آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
بدھ12 ربیع الاوّل 1440ھ 21؍نومبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
جنوبی پنجاب سے وسطی پنجاب تک بلاول کا قافلہ

شریف فیملی کے خلاف ایون فیلڈ ریفرنس میں احتساب عدالت کے فیصلہ نے سیاست میں ایک نئی ہلچل مچا دی ہے۔ نواز شریف کو 10 سال ، مریم نواز کو 7 سال اور کیپٹن (ر) صفدر کو ایک سال کی سزا پاکستان کی سیاسی تاریخ میں بہت بڑا واقعہ ہے کیونکہ یہ سزائیں کرپشن کے الزام میں دی گئی ہیں اور نواز شریف جو پہلے ہی سپریم کورٹ کے حکم سے نااہل ہوگئے تھے اب اس فیصلہ کی وجہ سے مجرم بھی قرار پائے ہیں۔ انہوں نے 13 جولائی کو پاکستان واپس آنے کا اعلان کر رکھا ہے اور مسلم لیگ ن کے کارکن اور رہنما یہ آس لگائے بیٹھے ہیں کہ 13 جولائی کو اگر لاہور ایئرپورٹ پر نواز شریف اور مریم نواز کا لاکھوں لوگ استقبال کرنے پہنچ جاتے ہیں تو اس کے 25 جولائی کو ہونے والے انتخابات پر گہرے اثرات مرتب ہوں گے۔ اس وقت مسلم لیگ ن کی انتخابی مہم بے جان انداز سے چل رہی ہے اور ن لیگ کے ٹکٹ پر انتخابات میں حصہ لینے والے جب اپنے حلقہ انتخاب میں جاتے ہیں تو انہیں طرح طرح کے سوالات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ان کے پاس ایسا کوئی بیانیہ نہیں ہے جس کی بنیاد پر وہ عوام سے ووٹ مانگ سکیں کیونکہ جو بیانیہ نواز شریف نے اختیار کیا تھا ’’وٹ کو عزت دو‘‘ والا اسے شہباز شریف نے بھی نہیں اپنایا اور وہ بھی اپنی انتخابی مہم اپنی اور نواز شریف کی کارکردگی کے واقعات بیان کرتے ہوئے چلا رہے ہیں۔ نواز شریف کو سزا ہونے کے بعد اگرچہ مسلم لیگ ن یہ دعویٰ کر رہی ہے کہ انہیں کرپشن کے الزام میں سزا نہیں ہوئی مگر حقیقت یہ ہے کہ نیب قوانین کے مطابق کرپشن ہی اس فیصلہ کی بنیاد بنی ہے۔ اب اس کا دفاع کرنے کیلئے لیگی امیدواروں کے پاس کوئی ٹھوس دلائل نہیں ہیں۔ اس تناظر میں نواز شریف کی 13جولائی کو آمد سے کم از کم یہ ضرور ہوگا کہ ن لیگ کے امیدواروں کو اخلاقی ڈھارس ملے گی اور وہ یہ کہہ سکیں گے کہ نواز شریف اور مریم نواز اس کیس میں بے گناہ ہیں۔ اس لئے انہوں نے واپس آکر قانونی جنگ لڑنے کا فیصلہ کیا ہے۔ ادھر تحریک انصاف کو اس فیصلہ سے اخلاقی طور پر بڑی کامیابی حاصل ہوئی ہے کیونکہ عمران خان کا موقف یہی تھا کہ نواز شریف نے اربوں روپے کی منی لانڈرنگ کی ہے اور اس سے برطانیہ میں لاکھوں روپے کی جائیداد خریدی ہے۔ بظاہر یوں لگ رہا ہے کہ تحریک انصاف کا راستہ صاف ہوچکا ہے لیکن ایسا کہنا قبل از وقت ہوگا کیونکہ نواز شریف اگر کل پاکستان آجاتے ہیں اور وہ اڈیالہ جیل میں ایام اسیری گزارتے ہیں تب بھی ان کی پاکستان میں موجودگی مسلم لیگ ن کو سیاسی طور پر تقویت بخشے گی۔ اگر وہ مختلف ملاقاتوں کے ذریعے اپنے پیغامات کارکنوں تک پہنچاتے رہے اور میڈیا انہیں اہمیت دیتا رہا تو ن لیگ کی انتخابی مہم میں ایک نئی جان پڑ جائے گی اور وہ موقف جو نواز شریف نے اپنی نااہلی کے بعد سے اختیار کر رکھا ہے ایک بڑا سیاسی نکتہ بن جائے گا جس کے گرد آنے والے انتخاب کے نتائج گھومتے نظر آئیں گے۔

گھومتے تو بلاول بھٹو زرداری بھی پورے جلال و جمال کے ساتھ نظر آ رہے ہیں۔ انہوں نے منفرد طریقہ سے اپنی انتخابی مہم کا آغاز کیا۔ کراچی سے سڑک پر روانہ ہوئے اور اب وہ پنجاب کی حدود سے گزر رہے ہیں۔ جگہ جگہ شہر شہر انہوں نے جلسے کئے۔ ریلیوں سے خطاب کیا اور اپنے کارکنوں اور حمایتیوں کا لہو گرمایا۔ ان کی الیکشن مہم جو ٹیمپو اب بن چکا ہے وہ بہت حوصلہ افزا ہے لیکن اس سے پہلے یہ سمجھا جا رہا تھا کہ پیپلزپارٹی اس بار ایک بھرپور انتخابی مہم چلانے کے قا بل بھی نہیں ہے لیکن بلاول بھٹو زرداری کی اس تسلسل کے ساتھ چلنے والی انتخابی ریلی سے کافی حد تک حالات کا رخ پیپلزپارٹی کی طرف موڑ لیا ہے۔ خان گڑھ میں ان کے جلسہ کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ وہ ان جلسوں سے بڑا تھا جو نوابزادہ نصراللہ خان کی زندگی میں بے نظیر بھٹو نے کئے۔ بلاول بھٹو کو جب اوچ شریف جانے سے روکا گیا تو پورے ملک میں پیپلزپارٹی کے حامیوں نے بھرپور احتجاج کیا اور اسے پنجاب کی اسٹیبلشمنٹ کی سازش قرار دیا لیکن جلد ہی الیکشن کمیشن کے نوٹس پر بلاول بھٹو کو اوچ شریف جانے دیا گیا اور یہ ہدایات بھی جاری کردی گئیں کہ آئندہ ان کے کسی شہر میں داخلے کو نہ روکا جائے۔ ملتان میں انہوں نے یوسف رضا گیلانی کی انتخابی مہم پر خصوصی وقت اور توجہ دی۔ ملتان سے پیپلزپارٹی کی ایک بڑی ریلی ان کی قیادت میں شجاع آباد گئی جہاں سے قومی حلقہ 158 میں یوسف رضا گیلانی امیدوار ہیں۔ ملتان سے شجاع آباد تک سارے راستے پیپلزپارٹی کے حامیوں اور کارکنوں نے جگہ جگہ استقبالی کیمپ لگا رکھے تھے۔ اس لئے کئی جگہوں پر بلاول بھٹو زرداری کو خطاب بھی کرنا پڑا۔ شجاع آباد میں ان کی ریلی ایک بڑے جلسے میں تبدیل ہوگئی اور یہ کہنا بے جا نہیں ہوگا کہ یہ شجاع آباد کی تاریخ کا کامیاب جلسہ تھا۔ اس میں انہوں نے ایک بار پھر اس وعدے کو دہرایا کہ جنوبی پنجاب کو علیحدہ صوبہ بنانے کیلئے پیپلزپارٹی بھرپور کوشش کرے گی۔ انہوں نے پارٹی کے اس نئے منشور کو بھی اپنی تقریر میں جگہ دی کہ کسانوں ، مزدوروں اور پسماندہ طبقوں کیلئے پیپلزپارٹی اقتدار میں آکرر ایسے پیکیج متعارف کرائے گی جن سے ان کے حالات بدلنے میں مدد ملے گی۔ بلاول بھٹو کا قافلہ ا ب لاہور کی طرف رواں دواں ہے جس کے بعد وہ وسطی پنجاب میں داخل ہو جائیں گے جو مسلم لیگ ن کا گڑھ سمجھا جاتا ہے۔ دیکھنا یہ ہے کہ جو استقبال ان کا جنوبی پنجاب میں ہوا ہے کیا وسطی پنجاب سے بھی انہیں عوام اسی طرح کی پذیرائی بخشتے ہیں۔ اگر ایسا ہوا تو یہ کہنا بجا ہوگا کہ بلاول بھٹو زرداری نے اپنی ا نتھک انتخابی مہم سے پیپلزپارٹی کے حامیوں کو ایک نئی زندگی دی ہے اور 25 جولائی کو جو یہ سمجھا جا رہا تھا کہ پیپلزپارٹی کہیں نظر نہیں آئے گی اب وہ ایک بڑی جماعت کے طور پر اپنے انتخابی نتائج میں موجود ہوگی۔

نتائج تو نہ جانے تحریک انصاف کے ملتان میں کیا نکلتے ہیں کیونکہ فی الوقت صورتحال کچھ ایسی ہے کہ ملتان کے کئی حلقوں میں تحریک انصاف بمقابلہ تحریک انصاف کا سلسلہ نظر آتا ہے۔ تحریک انصاف کے وہ رہنما اور کارکن جنہوں نے گزشتہ پانچ برسوں میں پارٹی کو مقبول بنانے میں خاصی جدوجہد کی ہے انہیں ٹکٹ نہ ملنے کا اس قدر رنج ہوا ہے کہ وہ اپنے حلقوں سے آزاد امیدوار کھڑے ہوگئے ہیں اور انہوں نے تحریک انصاف کے بڑے امیدواروں کا ڈٹ کر مقابلہ کرنے کا عزم ظاہر کیا ہے۔ مثلاً شاہ محمود قریشی صوبائی حلقہ 217 سے ہی امیدوار ہیں لیکن ان کے مقابلہ میں مسلم لیگ ن کے علاوہ تحریک انصاف کے ایک سرگرم نوجوان کارکن سلمان نعیم آزاد حیثیت سے حصہ لے رہے ہیں۔ شاہ محمود قریشی انہیں اپنا دایاں بازو کی حیثیت سے ہمیشہ اپنے ساتھ رکھتے رہے لیکن جب ٹکٹ دینے کا وقت آیا تو انہیں ٹکٹ دینے کی بجائے خود امیدوار بن گئے۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں

تجزیے اور تبصرے سے مزید
تبصرے سے مزید
سیاست سے مزید