آپ آف لائن ہیں
جمعہ 10؍محرم الحرام 1440ھ 21؍ستمبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
زندگی کیاہے ؟ اس کی حقیقت کیا ہے ؟ اس کا راز کیا ہے ؟ ہم کیوں جیتے ہیں ؟ ہم کیوں اس دنیا میں آئے ہیں ؟ ہم کیوں چلے جاتے ہیں کہاں چلے جاتے ہیں ؟ کیا دوبارہ بھی زندہ ہوں گے ؟ ہوں گے تو کہاں ؟ کس حالت میں؟ پھر کیا ہوگا ؟ اس طرح کے بے شمار سوالات ہزاروں لاکھوں سال سے انسانی ذہن میں اگتے رہے ہیں۔ ابھرتے رہے ہیں۔ ہزاروں لاکھوں سال سے انسان اپنے اپنے طور پر اپنے اپنے ذہن اپنی اپنی سوچ کے مطابق اس کے جوابات بھی ڈھونڈنے کی کوشش میں لگا رہا لیکن حقیقت کا سراغ نہ مل سکا یہ ایسے ہی تھا جیسے اندھیری گھپ سیاہ رات میں ٹامک ٹوئیاں مارنا۔ قرآن نے اس کی تشبیہ یوں دی ہے کہ جیسے گھٹی سیاہ رات ہو اور کوئی انسان اس میں خوف و ہراس کی کیفیت میں چل رہا ہو گر رہا ہوں پھر اچانک کہیں سے بجلی چمکے اس کی روشنی کا لپک کوندے تو وہ پل دو پل کو آگے بڑھنے اور راستہ دیکھنے کے قابل ہوسکے یہ روشنی بھی اتنی تیز ہو کہ آنکھیں خیرہ ہو جائیں چندھیا جائیں بصارت کچھ دیر کے لئے زائل ہو جائے۔ (یکا د البرق یخطف ابصارھم)
تو پھر ہدایت کی روشنی کہاں سے ملی ؟ حقیقت کا نور کہاں سے آیا ؟ یہ نور مصطفوی اور کتاب بین کی برکت سے نصیب ہوا۔ (قد جاء کم من اللہ نورو کتاب مبین) مولانا ظفر علی خاں کے بقول:
فلسفیوں سے کھل نہ سکا اور نکتہ دروں سے حل نہ ہوا
وہ راز اک کملی والے

نے بتلا دیا چند اشاروں میں
انسان جہالت، گمراہی، ذلت اور پستی کے گڑھوں میں پڑا رہتا اگر اسے نور نبوت کی رہنمائی نصیب نہ ہوتی کیونکہ زندگی اور کائنات کی حقیقتیں اس کائنات کا خالق و مالک ہی مکمل طور پر جانتا ہے۔ جو کچھ ہوا اور کچھ ہوگا ”ماکان و مایکون“ علوم کا منبع مصور اور ”علام الغیوب“ اللہ رب العالمین ہے اور اس نے ان علوم میں سے وافر حصہ اپنے حبیب کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی عطا کیا۔ اپنے حبیب کو ان علوم سے خصوصی طور پر فیض یاب کیا ہے۔ اللہ رب العالمین معلم اول ہے اور آقائے دو جہاں کی ذات اقدس متعلم اول ہے۔ قرآن اس پر گواہ ہے (و علمک مالم تکن تعلم) اللہ رب العالمین کی طرف سے عطا کردہ علوم و برکات کی خیرات آقائے دو جہاں کائنات میں تقسیم فرما رہے ہیں تقسیم فرماتے رہیں گے نہ اللہ تعالیٰ کے خزانہ قدرت میں کمی ہے اور نہ ہی میرے آقا کریم علیہ الصلوة و التسلیم کے دست سخا میں کوئی کمی ہے۔ اب کائنات میں ہرکسی کو جو کچھ مل رہا ہے خواہ وہ مسلم ہو یا غیر مسلم، وہ اللہ تعالیٰ کا عطا کردہ اور حضور علیہ السلام کے وسیلہ اقدس سے مل رہا ہے کیونکہ اس کائنات کی ہر شے اللہ تعالیٰ کی مخلوق ہے اور حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی امتی ہے۔ آپ کی امت میں مسلمان ”امت اجابت“ غیر مسلم ”امت دعوت“ ہیں دوسری مخلوقات مثلاً جن، حیوانات، پرندے درندے، دریا، سمندر، پہاڑ غرض ہر چیز میرے آقا کی امت میں ہیں اور آپ کے مقام مرتبے اور شان نبوت کو جانتے اور پہنچاتے اور مانتے ہیں۔ جب سے یہ دنیا بنی ہے زندگی کے ہر موڑ پر رسول نے ہدایت ربانی سے آگاہ کیا۔ اب زندگی اپنا سفر کافی طے کرچکی ہے۔ میں اجتماعی حوالے سے بھی بات کر رہا ہوں اور ذاتی حوالے سے بھی۔ اجتماعی حوالے سے کہا جاتا ہے کہ اس دور میں انسانیت اپنی تہذیب کے عروج یعنی Civilisation Peak of پر ہے مانا کہ دنیاوی ترقی اور مادی عروج کے حوالے سے انسان بہتر سہولیات کے ساتھ زندگی بسر کر رہا ہے زندگی میں انسان کو ممکنہ حد تک تمام سہولتیں میسر ہیں، پرندوں کی طرح ہواؤں میں اڑ سکتا ہے۔ مچھلیوں کی طرح پانی کی تہوں میں طویل عرصہ تک تیر سکتا ہے۔ کائنات کی وسعتوں میں کمندیں ڈالنے کی کوشش کر رہا ہے۔ خلاؤں میں پہنچ کر اسے تسخیر کر رہا ہے۔ چاند سے آگے بڑھ کر اب مریخ پر قدم جمانے کا منصوبہ بنا رہا ہے لیکن کیا وہ اندر سے بھی مطمئن ہے ؟ کیا اس کے ”مشن“ کو بھی سکون مل گیا ہے ؟ نہیں نہیں ہرگز نہیں۔
ڈھونڈنے والا ستاروں کی گزر گاہوں کا
اپنے افکار کی دنیا میں سفر کر نہ سکا
اسے سکون کہاں ملے گا ؟ اسے قرار کہاں آئے گا ؟ اسے پناہ کہاں ملے گی ؟ اس کا صرف اور صرف ایک ہی راستہ ہے کہ اس ”شہر علم“ کی طرف اپنے قلب و روح کی ساتھ سفر کرنا ہوگا۔ ”مدینتہ العلم“ کے دروازے سیدنا علی المرتضیٰ سے گزارش کرنا ہوگی پھر وہ آنے والے کو سیدنا محمد الرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے قدموں تک پہنچائیں گے اور میرے آقا علیہ الصلوة و السلام راہ حق کے ہر سالک اور ہر طالب کو رب تعالیٰ کی معرفت کی لذت سے آشنا کر دیتے ہیں۔ اور اس طرح انسانیت کو قرار آ جاتا ہے زندگی کی حقیقت کے راز کھلتے ہیں اور پھر اقبال جیسا کوئی ”دانائے راز“ اس راز سے پردہ یوں اٹھاتا ہے:
نہ جہاں میں کہیں اماں ملی جو اماں ملی تو کہاں ملی
مرے جرم خانہ خراب کو ترے عفو بندہ نواز میں
ذاتی حوالے سے بھی زندگی بہت گزر چکی ہے کیونکہ اب میں دسمبر میں زندگی کے 55 سال پورے کر رہا ہوں۔ لوگ سالگرہ ہنستے کھیلتے تحفے وصول کرتے اور عمدہ کھانا کھانے سے تعبیر کرتے ہیں لیکن اپنا انداز وہی رہتا ہے جو بچپن میں ایک شعر سننے کے بعد پیدا ہونے والی کیفیت میں ہوا تھا۔
ناداں تجھے گھڑیال یہ دیتا ہے منادی
گردوں نے گھڑی عمر کی اک اور گھٹا دی
الحمد اللہ تعالیٰ بچپن سے لے کر پچپن تک کوتاہیوں کجیوں، کمیوں اور خامیوں کے باوجود ایک آرزو ہمیشہ زندگی کا مقصد رہی۔ وہ آرزو حفیظ تائب کے بقول:
رہی عمر بھر جو انیس جاں وہ بس آرزوئے بنی رہی
کبھی اشک بن کے رواں رہی کبھی درد بن کے دبی رہی
وہ سدا کا مہر منیر ہے طلب اس کی نور ضمیر ہے
یہی روزگار فقیر ہے یہی التجائے شبی رہی
سوال پھر وہی ہے کہ زندگی کیا ہے ؟ کسی نے اپنے اپنے انداز میں سوچنے سمجھنے کی کوشش کی غالب جیسا الفاظ کا جادوگر تھک ہار کر بالآخر یہ کہتا ہے:
زندگی کیا ہے عناصر کا ظہور ترکیب
موت کیا ہے انہی اجزا کا پریشاں ہونا
اقبال نے اسے کچھ بیان کیا
موت کو سمجھے ہیں غافل اختتام زندگی
ہے یہ شام زندگی صبح دوام زندگی
میرے نزدیک اقبال کے فکر و فن کی معراج اس دنیائے رنگ و بو کے حوالے سے لازوال شعر ہے جس کا مفہوم شعروں میں اپنے انداز سے میں نے یوں بیان کیا:
اس جہان رنگ و بو میں جس کو بھی تھی جستجو
ان کی خاک پاکو پانا تھا سب ہی کی آرزو
جو کو کچھ بھی ملا وہ سب ہے نور مصطفےٰ
یا ابھی تک ہے یہ دنیا در تلاش مصطفےٰ
اقبال نے کہا تھا:
ہر کجا بینی جہان رنگ و بو
آنکہ از خاکش بردید آبرو
یاز نور مصطفےٰ اور ابہا ست
یا ہنوز اندر تلاش مصطفےٰ است

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں