آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
پیر10؍ربیع الاوّل 1440ھ 19؍نومبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

جب بھی نئے انتخابات کیلئے نگراں حکومت بنانے کی بات شروع ہوتی ہے تو مختلف لابیاں برسرپیکار ہو جاتی ہیں کہ وہ کس طرح اپنے نمائندوں کو ایسے سٹ اپ میں لے آئیں تاکہ ان کی مرضی کے مطابق فیصلے لئے جاسکیں۔ سیاسی یتیم بھی تگ و دو شروع کر دیتے ہیں کہ وہ بھی کسی طرح ایسی حکومت میں گھس جائیں۔اس بار بھی کچھ ایسی ہی خواہشات اور کوششیں تھیں مگر ان میں سے کوئی بھی کامیاب نہیں ہوسکی۔ مارکیٹ میں بہت سے کارپٹ بیگرز موجود تھے جو خود کو نگراں حکومتوں میں بطور وزیر پیش کر رہے تھے مگر انہیں کچھ نہیں ملا چونکہ اکثریت کیسوں میں نہ تو وزیر اعظم اور نہ ہی کوئی وزیر اعلیٰ ان کی مرضی کے مطابق لیا گیا ہے۔ اگر ان میں سے کوئی بھی ان کی خواہش کے مطابق لیا جاتا تو امکان موجود تھا کہ وہ بھی اس میں وزیر یا مشیر بن جاتے۔ یہ بھی کہا جا رہا تھا کہ جونہی نگراں سٹ اپ آئے گا بہت سی نئی قومی پالیسیاں بنا لی جائیں گی اور اپنی مرضی کے فیصلے کرا لئے جائیں گے جن کو آئندہ آنے والی منتخب حکومت ریورس نہیں کرسکے گی مگر ایسا کچھ بھی نہیں ہوسکا اور نہ ہی ایسا ہونے کا امکان ہے کیونکہ نگراں ایسی خواہشات رکھنے والوں کی مرضی کے مطابق نہیں آئے۔ کافی برس بعد مجموعی طور پر اچھے نگراں نئے انتخابات کی سپرویژن کیلئے لائے گئے ہیں جن پر سیاسی جانبداری کا شائبہ

نہیں ہوتا۔ ان کے بارے میں عام خیال اور توقع یہ ہے کہ وہ کسی مالی بدعنوانی میں ملوث نہیں ہوں گے ۔ خوش آئند بات ہے کہ ہر نگراں ایک ہی بات پر زور دے رہا ہے کہ اس کا کام صرف اور صرف وقت پر انتخابات کرانا ہے اور الیکشن کمیشن کی آئین اور قانون کے مطابق معاونت کرنا ہے۔ قوم کی بھی یہی آواز ہے کہ انتخابات وقت مقررہ یعنی 25جولائی کو ہی ہوں۔ آئین کا بھی یہی تقاضا ہے۔ چاہے نگراں وزیر اعظم ہیں یا کوئی وزیر اعلیٰ ان میں سے کسی میں بھی ابھی تک یہ خواہش سامنے نہیں آئی کہ کسی نہ کسی طرح نگراںدور کی مدت میں اضافہ ہو جائے اور وہ کچھ مزید عرصہ حکومت میں رہ سکیں۔ ایک عرصہ سے ہم سب سنتے آرہے ہیں کہ کیئر ٹیکر سیٹ اپ بنے گا جس میں ٹیکنوکریٹس وزیر ہوں گے جو کہ تین سال تک حکومت میں رہیںگے اور ملک میں ہر قسم خصوصاً ’’کرپٹ‘‘ سیاستدانوں کی ’’صفائی‘‘ کر دی جائے گی یہ ایک دیوانے کا خواب ہے جو کہ کئی برسوں سے دیکھاجا رہا تھا وہ اس بار بھی پورا نہیں ہوا۔
موجودہ وفاقی اور صوبائی نگراں حکومتوں میں آئینی اور قانونی طریقے سے شفاف ماضی کے حامل صاف ستھرے لوگ سامنے لائے گئے ہیں۔ جسٹس (ر) ناصر الملک کا ماضی اور حال سب کے سامنے ہے اور کوئی بندہ ایسا نہیں ملے گا جو ان کی بطور جج تعریف کئے بغیر رہ سکے انہوں نے ساری زندگی ایسے ہی اچھے انداز میں گزاری ہے۔ بظاہر وہ دھیمے مزاج کے جنٹل مین ہیں مگر ان کے فیصلوں سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ وہ بڑے مضبوط اعصاب کے مالک ہیں اور بغیر خوف وخطر دلیرانہ فیصلے کرتے ہیں۔ کئی مثالیں دی جاسکتی ہیں جن میں سے ایک کا تعلق ان کے عدالت عظمیٰ کے چیف جسٹس ہونے کے دور کے بارے میں ہے۔ جب ہر طرف شوروغوغا تھا اور عمران خان نے آسمان سر پہ اٹھا رکھا تھا کہ 2013ء کے انتخابات میں بڑی دھاندلی ہوئی ہے اس وقت چیف جسٹس ناصر المک نے ایک تین رکنی بینچ کی سربراہی کرتے ہوئے بڑے کمال کا فیصلہ دیا اور وہ کسی قسم کا سیاسی دبائو خاطر میں نہ لائے۔ انہوں نے باقی جج صاحبان سے اختلاف کرتے ہوئے اپنے نوٹ میں لکھا کہ عدالت عظمیٰ کو آئین میں ترمیم کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کرنے کا اختیار نہیں ہے۔ ان کی بطور نگراں وزیر اعظم سلیکشن کی وجہ بھی ان کا بے داغ کردار ہے۔ ان کے بارے میں یہ کہنا کہ یہ کسی کے دبائو میں آکر کوئی فیصلہ کریں گے صحیح بات نہیں ہوگی۔ انہوں نے جو چھ وزیر لئے ہیں وہ بھی غیر متنازعہ ، غیر سیاسی اور اچھی شہرت رکھنے والے لوگ ہیں۔ خیبرپختونخوا میں جسٹس (ر) دوست محمد خان کا بطور وزیر اعلیٰ انتخاب بھی بہترین ہے۔ جب وہ اس سال مارچ میں سپریم کورٹ سے ریٹائر ہوئے تو انہوں نے روایتی عدالتی ریفرنس میں شرکت سے انکار کیا صرف اس وجہ سے کیاکہ وہ ’’سپر جوڈیشل ایکٹوزم‘‘ کے سخت مخالف تھے۔ جب وہ پشاور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس تھے تو اس وقت بھی انہوں نے بڑے اہم اور دلیرانہ فیصلے کئے تھے۔ یہ صوبائی اسمبلی میں اپوزیشن یعنی جے یو آئی (ف) کے نامزد امیدوار تھے جن کا نام باقی تین حضرات کے ساتھ الیکشن کمیشن کو بھجوایا گیا تھا جس نے ان کا نام بطور نگران وزیر اعلیٰ منتخب کیا۔ وزیراعظم جسٹس (ر) ناصر الملک اور ان کے کچھ وزرنے ایک ہی بات کی ہے کہ ان کا کام صرف الیکشن کرانا ہے اور وہ یہ کام 60 دن میں کرا کر گھر چلے جائیں گے۔ یہی بات دوست محمد خان نے بھی کی ہے۔
ویسے بھی آئین اور قانون کے مطابق نگراں حکومت کے اختیارات محدود ہیں مگر ہمارے ہاں یہ کون دیکھتا ہے کہ اس کے پاس کیا اتھارٹی ہے اور کیا نہیں یہاں تو طاقت کا راج ہے جس کے پاس جتنی طاقت ہے اور جس کو وہ بغیر خوف وخطر جتنے زور سے استعمال کرسکتا ہے اسی کا ہی حکم چلتا ہے ۔ الیکشنز ایکٹ کہتا ہے کہ کیئر ٹیکر دور میں اصل اختیارات الیکشن کمیشن کے پاس ہیں اور اس کے مقابلے میں نگراں حکومت کی اتھارٹی صرف اس حد تک ہے کہ وہ ایسے اقدامات کرے جس سے انتخابات مقررہ وقت پر صاف اور شفاف ہوسکیں۔ ابھی تک الیکشن کمیشن نے بھی کافی حد تک صحیح انداز میں ہی کام کیا ہے۔ جونہی اس کے پاس خیبر پختونخوا، پنجاب اور بلوچستان کی پارلیمانی کمیٹیوں نے نگران وزراء اعلیٰ کیلئے نام بھیجے تو اس نے وقت ضائع کئے بغیر ان کا انتخاب کیا۔ جب لاہور ہائی کورٹ کی ایک جج صاحبہ کے فیصلے کی وجہ سے انتخابات کا بروقت انعقاد مشکوک ہوا تو الیکشن کمیشن فوراً حرکت میں آیا تاکہ انتخابات کا پراسس ڈی ریل نہ ہو جائے ساتھ ہی نگراں وزیراعظم نے بھی وزارت قانون و انصاف کو ہدایت کی کہ وہ فوراً اس فیصلے کے خلاف عدالت عظمیٰ میں اپیل فائل کرے۔ اب کاغذات نامزدگی میں معلومات دینے کے سوال کے بارے میں مسئلہ حل ہوگیا ہے اور تمام امیدواروں کیلئے بیان حلفی دینا لازمی قرار دیا گیا ہے جس میں وہ تمام معلومات دینی ہوں گی جو کہ الیکشنز ایکٹ کے مطابق ضروری نہیں تھیں۔ایسا ماحول بن گیا ہے کہ الیکشن وقت پر ہی ہوں گے اب سازشی عناصر اور سیاسی یتیموں کو چاہئے کہ وہ کچھ اورا سکیمیں تیار کریں کہ کس طرح کسی پاپولر سیاسی قوت کو انتخابات میں ہرانا ہے اور الیکشن کے بعد کس طرح اپنی مرضی کی حکومت بنانی ہے تاکہ ہر طرح سے ان کا الو سیدھا ہوتا رہے ملک چاہے سیاسی عدم استحکام کا شکار رہے اور دنیا میں مذاق بنتا رہے۔
(کالم نگار کے نام کیساتھ ایس ایم ایس اور واٹس ایپ رائےدیں00923004647998)

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں