آپ آف لائن ہیں
ویب ڈیسک
ویب ڈیسک | 10 اگست ، 2018

ڈاکٹر رتھ فاؤ کی آج پہلی برسی


طِب کے شعبے سے وابستہ پاکستان کی مدر ٹریسا، ڈاکٹر رتھ فاؤکی پہلی برسی منائی جارہی ہے، ان کا شمار پاکستان کی ایک ایسی عظیم محسن کی صورت میں ہوتا ہے جن کی کاوشوں کی بدولت 1996ء میں عالمی ادارہ صحت کی جانب سے پاکستان کو جزام کے مرض پر قابو پالینے والے ممالک میں شامل کرلیا گیا تھا۔

جن سے میل جول رکھنے سے لوگ کتراتے تھے ڈاکٹررتھ فاؤ نے ان کے ساتھ نہ صرف محبت کی بلکہ اپنی مکمل زندگی گزار دی اور ایسے ہی مریضوں کی خدمت کرتے ہوئے داغِ مفارقت دے گئی۔

ڈاکٹر رتھ کیتھرینا مارتھا فاؤ ویسے تو جرمنی میں پیدا ہوئیں لیکن انہوں نے اپنی ساری زندگی پاکستان کی خدمت کے لیے وقف کردی۔

1960 کی دہائی میں ڈاکٹر رتھ فاو ٔ جرمنی میں مقیم تھیں اور پاکستان میں جزام کے مریضوں سے متعلق ایک ڈاکیومینٹری دیکھنےکے بعد مشنری تنظیم نے انہیں پاکستان بھجوایا۔

یہاں آکر انہوں نے جذام کے مریضوں کی حالت زار دیکھی تو اپنے ملک واپس نہ جانے کا فیصلہ کرلیا۔ انہوں نے کراچی ریلوے اسٹیشن کے پیچھے میکلوڈ روڈ پر کوڑھیوں کی بستی میں فری کلینک کا آغاز کیا۔

’میری ایڈیلیڈ ۔لیپرسی سینٹر‘ کے نام سے قائم ہونے والا یہ شفاخانہ جذام کے مریضوں کے علاج کے ساتھ ساتھ ان کے لواحقین کی مدد بھی کرتا تھا۔اس کے بعد اس مرض کے خاتمے کیلئے کراچی کے دوسرے علاقوں میں بھی کلینک قائم کیے گئے۔

پاکستان میں جذام کے مرض پر قابو پانے کے لیے انہوں نے جرمنی سے بھی بیش بہا عطیات جمع کیے اور کراچی کے علاوہ راولپنڈی میں بھی کئی اسپتالوں لیپرسی ٹریٹمنٹ سینٹر قائم کیے۔

حکومت نے 1988ء میں ڈاکٹر رتھ کو پاکستان کی شہریت دی۔ان کی گرا ںقدر خدمات پر حکومت پاکستان ، جرمنی اور متعدد عالمی اداروں نے انہیں اعزازات سے نوازا جن میں نشان قائد اعظم، ہلال پاکستان، ہلال امتیاز، جرمنی کا آرڈر آف میرٹ اور متعدد دیگر اعزازت شامل ہیں۔

ڈاکٹر رُتھ فاؤ اپنی زندگی کے 56 برس پاکستانیوں کی خدمت میں مصروف عمل رہیں۔ انہیں پاکستان کی’مدر ٹریسا‘ بھی کہا جاتا ہے۔

گزشتہ سال10 اگست کو ڈاکٹرروتھ فاؤ انتقال کر گئیں ، جس کے بعد انہیں پورے سرکاری اعزاز کے ساتھ کراچی کے گورا قبرستان میں سپرد خاک کیا گیا ۔

واضح رہے کہ اب کراچی کے سول اسپتال کا نام بھی اب تبدیل کرکے انہی کے نام پر رکھ دیا گیا ہے جو کسی مثالی محبت سے کم نہیں ہے۔