آپ آف لائن ہیں
جمعہ 10؍محرم الحرام 1440ھ 21؍ستمبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
پلاسٹک ماحولیاتی آلودگی کے لیے ایک بڑا خطرہ

زمین پر اس وقت جا بجا پلاسٹک بکھرا ہوا نظر آتا ہے،جسےزمین سے حاصل ہونے والے ’فوسل فیول‘ سے تیار کیا جاتا ہے۔ زمین سے نکلنے والی توانائی سے حاصل کیا جانے والا پلاسٹک استعمال کے بعد زمین پرہی پھینک دیا جاتا ہے اور بعد میں کھیتوں کھلیانوں میں اس کے ڈھیر بننا شروع ہو جاتے ہیں۔ یہ پلاسٹک سمندروں کی آلودگی کے ساتھ ساتھ زمین سے اُگنے والی خوراک کو بھی زہریلا بناتا ہے۔

دنیا میں ہر سال 500 ارب پلاسٹک کے تھیلے استعمال کیے جاتے ہیں جو آلودگی کا سبب بن رہے ہیں۔

ورلڈ اکنامک فورم کے مطابق دنیا کے تمام سمندروں میں ہر سال 8.8 ملین ٹن پلاسٹک پر مشتمل کچرا پھینکا جاتا ہےاوراس میں سے 60 فیصد آلودگی کا ذمہ دار بھارت ہے۔ ورلڈ اکنامک فورم کی ایک رپورٹ کا دعویٰ ہے کہ اگر صورتحال کنٹرول نہ کی گئی تو 2025ء تک سمندروں میں مچھلیوں سے زیادہ پلاسٹک پر مشتمل کچرے کی مقدار ہو گی۔

اعداد وشمار کے مطابق تقریباً 300 ملین ٹن پلاسٹک سالانہ بنیاد پر استعمال کے بعد پھینک دیا جاتا ہے۔ اس میں سے اوسطاً آٹھ ملین ٹن پلاسٹک سمندر میں داخل ہو رہا ہے۔ سمندر میں اس پلاسٹک کی مقدار مسلسل بڑھتی جا رہی ہے۔ اعداد و شمار کے مطابق، دنیا بھر کے سمندروں میں اس وقت 15 کروڑ ٹن پلاسٹک موجود ہے اور ہر سال 10 لاکھ پرندے اور ایک لاکھ سے زائد سمندری جاندار اس پلاسٹک کو کھانے یا اس میں پھنسنے کی وجہ سے مر جاتے ہیں۔ ایک نئی تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ 90 فیصد کے قریب آبی پرندے پلاسٹک کھا لیتے ہیں، جس کی کافی مقدار اُن کی آنتوں میں جمع ہو جاتی ہے۔

ڈبلیو ای ایف کے تحقیق کار ایرک وان سیبل کہتے ہیں کہ’ سمندر اب پلاسٹک سے بھر چکے ہیں اوریقینی امکان ہے کہ 2050ءمیں اگر کوئی مُردہ آبی پرندہ ملتا ہے تواس کے معدے میں پلاسٹک کی کچھ مقدار ضرور موجود ہو گی۔‘ سمندر میں جانے والا پلاسٹک وہیں تک محدود نہیں رہتا بلکہ ہم جو سمندری حیات اور سمندری نمک استعمال کرتے ہیں، اس کے ذریعے وہ واپس ہم تک پہنچ جاتا ہے۔ 2017ء میں ہونے والی ایک ریسرچ کے مطابق انڈونیشیا اور کیلیفورنیا کی مارکیٹوں میں دستیاب مچھلیوں کے ٹیسٹ سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ 25 فیصد مچھلیوں کے پیٹ میں پلاسٹک اور پلاسٹک کے مصنوعی ذرات موجود تھے۔ ایک اور ریسرچ کے مطابق امریکا، یورپ اور چین کے سمندری نمک میں مائیکرو پلاسٹک پایا گیا ہے۔ اس تناظر میں یہ بات حیران کن نہیں کہ سمندر میں پایا جانے والا 60 سے 80 فیصد کباڑ پلاسٹک پر مشتمل ہوتا ہے۔ 

اس کے علاوہ ہم جو دیگر مصنوعات جیسے ٹوتھ پیسٹ، فیس واش، کاسمیٹکس آئٹمزاور پلاسٹک کی بوتلوں میںپانی اور سوفٹ ڈرنکس استعمال کرتے ہیں، ان میں بھی پلاسٹک کے ذرات موجود ہوتے ہیں۔ حیران کن طور پر،سائنسدانوں کے مطابق، شہد بھی اب پلاسٹک سے محفوظ نہیں۔ یورپی یونین کی جانب سے سامنے آنے والی حالیہ پلاسٹک اسٹریٹجی ریسرچ میں شہد بھی ان مصنوعات کی فہرست میں شامل ہے، جس میں مائیکرو پلاسٹک پایا گیا ہے۔ اس کے علاوہ سائنسدانوں نے مختلف ممالک میں نلکے کے پانی کا معائنہ کیا تو 80فیصد نمونوں میں پلاسٹک کے ذرات پائے گئے۔ امریکا میں 94 اور جرمنی اور برطانیہ میں 70 فیصد نمونے پلاسٹک کے ذرات سے آلودہ پائے گئے۔ ان اعدادوشمار سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ پلاسٹک کس طرح زمینی اور آبی حیات میں سرایت کرتا جارہا ہے۔

