آپ آف لائن ہیں
جمعہ6؍ذوالقعدہ1439ھ 20؍ جولائی2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
گھر کو گرمی سے کیسے بچائیں 

ہمارے ہاں یعنی کراچی میں مارچ ختم ہوتا نہیں اور گرمی شروع ہو جاتی ہے۔ اپریل چل رہا ہے ، مئی کےمہینے میں تو چیل بھی اپنا گھونسلہ چھوڑ جاتی ہے۔ مئی کیلئے تو ایک شعر بھی موجود ہے کہ ’’ آن پہنچا ہے مئی کا مہینہ...بہا چوٹی سے ایڑی تک پسینہ‘‘ ۔ اور مئی میں آرہا ہے رمضان۔۔ تو پھر ہو جائیں تیار، گرمی کو ویلکم کہنے کیلئے۔۔ قصہ مختصر ، ہمارے ہاں گرمی اتنی گرم نہ لگے اگر لوڈ شیڈنگ نہ ہو، لیکن ہماری قسمت میں لوڈ شیڈنگ لکھ دی گئی ہے اس لیے گرمی کو جھیلنے کے بجائے کیوں نہ اس کے سد باب کا انتظام کیا جائے، اور اپنے گھر کو گرمی سے محفوظ بنایا جائے۔

کتنے ہی ایسے گھرانے ہیں، جہاںایئر کنڈیشنز نہیں ہوتے ، وہ صرف پنکھوں پر گزارہ کرتے ہیں تو ضروری یہ ہے کہ کچھ ایسے طریقے اپنائیں کہ گھر ٹھنڈا رکھنا ممکن ہو۔وہ طریقے کونسے ہیں،

سب سے بڑا مسئلہ چھت ہے۔ سورج کی ساری تپش چھت پر پڑرہی ہوتی ہے، جس وجہ سے گھر مسلسل گرم ہورہا ہوتا ہے۔ اس لیے سب سے پہلے چھت کو ٹھنڈا کرنے کی فکر کرنی چاہیے۔ اس مقصد کے حصول کے لیے گھر میں یا اگر ہوسکے ،تو چھت پرپودوں کا بندوبست کریں۔ اصل میں کھاد میں گرم ہوا کو جذب کرنے کی صلاحیت ہوتی ہے، یوں چھت بھی ٹھنڈی رہتی ہے اور گھر بھی۔ اس کے علاوہ جب بھی گھر میں رنگ کروائیں تو چھت پر سفید رنگ ہی کروائیں کیونکہ سفید رنگ میں بھی یہ خاصیت ہے کہ وہ گرمی کو اپنے اندر جذب کرلیتا ہے۔

گھر میں موجود پردے یا بلائنڈز کو دن میں بند رکھیں۔ کھلی کھڑکیوں سے گرم ہوائیں گھر میں داخل ہوتی ہیں جس کی وجہ سے گھر گرم ہوجاتا ہے۔ آپ سورج غروب ہونے کے بعد کھڑکیاں کھول سکتے ہیں تاکہ ٹھنڈی ہوائیں اندر آسکیں۔

گھروں میں ململ کی چادروں سے احتیاط کی جائے۔ کاٹن کی ہلکے رنگ کی چادریں استعمال کریں کیونکہ کپڑے اور رنگ سے بھی گرمیوں کا گہرا تعلق ہوتا ہے۔ ہلکے رنگ سے گرمی زیادہ پریشان نہیں کرتی۔

کوشش کریں کہ برقی آلات کا استعمال کم سے کم کریں اور اگر ضرورت زیادہ ہے تو استعمال کے فوری بعد بند کردیں کیونکہ ان آلات سے گرمی کا اخراج ہوتا ہے اور گرم موسم میں زیادہ پریشانی ہوتی ہے۔

صرف گھر کو ہی نہیں بلکہ اپنے جسم کو بھی ٹھنڈا رکھنے سے گرمی کا احساس کم ہوتا ہے۔ جب بھی گھر میں ہوں تو کوشش کریں کہ شربت یا ٹھنڈے پانی کا استعمال زیادہ سے زیادہ کریں۔

