• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
,

پیپلزپارٹی انتخابات میں غیبی امداد کی منتظر؟

پیپلزپارٹی انتخابات میں غیبی امداد کی منتظر؟

تجمل گرمانی

پاکستان پیپلزپارٹی کے چئیرمین بلاول بھٹو الیکشن سے قبل انتخابی نشان تلوار حاصل کرنے میں کامیا ب ہو گئے لیکن موجودہ الیکشن پاکستان پیپلزپارٹی پارلیمنٹرین ، انتخابی نشان تیر اورآصف علی زرداری کی چیئرمین شپ میں لڑا جارہا ہے ۔ صوبہ پنجاب میں پیپلز پارٹی جنوبی پنجاب اور وسطی پنجاب کی دو الگ الگ تنظیمیں ہیں لیکن دونوں جگہوں میں قومی اور صوبائی اسمبلیوں کے امیدواروں کے نام پورے کرنے مشکل ہو گئے ہیں۔ پاکستان تحریک انصاف اور مسلم لیگ ن کی جانب سے امیدواروں کے ناموں کا اعلان کر دیا گیا لیکن پیپلزپارٹی پارلیمنٹرین کے چیئرمین آصف علی زرداری جو عید سے قبل بلاول ہائوس لاہور میں پنجاب کے پارٹی امیدواروں کی فہرستیں مکمل کر چکے تھے انھوں نے ناموں کا اعلان موخر کر دیا اور ایک ہفتے کی تاخیر کے بعد جب تحریک انصاف اور مسلم لیگ ن دونوں نے پنجاب میں امیدواروں کے نام جاری کر دئیے تو پیپلزپارٹی نے ان کے بعد پارٹی امیدواروں کا اعلان کیا ، پیپلز پارٹی آخر تک اس تذبذب کا شکار رہی کہ ان کی فہرست میں شامل امیدوار پارٹی چھوڑ نہ جائیں جبکہ اس بات کی منتظر بھی رہی کہ ددنوں مخالف بڑی پارٹیوں میں مسترد امیدواروں میں کو ن رابطے کرے گا جسے پیپلز پارٹی ٹکٹ دے گی۔ پیپلزپارٹی کے موجودہ الیکشن میں امیداروں کے چنائو میں تین کمزوریاں کھل کر سامنے آئیں پرانے پارٹی رہنمائوں نے ٹکٹوں کی درخواستیں جمع نہیں کرائیں ، سابق ارکان اسمبلی تحریک انصاف میں شامل ہو گئے، ، بعض امیدواروں کی مضبوط سیاسی ساکھ نظر انداز کر کے من پسندافراد کو نواز دیا گیا جس سے رہی سہی ساکھ بھی ختم ہو گئی ۔ خواتین کی مخصو ص نشستوں پر تو اقربا پروری کی انتہا ہو گئی جہاں خواتین کارکنوں کو نظر انداز کر کے آصف زرداری اور فریا ل تالپور کی فیورٹ خواتین کو نامزد کر دیا گیا ،پیپلزپارٹی کی ٹکٹیں جاری ہونے کے بعد الیکشن مہم میں پیپلزپارٹی کی تنظیمیں غیر فعال اور کمزور کر دار ادا کر رہی ہیں ، پیپلزپارٹی کے امیدواروں کی حمایت میں جلسے ، جلوس اور ریلیاں کر کے سیاسی ماحول گرم ہو سکتا ہے لیکن مرکزی قیادت سیکورٹی کلئیر نس کی وجہ سے بذبذب کا شکار ہے ۔

پاکستان پیپلزپارٹی پر امید تھی کہ صوبہ پنجاب سے قومی اسمبلی کی 30نشستوں پر کامیابی حاصل کرے گی اور اس کے لئے گزشتہ سال سے ہوم ورک ہو رہا تھا لیکن گزشتہ سال جولائی میں میاں نوازشریف کی وزارت عظمی سے نااہلی اوربدعنوانی کے مقدمات کے بعد حالات یکسر بدل گئے ۔ مسلم لیگ ن اور پیپلزپارٹی کے ارکان اسمبلی اور رہنمائوں کی بڑی تعداد دونوں پارٹیوں کو چھوڑ کر پاکستان تحریک انصاف میں شمولیت اختیار کرنا شروع ہو گئی جس سے حالات یکدم تبدیل ہو گئے اور پیپلزپارٹی کو شدید دھچکا لگا۔ الیکشن شیڈول کا اعلان ہوا تو سب سے بڑی پریشانی کا سامنا تب ہوا جب امیدواروں نے ٹکٹوں کے لئے درخواستیں دینے میں عدم دلچسپی کا اظہار کیا اور متعدد حلقے خالی ہو گئے ۔ پیپلزپارٹی جنوبی پنجاب اور وسطی پنجاب کے دیہی حلقوں میں بظاہر مقبولیت کے دعوے کر رہی تھی لیکن یہ دعوے اس وقت دھرے کے دھرے رہ گئے جب ان کے اپنے امیدوار تحریک انصاف میں چلے گئے ، جنوبی پنجاب صوبہ محاذ ملتان، ڈیرہ غازی خان اور بہاولپور میں سرگرم ہو گیا جن سیاسی رہنمائوں سردارذوالفقار علی کھوسہ، نواب آف بہاولپور صلاح الدین عباسی سمیت دیگر سیاسی شخصیات جنھوں نے آصف علی زرداری سے ذاتی ملاقاتوں میں شمولیت کی خواہش کا اظہار کیا انھوں نے بھی تحریک انصاف سے رجوع کر لیا اور آصف علی زرداری کی ساری کوششیں رائیگاں چلی گئیں۔ وسطی پنجاب میں لاہور ، گوجرانوالہ ، فیصل آباد، شیخوپورہ، ساہیوال، راولپنڈی سمیت دیگر اضلاع میں پارٹی تنظیمیں کمزور ہونے کی وجہ سے پارٹی مشکلات میںگھری ہوئی ہے اور مقامی سطح پر انتخابی ایڈجسٹمنٹ کا امکان ہے ۔ لاہور میں قومی اسمبلی کے 14اور پنجاب اسمبلی کے 30حلقوں میں اگرچہ پیپلزپارٹی کے امیدوار انتخابی میدان میں موجود ہیں ، لاہور میں پیپلزپارٹی گزشتہ انتخابات کے دوران صرف واہگہ بارڈر، فیروز پور روڈ اور رائیونڈ کے دیہی حلقوں سے کامیاب ہو تی رہی ل، موجود ہ الیکشن میں صرف این اے 132میں ثمینہ گھرکی مضبوط امیدوار تھیں لیکن وہاں بھی میاں شہباز شریف میدان میں اتر آئے اور بظاہر لاہور میں جیت مسلم لیگ ن اور تحریک انصاف کے امیدواروں کی ہو گی ۔ پیپلزپارٹی لاہور کے سنیئر ترین رہنما نے دعویٰ کیا کہ ان کے چار امیدوار کامیابی حاصل کریں گے ان سے امیدواروں کے نام دریافت کئے تو انھوں نے کہا غیب کا علم اللہ تعالیٰ جانتا ہے ۔ پیپلزپارٹی کی تنظیمی کمزوریاں الیکشن کے دوران کھل کر سامنے آرہی ہیں۔ اس وقت سے بڑا نقصان تنظیم سازی کا فقدان ہے ۔ پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو نے اپریل 2016میں تمام مرکزی ، صوبائی ، ضلعی سمیت ذیلی ونگز کی تنظیموں کو معطل کر کے نئے الیکشن کا اعلان کیا لیکن دو سال کا طویل عرصہ گزرنے کے بعد بھی تنظمیں مکمل نہ ہو سکیں۔ جن افراد کو عہدے دئیے گئے ان میں بعض اعلیٰ عہدیدار صوبائی جنرل سیکرٹری ندیم افضل چن پارٹی چھوڑ کر تحریک انصاف میں شامل ہو گئے ، صوبائی سیکرٹری اطلاعات مصطفیٰ نواز کھوکھر سینیٹ کے ممبر بننے کے بعد عہدہ چھوڑ گئے اور ابھی تک عہدہ خالی ہے۔

پیپلزپارٹی جنوبی پنجاب کے کو آرڈی نیٹر عبدالقادر شاہین ان تمام حالات کے باوجود پرامید ہیں کہ پیپلزپارٹی جنوبی پنجاب کے متعدد امیدوار ملتان میں یوسف رضا گیلانی اور ان کے بیٹے، رحیم یار خان میں مخدوم احمد محمود اور ان کے بیٹے ، سابق ایم این اے قطب غلام فرید کوریجہ، مظفر گڑھ میں حنا ربانی کھر ، ان کے والد نور ربانی کھر، قیوم جتوئی ، جھنگ سے مخدوم فیصل صالح حیات کامیاب ہو گے ، وسطی پنجاب کی قیادت دعو ی کرتی ہے کہ سابق وزیر اعظم راجہ پرویز اشرف، قمر زمان کائرہ سمیت بعض دیگر ان کے مضبوط امیدوار ہیں لیکن حقیقت یہی ہے کہ جنوبی پنجاب میں مسلم لیگ ن کا صفا یا ہو چکا ہے اور وہاں اصل مقابلہ تحریک انصاف، پیپلزپارٹی اور آزاد امیدواروں کے درمیان ہو گا جبکہ وسطی پنجاب میں بلامبالغہ مسلم لیگ ن اور تحریک انصاف کے امیدواروں کے درمیان اصل مقابلہ ہو گا اور پیپلزپارٹی کے امیدواروں کی غیبی امداد کے بغیر جیت مشکل ہو گی۔ پیپلزپارٹی کو صوبہ جنوبی پنجاب کے قیام کے نعرے کی وجہ سیاسی حمایت حاصل تھی لیکن جنوبی پنجاب صوبہ محاذ کی وجہ سے پیپلزپارٹی کے غبارے سے ہوا نکل گئی ہے اور وہاں جنوبی پنجاب صوبہ محاذ کے قومی اسمبلی کے نو اور صوبائی اسمبلی کے گیارہ حلقوں میں امیدوار صوبہ جنوبی پنجاب کا نعرہ لگا کر بھرپور انتخابی مہم میں مصروف ہیںجس کا نقصان پیپلزپارٹی کو پہنچے گا اور وہاں جنوبی پنجاب صوبہ محاذ کے امیدوار جو تحریک انصاف کی ٹکٹوں پر الیکشن لڑ رہے ہیں ان کی جیت کے واضح امکانات ہیں ۔ پیپلزپارٹی نے خواتین کی مخصو ص نشستوں پر پنجاب کی صدر ثمینہ گھرکی کو نظر انداز کر دیا گیا ، پہلی ترجیح حنا ربانی کھر کو دی گئی نیلم جبار دوسری ، پلواشہ خان تیسری ، یوسف رضا گیلانی کی رشتہ دار عطر ت بانو گیلانی چوتھی ، مہرین انور راجہ پانچویں ، نتاشہ دولتانہ چھٹی اور ناصرہ میو ساتویں نمبر پر ہیں یہ تمام خواتین آصف علی زرداری اور فریال تالپور کی حمایت یافتہ ہیں جبکہ بیگم بیلم حسنین دیگر قربانیا ں دینے والی خواتین ترجیحی فہرست میں آخر میں رکھی گئیں جس وجہ سے خواتین کارکنا ن قیادت سے ناراض ہو گئی ہیں جس سے پارٹی تنظیم مزید کمزور ہو گئی ہے ۔ 

تازہ ترین
تازہ ترین