آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
منگل4؍ربیع الاوّل 1440ھ13؍نومبر 2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
کریڈٹ کارڈ کی شروعات اور معاشی ضروریات

ہمیں اکثر بینکوں سے فون آتے ہیں کہ سریامیڈم کریڈٹ کارڈ بنوالیں اور ہمیں اس کے فوائد کے بارے میں بتایا جاتا ہے۔بینک کا نمائندہ ہمیں باور کراتاہے کہ کریڈٹ کارڈ بڑے فائدے کی چیز ہے وغیرہ وغیرہ۔بینک والے معلومات فراہم کرکے اپنا فرض پورا کرتے ہیںلیکن یہ آپ کے اختیار میں ہے کہ کئی سال پہلے متعارف ہونے والی پلاسٹک یا لیکویڈ منی کی یہ شکل اپناناچاہتے ہیں یا نہیں۔کریڈٹ کارڈ کا فائدہ مند استعمال کرنا اوراس کے ذریعے اپنی روزمرہ کی ضروریات کو پورا کرنا ، دانشمندی اور ذہانت کا متقاضی ہے۔

شروعات کیسے ہوئی ؟

پہلا خیال تو یہ ہے کہ پیمنٹ کارڈجاری کرنے کی طرف پہلا قدم امریکا کی ایک کمپنی نے اٹھایا، جب اس نے1914 ءمیں اپنے بعض خاص صارفین کوواجبات کی ادائیگی میں مہلت وسہولت فراہم کرنے کی غرض سے ایک کارڈجاری کیا۔ 1917ءمیں بعض بڑے ہوٹلوں، کاروباری مراکز، پیٹرولیم کمپنیوں اوراسٹیل ملزنے وسیع پیمانے پرخاص طرزکے کارڈجاری کیے، جوصرف انہی مذکورہ بالااداروں میں استعمال کیے جاسکتے تھے۔ اسی بنیاد پر 1924ء میںجنرل پیٹرولیم کارپوریشن نے عمومی سطح پرکیلی فورینا میں ایک حقیقی کریڈٹ کارڈجاری کیا تاکہ اس کمپنی سے پیٹرولیم موادخریدنے والے صارفین اس کارڈکی بنیادپرفی الفور ادائیگی کے بجائے، آئندہ کی مقررہ تاریخوں میں ادائیگی کرسکیں۔

دوسرا خیا ل یہ ہے کہ نابلس کے نزدیک ڈنرز کلب کے نام سے کارڈ جاری کرنے والی کمپنی 1949ءمیں قائم کی گئی، ابتداء میںاس کمپنی نے صرف شام کاکھانا ہوٹلوں پر کھانے والوںکوکارڈجاری کیا۔1951ءمیں بینکوں نے اس طرف پیش قدمی کی اور نیویارک، امریکا میں فرینکلین نیشنل بینک نے کریڈٹ کارڈجاری کیا۔ کریڈٹ کارڈکے ذریعہ ادائیگی کے نظریہ کی کامیابی سے فائدہ اٹھاتے ہوئے دوسال کے قلیل عرصہ میں امریکا کی مختلف ریاستوں میں100کے قریب بینکوں نے کارڈجاری کرناشروع کیے۔ 1955ء میںفرسٹ نیشنل بینک آف بوسٹن نےچیکس کریڈٹ  پلان کے نام سے کریڈٹ کی دنیا میں ایک نیا پلان پیش کیا، جس کی وجہ سے کریڈٹ کارڈنے مزیدترقی کی راہیں طے کیں، اس خاص پلان کا مقصدبینکوں کے صارفین کومشینوں کے ذریعےقرضے کی سہولت فراہم کرنا تھا، بینکوں نے اس حوالے سے مزیدپیش رفت کی، یہاں تک کہ کارڈہولڈرکی طرف سے جاری ہونے والے چیک(Cheque Guarantee Card) اوراس میں لکھی ہوئی رقم کی ادائیگی کی ضمانت بھی بینکوں نے قبول کرنا شروع کر د ی۔1959ء میں امریکاکے سب سے بڑے بینک، بینک آف امریکا نے بھی کریڈٹ کارڈجاری کرناشروع کیا۔

بینک آف امریکا نے کارڈکی مانگ کودیکھتے ہوئے دیگربینکوں کے تعاون سےنیشنل بینک امریکا کارڈ کارپوریشن کے نام سے”کریڈٹ کارڈ“جاری کرنے اوراس کے تمام معاملات کے لیے ایک دوسرا ادارہ قائم کیا۔بینکوں کے اسی مذکورہ تعاون اورباہمی اشتراک کے نتیجے میں ماسٹر کا ر ڈ وجودمیں آیا۔ اس کارڈکوعوام کی طرف سے زبردست پذیرائی حاصل ہوئی۔ ماسٹر کارڈ کی شاندارکامیابی کے بعد1977ءمیں بعض بینکوں نے باہمی تعاون اوراشتراک سےویزا کارپوریشن کے نام سے ایک اورادارہ بنایا، جوویزاکے نام سے کریڈٹ کارڈاوردیگرکارڈجاری کرنے لگا۔اس دوران عالمی سطح پر کریڈٹ کارڈکے نظام نے رواج وشہرت پائی۔ 

کریڈٹ کارڈکی بے انتہامقبولیت نے کارڈجاری کرنے والے اداروں کوبین الاقوامی کمپنیوں کامقام دیا، یہاں تک کہ ان کمپنیوں نے خودکارڈجاری کرنے کے بجائے، مختلف کارڈجاری کرنے والے بینکوں کو ممبر بنانا شروع کردیا، ممبران کواس حوالے سے اصول وضوابط بناکردیئے۔ کریڈٹ کارڈکے معاملات کی نگرانی کے بدلے یہ کمپنیاں ممبربینکوں سے کارڈجاری کرنے پراجرت وصول کرتی ہیں۔

ضرورت کیوں محسوس ہوئی ؟

اگرکوئی آدمی گھرسے نکلے اور اسے لمبی چوڑی خریداری کرنی ہو، اب اگروہ جیب میں بہت سارے پیسے ڈال کرلے جائے توچوری کا خطرہ ہوتاہےیا پھر چھن جانے کا، خاص طورپر کہیں سفرپرجارہے ہوں  تو ہر وقت اپنے پاس بڑی رقم لے کرپھرنے میں بہت خطرات ہوتے ہیں۔ اس صورتحال سے بچنے کےلیے کریڈٹ کارڈکا نظام متعارف کرایاگیا۔ 

بعض حضرات نے اسے نئے معاشی نظام کانتیجہ قرار دیا ہے۔ گلوبلائزیشن اوراس کے نتیجے میں معیشت و تجارت میں رونما ہونےوالے اثرات اوررقوم کی ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقلی کی حاجت وضرورت کوکریڈٹ کارڈکے وجودمیں آنے کاسبب گردانا اور سماجی ومعاشی انقلاب قراردیا جاتاہے۔خیال یہ بھی ہے کہ یہ سرمایہ دارانہ نظام کے نتیجے میں وجودپذیر ہوا ہے۔

 کریڈٹ کارڈ سے متعلق اعداد وشمار

2016 ء میں یورپین یونین کے ممالک میں کارڈ کے ذریعے 49فیصد ادائیگیاں ہوئیں۔ یورپ میں 804ملین کارڈ ز کا اجراء کیا جاچکاہےجبکہ یورپین یونین میں ریٹیل پیمنٹ سسٹم کے ذریعے54 ارب ٹرانزیکشن کے دوران 41.8 ٹریلین یورو کی رقم ادھر سے ادھر ہوئی۔

پاکستان کی بات کی جائے تو اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی رپورٹ کے مطابق سال 2017-18ء کی تیسری سہ ماہی میںکریڈٹ کارڈز کی اے ٹی ایم پر 7 لاکھ ٹرانزیکشنز سے 3.5 ارب روپے، پوائنٹ آف سیل پر 7.9 ملین ٹرانزیکشنز سے 43.5 ارب روپے اور9 لاکھ ای ٹرانزیکشنز سے 6.2 ارب روپے کا لین دین ہوا، جسے دیکھ کر اندازہ ہوتا ہے کہ کریڈٹ کارڈ کا استعمال ہماری زندگی میں کس قدر سرائیت کر چکا ہے۔ 

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں