ نوازشریف کا ’’اسمارٹ موو‘‘ تھا باوجود اس کے کہ ان کی جماعت اس وقت سینیٹ میں سب سے بڑی ہے اور آصف زرداری کے مقابلے میں کافی بہتر پوزیشن میں ہے کہ اپنی پارٹی کا چیئرمین لاسکے۔ جب سینیٹ چیئرمین کے امیدوار پر غور و خوض کیلئے نون لیگ اور اس کے اتحادیوں کے سرکردہ رہنمائوں کا اجلاس ہوا تو نوازشریف ہی تھے جنہوں نے رضا ربانی کے نام کی تجویز دی جس کی سب جماعتوں نے حمایت کی۔ جو پالیسی سابق وزیراعظم نے اپنے خلاف ہونے والے سپریم کورٹ کے 28 جولائی 2017ء کے فیصلے اور اس کے بعد انتقامی کارروائیوں پر بنا رکھی ہے رضا ربانی اس میں مکمل فٹ آتے ہیں۔ رضا ربانی کے تین سال تک چیئرمین ہوتے ہوئے نون لیگ کی حکومت کو ان سے شاید ہی کبھی شکایت ہوئی ہو کیونکہ انہوں نے کبھی بھی جانبدارانہ رول ادا نہیں کیا بلکہ ہمیشہ ایک نیوٹرل امپائر کی طرح اپنے فرائض سرانجام دیتے رہے۔ اپنے تین سالہ دور میں رضا ربانی اپنی جماعت کی چھوٹی اور بڑی سرگرمیوں سے دور رہے یہ کہہ کر کہ ان کا عہدہ اس بات کی اجازت نہیں دیتا کہ وہ ان میں شرکت کریں۔ آصف زرداری کو یہ بات نا پسند تھی۔ 2015ء میں بھی جب نون لیگ نے رضا ربانی کی حمایت کی تھی تو اس کے سامنے ان کا ماضی تھا۔ اس وقت بھی آصف زرداری نے ان کو بادل نخواستہ ہی چیئرمین سینیٹ کیلئے چنا تھا کیونکہ اگر وہ کسی اور کو سامنے لاتے تو اس کا انتخاب ہونا مشکل تھا۔ رضا ربانی جیسے سینیٹر کو دوبارہ چیئرمین منتخب نہ کرنا ایک المیے سے کم نہیں ہوگا۔ ان کے متفقہ انتخاب سے سینیٹ کے الیکشن میں جو غلاظت کروڑوں کے لین دینے سے پھیلی ہے وہ کم از کم چیئرمین کے انتخاب میں نہیں ہوگی ۔ ورنہ وہی حساب ہوگا کہ جس پارٹی کی خیبرپختونخوا اسمبلی میں 6 سیٹیں ہیں وہ دو سینیٹر کیسے منتخب کرنے میں کامیاب ہوگئی اور سندھ میں اسی جماعت نے دو فالتو سیٹیں کیسے حاصل کر لیں۔ رضا ربانی بھلے آصف زرداری کا انتخاب نہیں مگر پیپلزپارٹی کے اکثریتی سینیٹر ان کی بطور چیئرمین حمایت کرتے ہیں تاہم وہ پارٹی ڈسپلن کے پابند ہوں گے اور اسی کو ووٹ دیں گے جس کو سابق صدر کہیں گے۔
عدالت عظمیٰ نے احتساب عدالت کو دو ماہ مزید دیئے ہیں کہ وہ نوازشریف اور ان کے بچوں کے خلاف تین ریفرنسوں کا فیصلہ کردے۔ اپنے 28 جولائی کے فیصلے میں سپریم کورٹ نے ان کیسوں کے فیصلے کیلئے 6 ماہ کا ٹائم دیا تھا جو کہ پچھلے سال 7 ستمبر کو شروع ہوا تھا۔ فرض کریں کہ ان فیصلوں کا اعلان مئی کے پہلے یا دوسرے ہفتے میں جج محمد بشیر کرتے ہیں جن میں قوی امکان یہی ہے کہ سابق وزیراعظم کو سزا ہو جائے گی۔ غور کرنے والی بات ہے کہ اس وقت کیا ماحول ہوگا۔ تقریباً 15 دن بعد یعنی مئی کے اختتام پر موجودہ حکومتیں ختم ہو جائیں گی اور نگران آ جائیں گے۔ یعنی اس کے بعد انتخابی مہم کا بھر پور آغاز ہو جائے گا اور ممکنہ طور پر نوازشریف جیل میں ہوں گے۔ اگلا سوال یہ ہے کہ نون لیگ کی انتخابی مہم کون چلائے گا جب اس کے مین کمپینر یعنی سابق وزیراعظم سلاخوں کے پیچھے ہوں گے۔ یقیناً شہبازشریف یہ کام سنبھالیں گے اور اپنی روایتی ’’سافٹ لائن‘‘ جاری رکھیں گے مگر ان کے ساتھ ساتھ ’’ہارڈ لائنرز‘‘ بھی بھرپور مہم چلائیں گے جس میں نوازشریف کا پیغام پروجیکٹ کیا جائے گا۔ تاہم یہ بات غور طلب ہے کہ ممکنہ سزا سے قبل ہی نوازشریف نے ’’الیکشن کمپین‘‘ اتنی بھرپور انداز میں کر دی ہے کہ نون لیگ کی مقبولیت بہت بڑھ گئی ہے جس کا اندازہ لگاتار ضمنی انتخابات میں سامنے آتا رہا ہے۔ اس سے بھی اہم بات یہ ہے کہ جس طرح 28 جولائی کے فیصلے کے بعد نوازشریف کی مقبولیت میں اضافہ ہوا اسی طرح ان کی متوقع سزا سے ان کی پاپولیرٹی مزید بڑھے گی۔ اسی بارے میں سینیٹر بابر کی یہ بات کہ انہیں ڈر ہے کہ آئندہ انتخابات کہیں عدلیہ کے بارے میں ریفرنڈم نہ ہو جائے کو بھی ذہن میں رکھنے کی ضرورت ہے۔ نوازشریف بار بار کہہ چکے ہیں کہ اگلا الیکشن ریفرنڈم ہے جس میں اصل مسئلہ ووٹ کے تقدس اور عزت بحال کرنا ہے تاکہ ہر بار وزیراعظم کو ہی وقت سے پہلے بے عزت کرکے گھر نہ بھیجا جاسکے۔
کالم پر ایس ایم ایس اور واٹس ایپ رائے دیں 00923004647998

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں