آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
لائبہ نعمان
لائبہ نعمان | 27 مارچ ، 2018

پاکستان میں بنتے بگڑتے میوزک بینڈز

1980 کی دہائی میں پاکستان میں پاپ میوزک کا آغازہواتھا۔ اس زمانے میں عالمگیر، نازیہ اور زوہیب، محمد علی شہکی اور دیگر کئی گلوکار مشہور ہوئےتھے اور ان ہی ان کی وجہ سے لوگوں میں پاپ میوزک کا ذوق پیدا ہوا اور اس کے بعد لوگوں نے پاپ میوزک سننا شروع کیا۔اسی دوران پاکستان میں کئی میوزیکل بینڈز نے اپنی قسمت آزمائی کی ، کچھ تو ایک دو مرتبہ آکر منظر عام سے غائب ہوگئے تھے لیکن چند بینڈز ایسے بھی ہیں جو لوگوں میں کافی مقبول ہیں۔


یوں معلوم ہوتا ہے کہ کامیابی حاصل کرنے کے لیے یہ بینڈز ہر طرح کے نئے تجربات کرنے پر کمربستہ ہیں۔ کچھ بینڈز نے بین الاقوامی دھنون پر میوزک تیار کیےتو کچھ بینڈز مشرق ومغرب کی موسیقی یکجا کرکے لوگوں کے دلوں تک پہنچے ہیں۔راک میوزک بینڈز کی ابتداء وائٹل سائنز نے ہی کی۔ پھر جنون ، جیوپٹرز اور کئی میوزک گروپس نے جنم لیا۔ جو بنتے ٹوٹتے رہے اور کبھی راک، کبھی خالص بھنگڑہ، کبھی پاپ اور کبھی ان سبھی کا امتزاج سننے کو ملتا رہا۔آج ہم آپ کو کچھ ایسے میوزک بینڈز کے بارے میں بتائیں گے جو بنے اور ٹوٹ گئے تو کچھ آج تک جوڑے ہوئے ہیں۔

وائٹل سائنز(بینڈ)

پاکستان میں بنتے بگڑتے میوزک بینڈز

پاکستان میں میوزک بینڈز کارجحان کی ابتداء 1983ء میں وائیٹل سائنز سے ہوئی ۔اس وقت وائٹل سائنز(میوزک بینڈ) پاکستان کا مقبول ترین بینڈ تھا ۔ جسے جنید جمشید لیڈ کرتے تھے۔ ملک کی نوجوان نسل ان کے گیتوں کی دیوانی تھی . دل دل پاکستان جیسا مشہور قومی نغمہ دنیا کے دس مقبول ترین نغمات میں شمار ہوا ۔ان کی آواز کا جادو گھر گھر بولتا تھا ۔عامر ذکی ،نصرت حسین ، سلما ن احمد اور جنید جمشید کے اس بینڈ نے آتے ہی ایسے ہٹ گانے دئیے کہ ہر ذبان پر ان کے گیت چھا گئے۔ دولت،شہرت نے جیسے جنید کی راہ دیکھ لی تھی ۔ جنید کو دیکھنے اور سننے کے لئے لوگ لمبی لمبی قطاروں میں کنسرٹ ٹکٹ خریدنے کے لئے کھڑے رہتےتھےلیکن 2002ء کو جنید جمشیدنے باضابطہ طور پر موسیقی کی دنیا کو خیرباد کہہ کر دین کی تبلیغ درس تدریس حمد اور نعت خوانی سے رشتہ جوڑ لیا ۔

جل (بینڈ)

پاکستان میں بنتے بگڑتے میوزک بینڈز

2002ءمیں گوہر ممتاز نے جل بینڈ کی بنیاد رکھی اور اس دوران اس بینڈ نے اچھے برے ہر حالات کا سامنا کیا ۔ اس بینڈ سے ہی عاطف اسلم کو بطور موسیقار ایک شناخت ملی ۔جل بینڈ کی پہلی البم ”عادت“ 2004ءمیں ریلیز ہوئی۔ اس البم نے جل کو پاکستان کی حدود سے باہر بھی شہرت دی اور جل کا چرچا دوسرے ممالک میں بھی ہو گیا۔ اس بینڈ کو گوہر ممتاز ، عاطف اسلم، فرحان سعید نے اپنی آواز سے چار چاند لگا دئے تھے لیکن عادت کے اتنے ہٹ ہونے کے بعد جب عاطف اسلم کو بالی ووڈ سے آفرز آنا شروع ہوگئی تو وہ وہاں چلے گئے اور اس طرح جل بینڈ بھی کچھ وقت کے لیے بکھر گیا۔

میکال حسن( بینڈ)

پاکستان میں بنتے بگڑتے میوزک بینڈز

2000 میں میکال حسن اورمحمد احسن پپونے ”میکال حسن بینڈ“ تشکیل دیاتھا۔ اس بینڈ کے اب تک 3 البم ریلیز ہوچکے ہیں۔ پاکستان میں میکال حسن بینڈ اپنی نوعیت کا واحد بینڈ ہے جس نے صوفی کلام کو کلاسیکی موسیقی کی چاشنی میں گھول کر جدید اور لوک آلات موسیقی کے ساتھ تخلیق کیا۔ یہی وجہ ہے کہ انہوں نے کم مگر معیاری کام کیا، پندرہ برسوں میں صرف تین البم ریلیز کیے، مگر ہر البم کو کامیابی ملی۔میکال حسن بینڈ کے تمام گیت میٹھی اداسی میں ڈوبے ہوئے ہوتےہیں، جنہیں سن کر ایسا محسوس ہوتا ہے کہ کوئی روح کے زخموں پر مرہم رکھ رہا ہے۔ عجیب جادو ہے ان گیتوں میں، یہ یادوں کی انگلی تھام کر خیال کی رو میں اتنی دور نکل جاتے ہیں، جہاں سے واپسی ایک کٹھن کام ہے، مگر نہ جانے یہ فنکار اس مشکل کام کو ہر بار کیسے نبھا لیتے ہیں۔

اسٹرنگز (بینڈ)

پاکستان میں بنتے بگڑتے میوزک بینڈز

اسٹرنگز بینڈ عالمی شہرت یافتہ پاپ میوزک بینڈ ہے۔ اس بینڈ کی بنیاد کراچی سے تعلق رکھنے والے دو نوجوانوں فیصل کپاڈیہ اور بلال مقصود نے 1988 میں رکھی تھی۔ یہ دونوں آج بھی اس بینڈ کے مرکزی گلوکار ہیں۔ ان دونوں کے علاوہ کئی لوگوں نے ان کے ساتھ کام کیا جن میں میں رفیق وزیر علی، کریم بشیر بھائی(باس گٹار) بھی شامل تھے۔یہ پاکستان کا وہ واحد بینڈ ہے جس کو آج 30 سال سے ذائد کا عرصہ ہوگیا ہے لیکن وہ ٹوٹا نہیں۔ہاں کچھ عرصے کے لیے ٖغائب ضرور ہوگیا تھا لیکن اب وہ سجنی نامی گانے کے ساتھ پھر سے سب کو دیوانہ بنانے آرہا ہے۔