آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
پیر3؍ربیع الاوّل 1440ھ 12؍نومبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

اقتدار بڑا بے رحم کھیل ہے، اس میں کسی رشتے ناطے کو خاطر میں نہیں لایا جاتا ،تاریخ کے صفحات بھرے پڑے ہیں، اقتدار کا کھیل مسلسل چلتا رہتا ہے، حتمی فیصلہ طاقتور و سیاسی ہنرمند کے حق میں ہوتا ہے،سیاستداں یا حکمراںجو لکھنے پڑھنے میں کمزور ہوتا ہے اور اقتدار کے بعد لوگوں سے ملنے جلنے میں بخیل ہوجاتا ہے تو اس کے پاس نئے خیالات نہیںہوتےاور حکمرانی کے تنگ اور پُرخطر راستے سے گزرنا اس کے لئے مشکل ہوتا ہے، اسی لئے ارسطو نے کہا ہے کہ جس حکمراں کے پیچھے کوئی فلسفی نہ ہو اس حکمراں کے دن گن لینے چاہئے، یہاں فلسفی وسیع معنوں میں آتا ہے کہ ایسا صاحب ِفہم و فکر جو عوام کی نبض سے واقف ہو اور عالمی پیچیدگیوں کو سمجھ کر اس کا حل نکال سکتا ہو۔ اب فلسفی کی جگہ تھنک ٹینکس نے لے لی ہے اور وہ ملک جو دُنیا پر حکمرانی یا اپنی بالادستی قائم کئے ہوئے ہےاُس ملک میں دانشوروں کے ایک سو ادارے ہیں جو ہر وقت دُنیا کے ہر خطے کے معاملات پر تحقیق جاری رکھتے ہیں، وہ اخلاقیات اور انسانیت سے ماورا فیصلے کرتے ہیں، سوائے اس کے کہ امریکہ کی بالادستی برقرار رہے، چاہے اُن کے دیئے ہوئے حل سے ہزاروں اور لاکھوں افراد کا خون ہی کیوں نہ بہہ رہا ہو، امریکہ کے اس بے رحم کھیل کی وجہ سے انسانیت سخت تکلیف میں مبتلا ہے اس لئے اللہ نے امریکہ کو اپنے ملک کے اندر دیکھنے کو مجبور کردیا ہے تاہم وہ ایران و ترکی و پاکستان کے پیچھے پڑ گیا ہے، کیونکہ ایران نے روس کے ساتھ مل کر امریکہ کا یینون پلان یا کرنل پیٹر راف منصوبہ یا جوبائیڈن منصوبہ فیل کردیا۔ امریکہ کے مہلک ترین ہتھیار داعش کو شام میں بلا کی شکست ہوئی ہے اس لئے اب وہ ایران کے خلاف ایک ایکشن پلان تیار کررہا ہے، ترکی پر بندش لگا دی ہے، پاکستان اس کی زد میں جلد ہی آجائے گا، ایسے وقت میں پاکستان میں تبدیلی آئی ہے جب پاکستان کو بیل آئوٹ پیکیج کی ضرورت ہے۔ دیکھنا یہ ہے کہ عمران خان کی صورت میں جو تبدیلی آئی ہے وہ کیا اِن چیلنجوں کا مقابلہ کرسکے گی، کراچی میں تو یہ دیکھنے میں آیا کہ لوئر مڈل کلاس کے لوگوں کے ہاتھوں سے اقتدار نکل کر اپر مڈل کلاس کے ہاتھ میں آگیا ہے، جس کا اظہار کئی واقعات سے ہوگیا ہے، ایک توبرطانوی شہری اور سندھ اسمبلی کے ایم پی اے نے ایک غریب شخص پر اپنی طاقت کا بے دریغ استعمال کیا اُس کے خلاف کوئی ایف آئی آر نہیں کٹی۔ دوسرے ایک اور ایم پی اے نے ایک شو روم کے مالک کو مارا پیٹا، اگر یہ انداز رہے توحالات کنٹرول میں نہیں رہیں گے خدا خیر کرے، کراچی کے لوگوں کے ساتھ کیا کیا حالات گزرنے والے ہیں، یہ اچھی تبدیلی تو نہیں۔ اگر اس میں کوئی شخص کوئی اصول رکھتا ہے تو وہ فردوس نقوی ہے مگر اس سے ایم کیو ایم ناراض ہے، پھر ہم نے دیکھا کہ نامزد گورنر صاحب پروٹوکول کے بغیر مگر پروٹوکول کے خواہاں 14اگست 2018ء کو قائداعظم کے مزار جا پہنچے کہ پروٹوکول بغیر گورنری کے مل جائے، تبدیلی صرف میاں محمد نواز شریف کی حد تک آئی ہے جو پانامہ لیکس کے چکر میں پھنس گئے اور پھر کئی اور لیکس کے مسائل سے دوچار ہوئے، بھلا کہاں طیب اردگان اور کہاں میاں صاحب۔ بہرحال پاکستان کو سخت مشکلات کا سامنا ہے، کئی چیلنجز بہت خطرناک ہیں 12بلین ڈالرز کی فوری ضرورت ہے جس میں سے 6بلین ڈالرز کا انتظام ہوگیا ہے اور قطر نے ترکی کو 15بلین ڈالر کی رقم دے کر ترکی کی مشکلات دور کردی ہیں، دیکھنا یہ ہے کہ ہمیں کون بیل آئوٹ پیکیج دے گا۔ عمران خان کی خارجی بصیرت کا بھی امتحان ہوگا، پاکستان کے عبوری وزیرخارجہ حسین عبداللہ ہارون کا کہنا ہے کہ امریکہ پاکستان کے خلاف جال بن رہا ہے، آنے والے دن بہت مشکل ہوں گے، ہمارا خیال ہے کہ جو کھچڑی پاکستان کے خلاف عالمی طاقتیں پکا رہی ہیں وہ 2019ء کے شروع یا 2018ء کے آخر تک پک جائے گی، اس کا مقابلہ کرنے کی کیا تیاری ہمارے اداروں نے کی ہوئی ہے اس پر توجہ دینے کی ضرورت ہے، حکومت کو ملک میں امن وامان کے قیام کے لئے عوام سے اچھا رویہ رکھنے کی سخت ضرورت ہے، اس کے علاوہ مخالفین کے دبائو، اثرات اور تحریکوں کو ناکام بنانے کی حکمت ِعملی کو زمینی حقیقت کے طور پر تسلیم کیا جانا چاہئے، پھر غیرملکی سازشوں سے نمٹنے کے لئے اتحادیوں کی مدد درکار ہے جو پاکستان کی ہر مشکل گھڑی اور ہر مسئلے پر ساتھ دیں، عوام کی زندگیوں کو محفوظ بنانا، فرقہ واریت اور لسانیت کو بھی پاکستانیوں نے شکست دی ہے مگر یہ ایک وار کا کام نہیں ہے اُس کے لئے مسلسل مستعد رہنا ہوگا، اس کے علاوہ اچھی حکمرانی کے لئے پھل دار شجر کو جھکنے کی ضرورت ہے اور ایسے کاموں سے گریز کی ضرورت ہے جو اوپر بیان کئے گئے ہیں، تبدیلی کی ضرورت کیوں پیش آئی کہ پچھلے حکومت آپے سے باہر ہوگئی تھی اگر ابھی سے پی ٹی آئی جارحانہ انداز اختیار کرتی ہے تو تبدیلی تو آئےگی مگر اسے اچھی تبدیلی نہیں کہا جاسکے گا۔

(کالم نگار کے نام کیساتھ ایس ایم ایس اور واٹس ایپ رائےدیں00923004647998)

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں