آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
ہفتہ15؍ رجب المرجب 1440ھ 23؍مارچ2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
بھارتی اداکارہ کا مسلما ن ہونا جرم بن گیا

بھارت میں اقلیتوں خصوصاً مسلمانوں کے ساتھ ظلم و زیادتی عروج پر ہے جہاں ناصرف ایک عام مسلمان بلکہ بھارت کے مسلمان اداکار بھی اس ظلم و زیادتی کا شکار بنتے رہتے ہیں۔


ایسی ہی ایک بھارتی مسلمان اداکارہ ’شیریں مرزا‘ بھی ہیں جو تقریباً آٹھ سال قبل ممبئی آئیں لیکن آج بھی وہ کرائے کیلئے گھر حاصل کرنے میں ناکام ہیں۔

بھارتی اداکارہ کا مسلما ن ہونا جرم بن گیا

شیریں مرزا بھارتی چینل اسٹار پلس کے ڈرامے ’یہ ہیں محبتیں‘ میں منفی کردار ادا کرچکی ہیں، انہوں نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ’فیس بک‘ پر ایک طویل پیغام شیئر کرکے اپنی موجودہ حالت کے بارے میں بتایا ہے۔

انہوں نے لکھا کہ انہیں گھر صرف اسلئے نہیں مل رہا کیونکہ مالک مکان مسلمان، غیر شادی شدہ اور پیشے کے اعتبار سے اداکارہ کو کرایہ دار کے طور پر نہیں دیکھنا چاہتے۔

بھارتی اداکارہ کا مسلما ن ہونا جرم بن گیا

اپنے پیغام میں انہوں نے لکھا ’مجھے ممبئی میں گھر نہیں ملنا چاہئے کیونکہ میں ایم بی اے ہوں‘ یعنی مسلمان، غیر شادی شدہ اور اداکارہ۔ انہوں نے اپنے پیغام میں اپنی تصویر بھی شیئر کی اور لکھا کہ یہ تصویر اس وقت لی گئی تھی جب وہ ممبئی میں رہنے کا خواب سجائے یہاں آئی تھیں اور اب تقریباً آٹھ سال کا عرصہ اس شہر میں گزارنے کے بعد انہیں ایسا سننے کو ملا۔


انہوں نے لکھا ’ ہاں میں ایک اداکارہ ہوں، میں نا تو سگریٹ پیتی ہوں اور ناہی شراب نوشی کرتی ہوں اور ناہی میرا کوئی کرمنل ریکارڈ ہے‘۔انہوں نے سوال اٹھایا ’’پھر کس طرح وہ میرے پیشے کی بنیاد پر میرے کردار کو جانچ سکتے ہیں؟‘

شیریں مرزا نے لکھا ’میں غیر شادی شدہ ہوں اور جب میں اسٹیٹ ایجنٹس سے رابطہ کرتی ہوں تو وہ دستیاب فلیٹس کیلئے بہت زیادہ کرائے کا مطالبہ کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ زیادہ پیسے دو، ورنہ اس وقت تک فلیٹس نہیں مل سکتے جب تک تم غیر شادی شدہ ہو‘۔

انہوں نے مزید لکھا ’میرا سوال ہے کہ زحمت کا باعث تو فیملی والے افراد بھی بن سکتے ہیں؟‘

بھارتی اداکارہ کا مسلما ن ہونا جرم بن گیا

شیریں مرزا نے لکھا ’میں نے ایک اور شخص سے رابطہ کیا جس نے پوچھا کہ کیا میں ہندو ہوں یا مسلمان اور پھر جواب دیا کہ مسلمان ہماری ترجیح نہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ آپ یہ فلیٹ اپنے ایسے دوست کے نام پر حاصل کرسکتی ہیں جو ہندو ہو‘۔

اداکارہ نے سوال کیا ’نام سے کیا ہوتا ہے؟ خون میں تو کوئی فرق نہیں‘۔

انہوں نے طنز کرتے ہوئے کہا ’گھر کرایہ پر لینا یا خریدنا وہ بھی ایسے شہر میں جو کبھی نہیں سوتا۔ ممبئی جسے خود پر ناز ہے کہ یہاں ہندوستان کہ مختلف علاقوں کے لوگ آکر بستے ہیں مگر یہ شہر مذہب، پیشہ اور ازدواجی حیثیت کی بنیاد پر بٹا ہوا ہے؟ ‘

بھارتی اداکارہ کا مسلما ن ہونا جرم بن گیا

شیریں مرزا نے لکھا ’مجھے یہ دیکھ کر حیرت کا جھٹکا لگا کہ ممبئی جس نے مجھے اتنا کچھ دیا کہ میں اس کی تعریفیں کئے نہیں تھکتی تھی اور اسے ’آمچی ممبئی ‘ پکارا کرتی تھی، اس کے پاس ابھی تک میرے لئے اور میرے جیسے بہت سے ایسے افراد جو اپنی شناخت بنانے کی جدوجہد کرنے ملک کے دیگر شہروں سے یہاں آتے ہیں، ان کیلئے کوئی جگہ نہیں ہے‘۔

اداکارہ نے سوال اٹھاتے ہوئے کہا ’بہت زیادہ دکھ اور انکار کے بعد میرا سوال ہے کہ کیا میں اسی شہر سے تعلق رکھتی ہوں؟‘

شیریں مرزا نے ڈرامے میں ’سیمی‘ کا کردار ادا کیا ہے اور وہ ممبئی میں آٹھ سالوں سے رہ رہی رہیں۔ انہوں نے اپنی ایک تصویر بھی پوسٹ کی ہے جو اس وقت کی ہے جب وہ پہلی مرتبہ ممبئی آئی تھیں۔

چند سال قبل بالی ووڈ اسٹار عمران ہاشمی نے بھی الزام لگایا تھا کہ وہ باندرہ کے پوش علاقے میں فلیٹ خریدنا چاہتے تھے اور انہیں ہاؤسنگ سوسائٹی نے این او سی دینے سے صرف اس بنیاد پر انکار کردیا تھا کہ وہ مسلمان ہیں جبکہ دوسری جانب ہاؤسنگ سوسائٹی نے اس الزام کی تردید کی تھی۔

کچھ عرصہ بعد شبانہ اعظمی اور جاوید اختر نے بھی اسی طرح کا دعویٰ کیا تھا۔

شبانہ اعظمی کا کہنا تھا ’میں ممبئی میں فلیٹ خریدنا چاہتی تھی اور مجھے فلیٹ صرف اس لئے نہیں دیا گیا کیونکہ میں مسلمان ہوں اور میں نے یہی بات سیف علی خان کے بارے میں پڑھی تھی۔ اب، میرا مطلب ہے کہ اگر جاوید اختر اور شبانہ اعظمی ممبئی میں فلیٹ حاصل نہیں کرسکتے کیونکہ وہ مسلمان ہیں تو پھر ہم کس بارے میں بات کررہے ہیں؟‘


Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں