آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
بدھ12 ربیع الاوّل 1440ھ 21؍نومبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

بعض قومی اخبارات میں شائع ہوا ہے کہ وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی، سابق اسپیکر قومی اسمبلی سید فخر امام کو نگران وزیر اعظم بنانے کے خواہش مند ہیں۔ اس بارے میں انہوں نے مشاورت شروع کر دی ہے۔ وزیر اعظم، پارٹی قائد اور مسلم لیگ کے صدر سے مشاورت کے بعد قائد حزب اختلاف خورشید شاہ کے سامنے یہ نام تجویز کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔

قانون کے مطابق نگران وزیر اعظم کیلئے قائد ایوان اور قائد حزب اختلاف کا ایک نام پر اتفاق رائے ضروری ہے۔ ان کے مابین اتفاق نہ ہونے کی صورت میں یہ مسئلہ پارلیمانی کمیٹی کے پاس چلا جاتا ہے جس میں حکومت اور مخالف جماعتوں کے نمائندے رکن ہوتے ہیں۔ پارلیمانی کمیٹی میں بھی اگر کسی ایک نام پر اتفاق نہ ہو سکے تو کمیٹی چار نام تجویز کرکے الیکشن کمیشن کو بھیج دیتی ہے اور الیکشن کمیشن ان میں سے کسی ایک کو وزیر اعظم مقرر کرنے کا اختیار رکھتا ہے۔ یہی طریقہ کار ہر صوبے میں نگران وزیر اعلیٰ کیلئے اختیار کیا جاتا ہے۔ یہاں وزیر اعلیٰ اور صوبائی اسمبلی کے قائد حزب اختلاف مجوزہ طریقہ کار کے مطابق فیصلہ کرتے ہیں۔ پاکستان میں عموماً نگران حکومت کا تجربہ زیادہ خوشگوار نہیں رہا۔ بطور خاص گزشتہ انتخاب کے موقع پر قائد ایوان اور قائد حزب اختلاف کے درمیان نگران حکومتوں کے بارے میں مک مکا کا الزام لگایا جاتا

ہے۔ خاص طور پر پنجاب اور سندھ میں دونوں نے اپنی مرضی کی نگران حکومتیں قائم کیں اور خوب کھل کھیلے۔ وزیر اعظم عباسی اگر نگران وزیر اعظم کیلئے فخر امام کا نام تجویز کرتے ہیں تو یہ ان کی نیک نیتی کو ظاہر کرے گی۔ غالب امکان ہے کہ تحریک انصاف سمیت حزب اختلاف کی دوسری جماعتیں بھی اس پر بآسانی متفق ہو جائیں گی۔ بالعموم نگران وزیر اعظم اگر سیاست دان ہو تو وہ قانون کا پابند اور غیر جانبدار نہیں رہتا اور اس میں اپنے مفاد کی تلاش میں لگ جاتا ہے۔ اگر جج اور جرنیل یا بیورو کریٹ کو ذمہ داری سونپی جائے تو سیاست کی پیچیدگیوں اور ہتھکنڈوں کو سمجھ نہیں پاتے اور معاملات خراب یا ان کے ہاتھ سے نکل جاتے ہیں۔ فخر امام طرز کے سیاستدان آج کل کی دنیا میں خال خال پائے جاتے ہیں اور پاکستان میں تو یہ بالکل ناپید ہیں جو ایک آدھ بچ رہا اس میں فخر امام یقیناً بلند قامت ہیں۔ آزمودہ سیاستدانوں میں فخر امام سے زیادہ آئین اور اس کی روح کو جاننے والا کوئی دوسرا نہیں ہے جو آئین، قانون اور ضابطوں کو سمجھنے کے ساتھ پوری دیانتداری اور نیک نیتی سے اس پر عمل بھی کرے۔ فخر امام منصب کے تقاضوں اور اس کی ذمہ داریوں کو پوری طرح سمجھ کر ان پر عمل کرنے کی صلاحیت بھی رکھتے ہیں۔ نرم خو اور قدرے شرمیلا ہونے کے باوجود وہ انصاف کے تقاضوں کو نبھانے کا ہنر اور جرأت سے متصف ہیں۔

سید فخر امام نے ابتدائی تین برس ایچی سن کالج میں تعلیم حاصل کی وہاں سے ’’PREPاسکول انگلینڈ‘‘ چلے گئے۔ اس کے بعد پبلک سکول کیلیفورنیا (امریکہ) سے ہوتے ہوئے کیلیفورنیا یونیورسٹی (ڈیوس) سے گریجوایشن مکمل کرکے پاکستان واپس آئے۔ امریکہ پلٹ نوجوان فخر امام اب نیکر پہنے ہیٹ لگائے خانیوال کے گائوں قتال پور میں اپنے کپاس کے کھیتوں اور آم کے باغات کی دیکھ بھال میں لگ گئے۔ گرمی، دھوپ، حبس کا مقابلہ کرتا یہ نوجوان زراعت کو جدید خطوط پر استوار کرنے اور منافع بخش صنعت بنانے میں پُرعزم تھا۔ اس دوران افسر بننے کا شوق چرایا اور مقابلے کے امتحان میں جا بیٹھے۔ سی ایس ایس کیا اور قلیل مدت کیلئے محکمہ انکم ٹیکس میں افسری کی لیکن ماحول کو قابلیت اور دیانتداری کیلئے استوار نہ پا کر پھر گائوں لوٹ آیا اور پھر سے کاشتکاری کو اپنا لیا۔ یوں تو ان کا اپنا گھرانہ بھی سیاست میں ایک مقام رکھتا تھا، ان کی شادی اپنی خالہ زاد اور جھنگ کے نامور سیاستدان کرنل عابد حسین کی بیٹی عابدہ حسین سے ہو گئی۔ سیماب صفت عابدہ حسین کو سیاست کا لپکا تھا۔ پورے ملک بلکہ برصغیر میں ان کے والد کی سیاسی دوستیاں اور تعلقات موجود تھے۔ ضیاء الحق نے مارشل لاء لگایا، بھٹو کی حکومت ختم کی، 90دن کا وعدہ کیا الیکشن ملتوی ہوئے اور دو سال بعد 79ء کے انتخابات پر خط تنسیخ کھینچی تو سیاستدانوں کو مصروف رکھنے اور اپنی سیاسی بنیادیں مضبوط اور وسیع کرنے کیلئے بلدیاتی انتخابات کا ڈول ڈالا تو میاں بیوی یعنی فخر امام اور عابدہ حسین اپنے اپنے اضلاع میں ممبر ضلع کونسل بنے۔ عابد حسین بآسانی ضلع کونسل کی چیئرمین منتخب ہو گئیں اور فخر امام کے حریف زیادہ مضبوط اور طاقتور تھے۔ ملتان کے وسیع و عریض ضلع میں ایک صدی تک حریف رہنے والے گیلانی اور قریشی گروپ ابھرتے نوجوانوں کی سیاست سے خوفزدہ ہو کر اکٹھے ہو گئے۔ جاوید ہاشمی جو ضیاء الحق کی کابینہ میں طالب علم لیڈر کے استحقاق کی بنیاد پر وفاقی وزیر رہے، سیاست میں بلوغت پا چکے تھے اور پیپلز پارٹی کے سابق ایم پی اے ناظم حسین شاہ بھی عالم جوانی میں تھے۔ نوجوانوں کی توانائی اور تازہ دم بصیرت کام آئی صدیوں پرانے جغادریوں کے مقابلے میں فاتح ٹھہرے۔ اس مشترکہ کاوش نے فخر امام کو ضلع کونسل ملتان کا چیئرمین بنا دیا۔ یہاں پر آکر اعلیٰ تعلیم یافتہ فخر امام کے جوہر کھلنے لگے۔ منتخب بلدیاتی چیئرمینوں میں سے بعض کو مرکز اور صوبوں کی کابینہ میں شامل کیا گیا تو ملتان جو اس وقت پاکستان کا سب سے بڑا ضلع اور سیاست میں بلند اور جدا مقام رکھتا تھا اس کے چیئرمین کو ضیاء الحق نے اپنی کابینہ میں شامل کرلیا۔ چار سال بعد دوبارہ بلدیاتی انتخاب میں فخر امام لوکل کونسل میں ممبر بنے لیکن ضلع کونسل کی چیئرمینی کا انتخاب ایک ووٹ سے ہار گئے۔ اپنی شکست کے فوراً بعد انہوں نے وفاقی وزارت سے استعفیٰ دیدیا۔ صدر پاکستان جنرل ضیاء الحق کو ان کی جسارت ناگوار گزری کہ انہیں بتائے بغیر کابینہ سے الگ نہیں ہونا چاہیے تھا لیکن فخر امام کا استدلال تھا کہ وہ ضلع کونسل کے چیئرمین ہونے کی وجہ سے وفاقی وزیر بنے اب وہ ہار گئے ہیں تو وزارت میں بیٹھنا اصول کی خلاف ورزی ہے۔ ان کی یہ ادا عوام اور سیاستدانوں کو خوب بھا گئی۔ استعفے نے یکایک عوام میں مقبول اور سیاستدانوں میں مشہور کر دیا۔

1985ء میں قومی اور صوبائی اسمبلیوں کے غیر جماعتی انتخابات ہوئے تو فخر امام اور ان کی بیگم عابدہ حسین بھاری اکثریت سے جیت کر اسمبلی آن پہنچے۔ ان کی قومی سیاست کا دور شروع ہوا تو پہلا مرحلہ قومی اسمبلی میں اسپیکر اور سینیٹ میں چیئرمین کے انتخاب کا تھا۔ فوج کے سپہ سالار اور صدر پاکستان کی اسمبلی کو مکمل تائید حاصل تھی۔ غیر جماعتی اسمبلی میں جیتنے والوں کی اکثریت اپنی سابقہ جماعت یعنی تحریک استقلال سے تعلق رکھتی تھی۔ ضیاء الحق نے وزارت عظمیٰ کیلئے پیر پگاڑا کے نامزد کردہ محمد خان جونیجو کو وزارت عظمیٰ کیلئے نامزد کر دیا اور سابق مجلس شوریٰ کے اسپیکر خواجہ صفدر کو اسپیکر کیلئے نامزد کیا گیا۔ اگرچہ اسمبلیوں کے انتخابات غیر جماعتی تھے لیکن دونوں نامزد افراد کا تعلق مسلم لیگ کے ساتھ تھا اور وہ جلد ہی اس جماعت کا احیاء کرنے والے تھے۔ چنانچہ فوری ردعمل پیدا ہوا۔ جاوید ہاشمی بھی بروئے کار آئے اور عابدہ حسین کو اسپیکر کا مقابلہ کرنے کیلئے امیدوار بنانا چاہا اگرچہ پنجاب، سندھ اور بلوچستان کے اراکین ان کے نام پر راضی تھے لیکن یہ خدشہ پیدا ہوا کہ قدامت پسند پختون اور مذہبی جماعتوں کے لوگ عورت کو ووٹ نہیں دیں گے چنانچہ قرعہ فخر امام کے نام نکلا۔ رات بھر میں بازی پلٹ گئی، ضیاء الحق چین کی نیند سوتے رہے اور ان کی آنکھ کھلنے تک بازی پلٹ چکی تھی۔ یہ انتخاب دلچسپ اور طوفانی داستان ہے، جس کا ذکر آئندہ کیلئے اٹھا رکھتے ہیں۔ فخر امام سخت مقابلے کے بعد گیارہ ووٹ کی اکثریت سے اسپیکر منتخب ہوگئے تو ان کے علم و ہنر، دیانت و شرافت اور اصول پسندی کے جوہر کھلے۔ انہوں نے ایوان کو آزادی کے ساتھ قانون کے مطابق آئین کی حدود اور قواعد کے تحت چلانے کی اعلیٰ روایت قائم کی، انہوں نے قانون کی حکمرانی کیلئے اپنے منصب اور ذات کی پروا نہ کرتے ہوئے ایوان کیلئے ایسی اعلیٰ اقتدار چھوڑیں کہ اس کے بعد آج تک کوئی اسپیکر اس بلندی کو چھو نہ سکا۔

آٹھویں ترمیم پر ہفتوں طویل بحث ہوتی رہی۔ مارشل لاء کو غیر آئینی قرار دینے کی رولنگ اور وزیر اعظم کے خلاف ریفرنس الیکشن کمیشن کو بھیجنا ایسے فیصلے ہیں جو فخر امام کے سوا کوئی دوسرا سیاستدان نہیں کرسکتا تھا۔

وزیر اعظم محمد خاں جونیجو کے خلاف ایک ریفرنس حاجی سیف اللہ نے اسپیکر کو بھیجا تو فخر امام کو ہر طرف سے دبائو کا سامنا تھا کہ اس ریفرنس کو اپنے چیمبر میں نمٹا دیں لیکن فخر امام کا استدلال تھا کہ کسی ممبر کے خلاف ریفرنس کا فیصلہ اسپیکر کا اختیار نہیں ہے۔ اسپیکر محض ڈاک خانے کا کردار ادا کرتا ہے اور اس خط کو اصل پتہ پر جانا ہے اور وہ ہے الیکشن کمیشن آف پاکستان۔

آئین کی رو ح کے مطابق عملدرآمد ’’قانون بنانے والوں کو پسند نہ آیا اور فخر امام کے خلاف تحریک عدم اعتماد پیش کردی گئی‘‘۔ داستان کا یہ حصہ بڑا دلچسپ، سنسنی خیز اور عبرت آموز ہے۔ ان شاء اللہ کسی آئندہ اشاعت پر تفصیل سے بات کریں گے۔ مختصر یہ کہ فخر امام نے ان نازک لمحوں میں حواس کو قائم رکھا اور اپنے منصب کو نبھاتے ہوئے ممبران اسمبلی سے اپنے حق میں رابطہ کرنے سے انکار کر دیا۔ مختصراً قومی تاریخ کے ان نازک لمحوں میں نگران وزیر اعظم کیلئے فخر امام سے بڑھ کر کوئی انتخاب ہو ہی نہیں سکتا۔ نہیں معلوم کہ وزیر اعظم بھاری پتھر اٹھا پائیں گے یا نہیں مگر ان کا ارادہ قابل تحسین ہے۔

(کالم نگار کے نام کیساتھ ایس ایم ایس اور واٹس ایپ رائے دیں00923004647998)

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں