آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
ہفتہ 8 ؍ربیع الاوّل 1440ھ 17؍نومبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ملک کی سیاست میں اکھاڑپچھاڑ کے بعد اب سیاسی گرمی میں اضافہ ہورہا ہے، سابق وزیراعظم اور مسلم لیگ (ن) کے صدر تاحیات نااہل قرار پائے، کراچی میں ایم کیو ایم کئی دھڑوں میں تقسیم ہو کر اپنا مقام کھو رہی ہے، خیبرپختونخوا میں جماعت اسلامی اور پی ٹی آئی کے راستے جدا ہوگئے ہیں، اگرچہ حکومت برقرار رکھنے میں وہ پی ٹی آئی کا ساتھ دے گی، بلوچستان میں پہلے ہی تبدیلی آ چکی ہے اور وہاں سے سینیٹ کے چیئرمین کو منتخب کرلیا گیا ہےجبکہ راجہ ظفر الحق جیسی سینئر اور تجربہ کار شخصیت ہار گئی۔ اس کے علاوہ جنوبی پنجاب میں الگ الگ دو تحریکیں شروع ہوگئی ہیں ایک صوبہ بہاولپور اور دوسری جنوبی پنجاب کے صوبہ کے قیام کی، مسلم لیگ (ن) سے جنوبی پنجاب کے کئی ارکان صوبائی و قومی اسمبلی نکل گئے ہیں، پنجاب میں آصف علی زرداری نے ڈیرہ ڈالا ہوا ہے اور وہ بھی جلسے و جلوس کررہے ہیں۔ کراچی میں پیپلزپارٹی اپنی جگہ بنانے کے لئے ایم کیو ایم کے انتہائی مرکزی علاقہ میں جلسہ کرچکی ہے جس میں پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کراچی کے لوگوں کو پیپلزپارٹی میں شامل ہونے کی دعوت دی اور کراچی کو بدلنے کا وعدہ کیا۔ مسلم لیگ (ن) کے نئے صدر میاں شہباز شریف نے حال ہی میں کراچی کے دو دورے کئے اور کراچی کو نیویارک بنانے کا وعدہ کیا۔ جو اگرچہ

ایک غلط مثال تھی کہ کراچی نیویارک سے دس گنا پُرامن شہر ہے، اب ایسے وعدے تو الیکشن کی مہم کے دوران کئے جاتے ہیں، ہم اِس کو الیکشن مہم کا حصہ قرار دے سکتے ہیں، بٹی ہوئی ایم کیو ایم بھی یکجا ہونے کی کوشش کررہی ہے۔
تاہم سیاست میں گرمی پیدا اس وجہ سے ہورہی ہے کہ میاں محمد نواز شریف نااہل قرار دیئے جانے کے بعد سخت مزاحمت کررہے ہیں، اُن کے بیانات اداروں کو نشانہ بنا رہے ہیں، اُن کا سخت ترین بیان جمعرات 3 مئی 2018ء کو آیا جب وہ احتساب عدالت میں پیشی کے دوران صحافیوں سے گفتگو کررہے تھے، ’’سینے میں بہت راز ہیں اُن کے افشا ہونے سے پہلے سدھر جائیں‘‘ یا یہ کہ ’’خلائی مخلوق مرضی کی پارلیمنٹ لانا چاہتی ہے، ریاست کے تین ستونوں میں سے ایک پر اُن کا قبضہ ہوچکا ہے‘‘۔ اُن کا یہ بیانیہ انتہائی سخت ہے، اس کے جواب میں عمران خان نے جیو کے میزبان حامد میر کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ نواز شریف 2013ء میں فوج کی مدد سے جیتے۔ انہوں نے مزید کہا کہ وہ نہیں بلکہ نواز شریف لاڈلے رہے ہیں، ساتھ ساتھ یہ بھی کہا کہ انتخابات زیادہ سے زیادہ ڈیڑھ ماہ کے لئے ملتوی ہوں گے، اگرچہ ایسی ہی خبر ہمارے پاس بھی ہے کہ انتظامی تیاریوں کی وجہ سے انتخابات ایک سے ڈیڑھ ماہ تاخیر سے ہوسکتے ہیں۔ آصف علی زرداری اس پر یہ کہہ رہے ہیں کہ ملک کو کھوکھلا کرکے نواز شریف اداروں کو آنکھیں دکھا رہے ہیں، انہوں نے خیبرپختونخوا کے عوام کو خوشخبری دینے کا اعلان کیا، شاید وہاں سے کئی اہم اور ایسے لوگ جن کا اپنا حلقہ انتخاب ہے، وہ پی پی پی میں شامل ہونے والے ہیں۔ لیکن اس صورتِ حال میں نواز شریف کا بیان کافی ہیجان پیدا کرسکتا ہے اور آمنے سامنے کے تصادم کی اطلاع دیتا ہے، جو کوئی اچھی بات نہیں ہوگی۔
سپریم کورٹ آف پاکستان متحرک ہوگئی ہے اور سیاست میں کرپشن کو روکنے کی کوشش کررہی ہے۔ میاں نواز شریف کا یہ مسئلہ رہا ہے کہ وہ اداروں کو اس طرح اپنے کنٹرول میں دیکھنا چاہتے ہیں جیسے بیورو کریسی یا پولیس وہاں پر تاحال اس کی مزاحمت ہے، بہرحال یہ صورت کافی خراب ہے اور اگر ہاکی کے کھیل کی بات کی جائے تو وہ گول کے قریب ’’ڈی‘‘ میں کھیل کھیلا جارہا ہے اور کسی وقت کوئی سانحہ ہوسکتا ہے، مارشل لاء کا تو تاحال امکان نظرنہیں آتا، امریکہ نے 3؍مئی 2018ء کو ایک بیان میں جمہوریت کے تسلسل پر زور دیا ہے، اگرچہ امریکہ کا پاکستان میں وہ اثرورسوخ نہیں رہا جو پہلے تھا۔ دہشت گردی کے واقعات بڑھ رہے ہیں اور خاص خاص مقامات اور خاص لوگوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہےتا کہ عدم استحکام پیدا ہوا، اسکے علاوہ پاکستان میں کرپشن کا ناسور ہر شعبہ زندگی میں در آیا ہے، لوگوں کی زندگی اجیرن ہوگئی ہے۔ سیاستدان اور بیورو کریٹس گرفتار ہو رہے ہیں مگر کرپشن زوروشور کے ساتھ جاری ہے، اس کو جب تک ختم نہیں کیا جائے گا ریاستی ہیکل اساسی کمزور ہوتا چلا جائے گا۔ دوسرے پاکستان کے عوام کو گرمی میں بجلی کی عدم فراہمی مزید سنگینی پیدا کررہی ہے۔ کراچی الیکٹرک کو زیادہ سے زیادہ مراعات دیئے جانے کے باوجود،بجلی کی آنکھ مچولی ختم ہو کر نہیں دے رہی ،یہ صورتحال کسی وقت بھی آتش فشاں کی شکل اختیار کرسکتی ہے اور کراچی کے عوام کو یہ بھی شکوہ ہے کہ مردم شماری میں اُن کے شہر کے ایک کروڑ عوام غائب کردیئے گئے۔ ہمیشہ سے 25 فیصد آبادی کم کی جاتی رہی ہے اور اس دفعہ 35 سے 40فیصد آبادی کم کردی ہے، پھر وہاں عوامی نمائندگی سے محرومی کسی وقت بھی اثر دکھا سکتی ہے۔اسکے علاوہ ایک پشتون تحریک اٹھ کھڑی ہوئی ہے جو یینون پلان یا کرنل پیٹر رالف منصوبہ کا حصہ ہے اور اس پر ہم انہی کالموں میں لکھ چکے ہیں کہ صوبہ خیبرپختونخوا اور گلگت بلتستان افغانستان کا حصہ دکھا گیا ہے۔ وہ علیحدگی کی بات کررہی ہے اگرچہ پاکستان پشتونوں کا سب سے بڑا حمایتی ہے، پاکستانی حکام نے امریکی سینٹ کام کے سربراہ جنرل جوزف ووٹل کو صاف صاف کہہ دیا ہے کہ افغان طالبان کے خلاف جنگ نہیں کرسکتے اس لئے ایک تو وہ ہمارے خلاف جنگ نہیں کررہے دوسرے وہ افغانیوں کی 43 فیصد آبادی سے جنگ نہیں کرسکتے ہیں، وہ ایک قوم ہے البتہ امریکہ کی مدد صرف اس طرح کی جاسکتی ہے کہ افغان طالبان کو پاکستان اپنا اثرورسوخ استعمال کرکے مزاکرات کی میز پر بٹھا دے اور امریکہ اور افغانستان اُنکو حکومت میں مناسب جگہ دیکر رام کرسکتے ہیں، جس کو جنرل جوزف ووٹل نے تو مان لیا مگر سی آئی اے اپنا کام کررہی ہے اور اپنے منصوبے کو عملی جامہ پہنانے میں لگی ہوئی ہے اور شام میں روسی اور ایرانی افواج سے شکست کھائی ہوئی داعش کو افغانستان میں جمع کیا ہے تاکہ کسی وقت وہ پاکستان میں گھس کر گڑبڑ پھیلا سکیں۔ بدخشاں کے صوبہ کے بارے میں یہ کہا جارہا ہے کہ طالبان نے قبضہ کرلیا ہے مگر دراصل وہ داعش نے قبضہ کیا ہے بدخشاں چترال سے ملحق ہے، یہ کہنا حق بجانب ہے کہ پاکستان کیلئے مشکلات بڑھ رہی ہیں ، اندرونی اور بیرونی صورتِ حال کو معمول پر لانے کیلئے انتہائی تدبر، تحمل اور اعلیٰ درجے کی صلاحیت کی ضرورت ہے، اربابِ حکومت کو موجودہ بے یقینی کی کیفیت ختم کرنے کیلئے اقدامات کرنا چاہئے۔
(کالم نگار کے نام کیساتھ ایس ایم ایس اور واٹس ایپ رائےدیں00923004647998)

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں