آپ آف لائن ہیں
جمعہ 10؍محرم الحرام 1440ھ 21؍ستمبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

کیا کبھی ہم نے سوچا ہے کہ آج جس بڑی کرسی پر بیٹھنے کے قابل ہوئے یا معاشرے میں ہمیں جو مقامِ عزت حاصل ہے، وہ اللہ کے فضل ، ماں باپ کی دعائوں کے بعد اساتذہ کی انتھک محنت اور کوششوں سے ممکن ہوا ہےجسے دنیا بھر میں سب سے زیادہ عزت اور احترام کا درجہ دیا جاتا ہے۔ لیکن افسوس ہمارے ملک میں اساتذہ اکثر سڑکوں پر احتجاج کرتے اور دھرنے دیتے نظر آتے ہیں۔ آخر وہ کونسے ایسے عوامل ہیں جن کی وجہ سے مجبوراًسڑکوں پر نکلنا پڑتا ہے۔ انکا سڑکوں پر اسطرح نکلنا کیا ہمارے اخلاقی اور معاشرتی دیوالیہ پن کا مظہر نہیں ، گزشتہ ہفتے پنجاب پروفیسرز اینڈ لیکچررز ایسوسی ایشن نے لاہور سول سیکریٹریٹ کے باہر دھرنا دیا، جس میں پنجاب بھر کے کالج اساتذہ کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ گو دو دن بعد مطالبات کی منظوری کے لالی پاپ ملنے کے بعد پروفیسرز نے یہ دھرنا موخر کر دیا، لیکن جب آپ ان جائز ترین مطالبات کی تفصیلات جانتے ہیں تو شرمساری ہوتی ہے کہ یہ تو انکا قانونی حق ہے مگر بیوروکریسی کے امتیازی سلوک اور سرخ فیتے کیوجہ سے انہیں نہیں دیئے جاتے ۔ یہ ’’ بابو‘‘ بے کار قسم کی نت نئی رکاوٹیں کھڑی کر کے شاید خادم اعلیٰ کو اپنی وفاداری کا ثبوت فراہم کرنے کیلئے یہ یقین دلانے کی کوششیں کرتے ہیں کہ وہ تعلیمی نظام میں بہتری لارہے ہیں حالانکہ وہ ایسے

اقدامات سے تعلیمی نظام کو تباہی کے دہانے کی طرف لے جارہے ہیں۔ مثال کے طور پر اتفاقیہ چھٹی کے حصول کیلئے ایجوکیشن کوڈ ہے ، رولز کے مطابق سرکاری آفیسر کو اگر چھٹی حاصل کرنی ہے تو وہ درخواست دیگا اگر درخواست نہیں دے سکا اور ایمرجنسی ہے تو بعد میں درخواست دی جا سکتی ہے۔ مگر افسوس کہ ہائرایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ نے ایک آرڈر کے ذریعے اتفافیہ چھٹی بند کر دی اور یہ حکم بھی جاری ہوا کہ اگر کوئی ملازم چھٹی پر جانا چاہتا ہے خواہ وہ بیمار ہو پہلے اسکی منظوری لے اور اسطرح کالجوں کے پرنسپلز نے تحریری طور پر بیماری کی چھٹیوں کو بھی مسترد کردیا ۔ اب اگر پرفیسرز کا یہ مطالبہ ہے کہ رولز کے مطابق انہیں چھٹی کی اجازت ہونی چاہئے تو یہ کونسا جرم ہے۔
محکمہ تعلیم میں پرموشن کے بڑے نرالے اصول اپنا لئے گئے ہیں حالانکہ ضابطہ میں ایسا نہیں ، گریڈ 17سے 18میں بائیس ، بائیس سال ترقی نہیں ہوتی ، ترقی کیلئے کوئی ریگولربورڈ نہیںبیٹھتا ،جب افسر شاہی چاہتی ہے اسکاانعقاد کرواتی ہے۔ اے سی آر جو سالانہ خفیہ رپورٹ ہوتی ہے۔ اسکو مکمل کروانا محکمہ کی ذمہ داری ہے لیکن اساتذہ کو انکی بھول بھلیوں میں گم کر دیا جاتاہے، پھر ایک معمولی سا اعتراض لگا کر کیس ڈیفر کر دیا جاتا ہے اور وہ کئی سال انتظار میں بیٹھا رہتا ہے۔ پروفیسرز ایسوسی ایشن کا مطالبہ ہے کہ روٹین میں محکمانہ پرموشن کمیٹی کا اجلاس ہونا چاہئے اور اجلاس کے بعد پرموشن کیس تین ہفتے میں مکمل ہوجانے چاہئیں جبکہ وہ لیکچراز جنکی پرموشن پندرہ سے 22برس نہیں ہوئی اُنکی ریٹائرمنٹ کے وقت ایک گریڈ کمپنسیڑی اپ گریڈیشن ہونی چاہئے ۔ جسطرح دوسرے محکموں میں ہے جبکہ چار درجاتی فارمولا کے تحت اگلے گریڈ میں پرموشن سات سے آٹھ سال کے اندر ہوجانی چاہئے ۔ پرموشن کیلئے متعلقہ آفیسر کی محکمہ اینٹی کرپشن کی رپورٹ لازمی ہے لیکن رپوٹ آنے میں بعض اوقات چھ مہینے سے ایک سال لگ جاتا ہے ۔ اسلئے محکمہ کو پابند کرنا چاہئے کہ زیادہ سے زیادہ ایک مہینے میں رپورٹ دے اگر یہ رپورٹ مہینے میں نہیںآتی تو پھر کیس کلیئر ہو کر پرموشن کمیٹی میں چلا جانا چاہئے۔ ایسے پروفیسرز جو ایم فل یا پی ایچ ڈی ہوں انکی ڈائریکٹ سلیکشن کے بعد محکمہ نے انکے کوالیفکیشن الائونس بند کر دیئے ہیں جبکہ پہلے یہ ملتے تھے ،اسلئے انہیں یہ الائونس ملنے چاہیں ۔ محکمہ تعلیم کے ضابطہ کے مطابق تعلیمی بورڈز کے چیئرمین صرف پروفیسرز ہی تعینات ہو سکتے ہیں مگر افسر شاہی نے اس پر بھی قبضہ کرنے کی کوشش کی ، اسوقت پنجاب کے 9بورڈز میں سے 7کے چیئرمین ہی نہیں، اسلئے فوری طور پر صرف ٹیچنگ ا سٹاف کو ہی تعینات کیا جائے اور کم سے کم وقت میں مستقل بنیادوں پر خالی سیٹیں پُرکی جائیں ۔
ایک اور اہم مسئلہ یہ ہے کہ پورے پنجاب کے کالجوں میں کس کس مضمون اور ا سکیل کی کتنی آسامیاں خالی ہیں اسکا پتہ چلانا اسوقت تک ممکن نہیں جب تک مضامین کی ضرورت کے مطابق کیڈرری فکسیشن نہ ہو، اسلئے فوری طور پر ری فکسیشن ہونی چاہئے۔پھر یہ تمام آسامیاں مستقل بنیادوں پر پُر کرنی چاہئیں۔ اسوقت میل کالجوںمیں انکی خالی نشستوں پر فی میل ٹیچرز کو دھڑا دھڑ تعینات کیا جارہاہے ۔ جس سے ایک طرف پڑھے لکھے نوجوانوں میں بیروز گاری بڑھ رہی ہے جبکہ میل ٹیچرز میں شدید بے چینی ہے۔ اسلئے واضح پالیسی اپنانی چاہئے ۔ اگر فی میل کو میل کالجوں میں ٹرانسفر کیا جانا ہے تو پھر میل ، فی میل کیڈر کو ضم کر دینا چاہئے، 2002ء، 2005ء اور 2009ء میں جو لیکچرار کنٹریکٹ کی بنیاد پر بھرتی ہوئے تھے ان کو دو سے دس لاکھ روپے کی ریکوری ڈال دی گئی ہے ۔ انہیں پے پروٹیکشن دی جائے اور پرسنل پے کو تنخواہ کا حصہ بنانا چاہئے ،گو محکمہ خزانہ نے ہائیکورٹ کے فیصلے کے بعد کچھ پیش قدمی دکھائی ہے ، پروفیسرز ایسوسی ایشن کا ایک اور اہم ترین مطالبہ تھا کہ گزشتہ چند مہینوں میں ریشنل لائزیشن کے نام پر چھ سو سے زائد ٹیچرز کو دور دراز علاقوں میں ٹرانسفر کر دیا گیا ہے اس سے ایک تو بڑے کالجوں میں رش ہو گیا ہے اور بعض مضامین میں سنگل ٹیچرز تھے انہیں بھی ٹرانسفر کر کے پورے پنجاب کے کالجوں میں ہراسگی پھیلادی گئی ہے ۔ مبینہ طور پر ایک سابق خاتون ایڈیشنل سیکرٹری پر پیسے لیکر ٹرانسفر کرنے کے الزامات بھی ہیں ۔ یہ ایک ایسا مسئلہ ہے جسکی طرف بڑی سنجیدگی سے توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ اسمیں کوئی شک نہیں کہ بعض مضامین میں اسٹودنٹس کی تعداد کم ہے اور وہ کالجوں جہاں بی ایس پروگرام شروع کیا گیا ہے وہاں پنجابی، عربی ، فارسی ، تاریخ ، سیاسیات وغیرہ ایسے مضامین ہیں جن کے ٹیچرز سرپلس ہوگئے ہیں لیکن انکو وہاں سے ٹرانسفر کرنیکی بجائے مستقبل کو مدنظر رکھتے ہوئے ورکنگ کرنی چاہئے چونکہ کالج اساتذہ کی تقرری اسکول ٹیچرز کی طر ح نہیں ہوتی بلکہ ہر مضمون کا خصوصی ٹیچرہوتا ہے جیسا کہ عربی کا ٹیچر فزکس نہیں پڑھا سکتا اور کیمسٹری کا ٹیچر ریاضی نہیں ،اسلئے اگر ایک مضمون میں دس طالبعلم بھی ہیں تو وہ ایک کلاس گنی جائیگی ناکہ ا سکول کا فارمولا اپلائی کیاجائے کالج ٹیچرز کیلئے ملٹی فارمولے کے تحت ریشنل لائزیشن کے بعد اگر سرپلس ٹیچنگ اسٹاف ہے تو انہیں متعلقہ اضلاع میں ٹرانسفر کرنا چاہئے اور پھر جب کبھی اس کالج میں زیادہ داخلوں کیوجہ سے متعلقہ مضمون کے ٹیچر کی ضرورت ہوتو پہلی ترجیح صرف وہی ٹیچر ہونا چاہئے جو یہاں سے ٹرانسفر ہوا تھا ۔یہ وہ تمام جائز مطالبات ہیں جن کو لیکر کالج اساتذہ دھرنا دینے پر مجبور ہوئے گو سیکریٹری ایجوکیشن نے 19اپریل 2018ء کو پی پی ایل اے کے صدر حافظ عبدالخالق ندیم، پروفیسر توصیف صادق اور دیگر عہدیداروں کیساتھ میٹنگ میں ان مطالبات پر تفصیلاً گفتگو کے بعد اصولی طور پر اتفاق کرتے ہوئے منٹس بھی جاری کئے ہیں اور یہ کہا کہ ان سب پر تین ہفتوں کے اندر مکمل عملدرآمد ہوگا۔اسمیں کوئی شک نہیں کہ سیکریٹری ایجوکیشن نے یقین دہانی کرائی ہے کہ وہ ذاتی دلچسپی لے کر اتفاق شدہ نکات پر عمل درآمد کروائینگے—اب دو ہفتے گزر چکے ہیں ، ایک ہفتہ باقی ہے ، امید ہے کہ وہ ذمہ داری کا احساس کرتے ہوئے اساتذہ کی عزت و احترام میں اضافہ کرینگے اور اب ایسی نوبت نہیں آئیگی کہ محترم اساتذہ اپنے جائز قانونی حقوق کیلئے پھر سڑکوں پر نکلنے پر مجبور ہو !
(کالم نگار کے نام کیساتھ ایس ایم ایس اور واٹس ایپ رائےدیں00923004647998)

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں