• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ایم کیوایم کی’ کٹی پتنگ‘ اور فاروق ستار کا ’بُوکاٹا‘

ایم کیوایم کی’ کٹی پتنگ‘ اور فاروق ستار کا ’بُوکاٹا‘

متحدہ قومی موومنٹ جو اب کسی لحاظ سے بھی ’متحدہ‘ نہیں رہی ، اپنے داخلی بحران کے بدترین دور سے گزر رہی ہے۔ لندن سے لاتعلقی اورنائن زیرو کی بندش کے بعد کراچی کی پیرالہٰی بخش کالونی میں یکجا ہونے والی’ ایم کیوایم پاکستان‘ بھی اب بہادرآبادکلب کے سامنے خیمہ لگائے بیٹھی ہے اور فاروق ستارپی آئی بی کی تپتی دوپہروں میں اپنی ہی تصویر بنے پھرتے ہیں ،بالکل اسی طرح’ جس طرح بادل کا ٹکڑا پیاس بڑھکاتا رہے‘۔

پہلے بہادرآباد میں بیٹھی رابطہ کمیٹی نے فاروق ستار کو پارٹی کی کنوینرشپ سے ہٹایااوپھرالیکشن کمیشن نے اس پر مہرِ تصدیق ثبت کردی۔اب عملی طور پر صورتِ حال یہ ہےکہ پی آئی بی میں فاروق ستار کے ساتھ اگرکوئی ہے توکامران ٹیسوری ہیں اور دوسرے علی رضا عابدی ۔اس کے بعد اگر کچھ ہے تو ’فقط عالمِ تنہائی ہے‘۔بہادرآباد کے خیمے میں اگرچہ بہت چہل پہل ہے لیکن واقفانِ حال بتاتے ہیں کہ وہاں کے اندرونی خلفشار سےبھی اس خیمے کی طنابیں ہل رہی ہیں۔

جس طرح پی آئی بی کا حسنِ انتظام ٹیسوری اور عابدی کے ہاتھ میں بتایا جاتا ہے ،کہا جاتا ہے کہ بہادرآباد کا انتظام و انصرام رئوف صدیقی اورفروغ نسیم چلاتے ہیں۔نسرین جلیل سینٹ الیکشن کے دوران اُٹھنے والے’ طوفانِ بدتمیزی‘ سے تنگ آکر خاموشی سے گھر جا بیٹھی ہیں۔خالدمقبول صدیقی بظاہر رہنمائی کے فرائض انجام دے رہے ہیں لیکن عامر خان اور کنورنوید کے مضبوط گروپوں کی آپس کی رسہ کشی رہی سہی پارٹی کا شیرازہ بکھیرنے اور کارکنوں کے شش وپنج میں اضافےکا سبب بن سکتی ہے۔

ایم کیوایم کی’ کٹی پتنگ‘ اور فاروق ستار کا ’بُوکاٹا‘

ایسے میں فیصل سبزواری کے آنسو بہادرآباد اور پی آئی بی میں بڑھتےہوئے فاصلوں کو کتنا کم کرسکتے ہیں ۔خالدمقبول صدیقی کے مثبت بیانات اور فاروق ستارکی ایڈہاک کمیٹی کے قیام کی تجویزکے باوجود ان فاصلوں میں کمی کا کوئی فوری امکان نہیں۔اگریہ صورتِ حال الیکشن تک قائم رہتی ہے اور ایم کیوایم کے مختلف دھڑے ایک دوسرے کے خلاف الیکشن لڑتے ہیں۔سامنے مصطفٰی کمال کی پاک سرزمین پارٹی بھی ہوتی ہے۔آفاق احمد کی حقیقی بھی اپنا حصہ مانگتی ہے تو پھر عوامی مینڈیٹ کا چھوٹاسا یہ سیب کتنی کاشوں میں تقسیم ہو گا،اس کا اندازہ ابھی سے لگایا جا سکتا ہے۔

ایم کیوایم کی بہت سی خواتین ارکانِ صوبائی اسمبلی نے اپنا مستقبل پیپلزپارٹی سے وابستہ کر لیا ہے۔مستقبل کی یہی فکر آگے چل کر کئی ایک مرد ارکان کو بھی لاحق ہو سکتی ہے۔ان کی ایک منزل تو پی ایس پی کی شکل میں موجود ہے لیکن اس کے علاوہ انہیں پیپلزپارٹی اوردیگرجماعتوں کے ساتھ بھی قدرے بہتر مستقبل دکھائی دے سکتا ہے۔سندھ میںنگران سیٹ اپ کے لیے حکومت اور اپوزیشن میں مشاورت ضروری ہے ۔ ایسے میں سندھ اسمبلی میں اپوزیشن لیڈرخواجہ اظہارالحسن کی اہمیت اچانک بڑھ گئی ہےجو ان کے سیاسی مستقبل کی راہیں ہموار کر سکتی ہے۔

ایم کیوایم کی’ کٹی پتنگ‘ اور فاروق ستار کا ’بُوکاٹا‘

عام تاثر تو یہی تھا کہ ایم کیوایم پاکستان کی صفوں میں دراڑیں کامران ٹیسوری کی وجہ سے پڑیں لیکن حقیقت ِ حال اس سے یکسر مختلف ہے۔ فاروق ستارموجودہ رابطہ کمیٹی کے ہاتھوں اپنے آپ کو بہت پہلے سے یرغمال تصور کر رہے تھے۔ کیونکہ وہ اپنی دانست میں جو فیصلے کرتے تھے، رابطہ کمیٹی انہیں مسترد کر دیتی تھی۔جس کی سب سے بڑی مثال ایم کیوایم پاکستان اور پاک سرزمین پارٹی کے انضمام کے حق میں فاروق ستار کے فیصلے کے خلاف عامر خان اور دیگر رہنمائوں کا شدید ردعمل تھا۔فاروق ستار کے لیے یہ ایک’ ٹرننگ پوائنٹ‘ تھا۔ شاید یہی موقع تھا جب انہوں نے سوچا ہو گا کہ اگر وہ پارٹی کے فیصلے اپنی مرضی سے نہیں کر سکتے تو کیوں نہ اپنا ایک الگ دھڑابنا لیں جس کی بنیاد پر ان کی مستقبل کی سیاست چلتی رہے۔

فاروق ستار جہاں عامرخان سے خوش دکھائی نہیں دیتے، وہیں انہیں کشور زہرا سمیت کچھ دیگر رہنمائوں سے بھی گلے شکوے ہیں۔جنہیں دُور کیے بغیر وہ بہادرآباد سے ہاتھ ملانے پر آمادہ نہیں ہوں گےاور اب جبکہ الیکشن کمیشن نے بہادرآبادہی کے کہنے پر ان کی پتنگ کی ڈور بھی کاٹ دی ہے۔ایسے میں الیکشن کمیشن کے باہر ان کے لہجے کی تندی و تیزی اس بات کا پتہ دیتی ہے کہ مستقبل میں ہمیں کچھ کچھ بے وزن ہی سہی ،شاعری وافر مقدار میں سننے کو ملے گی اور ان شعروں پر لندن اور دبئی سے زیادہ کراچی میں بیٹھے مصطفیٰ کمال اور رضا ہارون زیرِ لب مسکرائیں گے۔

تازہ ترین