گھر میں ایسا نظام بنائیں کہ ہوا آر پار ہوسکے، پھر دن کے وقت ایگزاسٹ فین کے استعمال سے بھی گرمی کا زور ٹوٹ سکتا ہے۔

کیا آپ کے بچے فریج کھول کر ٹھنڈی ہوا کے حصول کے لیے اس کے پاس کھڑے ہوتے ہیں؟ اگر جواب ہاں میں ہے تو ان کو ایسا کرنے سے روکیں کیونکہ فریج کی مشین دروازہ کھلنے پر مزید تیزی سے کام کرتی ہے اور کمرہ مزید گرم ہوجاتا ہے۔

گھر میں تازہ پھول رکھیں کیونکہ پھول گھر کے ماحول کو خوشگوار کردیتے ہیں اور یوں کمرے بھی ٹھنڈے رہتے ہیں۔

خوابگاہ کو ٹھنڈا رکھنے کے طریقے

پنکھے صرف اسی وقت چلائیں جب اسکی ضرورت ہو ورنہ انجن کی گرمی سے کمرہ زیادہ گرم ہوسکتا ہے۔ اگر چھت کو پنکھا کافی نہ ہو تو پیڈسٹل پنکھا بھی ساتھ چلالیں۔ اور پھر بھی کام نہ بنے تو اسکے سامنے پانی سے بھری بالٹی رکھ لیں تاکہ ہوا جب گردش کرے تو ٹھنڈی ہو۔

ہ آپ ہر حال میں دن کے وقت تپش کو اندر مت آنے دیں۔ کھڑکیاں بند کردیں، ان پر پردے اور جھلمیاں(بلائنڈز) تان دیں۔ باہر کے حصے میں بھی اگر آپ نے سائے کے لئے کپڑے یا چھاتے کا بندوبست کیا ہوا ہے تو اسکو پھیلادیں تاکہ سورج کی تپش کم سے کم اندر آسکے۔ جب رات کا وقت آئیں تو اس بات کی ضرورت ہوتی ہے کہ تمام چھاتہ دار چیزوں کو ہٹا دیں۔ بلائنڈز ہٹادیں۔ 

پردے پیچھے کردیں، کھڑکیاں کھول دیں اور رات کی خنکی کو اندر آنے دیں۔ اگر آپکی خوابگاہ کے دونوں اطراف میں کھڑکیاں ہیں تو ان سب کو کھول دیں تاکہ ہوا کی آمد و رفت ہوتی رہے اور آپکی خوابگاہ میں ہوا کی ترسیل با آسانی ہوتی رہے۔

پردے اہم ہیں۔ اگر آپ کے گھر کی کھڑکیوں میں شٹر نہیں لگے تو پھر پتلے، کم وزن اور ہلکے رنگوں کے پردے استعمال کریں جیسا کہ سفید رنگ کے پردے۔ موٹے قالین اورگرم رنگ حرارت کو جذب کرتے ہیں اور کمرے کو گرم کر دیتے ہیں۔

رات کو کھڑکیاں کھولنے کا وقت ہوتا ہے۔ اگر آپ کے پردے بہت موٹے ہیں تو مچھر دانی لگا لیں تاکہ کیڑے مکوڑے سے آپ کا بچاؤ ہو سکے۔ کمرے کو جلد ٹھنڈا کرنے کے لئے کھڑکیاں کھولنے کے بعد صرف پانی میں گیلا کر کے فرش پو پونچھا لگالیں اور اگر کمرے کے سامنے کوئی برآمدہ ہے تو وہاں بھی۔ اس سے ایک دو ڈگری تک آپ کے گھر کا درجہِ حرارت گِر جائے گا۔

اگر یہ سب کرنے کو باوجود آپکی خوابگاہ یوںلگتی ہے جیسا کہ یہ گرم پانی سے غسل کا حمام ہو تو آپکو انتہائی اقدامات اُٹھانے ہونگے۔ اگر آپ مشترکہ خاندانی نظام میں نہیں رہتے یا کسی چھوٹے گھر میں رہتے ہیں تو گرمیوں میں گھر کے نچلے حصے کو اپنی آماجگاہ بنالیں۔ آپ کو بستر لانے کی ضرورت نہیں، آپ صوفے پر بھی سوسکتے ہیں۔ 

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں