آپ آف لائن ہیں
جمعرات5؍ذوالقعدہ 1439ھ19؍جولائی 2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

پسماندہ معاشروں میں قانون کا اِطلاق عموما ً غر یب طبقے پر لاگو ہوتا ہے، خاص طور پر اُس صورت میں جب اَمیر اور غریب ایک دوسرے کے حریف ہوں ! بالکل اِسی طرح بین الاقوامی، جنگی اور سفارتی قوانین کا اِطلاق زیادہ تر کمزور و پسماندہ ممالک پرہوتا ہے خاص طور پر اُن معاملات میں جہاں ایک کمزور ملک کسی بڑی طاقت کے مد مقابل ہو! پاناما کے سابق صدر جنرل مینوئل نوریئے گا کا اغوا، ایبٹ آباد آپریشن اور عراق و افغانستان میں عسکری مداخلت سمیت گزشتہ تین دہائیوں میں بڑی طاقت کی جانب سے قانون سے غیر معمولی حد تک بالا تر ہو جانے کے کئی مظاہرے کئے گئے۔ لیکن مذکورہ حقائق کے زیر اثر بہت سے پاکستانی شہری امریکیوں سے منسلک اُن معاملات کو بھی غیر قانونی اور مغرب کی سیاسی بالادستی کا نتیجہ سمجھتے ہیں جو در اصل کسی بھی طور غیر قانونی یا خلاف ضابطہ نہیں ہو تے۔
ایک انتہائی تلخ حقیقت یہ ہے کہ امریکی اتاشی کرنل جوز ف مینوئل کی محفوظ وطن واپسی قانونی اعتبار سے غلط نہیں! حالاں کہ گزشتہ ماہ اسلام آباد میں ایک پاکستانی نوجوان کی ہلاکت کا سبب بننے والا یہ امریکی اتاشی یقیناً بڑے جرم کا مرتکب ہوا ہے لیکن اِس کو حاصل سفارتی حیثیت کے تحت ملک میں مروجہ فوجداری قوانین اِس پر لاگو نہیں ہوسکتے ۔ یہ سچ ناگوار اور ناپسندیدہ ضرور ہے لیکن بین

الاقوامی ضابطوں کی پابندی بھی بہرحال ناگزیر ہے۔
سفارتی تعلقات سے متعلق سال 1961 میں منعقدہ ویانا کنونشن کے تحت کسی ملک میں تعینات سفار ت کاروں کے خلاف ضابطہ فوجداری کے تحت مقدمہ نہیں چلایا جا سکتا ۔ یہ بات انتہائی تلخ ہے لیکن سفارت کاری کے جدید تقاضوں کے تحت جینیوا کنونشن کو دنیا بھر میں قانونی طور پر اعلیٰ ترین حیثیت حاصل ہے۔ اقوام متحدہ کاہر ممبر ملک مذکورہ کنونشن کے ضابطوں اور قوانین کی پاسداری کا پابند ہے ۔ اگرچہ یہ تفصیلات پاکستانیوں کے لئے ایک کڑوا گھونٹ ہے لیکن اِس گھونٹ کو پی جانے کے سوا اَب کوئی چارہ نہیں!
دوسری اہم بات یہ ہے کہ امریکی اتاشی کی واپسی کے تناظر میں حکومت یا دیگر اداروں پرکسی بھی قسم کے شکوک و شبہات کا اظہارکرنا نہ صرف ایک غیر مہذب بلکہ غیر منطقی رویّہ بھی ہے! البتہ حادثے میں ہلاک ہونے والے نوجوانوں کے لواحقین کے لئے یہ ایک انتہائی کٹھن گھڑی ہے۔سفارت کاری کی محفوظ دیوار کی آڑ میں اِن خاندانوں کو زندگی بھر کا غم دے جانے والے شخص کا یو ں فرار حاصل کرلینا لواحقین کے لئے حادثے کے بعد سب سے بڑا صدمہ ہے ۔ امریکی حکام کی جانب سے اتاشی پر امریکہ ہی میں مقدمہ چلا نے کی ضمانت متاثرہ خاندانوں کے لئے بے معنی سی بات ہے۔
سات اپریل کو رونما ہونے والے اِس حادثے کے بعد پاکستان بھر میں پرنٹ، الیکٹرانک اور سوشل میڈیا پر عمومی طور پر اِس امریکی سفارت کار کی بھیانک غفلت کے خلاف عوام کے غم و غصے اور سزا کے مطالبے سے متعلق تبصرے سننے کو ملتے رہے ۔ یہ بھی دیکھنے میں آیا کہ معاشرے کا اچھا خاصا پڑھا لکھا اور بظاہر باشعور طبقہ بھی اِن معاملات میں عام انداز میں سوچتا ہے۔ یہا ں فکری سطح پر قا نون کی پاسداری اور احترام پر عبرت ناک سزائوں کو ترجیح دی جاتی ہے۔ اِس روئیے کا پس منظرسیاسی، تاریخی اور نفسیاتی سطحوں پر اِنتقامی جذبات سے بھرا ہوا ہے ۔ یہ صحیح ہے کہ چند برس قبل امریکی جاسوس ریمنڈ ڈیوس کا لاہور میں دو پاکستانی اہل کاروں کو قتل کرنے کے بعد ، پاکستانی عدالت سے باقاعدہ بری ہو کر وطن لوٹ جانا قوم کے اِس اجتماعی غم و غصّے کا بنیادی سبب ہے ۔ریمنڈ ڈیوس در حقیقت جاسوس تھا اس لئے سفارت کاری سے متعلق قوانین کے تحت اس کی حیثیت کرنل جوزف ایمینوئل سے مختلف تھی ۔ لہٰذا پولیس کی زیرحراست ریمنڈ ڈیوس کے خلاف باقاعدہ مقدمہ چلایا گیا۔ دوسری جانب کراچی سے خیبر تک اِس اندوہناک واقعے پر شدید غم اور اشتعال سے دو چار قوم مقدمے کی کارروائیوں پر آنکھ جمائے بیٹھی رہی۔ اگرچہ اِس مقدمے میں بھی عدالت کا فیصلہ قوم کی توقعات اور خواہش کے بر خلاف تھا لیکن مروجہ قانون کے خلاف نہیں ۔ ملک میں قتل کے مقدمات سے متعلق مروجہ دیت کے شرعی قانون کے تحت اس امریکی جاسوس کو آخر کاربری کردیا گیا اور یوں ریمنڈ ڈ یوس پاکستان میں قتل کا مرتکب ہونے پر بھی محفوظ حالت میں وطن لوٹ جانے والا پہلا امریکی بن گیا۔
مقدمے کے دوران ابتدا میں ریمنڈ ڈیوس کے ہاتھوں ہلا ک ہونے والے پاکستانیوں کے لواحقین کی جانب سے انتہائی حوصلہ افزا بیانات آتے رہے ۔ اُن کا ارادہ تھا کہ چندامریکی ڈالرز کے بدلے وہ اس مقدمے سے کسی طور پیچھے نہیں ہٹیں گے۔ لیکن چند ہی دنوں بعد مقدمے کا رُخ یکسر بدل گیا اور مقتولین کے ورثہ پر اسرار طور پر غائب ہونا شروع ہوگئے ۔ اَبھی اِس روپوشی سے متعلق چہ مگوئیاں ہو ہی رہی تھیں کہ مقدمے کا فیصلہ آگیا۔اس فیصلے کی روشنی میں لواحقین کی روپوشی کی وجہ بھی اچھی طرح سمجھ میں آگئی او ر دوسری جانب یہ صورتحال کم و بیش پوری قوم کے لئے مایوسی کا باعث بنی !
کہا جاتا ہے کہ ریمنڈ ڈیوس کیس میں لواحقین کو دبائو کے تحت دیت پر راضی کیا گیا تھا لیکن بنیاد ی بات یہ ہے کہ ایسے مقدما ت میں ادا کرنے والا و صول کرنے والے سے کہیں زیادہ خوش حال اور با اثر ہوتا ہے۔اس لئے ایسی صورتحال میں دبائو کے امکانات یقیناً موجو دہوتے ہیں۔ البتہ ایسے مقدمات میں لواحقین کا خطیر رقم حاصل کرکے محلہ ، شہر یا ملک چھوڑ دینا یقینا حوصلہ افزا بات نہیں! البتہ ریمنڈ ڈیوس کے اِس مقدمے سے متعلق دو پہلو انتہائی اہم اور منطقی ہیں ۔ ایک یہ کہ امریکیوں نے کمال مہارت سے اسے پاکستانی قانون کے ذریعے ہی بری کروالیا لاور دوسرا یہ کہ اُس کی بریت، رہائی اور اپنے وطن واپسی پاکستانی نقطہ نگاہ سے اِنتہائی قانونی اور منطقی ہے۔
کرنل جوزف ایمینوئل کو پاکستان میں سفار ت کار کی حیثیت ملی ہوئی تھی اِس لئے اِس پر پاکستان میں قتل کا مقدمہ چلنا نا ممکن تھا ۔ جینیوا کنونشن کے تحت سفارت کاروں کو انتہائی واضع طور پرفوجدار ی معاملات میں استثنی حاصل ہے۔ کسی کو اچھی لگے یا نہیں لیکن زیادہ اہم بات یہ ہے کہ ان دونوں معاملات میں پاکستانی حکومت اور متعلقہ اداروں کی طرف سے قانون اور ضابطوں کے خلاف کوئی قدم نہیں اٹھا یا گیا۔اگر پاکستان کسی دبائو یا دو طرفہ تعلقات کے بوجھ تلے یہ سب کچھ کرنے پر مجبور ہوتا تو شکیل آفریدی آج یقیناً امریکہ میں ہوتا ۔اگرچہ اِس حقیقت سے انکار نہیں کہ ریمنڈ ڈیوس اور کرنل جوزف ایمینوئل سے متعلق واقعات کا انجام پاکستانیوں کے نقطہ نظرسے انتہائی نا پسندیدہ اور مایوس کن تھا لیکن یہ سچ زیادہ مقدّ م ہے کہ قانون کا صحیح اور شفاف اطلاق ، انسانی خواہشات اور جذبات سے کہیں بالا تر ہوتا ہے۔
(کالم نگار کے نام کیساتھ ایس ایم ایس اور واٹس ایپ رائےدیں00923004647998)

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں