آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
ہفتہ 8 ؍ربیع الاوّل 1440ھ 17؍نومبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

کراچی والوں سے ایک سادہ سا سوال ہے کہ شہباز شریف نے بھلا ایسا کیا کہہ دیا جس پر اتنی قیامت ٹوٹ پڑی ہے؟ یہ متنازع بیان گزشتہ ہفتے شہر میں شہباز شریف کی مصروفیات کے دوران ایک صحافی کے سوال پر اِن کے جواب سے منسوب کیا گیا ہے۔ سارا جھگڑا مذکورہ جملے میں ’کرانچی‘ اور ’پان‘ جیسے الفاظ کے استعمال کے سبب شروع ہوا اِس لئے سوچا کہ اِس بیان کی ویڈیو صحیح طرح دیکھ کر سمجھنے کی کوشش کی جائے کہ اصل معاملہ کیا ہوسکتا ہے۔
سوشل میڈیا پر دستیاب اِس ویڈیو میں شہباز شریف کسی صحافی کے سوال پر لفظ بہ لفظ یہ کہتے ہوئے دیکھے اور سنے جاسکتے ہیں: ’’میں آپ کو حقیقت بتارہا ہوں کہ کرانچی نہیں، کراچی کو ان شاء اللہ (اِس لمحے حاضرین کے ہنسنے پر خادم اعلیٰ خود بھی ہنس پڑتے ہیں) میں ان شاء اللہ جو ہمارے بھائی بہن یہاں پر جو پان کھانے والے ہیں، اُن کے کرانچی کو میں لاہور بنائوں گا ان شاء اللہ، اور جو کراچی میں رہتے ہیں اُن کو کراچی میں ان شاء اللہ لاہور سے بہتر بناکے دوں گا۔‘‘ دیکھا جائے تو شہباز شریف کے اِس جملے پر یقیناً اردو گرامر، سیاسی خطابات وتقاریر کی نذاکتوں، خاص طور پر انتخابی مہم کے آداب اور ان کی حساسیت اور عمومی شگفتگی کے واضح فقدان کے تناظر میں کڑی تنقید کی جاسکتی ہے۔ لیکن اِن معاملات پر کوئی ردعمل سامنے نہیں

آیا کیوں کہ پاکستانی سیاست دانوں میں تقاریر کے دوران اِن نزاکتوں کو ملحوظ خاطر رکھنے کی اہلیت کبھی تھی ہی نہیں۔ اِسی روایت کے تحت شہباز شریف سے زبان کے قواعد و ضوابط کا خیال رکھنے کی توقعات وابستہ کرنا بھی دُرست نہیں۔
جہاں تک اردو زبان کی روایتی شائستگی کا سوال ہے تو میری ناقص رائے میں اس حوالے سے صرف اہل زبان پر ہی تنقید کی جاسکتی ہے۔ شریف برادران کا اِن معاملات سے بھلا کیا تعلق! رہی بات انتخابی تقاریر سے متعلق حساسیت کی تو عرض ہے کہ تین بار عوام کا وو ٹ حاصل کرکے حکومت بنانے والی کسی بھی سیاسی شخصیت میں رعونت پیدا ہوجانا فطری عمل ہے لہٰذا ایسی نفسیاتی صورتحال میں حساسیت کا پرندہ کبھی پر نہیں مارسکتا۔ مذکورہ بیان میں روانی اور خود اعتمادی کا فقدان بھی واضح ہے۔ ادائیگی میں لکنت جیسی کیفیت اور حاضرین کے سامنے ہنس پڑنا اشارہ ہے کہ اُنہیں خدشہ تھا کہ وہ یقیناً کوئی غلطی کررہے ہیں۔ یعنی ہنس کر وہ صورتحال کی شدت کم کرنا چاہ رہے ہیں! مزید یہ کہ ’’کرانچی والوں‘‘ اور ’’کراچی میں رہنے والوں‘‘ میں کیا فرق ہوتا ہے یہ خود شہباز شریف ہی بہتر بتا سکتے ہیں۔
اِن تمام تر کمزوریوں کے باوجود اِس جملے کی ویڈیو بار بار دیکھنے پر بھی وہ سب کچھ حاصل نہیں ہو سکا جس پر اتنا شور اُٹھا تھا۔ کوئی غیر جانب دار ذہن مذکورہ جملے میں اہل کراچی کی تضحیک کا کوئی پہلو تلاش نہیں کرسکتا۔ البتہ بات کا بتنگڑ تو کبھی بھی بنایا جاسکتا ہے۔ انتخابات قریب آتے ہی سیاسی رقابتیں سر چڑھ کر بولتی ہیں، خاص طور پر اُس امیدوار کے خلاف جس کی کارکردگی نسبتاً بہتر ہو۔ شہباز شریف لاہور اور پنجاب میں کارکر دگی کے تناظر میں کسی حد تک بہتر مانے جاتے ہیں۔
مذکورہ جملہ نشر ہوتے ہی ٹی وی پر چند امیدوار اور اینکرز کچھ اس طرح پان کھاتے نظر آئے گویا پان بنانے، پیش کرنے، کھلانے اور کھانے کی روایات کے چند صحیح علمبردار سوچتے ہی رہے کہ کیا کوئی پان کے ساتھ اِس سے زیادہ برا سلوک کر سکتا ہے؟ بہرحال، ثقافت اور تلفظ کے اِس غیر منطقی جھگڑے میں کراچی یا کرانچی اور لاہور یا لہور کے تازہ ترین سیاسی ماحول سے متعلق چند حقائق پس منظر میں جاتے ہوئے محسوس ہورہے ہیں۔
تلفظ کے مسائل پر پچھلے ادوار میں لکھنوی، دہلوی، لاہوری اور اردو کے دیگر مکاتب فکر سے تعلق رکھنے والوں میں مستقل تکرار رہی ہے۔ لیکن اسٹیشن میں ’الف‘ ہونے یا نہ ہونے، یا اسٹیشن کو ٹیشن بولنے یا شین قاف کے صحیح یا غلط ہونے سے متعلق یہ سارے تنازعات مباحثوں کے بجائے ارتقائی عمل کے ذریعے خود بہ خود حل ہوجاتے ہیں۔ لہٰذا ایسے مباحثوں کے ذریعے لسانی تعصب کے جذبات بھڑکانے کے بجائے اُنہیں نظر انداز کردینا یقیناََ ایک بہتر عمل ہے اور پھر ویڈیو دیکھ کر صاف محسوس ہوتا ہے کہ شہباز شریف کراچی والوں سے قریب ہو کر اِن ہی کے انداز میں مخاطب ہونا چاہتے تھے لیکن بات بن نہ سکی۔
جدید جمہوری تقاضوں کے تحت زیر زبر کے اختلافات میں جان ہلکان کرنے کے بجائے آزاد سیاسی ماحول کی تشکیل زیادہ ضروری ہے تاکہ عوام بلاخوف و خطر ووٹ دینے پولنگ اسٹیشنز ضرور جائیں۔ ساتھ ہی ساتھ انتخابات میں حصہ لینے والا ہر امیدوار بھی سیاسی جبر سے آزاد انتخابی ماحول کا حقدار ہے۔ خاص طور پر کرانچی اور لہور سے تعلق رکھنے والے وہ امیدوار اور نمائندے جن کا کہنا ہے کہ اُنہیں جان بوجھ کر قانونی، ریاستی اور سیاسی ہتھکنڈوں کے ذریعے انتخابی عمل سے دور رکھنے کی کوشش کی جارہی ہے۔
سچ یہ ہے کہ تھوڑے بہت فرق کے ساتھ پاکستان کے تمام بڑے شہروں کا حال ترقیاتی حوالوں سے انتہائی نا گفتہ بہ ہے۔ گزشتہ روز لہور میں بارش کے بعد شہر کا حال دیکھ کر اب کرانچی والے یقیناً یہ سوچ کر زیادہ فکر مند ہیں کہ کہیں شہباز شریف اب سچ مچ اِن کے شہر کو لہور نہ بنا ڈالیں۔ دوسری جانب پشاور، ملتان، حیدرآباد، لاڑکانہ اور کوئٹہ سمیت دیگر نسبتاً چھوٹے شہروں کے حالات بھی زیادہ مختلف نہیں۔ فرق پڑتا ہے توصرف اِنتخابی ماحول پر جو بظاہر کرانچی اور لہور کے مقابلے میں دیگر شہروں میں ان دِنوں نسبتا ً آزاد دکھائی دیتا ہے۔ کسی امیدوار کی نااہلی، کسی پر پابندی یا کسی سیاسی سورما کے مد مقابل کھڑے ہونے والے کم حیثیت کے امیدوار کی راتوں رات گرفتاری جیسے واقعات ان دوشہروںکے انتخابی وسیاسی ماحول میں عام ہوتے جارہے ہیں۔ کراچی، کوئٹہ اور پشاور ماضی کے کئی ادوار میں چند حوالوں سے ملتے جلتے حالات کا شکار رہے ہیں۔ اِن شہروں میں سرگرم کچھ پر اسرار عناصر تشدد اور دہشت گردی میں ملوث رہے اور مختلف ادوار میں اِن شہروں میں ووٹ بینک کے ساتھ بھی کھلواڑ کرتے رہے۔ اور اَب لاہور بھی بدقسمتی سے اِن کی لپیٹ میں ہے۔
صورتحال یہ ہے کہ پنجاب میں نون لیگیوں اور پیپلز پارٹی کے چند امیدواروں کو نامزدگیاں واپس لینے کا کہا گیاہے۔ دوسری جانب آزاد امیدواروں کی ایک بڑی تعداد انتخابات میں حصہ لے رہی ہے اور عجیب بات ہے کہ ان میں بہت سے امیدواروں کو جیپ ہی کا نشان الاٹ کیا گیاہے، وہی انتخابی نشان جو چوہدری نثار علی خان کو الاٹ ہوا ہے۔
شفافیت دراصل جمہوریت کی ناگزیر ضرورت ہے۔ اِس کے لئے لازم ہے کہ انتخابی سیاست میں انجینئرنگ کے فلسفے کو ایک بار ہمیشہ کے لئے رد کرکے ووٹرز کی حیثیت کو حتمی اور فیصلہ کن تسلیم کرلیا جائے اور شفاف انتخابی عمل کے ذریعے ووٹوں کی گنتی کے تحت کئے گئے فیصلوں کو ہی آخری سمجھا جائے۔
(کالم نگار کے نام کیساتھ ایس ایم ایس اور واٹس ایپ رائےدیں00923004647998)

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں