آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
منگل4؍ربیع الاوّل 1440ھ13؍نومبر 2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
امریکی قونصل جنرل مائیکل ڈوڈمین یو ایس ایڈ کے ریجنل ڈائریکٹر ایڈورڈ برگلس اور یونیسیف کے مشن نے گزشتہ دنوں وزیراعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ سے ملاقات کی، یہ خبر میں نے بھی پڑھی اور آپ کی نظروں سے بھی گزری ہوگی۔گفتگو میں وزیراعلیٰ نے اس بات پر زور دیا کہ صحت اور تعلیم کے شعبوں میں تعاون کی ضرورت ہے، بالخصوص جیکب آباد اور دیگر بالائی حصوں میں طبی سہولتوں کی فراہمی جب کہ صوبے کے کئی شہروں میں لائبریریوں کی اشد ضرورت ہے۔ امریکی قونصل جنرل نے بتایا کہ یو ایس ایڈ جیکب آباد میں جدید سہولتوں سے آراستہ ایک اسپتال تعمیر کرنا چاہتی ہے۔ اس اسپتال میں او پی ڈی بلاک، ایڈمیشن، انڈور بلاک سمیت تمام تر سہولتیں فراہم کی جائیں گی اور بعد میں اسپتال کو ٹیچنگ اسپتال کا درجہ دیا جائے گا۔ یہ منصوبہ صرف ایک سال میں مکمل کر لیا جائے گا۔ اس کے علاوہ سندھ کے کئی شہروں میں بین الاقوامی طرز کی جدید لائبریریاں بھی تعمیر کی جائیں گی جس کے پہلے مرحلے میں تین لائبریریاں حیدرآباد، خیرپور اور لاڑکانہ میں تعمیر ہوں گی۔ وزیراعلیٰ نے یونیسف کے مشن کے تعاون کو سراہا۔
قوموں کی حقیقی ترقی ان کی معاشی و ثقافتی ترقی سے نہیں بلکہ ان کے شعور کی ترقی سے ہوا کرتی ہے اور لائبریریاں نوجوان نسل کے اندر شعور بیدار کرتی ہیں۔ شکر ہے کہ اب جدید طرز

کی لائبریریاں بنانے کی طرف کافی توجہ دی جا رہی ہے اور بڑی بڑی لائبریریاں قائم بھی ہو جائیں گی۔ انجمن کی 1903ء سے قائم قدیم لائبریری جس میں ہزاروں کتابیں اور جلدیں ہیں یہ لائبریری دنیا بھر میں مشہور ہے جس سے سیکڑوں طلبہ استفادہ کرتے ہیں جو ایک مثالی تحقیقی لائبریری ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ اس عظیم مقصد کو سامنے رکھا جائے کہ علم تمام تر سرگرمیوں سے عبارت ہوتا ہے، معنویت اجاگر ہونے لگتی ہے اور پھر اس کے متعدد پہلو ضوفشاں ہونے لگتے ہیں۔ لائبریریاں دراصل ایک فکری سرمایہ اور ثقافتی ورثہ ہوتی ہیں، اسی کو پیش نظر رکھ کر سندھ کے سینئر وزیر اور متحدہ قومی موومنٹ کے سندھ اسمبلی میں پارلیمانی لیڈر سردار احمد نے گزشتہ دنوں کراچی اور سندھ میں قائم لائبریریوں اور انجمن ترقی اردو کے دفاتر کا بھی دورہ کیا۔ اس موقع پر وہ انجمن کے نائب معتمد اعزازی عزیزی سید اظفر رضوی سے اظہار خیال کر رہے تھے کہ علم و ادب کی آبیاری میں ملک بھر کی مضافاتی بستیوں میں قائم لائبریریوں نے بنیادی کردار ادا کیا ہے۔ لائبریریاں ہماری علمی و ادبی روایات کا حصہ ہیں لیکن ہم اس تسلسل کو قائم نہیں رکھ سکے۔ یہ امر خوش آئند ہے کہ انجمن کی لائبریری ہماری تہذیبی اقدار کی پاسداری کر رہی ہے (اس میں کہیں بڑی محنت کرنی پڑتی ہے)۔ انہوں نے کہا کہ میں چاہتا ہوں کہ ملک بھر میں لائبریریوں کی ایک ایسوسی ایشن بنائی جائے۔ مجھے یقین ہے کہ اس سلسلے میں انجمن ترقی اردو آگے آ کر اپنا فعال کردار ادا کرسکتی ہے۔
یہ ایسوسی ایشن صرف تصویریں بنوانے والی نہ ہو کیونکہ لائبریریاں ہی بہترین علم کا منبع ہیں۔ سردار احمد نے کہا کہ بابائے اردو کی ادبی شخصیت ہمہ جہت تھی۔ تحقیق، تنقید، خاکہ نگاری، مقدمہ نگاری غرض جس میں ہاتھ ڈالا اپنا سکّہ جمایا، نیک نام ہوئے اور اپنی پہنچان قائم کر گئے۔ ان کے کارناموں پر بات کرنا میرا منصب نہیں بنتا، اس کے لئے ادب کے علماء، فضلاء درکار ہیں۔ انجمن کا ادارہ تحقیق اس سلسلے میں آگے آئے اور اپنا پلان بنا کر حکومت کے حوالے کرے تاکہ بہترین اسکالر سامنے آئیں۔ آپ بھی کوشش کریں، میں بھی آپ کے ساتھ ہوں۔ صوبائی وزیر سردار احمد نے انجمن کی لائبریری کا تفصیلی دورہ کیا، قدیم نسخے بڑی توجہ سے ملاحظہ فرمائے اور مطالعہ گاہ میں موجود ریسرچ اسکالرز سے بھی گفتگو کی۔
صرف چند دن بعد محترم سردار احمد کے اظفر رضوی کو دو خطوط موصول ہوئے آپ بھی ملاحظہ فرمائیں۔
بخدمت جناب وزیراعلیٰ سندھ
کراچی
گلشن اقبال کراچی میں واقع انجمن ترقی اردو کے پاس اہم مخطوطات اور نادر کتب کا خزانہ موجود ہے۔ ہر سال ان نادر کتب میں سے دس بارہ کتب شائع کی جاتی ہیں۔ تحقیق و ادب سے وابستہ درجنوں افراد یہاں تشریف لا کر اپنے ایم فل اور پی ایچ ڈی کے سلسلے میں استفادہ کرتے ہیں۔ انجمن باقاعدگی سے ادبی نشستوں، سیمیناروں اور ملکی و غیر ملکی اہل قلم حضرات کے اعزاز میں تقریبات کا انعقاد کرتی ہے۔ عمارت کے جس ہال میں یہ تقریبات منعقد ہوتی ہیں، اسے اس کی تنگ دامنی کے پیش نظر بمشکل ہی ”تقریب گاہ“ یا ”کانفرنس روم“ کہا جا سکتا ہے لیکن اس کے باوجود یہ ادارہ قومی زبان کی ترقی اور فروغ کے لئے اپنا کردار ادا کرنے میں مصروف عمل ہے۔
انجمن کے زیر ملکیت یونیورسٹی روڈ پر بالمقابل جامعہ کراچی تقریباً 5 ہزار گز سے زائد پر مشتمل ایک پلاٹ ہے جس پر انجمن ایک جدید ترین لائبریری، آڈیٹوریم، ہاسٹل اور ریسرچ سینٹر قائم کرنا چاہتی ہے تاہم فنڈز کی کمیابی اور وسائل کی قلت کے سبب اس کی تعمیر ممکن نہیں ہے۔
اس زمین پر مذکورہ تعمیرات کے لئے ایم پی ایز کے حصے کے باقی ماندہ خصوصی فنڈ میں سے مبلغ 2 کروڑ روپے صرف کرنے کی اجازت درکار ہے تاکہ اس سال کام کا آغاز کیا جا سکے۔ انشاء اللہ آئندہ سال بھی ہماری پارٹی کے PS117-118 کے نمائندگان بھی اس مقصد کے لئے اپنے فنڈز مختص رکھیں گے۔ آپ سے اس درخواست پر جلد کارروائی کرنے کی درخواست ہے۔ ہمیں امید ہے کہ اس اہم اور ناگزیر کام کو پایہٴ تکمیل کو پہنچا کر ہم لاکھوں طلبہ، اساتذہ اور اسکالرز کی تحسین حاصل کرنے میں کامیابی ہو جائیں گے۔ (سید سردار احمد)
(دوسرا خط محترم سردار احمد نے سندھ کے چیف سیکریٹری کو ارسال کیا)
شکریہ
جناب عالی!
متحدہ ہندوستان میں 1903ء میں قائم کی گئی اور پاکستان میں 1947ء سے مصروف عمل رہنے والی انجمن ترقی اردو کے ادارے کی عمارت جس میں بابائے اردو مولوی عبدالحق مدفون ہیں، نہایت خشتگی کا شکار ہے اور فوری مرمت اور تزئین چاہتی ہے۔ اس کی تزئین کی ذمہ داری بلدیہ عظمیٰ نے اٹھائی۔ اس عمارت کے لئے نہایت بدقسمتی کی بات ہوگی اگر حکومت (Heritage wing) اسے قومی ورثہ سمجھ کر بھی اس کی ضروری مرمت اور تزئین نہ کر سکے۔
اس مقصد کیلئے 10 مئی 2012ء کو کے ایم سی نے سیکریٹری کلچر سے این او سی کے اجرا کی گزارش کی تھی مگر تاحال اس کا اجرا نہیں ہوا۔ عنایت ہوگی اگر اس ضروری مسئلے کے پیش نظر آپ کلچر ڈپارٹمنٹ کو ہدایت جاری کر دیں تاکہ مطلوبہ این او سی بلدیہ عظمیٰ کو مل جائے۔ (سید سردار احمد)
اس اہم قومی کام میں سیاست دانوں، حکمرانوں، اساتذہ، وکلاء، ڈاکٹر اور تعلیم یافتہ طبقہ خصوصی کردار ادا کرسکتا ہے۔ یہ ایک دن اور ایک فرد کا کام نہیں، مسلسل جاری رہنے والا یہ کام شروع ہوگا تو اس کے اثرات ملک کے ہر حصے اور قوم کے ہر فرد تک پہنچیں گے۔ دل کو تقویت ملتی ہے کہ ابھی ایسے لوگ زندہ ہیں۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں