آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
ہفتہ 8 ؍ربیع الاوّل 1440ھ 17؍نومبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
بیرسٹر امجد ملک کو برطانیہ کی ایک جیل میں مسلمان قیدیوں سے خطاب کے لئے بلایا گیا تھا۔ انہوں نے ایک لمحہ پورے مجمع پر نظر ڈالی، سامعین ہمہ تن گوش ہو کر ان کی گفتگو سن رہے تھے۔ انہوں نے ایک ٹھنڈی سانس لی اور کہا یہ برطانیہ کے ہر مسلمان کا دکھ ہے، میں اب اس کو اس لئے محسوس کرتا ہوں کہ میں خود اس حالت سے گزر رہا ہوں۔ اور آئندہ آنے والے حالات اور ممکنہ خدشات سے متفکر اور پریشان ہوں۔ انہوں نے بتایا کہ برطانیہ کے مسلمان عام طور پر اپنے بچوں کو ان کے بچپن سے ہی اسلام اور مذہبی ثقافت کلچر اور تہذیب سے آشنا اور روشناس کرانے کی کوشش کرتے ہیں اگرچہ خود انہیں زیادہ وقت نہ دے سکیں لیکن انہیں پانچ سال کی عمر تک پہنچنے کے بعد باقاعدگی سے مسجد بھیجتے ہیں، جہاں وہ امام صاحب سے سپارہ پڑھتے ہیں، قرآن پاک پڑھنا سیکھتے ہیں۔ پاکی ناپاکی، حلال حرام سے روشناس ہوتے ہیں۔ نماز پڑھنا اور دوسرے مذہبی معموملات سے آگاہی حاصل کرتے ہیں۔ امام صاحب محدود وقت اور اپنی مخصوص مجبوریوں کی وجہ سے ڈیڑھ گھنٹے کے دوران پچاس ساٹھ طلبہ کو جو پڑھا سکتے ہیں، پڑھاتے ہیں۔ پھر وہ بچہ بڑا ہو کر سکول سے کالج اور کالج سے یونیورسٹی پہنچتا ہے۔ یہاں سے مسلمان بچوں کے والدین کا عمل دخل ختم ہوجاتا ہے، بچہ چونکہ اب یونیورسٹی جا چکا ہوتا ہے اس لئے اس کے اندر ایک

ایسا اعتماد پیدا ہوچکا ہوتا ہے جس سے بعض دفعہ وہ والدین کو بھی زیادہ اہمیت نہیں دیتا۔ وہ سمجھتا ہے کہ وہ اب اعلیٰ سوجھ بوجھ کا حامل انسان ہے، یونیورسٹی تک پہنچ گیا ہے، اعلیٰ تعلیم حاصل کررہا ہے، اس لئے وہ اپنا بھلا برا خوب جانتا ہے اور کسی کو اسے سمجھانے اور اس کی زندگی کے مسائل کی گتھیاں سلجھانے کی ضرورت نہیں ہے۔ اس سوچ سے ہی خطرناک رجحان کا آغاز ہوتا ہے اور یہ سوچ ہے اپنے اوپر حد سے زیادہ اعتماد۔ خود اعتمادی اچھی چیز ہے لیکن جب یہ حد سے بڑھ جائے تو بے حد خطرناک بھی ثابت ہوسکتی ہے۔ ماں باپ عموماً بچوں کے یونیورسٹی تک پہنچ جانے کے بعد بے فکر ہوجاتے ہیں اور سوچتے ہیں کہ ان کا بچہ ایک کامیاب زندگی کی طرف گامزن ہے لیکن انہیں پتہ نہیں ہوتا کہ حالات کے ایک اہم چیلنج کا انہیں سامنا کرنا پڑ سکتا ہے انہیں معلوم نہیں ہوتا کہ ان کا بچہ کن لوگوں سے ملتا ہے، کون اس کے قریبی دوست ہیں، کون اس سے مسلسل رابطے میں ہوتے ہیں، کون اس کو استعمال کرنا چاہتے ہیں، وہ گھر سے دور ہوتا ہے اس لئے والدین اس کی سرگرمیوں پر ہمہ وقت نظر بھی نہیں رکھ سکتے۔
ایسی ہی پریشانیاں خام خیالی ہی نہیں، یونیورسٹی میں بہت کچھ ہو رہا ہے۔ مثلاً برطانیہ کے ایک مسلمان گھرانے کو ایک پریشان صورت حال کا سامنا اس وقت سے ہوا جب ان کا بچہ یونیورسٹی میں داخل ہوا۔ وہ ایک ذہین اور قابل نوجوان تھا، ہمیشہ اچھے نمبر لے کر پاس ہوتا تھا، وہ یونیورسٹی میں فارمیسی کی ڈگری کے حصول کے لئے داخل ہوا تھا۔ اس کے ماں باپ اس کے ”فارماسسٹ“ بننے کے خواب دیکھ رہے تھے، وہ ان دنوں کا سہانا سپنا دیکھ رہے تھے جب ان کا لخت جگر ڈگری لے کر واپس آئے گا، وہ ایک پروفیشنل کے طور پر کامیاب زندگی کا آغاز کرے گا اور پھر وہ اس کی شادی کردیں گے۔ لیکن ایسا نہ ہو سکا، آہستہ آہستہ اس نوجوان کی تعلیم میں دل چسپی ختم ہونا شروع ہوگئی، وہ یونیورسٹی میں لیکچرز سے غائب ہونے لگا اور پھر کئی کئی دنوں تک یونیورسٹی سے کہیں چلا جاتا۔ والدین کو یونیورسٹی والوں نے اس صورت حال سے آگاہ کیا تو وہ پریشان ہوگئے۔ انہوں نے بیٹے سے بات کی تو اس نے سیدھے منہ جواب نہ دیا، الٹا انہیں ڈانٹنے لگا کہ ”میرے معاملات میں مداخلت کیوں کی جاتی ہے؟ میں آزاد ہوں اور خود مختار ہوں جو چاہے کروں، آپ کیوں ٹانگ اڑاتے ہیں“۔ یونیورسٹی والوں نے بتایا کہ اس نوجوان کے پاس مشکوک لوگوں کا آنا جانا ہے، یہ لوگ یونیورسٹی میں نہیں پڑھتے بلکہ باہر سے آتے ہیں اور اسے اپنے ساتھ لے جاتے ہیں۔ پھر ایسا وقت آیا کہ والدین کو ایک سخت فیصلہ کرنا پڑا۔ ایسا فیصلہ شاید ہی کوئی ماں باپ کرسکے۔ لیکن برطانوی مسلمان گھرانے کے ان والدین کو یہ کڑوا گھونٹ پینا ہی پڑا، انہوں نے یہ سمجھ کر پولیس کو اطلاع کی کہ پولیس ان کے بچے پر نظر رکھے گی انہوں نے پولیس کو بتایا کہ انہیں خدشہ ہے کہ ان کا بیٹا انتہا پسندوں اور دہشت گردوں کے ہتھے چڑھ گیا ہے اور وہ اسے ورغلا رہے ہیں اور اسے اپنے مقاصد کے لئے استعمال کرنا چاہتے ہیں۔ برطانوی پولیس نے ان کے بیٹے کی مسلسل نگرانی شروع کردی لیکن والدین کے لئے یہ خبر بجلی بن کر گری کہ ان کا بیٹا انگلینڈ چھوڑ کر جا چکا ہے، انہوں نے پولیس سے شکوہ کیا کہ انہوں نے اسے کیوں جانے دیا؟ ائرپورٹ پر اسے کیوں نہ روک لیا؟ لیکن ان کے پاس والدین کے لئے کوئی تسلی بخش جواب نہیں تھا۔ پولیس والے اتنا بتا سکے کہ وہ پاکستان چلا گیا ہے۔ لڑکے کے والدین نے مجھ سے رابطہ کیا، میں نے پاکستان کی اعلیٰ عدالتوں میں والدین کی طرف سے رٹ پٹیشن دائر کی تاکہ معلوم ہوسکے کہ یہ نوجوان جو مسلسل غائب ہے، اس وقت کہاں ہے؟ مسلسل انکوائریوں کے بعد صرف اتنا معلوم ہوا کہ 2007ء میں یہ نوجوان لاہور کے ائرپورٹ پر اترا تھا اور اس کے بعد کہاں چلا گیا، معلوم نہیں۔ یہ حیران کن بات ہے کہ یہ نوجوان برطانوی پولیس کی نگرانی میں تھا پھر بھی کس طرح انگلینڈ سے نکل جانے پر کامیاب ہوگیا۔ اب والدین معلوم کرنا چاہتے ہیں کہ وہ کہاں ہے؟ انہیں معلوم نہیں کہ آیا وہ پاکستان میں ہے یا افغانستان میں ہے، اس نے کہا سے ٹریننگ لی اور کس محاذ پر گیا، کسی کو کچھ معلوم نہیں لیکن 2007ء سے اب تک یعنی 2012ء تک والدین مسلسل بچے کی جدائی میں گھل رہے ہیں، وہ ایک مسلسل عذاب کی سولی پر لٹکے ہوئے ہیں لیکن ان کے بیٹے کا کچھ پتہ نہیں۔ یہ کہتے ہوئے بیرسٹر امجد ملک نے ایک گہری سانس لی اور کہا کہ مجھے معلوم نہیں کہ اس کے بیٹے کا کبھی پتہ چلے گا یا نہیں لیکن امجد ملک کے مطابق یہ میرا دکھ بھی بن سکتا ہے، کیونکہ میرا بیٹا اب یونیورسٹی جانے کے قابل ہوگیا ہے اس لئے میں خود اس کو ترجمے کے ساتھ قرآن پڑھنے کی ترغیب دے رہا ہوں تاکہ وہ انتہا پسندوں کے ہتھے نہ چڑھ سکے۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں