آپ آف لائن ہیں
اتوار 12؍محرم الحرام 1440ھ 23؍ ستمبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے انکشاف کیا ہے کہ وزارت سائنس و ٹیکنالوجی نے ایک ایسے پراجیکٹ کو داخل دفتر کر دیا ہے جس کے تحت ایک پاکستانی بائیولوجسٹ ہیپاٹائٹس سی کا انجیکشن صرف چھتیس روپے میں بنانے کی ”حماقت“ کر بیٹھا تھا۔ یاد ر ہے کہ یہ انجیکشن ہم امپورٹ کرتے ہیں اور یہ ہمیں تقریباً ساڑھے نو سو روپے میں پڑتا ہے۔
الزام عائد کیا جا رہا ہے کہ وزارت مذکورہ کے چند اعلیٰ افسران نے ملی بھگت سے انجیکشن کی پیداوار روکی ہے اور یہ سب کچھ ملٹی نیشنل فارماسوٹیکل کمپنیوں کو خوش کرنے کے لئے کیا گیا ہے۔ یہ اطلاع بھی آ چکی ہے کہ اس متبادل انجیکشن کے پاکستانی موجد ڈاکٹر نے برطانوی میڈیکل ایسوسی ایشن سے بھی تصدیق کروا لی ہے کہ پاکستان میں تیار ہونے والی یہ دوا ہر لحاظ سے بہترین، موثر اور سستی ہے تاہم ڈاکٹر صاحب بیچارے شومئی قسمت سے دھر لئے گئے ہیں۔ آپ کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ پر آ چکا ہے اور آج کل صبح دوپہر شام کرپشن کیس کی تفتیش بھگتنے چلے جا رہے ہیں۔ ایسے موقع پر پنجابی ”ہور چوپو“ کہا کرتے ہیں۔ یعنی اے اللہ کے بندے تجھے کس حکیم نے کہا تھا کہ تو پاکستانی دریا میں رہ کر ملٹی نیشنل مگر مچھوں کو ناراض کرنے کا عظیم الشان پنگا لے بیٹھے۔ اب بھگتو بیٹا یہ دشمنی تمہیں بہت مہنگی پڑے گی۔
یہاں یہ بات بھی یاد رکھنے والی ہے کہ

ہیپاٹائٹس کے حوالے سے پاکستان کا شمار دنیا کے ٹاپ ٹین ممالک میں ہوتا ہے اور اس کی بڑی وجہ بتائی تو پینے کے پانی میں گندگی کی آمیزش ہے مگر یہ صرف بیماری کی وجہ ہے۔ مریض کے لاعلاج ہونے کی وجہ دراصل یہ ہے کہ غریب آدمی کی زندگی بذات خود اتنی مہنگی نہیں ہوتی جتنی کہ ہیپاٹائٹس کی دوایاں۔ یعنی بچوں کا پیٹ بمشکل پالنے والا ایک معمولی مزدور بھلا ایک ہزار روپے کا ایک ٹیکہ کیسے خرید سکتا ہے۔ چنانچہ یا تو وہ تعویز گنڈے کا سہارا لے کر اپنے آپ کو طفل تسلی دینے کی ناکام کوشش کرتا ہے اور یا پھر دو نمبر حکیموں اور عطائیوں کے ہتھے چڑھ کر اپنی دنیا اور ان کی آخرت برباد کرتا رہتا ہے۔ طبی ماہرین کا خیال ہے کہ اگر حالات یہی رہے تو اگلے دس سال میں یہاں ہیپاٹائٹس کے مریضوں میں 70 گنا اضافہ ہو سکتا ہے۔
ہماری اپنی تحقیق تو خیر ابھی ابتدائی مراحل میں ہی ہے مگر شنید یہی ہے کہ وزارت سائنس و ٹیکنالوجی اور وزارت صحت کے چند بڑے افسروں نے ملٹی نیشنل فارما سوٹیکل کمپنیوں سے اوسطاً دو کروڑ روپے فی کس لئے ہیں۔ اس ذلیل حرکت کا ارتکاب کرنے والوں میں کل پانچ وفاقی اور تین صوبائی شخصیات شامل ہیں۔ زیادہ تر سرکاری افسران ہیں جبکہ ایک عدد سیاسی نام بھی سامنے آ رہا ہے۔
بات یہاں پر ختم نہیں ہوتی۔ سچ پوچھیں تو اصل بات شروع ہی یہاں سے ہوتی ہے۔ چاہئے تو یہ کہ اس کیس کو مثال بنا دیا جائے اور فوری طور پر اس کی تحقیقات کروا کر تمام چھوٹے بڑے بے غیرتوں کو عبرت کا نشان بنایا جائے مگر ایسا صرف تب ہوتا اگر یہ سب کچھ پاکستان کے علاوہ کسی اور ملک میں ہوا ہوتا۔ حتیٰ کہ ایتھوپیا اور صومالیہ میں بھی حالات اتنے برے نہیں ہیں جتنے کہ اس مملکت خداداد میں ہو چکے ہیں۔ یہاں اول تو احتساب اور حساب کتاب کا سرے سے رواج ہی نہیں ہے اور اگر کوئی ایک آدھ بدنصیب شخص یا ادارہ اس کام کا بیڑا ا ٹھا بھی لے تو کرپشن میں لتھڑا یہ بدبخت نظام خود کار طریقے سے بدعنوانی کو بچانے چل نکلتا ہے جبکہ رہی سہی کسر وہ ملٹی نیشنل کمپنیاں نکال دیتی ہیں جو پسوؤں کی طرح اس ملک اور معیشت کا خون چوس رہی ہیں۔
یہی حال پولیو کا ہے۔ یعنی دنیا کے وہ تین ممالک جو پولیو کا مکمل صفایا کرنے میں ناکام رہے ہیں ان میں سے ایک پاکستان بھی ہے۔ دیگر بدنصیبوں میں نائجیریا اور افغانستان شامل ہیں۔ اس معاملے میں بھی آپ کو کرپشن اور مس مینجمنٹ یعنی بدعنوانی اور بد انتظامی شانہ بشانہ چلتی دکھائی دیں گی۔
میڈیا آخر ان موضوعات پر کیوں نہیں بولتا۔ صبح دوپہر شام چلنے والے سیاسی ٹاک شوز اور بدذائقہ بدبودار سیاسی تجزیہ اس کم نصیب قوم کی بھلا کیا خدمت کر سکتے ہیں۔ حکومت پنجاب کا تازہ ترین اینٹی کرپشن فیڈ بیک ماڈل نچلی اور عوامی سطح تک تو ٹھیک ہے مگر بالائی سطح پر جو کچھ ہو رہا ہے اس کے لئے سرجری درکار ہے اور وہ صرف اور صرف اسی وقت ممکن ہو گی جب میڈیا اپنی سمتیں اور ترجیحات ازسرنو متعین کرے گا۔
یہ بھی درست ہے کہ میڈیا میں ایسے لاتعداد سر پھرے مجاہد موجود ہیں جو سیاست کی مکھی پر مکھی مارنے کی بجائے خالص معاشرتی موضوعات پر بات کرنا چاہتے ہیں مگر ایک تو ان کے اوپر بیٹھے بعض عناصر انہیں ایسا نہیں کرنے د یتے اور دوسرا یہ کہ ان کے پاس کسی قسم کا انتظامی اختیار نہیں ہوتا چنانچہ اگر وہ کسی ایک برائی کا ڈھنڈورا پیٹتے بھی ہیں تو ان کی یہ کوشش نقار خانے میں طوطی کی آواز ثابت ہوتی ہے اور لا حاصل کا یہ سفریونہی جاری و ساری رہتا ہے۔
اس حوالے سے ہماری گزارش ذاتی تجربے کی بناء پر ہے کہ اخبار میں لکھنے اور ٹی وی پر بولنے والے احباب اگر تھوڑا سا مشکل راستہ اپنا کر صرف ایک ہی چیز یعنی کرپشن کو فوکس کرنے لگیں تو یقین کیجئے یہ ناسور لا علاج نہیں۔ اسے اچھی سرجری کی ضرورت ہے اور وہ صرف میڈیا ہی کر سکتا ہے۔ فی الوقت سیاسی معاملات کو سائڈ لائن کر کے اپنی اولین ترجیح اس عہد کو دیں جو آپ اور آپ کے بزرگ اس مٹی کے ساتھ کر چکے ہیں۔ یہ عہد اگر آج ایفا نہ ہوا تو پھر شاید کبھی موقع ہی نہ ملے۔ اور رہی ریٹنگ… تو یقین کیجئے ریٹنگ صرف اللہ عطا کرتا ہے اور وہ صرف دیکھتا ہے کہ آپ اپنے کام سے انسانیت کی کیا خدمت انجام دے رہے ہیں۔ اور یہ سب کچھ آپ صرف اسی صورت کر سکتے ہیں جب آپ کا اپنا کردار کسی چٹان کی طرح مضبوط اور آپ کے اپنے ارادے ہمالیہ کی طرح بلند ہوں۔ اگر ایسا نہیں ہے تو پھر زحمت مت کیجئے، وہی کیجئے جو آپ کر رہے ہیں!

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں