آپ آف لائن ہیں
جمعرات9؍ محرم الحرام 1440ھ20؍ ستمبر 2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
اللہ بخشے والدِ محترم کو جنہیں ہماری تعلیم میں د لچسپی لینے کی فرصت کم ہی ملتی تھی کیونکہ وہ زیادہ تر اپنے ادبی مشاغل میں مصروف رہتے تھے۔ ان کی زندگی کے فلسفے کے مطابق ان کے پاس تو بوڑھے ہونے کا بھی وقت نہ تھا البتہ اس بات پر ہمیشہ تاکید کرتے کہ” بیٹا اُردو میں فیل نہ ہونا مجھے بڑی ندامت ہو گی“۔ اس تاکید نے میرے لئے یہ مسئلہ کھڑا کر دیا کہ انگلش میڈیم اسکولوں میں پڑھنے کی وجہ سے اگر ہماری کوئی تعلیمی کمزوری تھی تو وہ فقط اُردو ہی تھی۔ ابتدائی جماعتوں میں تو الف سے اللہ، ب سے بکری اور پ سے پنکھے کی ہوا سے پاس ہوتے رہے البتہ دسویں جماعت میں اُردو نثر اور شاعری دونوں آڑے آئیں اور سونے پہ سہاگہ یہ کہ مجھے ملٹری کالج جہلم میں پروفیسر راشداور علوی صاحب جیسے عالم و فاضل ا ساتذہ کرام ملے جنہوں نے ہمارے چودہ طبق تو ضرور روشن کئے مگر آنکھوں کے سامنے سے اندھیرا آج تک نہ جا سکا۔ اللہ اُن اساتذہ کرام کو جنّت الفردوس میں اونچا مقام عطا فرمائے جنہوں نے ہمارے زیر استعمال سلیس خلاصوں سے خلاصی دلاکر اُردو غزل کی بحر، اس کا میٹر،اس کی زمین، استعاروں اور کنایوں سے روشناس کرایا تاکہ ہم ایک اچھے شہری کے علاوہ اچھے شاعربھی بن سکیں افسوس ہم ان کی انتھک کاوشوں کے باوجود اُن کی توقعات پر پورے نہ اتر سکے غالباً اسی لئے پروفیسر

راشد صاحب نے میرے میٹرک میں فرسٹ ڈویژن میں پاس ہونے کے باوجود 10 پیسے کا پوسٹ کارڈ بھیجا جس کی عبارت مجھے آج تک یاد ہے اور وہ یہ تھی۔
” جعفری مبارک ہو۔توقعات کچھ زیادہ تھیں !بڑی زرخیز مٹی ہو مگر کاشت ٹھیک نہیں۔والسلام راشد“ اس خط کے بعد آج تک میں کھاد کی کھوج میں ہوں۔ جب ہم اُردو دانی کی لپیٹ میں تھے تو اکثر یہ سوچتے کہ یہ شاعر بھی کیا انوکھی مخلوق ہوتے ہیں ، وجد میں جو کچھ بھی لکھ جائیں اس کے بعد پڑھنے والے تا قیامت اپنی اپنی سوچ کے مطابق تشریحات کرتے رہتے ہیں۔ میری یادداشت کے مطابق ہر جماعت میں ہر استاد نے ایک ہی نثر، نظم یا غزل کو مختلف انداز میں اس وثوق سے بیان کیا کہ مجھے گمان ہوا کہ شاید ان حضرات کی شاعر محترم سے بنفسِ نفیس ملاقات ہو چکی ہے مثلاً ایک اُستاد کے مطابق شاعر اپنے زمینی محبوب سے محوِ گفتگو ہے جبکہ دوسرے اُستاد نے یہ انکشاف کیا کہ محبوب تو وہی ،مگر زمینی کی بجائے آسمانی تھا ۔یوں لگتا ہے کہ میرے والد ِ محترم نے یہ شعر میری مدد کے لئے ہی لکھا تھا۔
ہر نظر بس اپنی اپنی روشنی تک جا سکی
ہر کسی نے اپنے اپنے ظرف تک پایا مجھے
قارئین کرام! آج کل ہمارا ملک دہشت گردی کے علاوہ بیان گردی کی گرد اور اس گرد کو مٹانے کی تشریح گردی کی زد میں ہے نتیجتاً یوں لگتا ہے کہ یہ گھٹن زدہ قوم اب چیف جسٹس آف پاکستان اور چیف آف آرمی اسٹاف کے حالیہ بیانات کی تشریح کو تفریح طبع کے طور پر استعمال کرنے میں مصروف ہے۔ اس سلسلے میں ٹی وی پر مختلف مناظر دیکھ کر میں اپنی دسویں جماعت میں لوٹ گیا اورلوٹتابھی کیوں نہ کیونکہ کچھ حضرات نے اس کو علامہ اقبال کے شکوہ اور جوابِ شکوہ سے تشبیہ دی توبہت سوں نے زمینی اور آسمانی استعاروں کو یک جا کر کے قوسِ قزح بنا ڈالی۔کچھ نے تو معصومانہ مشورہ دیا کہ ادارے مل بیٹھ کر اپنے مسائل کوحل کریں۔ اس مشورے پر اگر عمل کیا جائے تو پھر آئندہ کی جو متوقع گول میز کانفرنس ہو گی، اس میں سیاسی قائدین کے علاوہ عدلیہ و فوج کے سربراہان اور میڈیا کے اینکرز شامل ہو کر اپنی اپنی حدود کا تعین کریں گے! میری بھابی جو ایک امریکن نثراد خاتون ہیں پچھلے سال ہمارے گھر میں قیام پذیر تھیں۔ گھر میں مقّیدرہنے کی وجہ سے وہ زیادہ تر ٹی وی کے سامنے اونگھتی رہتی تھیں۔ ایک روز میں نے تجسّس سے یہ سوال کر ڈالا کہ آپ کو ہمارے پروگرام کیسے لگے؟ تو برجستہ بولیں"You Talk Too Much" ان کے اس جواب میں جو کچھ بھی پنہاں تھا وہ ہم سب پر آج بخوبی عیاں ہے۔ ویسے تو ہم امریکیوں کو ہر روز بُرا بھلا کہنے میں فخر محسوس کرتے ہیں مگر ان کے حالیہ انتخابات میں حب الوطنی کا مظاہرہ قابلِ دید تھاکہ کسی پارٹی کا کوئی جھنڈا نظر نہیں آیا ماسوائے قومی جھنڈوں کی بھر مار کے۔ فاتح اورشکست خوردہ قائدین کے ایک دوسرے کو خلوص سے لدے ہوئے پیغامات و بیانات سن کر ایسی شرم آئی کہ بس شرما کر رہ گئے۔ ہماری اور ان کی سیاسی اور سماجی سوچ کا فرق ملاحظہ فرمائیے کہ گدھا اور ہاتھی ہمارے لئے بے وقوف اور نکما ہونے کے استعارے کے طور پر استعمال ہوتے ہیں جبکہ یہی ان کے انتخابی نشانات تھے۔قار ئین کرام!ہماری محترم عدلیہ اور فوج کے سربراہان کے بیانات میں جو مثبت مماثلت ہے وہ یہ ہے کہ دونوں نے آگے دیکھنے اور بڑھنے کی ترغیب دی ہے اور یہی ہماری آج کی ضرورت بھی ہے کیونکہ ہمارے تاریخی پچھواڑے میں تو کھڈ ہی کھڈ ہیں لہذا اس ضرورت کو مدِنظر رکھتے ہوئے آگے چلئے اور بیان بازی کی بجائے عمل سازی پر کمر بند ہو جائیں اور اگلے الیکشن میں صحیح سمت میں آگے اور مشکلات کو کم کرنے کی اہلیت اور صلاحیت رکھنے والے افرادکو ہی اپنے سر کا تاج بنائیں ورنہ بقولِ غالب۔ #
یوں ہی گر روتا رہا غالب تو اے اہلِ جہاں
دیکھنا ان بستیوں کوتم کہ ویران ہوگئیں

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں