آپ آف لائن ہیں
منگل7؍ محرم الحرام 1440 ھ18؍ستمبر 2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

پاکستان میں موسمیاتی گرمی کی شدت کے ساتھ ساتھ انتخابی سیاست کی گرمی میں بھی اضافہ ہورہا ہے۔ لیکن وفاقی وزیر داخلہ احسن اقبال پر قاتلانہ حملے کا واقعہ ان دونوں طرز کی شدت سے علیحدہ ان رجحانات اور خطرات کی نشاندہی کررہا ہے جو انتخابی گہما گہمی اور سیاسی مخالفتوں کے ماحول کے دوران پاکستانی قوم کو مزید مصائب و مسائل سے دوچارکرسکتا ہے۔ یہ بھی ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ خطے کی صورتحال، علاقائی اور گلوبل اسٹرٹیجی کے منصوبہ سازوں کی علاقائی و عالمی ضروریات کا ایجنڈا بھی کچھ اپنے تقاضے اور مفادات پورا کرنے کی بھرپور کوشش کرتا ہے۔ 2016ء کے امریکی انتخابات میں روسی مداخلت اور صدر ٹرمپ اور ان کے حامیوں کی روسیوں سے ملاقاتیں اور روسی ہیکروں کی اس مداخلت کے اثرات کے بارے میں جاری امریکی تحقیقات ابھی تک امریکہ جیسے مضبوط، جدید اور وسائل کے حامل جمہوری ملک کی قومی سیاست کا اہم ترین معاملہ بنی ہوئی ہے۔ امریکی انتخابات میں روسی مداخلت نے ٹرمپ کی صدارتی جیت کو بھی متنازع بنا رکھا ہے اور تحقیقات نے امریکی قوم کو تقسیم کرنے کے علاوہ صدر ٹرمپ کے بارے میں متعدد دیگر اسکینڈلز کے باب بھی کھول دئیے ہیں۔ امریکی تحقیقاتی اداروں نے تو امریکی الیکشن میں روس کی مداخلت کی تصدیق بھی کر رکھی ہے۔ اب صرف اس مداخلت کے ذمہ دار

امریکیوں، انتخابات پر اثرات کی نوعیت اور حقائق کی تفصیلی چھان بین کا کام جاری ہے صدر ٹرمپ اس تحقیقات کو ختم دیکھنا چاہتے ہیں لیکن اختیارات کے توازن جسے ’’چیک اینڈ بیلنس‘‘ کا نام دیا جاتا ہے ٹرمپ اس کے ہاتھوں مجبور ہیں۔ انتخابات میں روسی ہیکروں کی مداخلت کے بعد دنیا بھر کی سوچ میں ایک کھلبلی مچی ہوئی ہے کہ ان کا انتخابی نظام نئی ٹیکنالوجی کے دور میں غیرملکی مداخلت سے کتنا محفوظ ہے اور کس طرح مزید محفوظ بنایا جاسکتا ہے؟
ہمارے پاکستان میں بھی انتخابات کی آمد آمد ہے۔ انتخابی مہم نہ صرف جاری ہے بلکہ شدت کے ساتھ الزامی سیاست نے عوام کو پریشانی اور غیریقینی صورت حال اور ماحول کو کشیدگی سے بھر رکھا ہے۔ یوں بھی ماضی کے انتخابات کی ہماری تاریخ خاصی مایوس کن ہے۔ ماضی کے کوئی بھی انتخابات آزادانہ اور غیرجانبدارانہ انتخاب نہ کہلا سکے۔ جیتنے والوں نے اسے عوامی مینڈیٹ کا نام دیا تو ہارنے والوں نے اسے دھاندلی کے الیکشن قرار دیا۔ اگر یحییٰ خان دور کے انتخابات کو شفاف الیکشن گن بھی لیں تو ان انتخابات کے بعد مشرقی پاکستان کو بنگلہ دیش بننے کی قیمت ادا کرنا پڑی۔ مختصر یہ کہ پاکستان ڈکٹیٹر شپ اور جمہوریت کے مرحلہ سے گزرا لیکن الیکشن کے نظام کو شفاف غیرجانبدار بنانے کی جانب کسی بھی حکمراں یا اپوزیشن نے توجہ نہیں دی کیونکہ ہر فریق انتخابی نظام کی کمزوریوں کو اپنے فائدے اور جیت کے لئے استعمال کرنے کی کوشش کرنے کا عادی رہا۔ جیت گئے تو جمہوری مینڈیٹ ،ہار گئے تو دھاندلی کہہ کر مطمئن ہو رہنے کا رواج رہا۔ آج کی جدید ٹیکنالوجی کے دور میں بھی ہمارے انتخابی نظام کا میکنزم، ضابطے اور عملی انتظامات کی خامیاں اور غیرتعلیم یافتہ ووٹروں کا شعور اور انتخابی ضابطے بھی اس کے نتائج کو غیرشفاف، جانبداری اور دھاندلی کا روپ دے ڈالتے ہیں۔ ہم تو ابھی تک جعلی ڈگریوں اور جاگیردارانہ رویوں کے مسائل سے ہی باہر نہیں نکل سکے اکیسویں صدی کی ٹیکنالوجی کے انتخابی اثرات، جعل سازیوں اور ووٹروں کی سوچ پر اثر ڈالنے کے معاملات پر دھیان کیسے دے سکتے ہیں۔ یہ تو دور اندیش اور وقت کے تقاضوں کے ساتھ چلنے والی جمہوری اقوام کے لئے فکر اور وژن کی بات ہے کہ وہ امریکی الیکشن میں روسی ہیکروں کی ٹیکنالوجیکل مداخلت اور الیکشن پر اثرات کے بارے میں کوئی تدبیر اختیار کریں اور انتخابی نظام کے بارے میں عوام کی ساکھ کو برقرار رکھنے کی فکر کریں۔
کینیڈا قانونی اعتبار سے اب بھی نوآبادیاتی نظام کا ’’ڈومینن‘‘ (DOMINION) مگر عملاً ایک جمہوری اور آزاد ملک ہے جہاں انتخابات کے نظام اور نتائج کو ہارنے اور جیتنے والے کی نظروں میں ایک عزت اور ساکھ ہے ووٹر بھی اس پر اعتماد کا اظہار کرتا ہے۔ انتخابات کے لئے انتظامات، شفافیت اور غیرجانبداری کو تسلیم کیا جارہا ہے لیکن امریکی الیکشن میں روسی ہیکروں کی مداخلت کے حقائق سامنے آنے کے ساتھ ہی کینیڈین حکومت نے ٹیکنالوجی کی اس جدت کو مداخلت اور غلط استعمال سے روکنے کے لئے سوچ بچار شروع کردی۔ چیف الیکٹورل آفیسر سے سفارشات مانگیں اور مقصد کینیڈین ووٹرز کے لئے الیکشن میں شرکت کو آسان بنانے اور انتخابی ضابطوں کو توڑنے والوں کی حوصلہ شکنی اور سزا دینے کے مقاصد کے ساتھ 30؍اپریل 2018ء کو C-76 بل کا مسودہ قانون سازی کے لئے پیش بھی کردیا۔ حکومت کینیڈا کے اس سرکاری بل کے مقاصد میں کینیڈا کے انتخابی سسٹم میں عوام کا اعتماد بڑھانا اور عوام کی دلچسپی کو بڑھانا بھی شامل ہے۔ غیرملکی تنظیموں اور کمپنیوں (ENTITIES) کا انتخابات پر خرچ ممنوع، اشتہارات پر پابندی، 500ڈالرز سے زیادہ کسی پارٹی یا امیدوار کی حمایت میں اشتہارات پر خرچ کرنے والے حامیوں کی رجسٹریشن انتخابی عمل کے لئے استعمال کئے جانے والے کمپیوٹرز کی رجسٹریشن اور دیگر اقدامات اس بل میں شامل ہیں اس بل میں متعدد تجاویز اور اقدامات ٹیکنیکل نوعیت کے بھی ہیں کینیڈا کے اس الیکشن ماڈرنزائنگ ایکٹ یعنی(C-76)کا مطالعہ پاکستانی الیکشن کا انعقاد کرانے والے منتظمین و ماہرین کے لئے مفید ثابت ہوگا۔ اس بل میں تجاویز خاصی معقول ہیں کہ تمام سیاسی اشتہارات پر ’’ٹیگ لائن‘‘ کے ذریعے شناخت ہو کہ کس تھرڈ پارٹی نے اسپانسر کیا۔ سیاسی پارٹیاں ووٹروں کے بارے میں کہاں اور کن ذرائع سے معلومات حاصل کررہی ہیں۔ سوشل میڈیا پر انتخابی مہم کے لئے غیرملکی تنظیموں کی جانب سے اشتہار بازی کی ممانعت بھی شامل ہے۔ اگر یہ بل منظورہوگیا تو الیکشن کینیڈا (الیکشن کمیشن) کو اختیار ہوگا کہ وہ سوشل میڈیا پر انتخابات پر اثر ڈالنے والے غلط بیانات اور اشتہارات پر فوری طورپر پابندی عائد کرسکے اور ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کرسکے۔ کینیڈین حکومت کا کہنا ہے کہ الیکشن کے بارے میں اس بل کی منظوری سے نہ صرف الیکشن میں غیرملکی مداخلت پر قابو پانا آسان ہوگا بلکہ کینیڈا کے الیکشن قوانین اور نظام اکیسویں صدی کے تقاضوں کے مطابق ہوجائیں گے۔
ہمارے پاکستان میں بھی الیکشن ہونے والے ہیں۔ خطے کی موجودہ صورت حال اور مختلف عناصر کے مختلف مفادات کے تقاضے ہیں۔ پاکستان کی تاریخ میں کونسا عام الیکشن ایسا ہے جس کے بارے میں دھاندلی کے الزامات نہیں لگے بلکہ الیکشن کے بعد ذوالفقار علی بھٹو کا تختہ الٹنے کے لئے انتخابی دھاندلی کے جوازپر ایجی ٹیشن چلایا گیا۔ ڈالرکی ریل پیل اور غیرملکی مداخلت کا ثبوت بھی سامنے آگیا۔ پڑوسی بھارت پہلے بھی پاکستانی انتخابات میں مالی اور سیاسی مداخلت کرچکاہے اور آنے والے انتخابات میں بھی بڑے پیمانے پر غیرملکی مداخلت کے امکانات ہیں۔ بھارتی ہیکرز متعدد بار پاکستانی ویب نظام میں مداخلت کرتے آرہے ہیں۔ کیا پاکستان کے انتخابی نظام کو غیرملکی مداخلت اور ہیکرز سے محفوظ کرلیا گیا ہے؟ کیا پاکستانی الیکشن کمیشن کو جدید ٹیکنالوجی کے نظام اور چیلنجز سے نمٹنے کے لئے اختیارات اور وسائل سے مسلح کردیا گیا ہے؟ یا پھر اکیسویں صدی میں برطانوی نوآبادیاتی نظام کے ضابطوں اور شکایات پر تاخیر سے کارروائی اور بیلٹ کا تقدس طاقتور جاگیرداری نظام کے ہاتھوں پامال ہونے کی تمام گنجائشیں بدرجہ اتم موجود ہیں؟ آنے والے عام انتخابات پاکستان کی اگلی منزل طے کرنے میں بڑے اہم ثابت ہوں گے۔ سیاستدانوں اور فیصلہ سازوں پر بھاری ذمہ داری ہے۔ انتخابات سے قبل انتخابی ٹرانسپرنسی، انتخابی مگر تحمل و برداشت کا ماحول، ذمہ دارانہ بیانات اور غیرملکی سرپرستوں کی حمایت و مداخلت کے بغیر الیکشن کا ہونا ضروری ہے۔ کینیڈا کی طرح ہمیں بھی سوچ اور اقدامات کی ضرورت ہے۔
(کالم نگار کے نام کیساتھ ایس ایم ایس اور واٹس ایپ رائےدیں00923004647998)

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں