آپ آف لائن ہیں
لائبہ نعمان
لائبہ نعمان | 29 مارچ ، 2018

وہ ملک جہاں سونے کی بارش ہوتی ہے

جی ہاں! دنیا کا ایک ایسا ملک بھی ہے جہاں سونے کی بارش ہوتی ہے اورجہاں کوئی بھی غریب نہیں پایا جاتا ہے ۔آج ہم آپ کو ایسے ہی ملک کے بارے میں بتا نے جارہے ہیں اور وہ ملک ہے برونائی دار السلام۔جی یہ وہی ملک ہے جو دنیا کا امیر ترین ملک کہلاتا ہے۔

برونائی 1 جنوری 1984 کو برطانیہ سے آزاد ہوا، 1999 سے 2008 کے دوران معاشی ترقی کی شرح 56 فیصد رہی جس کی وجہ سے برونائی اب صنعتی ریاست بن گیا ہے۔

اس کی دولت کا بڑا حصہ تیل اور قدرتی گیس کے ذخیروں سے آتا ہے۔ جنوبی ایشیائی ریاستوں میں سنگاپور کے بعد برونائی انسانی ترقی کے اعشاریئے میں دوسرے نمبر پر آتا ہے اور اسے ترقی یافتہ ملک مانا جاتا ہے۔

لیبیا کے علاوہ برونائی دنیا کا دوسرا ملک ہے جہاں قرضے قومی آمدنی کا صفر فیصد ہیں۔فوربس کے مطابق برونائی 182 ممالک میں 5 واں امیر ترین ملک ہے۔

وہ ملک جہاں سونے کی بارش ہوتی ہے؟

برونائی دارالسلام کے سلطان حسن البلقیہ کی شان وشوکت کی دھوم ساری دنیا میں مچی ہوئی ہے اس کی ایک وجہ ان کا بادشاہوں جیسا طرز رہائش اور شاہانہ لباس ہی نہیں ان کے زیراستعمال قیمتی اشیابھی ہیں جنہیں دیکھ کرآنکھیں چکا چوندرہ جاتی ہیں۔ وہ ہروقت سونے میں تلے رہتے ہیں۔

ایک اندازے کے مطابق ان کی دولت میں ہرسیکنڈ نوے یوروز کا اضافہ ہورہاہے۔ ہرسیکنڈ میں نوے یوروکے اضافے کامطلب ہیے کہ ان کی دولت میں ہرمنٹ پانچ ہزارچارسو، ہرگھنٹے تین لاکھ چوبیس ہزاراور روزانہ ستترلاکھ چھیترہزار یوروبڑھ رہے ہیں۔ اس طرح وہ ہرہفتے اپنی بے تحاشا دولت میں پانچ کروڑچوالیس لاکھ بتیس ہزاریوروکااضافہ کررہے ہیں۔

دنیا کے امیرترین ملک کے صدر حسن البلقیہ حقیقتاًمنہ میں سونے کاچمچہ لے کرپیداہوئے۔ ان کی شاہانہ زندگی کے ٹھاٹ باٹ کا اندازہ ا س بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ ان کے زیراستعمال ہرشے ہیرے، سونے اورچاندی سے چمکتی دکھائی دیتی ہے۔

سلطان آف برونائی دارالسلام کا محل

وہ ملک جہاں سونے کی بارش ہوتی ہے؟

سلطان آف برونائی دارالسلام کا قلعہ نما محل دنیا کا سب سے بڑا اور سب سے زیادہ آراستہ محل ہے،

جس میں 1788 کمرے ہیں جن میں سے اکثر کی آرائش و زیبائش کے لئے سونے اور ہیرے جواہرات کا استعمال کیا گیا ہے۔

اس محل میں ایسے 257 باتھ رومز موجود ہیں جو خالص سونے اور چاندی سے بنائے گئے ہیں،

یہاں ایک ایسا گیراج بھی تعمیر کیا گیا ہے جو بیک وقت اپنے اندر 110 کاریں سمونے کی صلاحیت رکھتا ہے،

اس محل کے 650 سوئٹ ہیں جن میں سے ہر ایک کی آرائش پر 150000000 یورو سے زیادہ رقم خرچ کی گئی ہے۔

اس محل کے ہر کمرے کو اگر کوئی شخص 30 سیکنڈ کے لئے دیکھتا ہوا آگے بڑھے تو اسے پورا محل دیکھنے کئے کم ازکم 24 گھنٹے رکنا پڑے گا۔

وہ ریشم واطلس وکم خواب کے ایسے ملبوسات زیب تن کرتے ہیں جن پر سونے اورچاندی کے تاروں سے ایمبرائیڈری کاکام کیا گیا ہو۔ 

سلطان کے ذاتی استعمال کے لئے کاریں

سلطان کے ذاتی استعمال کے لئے رولز رائس کمپنی نے ایک دنیا کی مہنگی ترین کار ڈائزئین کی جو دنیا میں صرف ایک ہی بار تیار ہوئی۔

وہ ملک جہاں سونے کی بارش ہوتی ہے؟

اس کے بعد اس ماڈل کو سلطان کے لئے وقف کر دیا گیا اور اس طرز کی کار آج تک اور کسی کے لئے نہیں بنائی گئی۔

فی الحال یہ کار لندن میں موجود ہے جو سلطان اپنے دورہ برطانیہ کے دوران استعمال کرتے ہیں۔

سلطان کا ذاتی جہاز

سلطان کے پاس ایک عدد 747 جمبو جیٹ جو کہ 100 ملین ڈالر کا ہے ذاتی سفر کے لئے موجود ہے۔

جو اپنی آرائش کے لحاظ سے دنیا کا خوبصورت ترین جہاز ہے۔

وہ ملک جہاں سونے کی بارش ہوتی ہے؟

اس کی آرائش پر ایک ہزار بیس ملین ڈالر کی خطیر رقم خرچ کی گئی ہے اور اس آرائش میں خالص سونے کا استعمال کیا گیا ہے۔

اس جہاز کے علاوہ سلطان کے ذاتی استعمال کے لئے اس کے پاس چھ چھوٹے جہاز اور دو ہیلی کاپٹر موجود ہیں۔

سلطان کی بیٹی کی شادی

جب سلطان کی بیٹی کی شادی ہوئی تو شادی کی تقاریب 14 دن تک منائی گئیں،

اس شادی پر تقریبا 5 ملین ڈالر کا خرچ آیا، اور اس میں تقریبا 25 ریاستوں کے سربراہان نے اپنے اہلِ خانہ کے ساتھ شمولیت کی۔

وہ ملک جہاں سونے کی بارش ہوتی ہے؟

دلہن کے لئے ایک کار سجائی گئی جو پوری کی پوری خالص سونے سے سجائی گئی تھی اور دلہن کو پہنایا جانے والا تاج جو ہیروں سے سجایا گیا تھا۔شادی میں شہزادی نے ہیرے کا خوبصورت تاج پہنا جوملکہ برطانیہ کے تاج سے زیادہ قیمتی تھا۔

اور اس تاج میں ہیروں کی ایک پوری ٹوکری موجود تھی۔ اس کے علاوہ دلہن کے چہرے پر بھی چھوٹے چھوٹے ہیروں کا میک اپ میں استعمال کیا گیا۔

سلطان کے بیٹے کی شادی

برونائی کے سلطان کے بیٹے شہزادہ عبدالملک کی دیانگکو ربیعۃ اداویا پنگرین حاجی بلخیا کے ساتھ شادی دنیا کی مہنگی ترین شادیوں میں سے ایک ہے۔

وہ ملک جہاں سونے کی بارش ہوتی ہے؟

ایسی شادی جس میں قیمتی ہیرے جواہرات کا تاج، گلے میں انمول ہار،عمدہ لباس پر سونے کی تاروں سے بنے نقش ونگار، موتیوں سے سجی جوتی، گلدستے کی جگہ قیمتی جواہرات کا گلدستہ کہیں نہیں دیکھا ہوگا۔