• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
عاقب علی
عاقب علی | 29 اپریل ، 2018

عمران خان کا 11 نکاتی انتخابی ایجنڈے کا اعلان

پاکستانیوں کا دکھ دیکھ کر نئے پاکستان کا فیصلہ کیا،11 نکات پیش

تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان نے کہا ہے کہ خون کے آخری قطرے تک قوم کےلئے لڑوں گا،آج نئے پاکستان بنانے کےلئے 11 نکات پیش کروں گا۔

مینار پاکستان پر عوامی جلسے سے خطاب میں عمران خان نے کہا کہ میں نے آج نعرے نہیں لگوانے،کارکن اپنے کپتان جتنے صبر و تحمل کا مظاہرہ کریں۔

ان کا کہناتھا کہ پاکستان کے عوام کو میں نے جب بھی پکارا انہوں نے میری بات سنی،مجھے پیسے بھی دیے اور میری دعوت پر جلسوں میں بھی آئے،میں مختلف شہروں سے آنے والوں کو خوش آمدید کہتا ہوں۔

عمران خان نے جلسے کے شرکاء سے کہا کہ وہ خود سے سوال کریں کہ پاکستان کیوں بنا تھا؟ اور ساتھ ہی بتایا کہ موجودہ پاکستان ویسا نہیں جیسا قائداعظم محمد علی جناح اور علامہ محمد اقبال چاہتے تھے۔

پاکستانیوں کا دکھ دیکھ کر نئے پاکستان کا فیصلہ کیا،11 نکات پیش

انہوں نے مزید کہا کہ قائداعظم کی سوچ تھی کہ پاکستان کو ریاست مدینہ کی طرز پر بنایا جائے گا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ کی بنیاد انصاف پر رکھی تھی،بانی پاکستان چاہتے تھے کہ سب پاکستانی برابر کے شہری ہوں۔

پی ٹی آئی چیئرمین کا کہنا تھا کہ جب غریب اور طاقتور کے لئے الگ قانون ہو تو قومیں برباد ہوجاتی ہیں، 1990ء میں پاکستان تیزی سے ترقی کرنے والے ملکوں میں شامل تھا۔

انہوں نے کہا کہ 2008ء سے پہلے یعنیٰ 60 سال کی تاریخ میں پاکستان نے 6 ہزار ارب روپے کا قرضہ لیا تھا جو 2013ء تک 13 ہزار ارب روپے تک پہنچ گیا۔

پاکستانیوں کا دکھ دیکھ کر نئے پاکستان کا فیصلہ کیا،11 نکات پیش

عمران خان نے مزید کہا کہ 2013ء سے 2018ء تک 27 ہزار ارب تک قرضہ پہنچ گیا ہے، ہم تباہی کی طرف جارہے ہیں، ہم قرضے واپس کرنے کیلئے قرضے لے رہے ہیں، مہنگائی کرکے یہ قرضہ پاکستانیوں سے لیا جائے گا۔

پی ٹی آئی چیئرمین نے یہ بھی کہا کہ مقروض ملک آزادی کھوبیٹھتا ہے، قرض دینے والا ملک آپ کو حکم دیتا ہے، فتح کیے بغیر وہ ملک آپ کو غلام بنادیتا ہے۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ دنیا میں نائیجریا کے بعد پاکستان وہ ملک ہے جہاں سے سب سے زیادہ بچے اسکولوں سے باہر ہیں،آسٹریلیا کی کل آبادی سے زائد بچے ہیں جو تعلیم سے دور ہیں۔

پاکستانیوں کا دکھ دیکھ کر نئے پاکستان کا فیصلہ کیا،11 نکات پیش

اس دوران عمران خان نے شوکت خانم کینسر اسپتال،نمل یونیورسٹی اور تحریک انصاف کےلئے سیاسی جدوجہد کے مراحل پر گفتگو کی۔

انہوں نے مزید کہا کہ ن لیگ کہتی ہے میں لاڈلہ ہوں ہاں میں اپنی ماں لاڈلہ ہوں، جب میری والدہ کینسر کی مریضہ بنیں تو مجھے پتا چلا کہ پورے پاکستان میں کینسر کا اسپتال نہیں،اس دوران میں شوکت خانم اسپتال ہوتا تو میری ماں کا علاج یہاں ہوجاتا، مجھے اپنی والدہ کو انگلینڈ لے جانا پڑا۔

انہوں نے مزید کہا کہ والدہ کے علاج کے دوران ایک غریب مزدور کو اپنے بھائی کا کینسر کا علاج کراتے دیکھ کر فیصلہ کیا کہ غریبوں کےلئے کینسر کا اسپتال بنائوں گا جہاں غریبوں کا مفت علاج ہوگا، جس کے بعد دنیا بھر میں پاکستانیوں سے فنڈز جمع کئے۔

پاکستانیوں کا دکھ دیکھ کر نئے پاکستان کا فیصلہ کیا،11 نکات پیش

عمران خان کے 11 نکات

دوران تقریر پی ٹی آئی چیئرمین نے 11 نکات پر مبنی سیاسی منشور پیش کیا۔

تعلیم

جلسے کے شرکاء کو بتایا کہ اس فہرست میں پہلے نمبر پر تعلیم ہے، تعلیم ہی کے ذریعے تمام ایشین ٹائیگرز نے ترقی کی،پنجاب حکومت نے 330 ارب روپے لاہور پر خرچ کئے لیکن ایک تعلیمی ادارہ نہیں بنایا۔

ہم ملک میں تعلیم کا نیا اور یکساں نصاب بنائیں گے،سرکاری تعلیمی اداروں میں ساڑھے 3 کروڑ 50 لاکھ بچے،25 لاکھ مدارس اور 8 لاکھ انگریزی میڈیم میں سے تعلیم حاصل کررہے ہیں، تعلیمی تفریق ختم کریں گے۔

پرویز خٹک ہری پور میں انجیئنرنگ یونیورسٹی بنانے رہے ہیں۔

صحت

عمران خان نے دوسرا نکتہ صحت کو قرار دیا اور کہا کہ میں پاکستان کے صحت کے نظام کو درست کروں گا جب میں اقتدار میں نہ ہوتے ہوئے بھی شوکت خانم کینسر اسپتال بناسکتا ہوں تو حکومت میں آکر یقینی طور پر ایسے اسپتال بنائوں گا جس میں غریبوں کا مفت علاج ہوگا، انہیں ملک سے باہر علاج کے لئے نہیں جانا پڑے گا۔

قوم سے پیسے جمع کروں گا

تیسرے نکتے کے حوالے سے عمران خان نے کہا کہ آج قرض میں جکڑی ہوئی قوم ہیں، میں قوم سے پیسہ جمع کرکے دکھائوں گا، پاکستانیوں کا اعتماد جیسے حاصل ہوجائے اور وہ سمجھ جائیں کہ یہ کام درست ہے تو پیسے لگانے کےلئے تیار ہوجاتے ہیں۔

کرپشن کا خاتمہ

کرپشن کے خاتمے کے نکتے پر انہوں نے کہا کہ نیب،عدالتوں اور دیگر اداروں کو مضبوط کروں گا، کرپٹ عناصر کو پکڑوں گا،ہم نے 20 اراکین اسمبلی کو نکال دیا ہے کیونکہ ہمارے پاس ان کی کرپشن کے ویڈیو ثبوت تھے۔

احستاب کا نظام مضبوط کریں گے، منی لانڈرنگ کو روکیں گے اور بیرون ملک سے پیسہ واپس لائیں گے اور تعلیم پر خرچ کریں گے۔

سرمایہ کاری

پانچویں نکتے پر حوالے سے عمران خان نے کہا کہ ہم سرمایہ کاری لے کر آئیں گے، بجلی اور گیس پر ٹیکس کی شرح کم کریں گے، سرمایہ کاری کی راہ میں حائل رکاوٹیں دور کریں گے، سرمایہ کاری ہوگی تو بیروزگاری کم ہوجائے گی۔

روزگار

پی ٹی آئی چیئرمین نے چھٹے نمبر روزگار کو رکھا اور کہا کہ انہوں نے پلان بنالیا ہے، اقتدار میں آکر ملک میں 50 لاکھ نئے گھر بنائیں گے، تعمیرات سے جڑے تمام صنعتیں بحال ہوگی تو روزگار میں اضافہ ہوگا اس حوالے سے ٹیکنیکل تعلیم بھی دیں گے۔

سیاحت کا فروغ

انہوں نے بتایا کہ ان کے 11 نکات میں 7 ویں نمبر سیاحت ہے،اللہ نے پاکستان کو خوبصورت ملک بنایا ہے اور سب سے آسان کام سیاحت میں روزگار نکالنا ہے، ہر سال 4 نئے مقامات کھولیں گے اور ملک کو سیاحوں کےلئے مرکز بنائیں گے۔

زراعت کی ترقی

عمران خان نے آٹھویں نمبر پر زراعت کے شعبے میں اصلاحات کو بیان کیا اور کہا کہ کسان کی کسی کو فکر نہیں، وہ پورے سال محنت کرتے ہیں،انہیں آسان قرضہ دیں گے،سستے نرخ پر بیج فراہم کریں گے، ٹیوب ویلز دیں گے جدید فارمنگ اپنانے پر زور دیں گے اور اس شعبے کو نقصان پہنچانے والے خاص طور پر شوگر مل مافیا نے سے نمٹیں گے۔

مضبوط وفاق

پی ٹی آئی چیئرمین نے 9 ویں نکتے کے حوالے سے بتایا کہ ہم وفاق کو مضبوط کریں گے، سارے صوبوں کو حقوق دینگے،جنوبی پنجاب کو انتظامی سطح پر صوبہ بنائینگے، فاٹا کو کے پی میں فوری طور پر ضم کردیں گے، فاٹا میں جو نقصانات ہوئے ہیں وہ پورے کریں گے اور زیادہ سے زیادہ ترقیاتی فنڈز دیں، سارے پاکستان میں بلدیاتی نظام لائینگے اور میئر کا انتخاب بھی براہ راست ہوگا اور فنڈ اراکین اسمبلی کے بجائے ان نمائندوں کو دیں گے۔

ماحولیات

پی ٹی آئی چیئرمین کا  10واں نکتہ ماحولیات کے حوالے بتایا اور کہاکہ ماحولیات کی بہتری اور آلودگی کے خاتمے لئے کام کریںگے ،دریائوں کو صاف کرنے کے منصوبے بنائیں گے۔

پولیس اور شعبہ انصاف میں اصلاحات

انہوں نے اگلے نمبر پر پولیس اور شعبہ انصاف میں اصلاحات پر بات کی اور کہا کہ پولیس کے شعبے میں اصلاحات لائیں اور اسے غیر سیاسی کریں گے اور وہ دن بھی آئے گا جب لوگ پنجاب پولیس زندہ باد کا نعرہ لگائیں گے، کے پی میں چیف جسٹس کے ساتھ مل کر فیصلہ کیا ہے کہ سول کیس ایک سال سے زیادہ نہیں جائے گا، کے پی میں ریٹائرڈ جج، فوجی اور بیوروکریٹ بیٹھ کر فوری فیصلے کرتے ہیں وہی نظام پورے پاکستان میں لائیں گے۔

خواتین کی فلاح و بہبود

عمران خان نے اپنا آخری نکتہ پیش کرتے ہوئے کہا کہ خواتیں کے لئے تعلیم کو یقینی بنائیں گے،پڑھی لکھی ماں سے سارا گھر پڑھا لکھا ہوتا ہے،نئے 3 میں2 اسکول بچیوں کےلئے ہونگے،نئے 100 میں سے 70 کالج لڑکیوں کےلئے ہوں گے، عورتوں کو قانونی تحفظ دینا ہے جس کیلئے ہم نے کے پی میں خواتین کے پولیس اسٹیشن کھولے ہیں اسی طرح پولیس اسٹیشن بنائینگے اور قانون کے ذریعے خواتین کو جائیداد کے اندر حق دلائیں گے۔