صورتحال کی سنگینی کا اندازہ کرتے ہوئے، اس سال 22اپریل کواَرتھ ڈے ’پلاسٹک سے پاک سیارہ زمین‘کے طور پر منایا گیا تھا، ارتھ ڈے منانے والے سرگرم کارکنوں کا خیال ہے کہ زمین کو پلاسٹک کی آلودگی سے محفوظ کرنے کا وقت آ گیا ہے، تاہم ماہرین اس بات پر متفق ہیں کہ پلاسٹک سے چھٹکارہ پانا آسان عمل نہیں ہوگا۔

پاکستان میں سالانہ 55ارب تھیلیوں کا استعمال

پاکستان میں باریک پلاسٹک کی بنی تھیلیوں کے استعمال پر پابندی کے باوجود، ملک میں ان کے استعمال میں روز بروز اضافہ ہو رہا ہے اور ایک سرکاری جائزہ رپورٹ کے مطابق، ملک میں ایک سال میں استعمال ہونے والے ان تھیلیوں کی تعداد 55 ارب تک پہنچ گئی ہے۔ پاکستان کی ماحولیاتی تحفظ کی ایجنسی کی جائزہ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ملک میں پلاسٹک کی تھیلیاں ، جنھیں عرف عام میں ' ’شاپر‘ کہا جاتا ہے، کے استعمال میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے اور ہر سال ان کی تعداد 15 فی صد بڑھ رہی ہے۔ پلاسٹک کی تھیلیاں نا صرف سیوریج لائنوں میں رکاوٹ کی وجہ سے نکاسیٔ آب کے نظام میں خلل کا باعث بنتی ہیں، بلکہ انہیں جلانے کی وجہ سے زہریلی گیسوں کا اخراج بھی ہوتا ہے، جو شہریوں میں مختلف بیماریوں کا سبب بنتی ہیں۔ رپورٹ کے مطابق، ملک میں پلاسٹک کی تھیلیاں بنانے والے کارخانوں کی تعداد آٹھ ہزار سے زائد ہے اور ان میں ہر ایک اوسطاً روزانہ 250 سے 500 کلو گرام پلاسٹک کی تھیلیاں بنا رہا ہے۔

اگرچہ حکومت ِ پاکستان نے باریک پلاسٹک سے بنی تھیلیوں کے استعمال پر 2013ء میں پابندی عائد کر دی تھی، تاہم اس کے باوجود ان کے استعمال میں تاحال کوئی کمی نہیں آئی ہے۔

نجات کی صورت دکھائی نہیں دے رہی

ایک دفعہ ری سائیکل ہونے والے پلاسٹک کے استعمال کے خلاف آوازیں بلند ہو رہی ہیں۔ یورپی یونین نے اس حوالے سے مثبت قدم اُٹھانے کا فیصلہ کیا ہے اور اس کی جانب سے ایک دفعہ ری سائیکل ہونے والے پلاسٹک پر پابندی لگائے جانے کا امکان ہے۔ یورپی یونین 2030ءتک ایسا پلاسٹک لانے کا منصوبہ رکھتی ہے، جو بار بار ری سائیکل کیا جاسکے گا، اس طرح ایک بار ری سائیکل کے قابل پلاسٹک پر مکمل طور پر پابندی عائد کردی جائےگی۔ برطانیہ نے پلاسٹک بیگ، اسٹرا، کٹلری اور کان کی صفائی کے لیے استعمال ہونے والے کاٹن بڈ پر پابندی لگانے کا اعلان کیا ہے۔آسٹریلیا نے ایک بار ری سائیکل ہونے والی تمام پلاسٹک مصنوعات پر مرحلہ وارپابندی کا آغاز کردیا ہے۔ 

بھارت میں ممبئی سمیت کچھ دیگر شہروں میں پلاسٹک بیگ اور دیگر پلاسٹک مصنوعات ( اسٹراوغیرہ) پرپابندی عائد کردی گئی ہے۔ پابندی کی خلاف ورزی کرنے والوں پر 25ہزار روپے تک جرمانہ، جبکہ بار بار پابندی کی خلاف ورزی کرنے والوں کو جیل کی سزاتجویز کی گئی ہے۔ بھارت سے پہلے افریقا سے تعلق رکھنے والے دو ممالک کینیا اور روانڈا بھی پلاسٹک مصنوعات کے استعمال کو جرم قرار دے چکے ہیں، جہاں اس جرم کے مرتکب افراد کو جیل کی سزا ہوسکتی ہے۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں