آپ آف لائن ہیں
اتوار 12؍محرم الحرام 1440ھ 23؍ ستمبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

اکتوبر 1999ءمیں مارشل لالگانے کے بعد جنرل پرویز مشرف نے قومی احتساب بیورو (نیب) قائم کیا اس کے مقاصد سیاسی تھے نہ کہ کرپٹ کا احتساب کرنا۔ یعنی ایسے سیاستدان جو انکو چیلنج کریں انکو احتساب کے ڈھونگ میں کس لیں اور جب وہ ان کی حمایت پر رضا مند ہوجائیں تو پھر انہیں کلین چٹ دیدیں۔ اس وقت ایسے احتساب کا سب سے بڑا نشانہ ن لیگ تھی اورکافی حد تک پیپلزپارٹی کو بھی ٹارگٹ کیا گیا جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ بے نظیر بھٹو شہید کئی سال تک ایسے احتساب کی وجہ سے ہی خود ساختہ جلاوطن رہیں۔ اس دور میں نوازشریف کے خلاف جو مقدمات بنائے گئے وہ بھی ان کی جلاوطنی کی وجہ سے مدہم پڑ گئے۔ اس تناظر میں اگر نیب کی کارکردگی کو جانچا جائے تو اس کا مقصد صرف حکومت مخالف سیاستدانوں سے انتقام لینا تھا۔ اسی نیب کے ہتھوڑے کو استعمال کر کے پیپلزپارٹی میں سے 2002ء کے عام انتخابات کے بعد ’’پٹریاٹ‘‘ بنائے گئے جن کی حمایت سے مشرف کے نامزد میر ظفر اللہ جمالی صرف ایک ووٹ کی برتری سے وزیراعظم منتخب ہو گئے۔ اس سے قبل 90کی دہائی میں نوازشریف کی دوسری حکومت نے سیف الرحمن کی سربراہی میں احتساب بیورو بنایا جس کا مقصد بھی بے نظیر بھٹو، آصف علی زرداری اور پیپلزپارٹی کے دوسرے رہنمائوں کو سیاسی مقاصد کیلئے احتساب کے شکنجے میں کسنا تھا۔ آج تک نوازشریف ایسے

احتساب پر پچھتا رہے ہیں۔ اس کا کیا نتیجہ نکلا کہ کسی بھی کیس میں بے نظیر بھٹو، آصف زرداری اور پیپلزپارٹی کے لیڈروں کا ’’احتساب ‘‘ نہ ہوسکا۔
مشرف نے جس طرح کا ’’احتساب‘‘ نوازشریف اور آصف زرداری کا کیا انہیں نہ بچا سکااور بالآخر انہیں اقتدار سے رخصت ہونا پڑا۔ پیپلزپارٹی نے اپنی گزشتہ حکومت کے دوران اپنی مرضی کا احتساب کرنے کی کوشش کی اور ایڈمرل ریٹائرڈ فصیح بخاری اور دیدار حسین شاہ کو نیب کا چیئرمین لگایا مگر ان دونوں کو سپریم کور ٹ کے احکامات کی وجہ سے گھر جانا پڑا۔ اس کے بعد پیپلزپارٹی اور ن لیگ نے مل کر قمرزمان کو نیب کا ہیڈ بنایا جنہوں نے اپنی مدت پوری کی مگر انہیں اکثر و بیشتر عدالت عظمیٰ اور اپوزیشن جماعتوں طر ف سے سخت تنقید کا سامنا کرنا پڑا۔ ان کے دور میں احتساب کے نام پر سیاسی انتقام نظر نہیں آیا۔ اسکے بعد ان دونوں جماعتوں نے باہمی مشاورت سے چیئرمین نیب لگایا جن کا نام دراصل پیپلزپارٹی نے تجویز کیا تھا جس کو ن لیگ نے تسلیم کر لیا۔ اور آج نیب کا سب سے بڑا ٹارگٹ ن لیگ ہے۔ آج جب وزیراعظم کہتے ہیں کہ انہیں ان کا نام بھیجنے پر شرمندگی ہے تو یہ بے وقت کی راگنی ہے کیونکہ جو کچھ ہونا تھا وہ تو ہو چکا اور قانون کے مطابق وہ ان کو ہٹا نہیں سکتے۔ پارلیمان انہیں بلا تو سکتی ہے اور سرزنش بھی کر سکتی ہے مگر اسکے پاس انہیں ہٹانے کیلئے کوئی قانونی یا آئینی پاور نہیں ہے۔ ان کو صرف اس طریقے کے مطابق ہی ہٹایا جاسکتا ہے جو کہ سپریم کورٹ کے جج کیلئے آئین میں دیا گیا ہے یعنی سپریم جوڈیشل کونسل کے ذریعے۔ یہ کونسل 5ججوں پر مشتمل ہوتی ہے۔ اس کے سربراہ چیف جسٹس آف پاکستان اور اس کے ممبران میں عدالت عظمیٰ کے 2سینئر ترین جج اور ہائیکورٹوں کے 2سینئر ترین چیف جسٹس ہوتے ہیں۔ صاف ظاہر ہے کہ حکومت اس کونسل پر اثر انداز نہیں ہو سکتی۔ لہٰذا نیب جو کچھ بھی کر رہی ہے ن لیگ کو چاہتے ہوئے یا نہ چاہتے ہوئے برداشت کرنا پڑے گا۔
تقریباً ہر چیئرمین نیب متنازع رہا ہے مگر ان میں سے شاید ہی کوئی ایسا ہو جسے اپنے پہلے 6ماہ کے دوران ہی اس قدر سخت تنقید کا سامنا کرنا پڑے۔ یہ تنقید بلاجواز نہیں ہے کیونکہ نیب کا نشانہ صرف اور صرف ن لیگ ہے جبکہ دوسری طرف پیپلزپارٹی کے بہت سے اہم لیڈروں جن پر کرپشن کے سنگین الزامات ہیں پر کیسز ختم کر دیئے ہیں اور باقی ماندہ جو بچے ہیں ان کا حال بھی یہی ہوتا نظر آرہا ہے۔ نیب کے اقدامات سے صاف لگ رہا ہے کہ پنجاب کی حکومت سب سے کرپٹ ہے حالانکہ نہ صرف حقائق بتاتے ہیں بلکہ عام لوگوں کا خیال بھی یہی ہے کہ دوسرے صوبوں کی حکومتوں کے مقابلے میں وزیراعلیٰ شہبازشریف کی انتظامیہ بہت اچھی ہے جس نے شفافیت پر عمل کیا ہے۔ نیب کو نہ تو کوئی کرپشن خیبر پختونخوا میں نظر آرہی ہے اور نہ ہی سندھ میں جبکہ ان صوبوں کے بارے میں کہانیاں بہت ہیں جن کا ذکر باربار ہوتا رہتا ہے۔ یہ احتساب پرویز مشرف کے دور سے بھی زیادہ سخت ہے اور یہ ایسے وقت میں ہورہا ہے جب آئندہ عام انتخابات کچھ ماہ بعد ہونیوالے ہیں۔ عام فہم رکھنے والا شخص بھی جانتا ہے کہ اسکا مقصد ن لیگ کو اگلے الیکشن میں زیادہ سے زیادہ نقصان پہنچانا ہے۔ وزیراعظم عباسی کا بھی یہی کہنا ہے کہ یہ پری پول دھاندلی کا حربہ ہے۔ نیب کے بہت سے اقدامات پر سخت تنقیدی انداز میں بات ہو سکتی ہے مگر اس کا ایک حالیہ حکم جو کسی بم شل سے کم نہیں تھا وہ تھا جب ایک پریس ریلیز کے ذریعے یہ اعلان کیا گیاکہ سابق وزیراعظم نوازشریف کے خلاف 4.9بلین ڈالر یعنی کوئی 550ارب روپے منی لانڈرنگ کے ذریعے بھارت بھجوانے کی انکوائری کا حکم دیدیا گیا ہے۔ یہ الزام پچھلے 3سال سے گپ شپ کے انداز میں مارکیٹ میں چل رہا تھا جس کو جان بوجھ کر پھیلایا جارہا تھا مگر کبھی کسی نے اس پر توجہ نہیں دی وجہ یہ تھی کہ یہ بالکل لغو اور فضول تھا اور خصوصاً اس وجہ سے بھی کہ ورلڈ بینک اورا سٹیٹ بینک آف پاکستان نے بھی اس کی سخت تردید کردی تھی۔یہ تھا دراصل ٹرمپ کارڈ جو کہ نوازشریف کیخلاف موجودہ حکومت کے آخری ہفتوں کے دوران استعمال ہونا تھا مگرجوں ہی یہ کھیلا گیا ٹھس ہو گیا۔ جب نیب پر تنقید بڑھ گئی تو پھر وضاحت کیلئے ایک اور بیان جاری کیاگیا جس میں کہا گیا کہ اس سال یکم فروری کو ایک اخبار کےکالم میں یہ الزام چھپا تھا جس کا انہوں نے نوٹس لیا ہے۔ نیب کی کارکردگی اور ٹائمنگ پر غور فرمائیں کہ ساڑھے 3ماہ بعد ایک کالم میں یہ الزام چھپا اور انہوں نے اس کا نوٹس لیا جب ن لیگ کا احتساب زوروں پر ہے۔ اس سے بڑی ستم ظریفی کیا ہو سکتی ہے ۔جبکہ کچھ بین الاقوامی تنظیمیں پہلے ہی پاکستان پرمنی لانڈرنگ کے الزامات لگا رہی ہیں اور مختلف لسٹوں میں شامل کر رہی ہیں ایسے میں نیب کااقدام اس طرح کے غلط دعوئوں کی تصدیق کررہا ہے۔ غلطی ن لیگ کی بھی ہے کہ اس نے نہ تو اپنے موجودہ دور میں اور نہ ہی گزشتہ پیپلزپارٹی کے وقت میں نیب کے قانون کو یکسر تبدیل کرنے یا ختم کرنے کے بارے میں کبھی سنجیدگی دکھائی۔ جب بھی دونوں بڑی جماعتوں میں بات چیت کا آغاز ہوا تو یہ صرف اور صرف پوائنٹ اسکورننگ میں لگی رہیں۔کل پیپلزپارٹی کو اسی قانون کے تحت رگڑا لگا تھا اور ن لیگ بغلیں بجا رہی تھی آج ن لیگ اسکی وجہ سے زیر عتاب ہے تو پیپلزپارٹی خوشیاں منا رہی ہے مگر کل کو یہ پھر ریسورس ہو سکتا ہے۔ کیا یہ بڑی جماعتیں اسی طرح ہی خوشیاں مناتی اور روتی رہیں گی یا کچھ سیکھیں گی بھی کہ احتساب ہونا چاہئے انتقام نہیں۔
(کالم نگار کے نام کیساتھ ایس ایم ایس اور واٹس ایپ رائےدیں00923004647998)

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں