آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
پیر10؍ربیع الاوّل 1440ھ 19؍نومبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

تین بار منتخب ہونے والے پاکستان کے وزیراعظم میاں نواز شریف کےحالیہ بیان نے ملک میں سیاسی افراتفری پیدا کردی ہے اور میڈیا میں کئی متنازع خیالات سامنے آرہے ہیں جبکہ بھارتی میڈیا نے اس بیان کو سابق وزیراعظم کا اعتراف اور پاکستان کا بطور ریاست ممبئی حملوں میں ملوث ہونا قرار دیتے ہوئےاپنےفائدےکیلئے استعمال کیاہے۔ بھارتی میڈیا کا یہ پراپیگنڈا اور بھارتی وزیردفاع کا بیان بالکل بکواس ہےکیونکہ یہ حقائق کےمنافی ہے۔ میں یہ محسوس کرتا ہوں کہ ریکارڈ درست ہوناچاہیے،لہذا عوام کے سامنے حقائق پر مبنی موقف پیش کررہاہے ۔ پاکستان فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (ایف اے ٹی ایف) میں پہلے ہی زیرنگرانی ہے، جوپاکستان سےمتعلق اس جون تک فیصلہ کرےگی اور نواز شریف کے حالیہ بیان کے باعث بھارت کو پاکستان کے خلاف پراپیگنڈا کرنے ایف اے ٹی ایف کے فیصلے پر اثرانداز ہونےکاموقع ملاہے، جبکہ ممبئی حملوں پرپی پی پی کےدورِحکومت کےدوران حقائق پر مبنی پوزیشن اور سرکاری موقف میاں نواز شریف کے بیان اور بھارتی میڈیا کے پراپیگنڈے کےبالکل برعکس تھا، یہ موقف حقائق اور شواہد پرمبنی تھا۔ نواز شریف کا بیان حقائق کے منافی ہے لہذا ریکارڈ درست کرنے کی ضرورت ہے اور خاص طور پر جب یہ بیان تین بار کے وزیراعظم کی جانب سےدیاگیاہو۔ بطور وزیرداخلہ میری

پہلی پریس کانفرنس گوگل پر موجود ہے اوراُن باتوں کی نیشنل سیکیورٹی کونسل اور تینوں مسلح افواج کے سربراہان، کابینہ کےدیگر اراکین اور اس وقت کے وزیراعظم کی جانب سے منظوری دی گئی تھی۔ حقائق یہ ہیں کہ میں نے بطور وزیرداخلہ واضح طورپر کہاتھاکہ غیر ریاستی عناصر کو بھارتی خفیہ ایجنسی را کی جانب سے استعمال کیاگیاہے۔ ڈیوڈ ہیڈلے (دائود سید گیلانی) ایک پاکستانی نژاد امریکی شہری نے بھارت میں ٹارگٹس کی ریکی کی اور اس منصوبے کا حصہ تھا۔ اس کی پیدائش واشنگٹن ڈی سی میں سید سلیم گیلانی اور ایلس شرل ہیڈلے (یہودی) کے ہاں ہوئی۔ ہیڈلے کے والد اور ان کے مذہب کے بارے میں کئی بار بحث ہوتی ہے لیکن جب ان کی ماں کی بات ہوتی ہے تو وہاں خاموشی ہوتی ہے۔ ڈیوڈکا تعلق ایک ٹوٹی ہوئی فیملی سے تھااور جب وہ 16سال کا تھا تو اس کی ماں اسے امریکا لے گئی تھی جہاں اس نے اپنا نام دائود گیلانی سے ڈیوڈ کولیمن ہیڈلے رکھ لیا۔ ہیڈلے نےامریکا میں یہودیوں کے گڑھ شکاگو اور نیویارک اور بھارت میں گوا، ممبئی اور پشکر(راجھستان) اور ہماچل پردیش میں کام کیا۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس کا پاکستان اور مذہب سے کوئی لینا دینا نہیں تھا۔ اس نے اس دہشتگردی کے چیف کورڈینیٹر کے طورپرکام کیا۔ اس نے بھارت میں ایک ٹریول ایجنسی بنائی جسے را کی مکمل حمایت حاصل تھی۔ اس نے اپنے سٹنگ آپریشن اور غیرریاستی عناصر کو استعمال کرنے کیلئے را کی مدد سے پاکستان کے 5دورے کیے۔ بھارتی را نے اسے چھپانے کی کوشش کی لیکن یہ باتیں میڈیا میں لیک ہوگئیں۔ یہ دونوں بھائی گرفتارہوگئے تھے لیکن بالآخر انھیں رہا کردیاگیا۔ یہ را ہی تھی جس نے اجمل قصاب جیسے غیر ریاستی عناصرکو پاکستان سے بھرتی کرکےان کی مدد کی۔ اسی لیے بھارت نےکئی بار درخواستوں کے باوجودپاکستان کے تفتیش کاروں کو اجمل قصاب تک رسائی نہیں دی۔ تاحال بھارت نے اس معاملے پر 35سوالات کے جوابات بھی نہیں دیے۔ بھارت نے ٹرائل کورٹ کی جانب سے مقرر کردہ پاکستانی کمیشن کے ساتھ تعاون بھی نہیں کیا۔ میں آج بھی بھارت سے مطالبہ کرتا ہوں کہ دو انصاری بھائیوں کو پاکستان کے حوالے کیاجائے تاکہ تفتیش کار ان سے اس حملے میں ملوث ہونے سے متعلق سوالات کرسکیں۔ سوال یہ اٹھتا ہے کہ ان دونوں بھائیوں کے خلاف بھارت نے کارروائی کیوں نہیں کی جو را کی مددسے اس حملے کے سہولت کار تھے۔ اسی روز (ممبئی حملے والے دن)ایک پیشہ ور بھارتی پولیس افسر ڈی آئی جی ہیمنت کرکرکے کو پُراسرارطورپ قتل کردیاگیاجو اس سے قبل آرمی آفیسر لیفٹننٹ کرنل پرشاد سریکانت پروہت کی سربراہی میں سمجھوتا ایکسپریس پر را اور آر ایس ایس کے دہشت گردانہ کاموں کو منظر عام پرلائےتھے۔ فہیم انصاری اور صلاح الدین انصاری دونوں نے را کے ایجنٹوں کے طور پر کام کیااور دونوں نے را اور غیر ریاستی عناصر کے درمیان پُل کے طورپرکام کیا۔ یہ ہی دونوں تھے جنھوں نے ریکی میں ڈیوڈ ہیڈلے کی مدد کی۔ پاکستان نے 35سوالات اٹھائے اور کئی بار سوالات بھارت بھیجے لیکن ان کا جواب کبھی نہیں ملا۔ کھڑک سنگھ کی جانب سے 2012531824 نمبر کے تحت استعمال ہونے والا ٹیلی فون، 8078132155 کویت کا آئی پی ایڈریس اور ایک سپین کا آئی پی ایڈریس اس پر بھارت نے کبھی تحقیقات نہیں کیں۔ اٹلی سے رقم کی ادائیگی ہوئی۔ بھارت نے اجمل قصاب اور دیگر ملزمان تک رسائی نہیں دی۔ بھارتی جوڈیشل کمیشن کو کبھی گواہوں اور ملزمان سے تحقیقات نہیں کرنے دی گئیں جبکہ پاکستانی حکومت نے بھارت سے مکمل تعاون کیااور فوری طورپر حقائق کے ساتھ ان کےسوالنامےکاجواب دیاگیا۔ ایف آئی اے نے بھی مشتبہ افرادکے خلاف مقدمہ دائر کیا اور حملے میں ملوث ہونے پر ان کے خلاف تحقیقات کیں۔ ان تحقیقات کے دوران سینئرافسران پر مشتمل جے آئی ٹی اپنے فیصلے میں متفق تھی کہ ان حملوں میں کوئی غیرریاستی عناصر ملوث نہیں ہیں۔ درحقیقت یہ بھارتی حکومت ہی ہے جس نے کشمیر میں بھارتی فوج کی جانب سے انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں سے عالمی توجہ ہٹانے کیلئے یہ حملے کرائے ۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ ڈیوڈ ہیڈلے اور اجمل قصاب جیسے غیر ریاستی عناصر نےاپنے مقاصد اور پیسوں کیلئے کام کیا۔ میری خواہش ہے کہ میاں صاحب ریاستی عناصر اور غیرریاستی عناصر کا یہ فرق جان سکیں۔ میرا یہ دعویٰ کہ ممبئی حملے بھارتی ایجنسی را نےمخصوص ممالک کی مدد سے ہی کرائے اسے ایلس ڈیوڈ سن کی 800صفحات پر مشتمل کتاب ’بھارت کا دھوکا‘ سے تقویت ملتی ہے۔ ڈیوڈ سن نے واضح طور پر دعویٰ کیا ہے کہ بھارتی ایجنسیوں کی جانب سےیہ ایک جھوٹا آپریشن تھا۔ میاں نواز شریف کے بیان سے یہ تاثر ملتا ہے کہ پاکستانی ریاست نے غیرریاستی عناصر کو ان حملوں کی اجازت دی لیکن درحقیقت یہ پاکستان کے خلاف را کا ایک خفیہ آپریشن تھا اور را نے اس کیلئے کامیابی سے غیرریاستی عناصر کو استعمال کیا۔ تاہم جہاں تک سابق وزیراعظم کے بیان کاتعلق ہے تو یہ پاکستان کیلئے نقصان دہ ہو گا۔ ہمیں صدرڈونلڈ ٹرمپ کے حالیہ بیانات کا جائزہ لینے کی ضرورت ہے جس میں دعویٰ کیاگیاہے کہ پاکستان دہشتگردوں کا گڑھ ہےاور اب میاں نواز شریف کا بیان ٹرمپ کے بیان کی توثیق کے طورپر لیاجائے گا۔ سابق وزیراعظم کی جانب سے یہ بے بنیاد بیان ہمارے لیے عالمی رسوائی کا باعث بنے گا۔ ایسے بیانات کے باعث اقوام متحدہ حافظ سعید کو دہشت گرد قراردے سکتی ہے، وہ حملوں میں ملوث بھی نہیں تھے۔ وہ بے گناہ ثابت ہوئے اورپاکستان سپریم کورٹ نے انھیں ضمانت پر رہا کردیا۔ انٹرویو سے قبل نواز شریف کو بریفنگ لینی چاہیے تھیں تاکہ وہ ریاستی عناصر اور غیر ریاستی عناصر میں فرق کرسکتے۔ بھارتی ایجنٹ اجمل قصاب ایک غیرریاستی عنصر ہے جبکہ کلبھوشن یادو یقینی طورپربھارت کا ریاستی عنصر ہے۔ پاکستان اور بھارت دونوں ممالک کے لوگوں کیلئے میں وہ 35سوالات دوبارہ پیش کررہاہوں جو پاکستانی حکومت نےممبئی حملوں سے متعلق بھارت سے پوچھے تھےلیکن بھارت نے جواب دینے سے گریز کیا۔ ان میں درآمد شدہ ہتھیاروں سے ملنے والے فنگرپرنٹس کی فراہمی، ذاتی چیزیں اور رہنمائی کرنے والے آلات کی فراہمی وغیرہ شامل تھی اور ڈی این اے اور تمام دس ملزمان کی صاف تصاویر تاکہ دستیاب ڈیٹا بیس سے موازنہ کیاجاسکے۔ ہم نے کشتی پر سوار تمام افراد کی تفصیلات بھی مانگیں تھیں جسے ہائی جیک کرلیاگیاتھا اور جسے مبینہ طورپرممبئی کے ساحل پر پہنچنے کیلئے دہشتگردوں نےاستعمال کیاتھا۔ ان سے ہائی جیک کشتی کی تصویر اور تصدیق کیلئے رجسٹریشن نمبر بھی مانگا گیاتھا۔ لاپتہ افراد کے اہل خانہ کی جانب سے درج کرائی گئی ایف آئی آر اور اس پر ہونے والی تحقیقات کی تفصیلات بھی مانگی گئیں تھی، اس سب پرامید کے مطابق کوئی جواب نہ ملا۔ بھارت سے انٹرسپٹ کی گئی وائس ریکارڈنگ اور اجمل قصاب کی جانب سے ابو حمزہ، قہافہ اور ذکی الرحمان لکھوی کی شناخت کردہ تصاویر بھی مانگی گئیں تھیں۔ ڈرائیور اور ٹیکسی سے جس میں اجمل قصاب نے سٹیشن جانے سے قبل بم نصب کیاتھا ان کی بھی تفصیلات مانگی گئیں لیکن کوئی جواب نہ ملا۔ تھورے کے ٹیلی فون میموری کےفورنسک تجزیہ کےعلاوہ کال ریکارڈ اور ایس ایم ایس ہسٹری کے ساتھ مکمل موبائل ڈیٹا، جی پی ایس ڈیٹا بھی مانگا گیا لیکن اس کا بھی کوئی جواب نہ ملا۔ شناخت کیلئےحملہ آوروں کی سی سی ٹی وی فوٹیج اور عزیزآباد کراچی میں گھر کی تفصیلات بھی طلب کی گئیں تھیں۔ حتٰی کہ ہم نے ہر چھوٹی سے چھوٹی چیز بھی مانگی جس میں ملزمان کےکپڑوں پردرزی کا نشان، شہر میں دکان کی جگہ، شناخت کیلئےیاماہاانجن کی تصویر، درآمدشدہ ہتھیاروں کی تصاویر اور ریلوےاسٹیشن کی تصاویر اور وہاں کی تصاویر جہاں ملزمان نے حملے کیے۔ بھارتی پولیس کی جانب سے اجمل قصاب سےاس کے ساتھیوں، ہسپتال جہاں وہ گرفتاری سے قبل داخل ہوئے،رجسٹریشن نمبرز اور ان گاڑیوں کی تصاویرجو انھوں نے فرار ہونے کیلئےاستعمال کیں اور اس کا ساتھی اسماعیل کس طرح پولیس کے ہاتھوں ماراگیا، اس سب کے بارے میں کی گئی تحقیقات کی تفصیلات بھی طلب کی گئی تھیں۔ مندرجہ بالاسوالات کیس سےمتعلق اور پاکستان سےغیر ریاستی عناصرجس میں ڈیوڈ ہیڈلے بھی شامل تھا انھیں بھارتی ایجنسی را نے ممبئی حملوں کیلئے بھرتی کیاتھا ان سے متعلق حقائق پرمبنی پوزیشن پیش کرتی ہیں۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں