آپ آف لائن ہیں
جمعہ 10؍محرم الحرام 1440ھ 21؍ستمبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

بلیو پرنٹ واضح ہے کہ آئندہ عام انتخابات سے قبل ، اس کے دوران اور بعد میں نون لیگ کے ساتھ کیا ہونا ہے۔ اس کا واضح ٹریلر سینیٹ کے چیئرمین اور ڈپٹی چیئرمین کے الیکشن میں چلا۔ باوجود اس کے کہ یہ ایوان بالا میں سب سے بڑی جماعت تھی اور اسے اپنے اتحادیوں کو ساتھ ملا کر مخالفین پر عددی اکثریت حاصل تھی مگر وہ ہار گئی۔ یہی کچھ عام انتخابات کے بعد بھی کرنے کامنصوبہ ہے کامیاب ہوتا ہے یا نہیں یہ بعد کی بات ہے جس کا سب سے زیادہ دارومدار انتخابی نتائج پر ہوگا۔ تاہم سرتوڑ کوشش یہی ہوگی کہ چوں چوں کا مربع اکٹھا کرکے نون لیگ کے امیدوار کو وزیراعظم نہ بننے دیا جائے اگرچہ یہ ایوان زیریں میں سب سے بڑی جماعت کے طور پر سامنے آئی ہو۔ جس طرح سینیٹ کے نئے چیئرمین صرف ایک ڈمی ہی ہیں اور وہ وہی کچھ کریں گے جس کا انہیں حکم دیا جائے گا اسی طرح کا وزیراعظم بھی لانے کی کوشش کی جائے گی۔ دلیل یہ دی جائے گی کہ بلوچستان کی محرومی دور کرنی ہے جیسے کہ سینیٹ کے چیئرمین بننے سے اس صوبے کی تمام محرومیاں فی الفور غائب ہو گئی ہیں۔ مقصد ایک ہی ہے کہ ہر بڑا عہدہ ریموٹ کنٹرولڈ ہو۔ یقیناً ایسے مقاصد حاصل کرنے سے جمہوری نظام انتہائی کمزور رہے گا اور غیر منتخب عناصر کا غلبہ رہے گا۔ یہ پاکستان کیلئے کس حد تک سود مند ہے صرف منصوبہ ساز ہی بتا سکتے ہیں۔


جس طرح سینیٹ چیئرمین کے انتخاب میں پی پی پی اور پی ٹی آئی کو اکٹھا کیا گیا بالکل اسی طرح عام انتخابات میں اور اس کے بعد بھی انہیں ایک پلیٹ فارم پر لایا جائے گا اور آزاد ارکان اور چھوٹے موٹے گروپس بشمول فاٹا کے ممبران کو ملا کر نیا وزیراعظم لایا جائے گا اور اگر پھر بھی وزیراعظم منتخب کرنے کیلئے عددی کمی ہوئی تو نون لیگ میں سے ایک ’’پیٹریاٹ‘‘ گروپ بنا لیا جائے گا۔ پہلے مرحلے میں اس جماعت کو ایوان زیریں میں سب سے بڑی پارٹی کے طور پر ابھرنے سے روکنا ہے تاکہ یہ وزیراعظم کے عہدے پر کوئی کلیم نہ کرسکے۔ چیئرمین کے الیکشن کے بعد تمام ’’الائنمنٹس‘‘ واضح ہو گئی ہیں کہ ایک طرف نون لیگ ہوگی اور دوسری طرف پی ٹی آئی، پی پی پی ، آزاد ارکان اور ’’لوٹے‘‘ ہوں گے۔ تاہم حاصل بزنجو کی نیشنل پارٹی اور محمود خان اچکزئی کی پختونخوا ملی عوامی پارٹی نون لیگ کی اتحادی ہیں اور رہیں گی۔ رہی بات مولانا فضل الرحمان کی تو ان کے بارے میں کچھ حتمی طور پر کہنا مشکل ہے۔ عام انتخابات کے بعد چھوٹے صوبوں یعنی سندھ ، بلوچستان اور خیبرپختونخوا سے منتخب ہونے والے ارکان قومی اسمبلی کو پنجاب سے الیکٹ ہونے والے ممبران کے خلاف جمع کیا جائے گا اور اس بات پر زور دیا جائے گا کہ وزارت عظمیٰ کا منصب چھوٹے صوبوں کو ملنا چاہئے۔ سینیٹ چیئرمین کے انتخابات میں بھی یقیناً نون لیگ کے کچھ ممبران نے اپنی جماعت کے ساتھ دغا کیا اور ووٹ اس کے امیدوار کو نہیں دئیے۔ نہ تو پی ٹی آئی اور پی پی پی خود بخود ہی شیر وشکر ہوگئیں اور نہ ہی ایم کیو ایم نے ان کے ساتھ اپنی مرضی سے ہاتھ ملا لیا اور نہ ہی کچھ دوسرے سینیٹرز نے اس ’’اتحاد‘‘ کا ساتھ دیا بلکہ یہ تمام قوتیں بقول معزول وزیراعظم نوازشریف کے کھلونے تھیں جن کو چابی دے کر ایک ’’عظیم مقصد‘‘ کیلئے اکٹھا کیا گیا۔ اگر اب بھی پی ٹی آئی اور پی پی پی کسی اصول یا ضابطے کی بات کرتی ہیں تو انہیں ایسا کرتے ہوئے تھوڑی سی شرم تو آنی چاہئے۔
چیئرمین کے الیکشن میں نون لیگ کیلئے پیغام واضح ہے کہ چاہے وہ کوئی الیکشن جیت بھی جائے اسے اہم ترین عہدے نہیں لینے دینے۔ اس کیلئے مشکلات ہی مشکلات ہیں جو کہ عام انتخابات سے قبل، اس کے دوران اور اس کے بعد مزید بڑھیں گی۔ الیکشن سے قبل نوازشریف کو احتساب عدالت سے سزا ہونے کا قوی امکان ہے تاکہ انہیں جیل بھجوایا جاسکے اور وہ اس قابل نہ رہیں کہ اپنی جماعت کی انتخابی مہم کو بھرپور انداز میں لیڈ کرسکیں۔ منصوبہ سازوں کا خیال ہے کہ اگر وہ سلاخوں کے پیچھے ہوں گے تو نون لیگ ’’ہیڈلس‘‘ ہو جائے گی جس سے اس میں بددلی بڑھ جائے گی۔ اس کے ساتھ ہی اس جماعت سے کافی ’’الیکٹ ایبلز‘‘ کو بھی پی ٹی آئی میں بھجوایا جائے گا۔ ابھی سے ہی یہ سلسلہ آہستہ آہستہ شروع کر دیا گیا ہے۔ تاہم کم امکان ہے کہ یہ اسکیم پنجاب میں کوئی بڑی کامیابی حاصل کرسکے کیونکہ نون لیگ کے ٹکٹ پر انتخابات لڑنے والے عناصر کو اب بھی مکمل یقین ہے کہ وہ اس کے بغیر نہیں جیت سکتے اور پی ٹی آئی اور پی پی
پی کے ٹکٹ کامیابی کی ضمانت نہیں ہیں۔ مگر یہ بھی حقیقت ہے کہ نون لیگ پر ایسے حملے سب سے زیادہ پنجاب میں ہی ہونے ہیں جہاں اس کا ہولڈ بڑا مضبوط ہے۔ اس سے اگلا مرحلہ وہ بے شمار اقدامات ہیں جو کہ عبوری حکومت نے اٹھانے ہیں جن کا صرف اور صرف مقصد اس جماعت کو زیادہ سے زیادہ نقصان پہنچانا ہے تاکہ اس کا اثر اس پر عام انتخابات میں ہو۔ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ عبوری دور (جون اور جولائی) میں لوڈ شیڈنگ بھی کافی کی جائے تاکہ لوگوں کو بتایا جاسکے کہ نون لیگ کے دعوے کہ اس نے بجلی کی کمی پوری کر دی ہے غلط ہیں۔ اب چونکہ پی پی پی اور پی ٹی آئی واضح طور پر اکٹھی ہوگئی ہیں لہذا اس بات کا قطعاً کوئی امکان نہیں ہے کہ وہ اور نون لیگ کسی ایک شخص پر متفق ہو جائیں کہ اسے کیئر ٹیکر وزیراعظم بنا دیا جائے۔ ان کے درمیان عدم اتفاق کی وجہ سے اس تقرری کا معاملہ الیکشن کمیشن کو فیصلے کیلئے جائے گا۔ پنجاب اور خیبرپختونخوا میں کیئر ٹیکر وزراء اعلیٰ کے تقرر پر بھی اسی طرح کے تنازعات کھڑے ہوں گے جبکہ سندھ اور بلوچستان میں سکون ہی سکون ہونے کی وجہ سے یہ تقرریاں بڑی آسانی سے ہو جائیں گی۔ نون لیگ چونکہ نئے چیئرمین نیب کے تقرر کی وجہ سے کافی رگڑا کھا رہی ہے لہذا وہ کیئر ٹیکر وزیراعظم اور عبوری وزیر اعلیٰ پنجاب کے تقرر میں اپنے سیاسی مخالفین کی تجاویز کو نہیں مانے گی۔ پنجاب میں کیئرٹیکر چیف منسٹر کے تقرر میں شہبازشریف نے مشورہ پی ٹی آئی یعنی اس کے قائد حزب اختلاف میاں محمود رشید سے کرنا ہے لہٰذا ان کے درمیان تو اتفاق کبھی ہو ہی نہیں سکتا۔
(کالم نگار کے نام کیساتھ ایس ایم ایس اور واٹس ایپ پر رائے دیں 00923004647998)

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں