آپ آف لائن ہیں
منگل7؍ محرم الحرام 1440 ھ18؍ستمبر 2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
حسب و نسب اور اپنے آباؤ اجداد کی کھوج برطانیہ والوں کا بڑھتا ہوا مشغلہ ہے۔ لاکھوں لوگ مختلف ڈیٹا بیس Database کے استعمال سے اپنے خاندان کی جڑیں تلاش کرتے ہیں۔ مردم شماری اس تک پہنچنے کا ایک اہم ذریعہ ہے۔ 1841ء میں برطانیہ میں پہلی دفعہ مردم شماری کی گئی۔ اس میں نام،عمر، خاندان کے سربراہ کے ساتھ تعلق، جنس پیشہ، جائے پیدائش، ملازمت اور صحت اور طبی احوال کا حساب لگایا جاتا ہے۔ ساتھ میں مذہبی عقائد اور جنسی رجحانات پر بھی سوال موجود ہوتے ہیں۔ اس دفعہ 2011ء میں ہونے والی مردم شماری نے کئی چونکا دینے والے انکشافات کئے ہیں، لندن جیسے شہر میں گورے اقلیت بن گئے ہیں۔ بزنس میں کمپنیوں کی حصص کی مارکیٹ میں عام طور پر کہا جاتا ہے کہ جس کے حصص (Share) 51 % ہوجائیں۔ وہ اس کمپنی کا نظم و نسق سنبھالنے کا حق دار بن جاتا ہے۔ یہاں تو گورے 45% اور دوسرے 55% کا معاملہ ہوچکا ہے۔ تو کیا برطانیہ میں گوروں کی گرفت کمزور پڑ رہی ہے۔ اور کیا یہ پیش گوئی کی جاسکتی ہے کہ اگر اس رفتار سے گورے کم ہوتے گئے تو آئندہ چالیس سے پچاس برسوں میں برطانیہ پر امیگرنٹس کا راج ہوگا۔ امریکہ میں Spanish لوگوں کی طرح یہ بھی خود مقامی کہنا شروع کردیں گے اور سفید فام (گورے) اسی طرح اپنے حقوق اور شناخت کی جنگ لڑ رہے ہونگے جس طرح آج تیسری دنیا میں اقلیتیں اپنے حقوق کی جنگ لڑ

رہی ہیں۔ اس مردم شماری کے نتائج گمراہ کن ہوسکتے ہیں اگر ہم نے تمام یوکے سے باہر پیدا ہونے والوں کو امیگرنٹس میں شمار کرلیا۔ کیونکہ یہاں ایسے لوگوں کی تعداد لاکھوں میں ہے جو اس مردم شماری میں شمار تو کئے گئے ہیں لیکن وہ کسی کمپنی کے ورکر یا ملازم ہیں یا یہاں کسی کاروبار کے سلسلے میں آئے ہوئے ہیں، اسی طرح کے یو کے سے باہر کام کرنے والے گوروں کی تعداد بھی لاکھوں پر محیط ہے جو ہیں تو برٹش لیکن برسہا برس سے کام یا رہائش کے سلسلے میں برطانیہ سے باہر مقیم ہیں۔ لیکن اس عددی حساب کتاب سے مستقبل کا رحجان متعین کرنا اتنا آسان نہیں جتنا کہ لوگوں کے ذہنی رحجانات اور سوچ میں تبدیلی کا جائزہ لینے سے پتہ چلتا ہے۔ اس حالیہ مردم شماری میں مذہب و مذہبی رحجانات کے حوالے سے دلچسپ اعداد و شمار منظر عام پر آئے ہیں۔ برطانیہ آج امریکہ کے برعکس سرمایہ دارانہ دنیا میں سب سے زیادہ تیزی سے لامذہبیت کی جانب راغب ملک ہے۔ گو کہ ترک مذہب کا رحجان امریکہ میں بھی تیزی سے بڑھ رہا ہے۔ لیکن وہاں کے سروے بتاتے ہیں کہ ابھی تک 20 فیصد آبادی نے مذہبی اعتقادات سے لاتعلقی کا اظہار کیا ہے۔ جب کہ برطانیہ میں یہ تعداد 25 فیصد تک جا پہنچی ہے۔ اور مذہبی رجحان کے حوالے سے یہ تعداد 32 فیصد ہے۔ جو کہ ہالینڈ میں 49 فیصد اور سویڈن میں 43 فیصد ہے۔ پھر بھی ان تمام ممالک کے سیاستدان مذہبی لوگوں سے دباؤ محسوس کرتے ہیں۔ کیونکہ مذہبی حلقہ منظم بھی ہے۔ اور زیادہ آواز اٹھانے کی صلاحیت بھی رکھتا ہے۔ جبکہ کمیونٹی کے دوسرے حلقے ایشوز پر آواز اٹھانے اور مذہبی حلقوں سے زیادہ موثر ہونے میں کمزور ہیں۔ دوسری اہم بات یہ بھی ہے کہ مذہبی حلقے اور خدا کو ماننے والے برطانیہ میں یہ سمجھتے ہیں کہ لامذہب لوگوں کے پاس سوائے خدا کی مخالفت کے اور کچھ نہیں ہے او وہ اس نقطے کا ہر وقت پروپیگنڈہ کرتے رہتے ہیں۔ اتنے پروپیگنڈے کے باوجود برطانیہ میں نوجوان نسل میں لامذہبیت یا ترک مذہب کا جو رجحان بڑھ رہا ہے اس کی لہر آنے والے وقتوں میں تیزی پیدا ہونے کے زیادہ میلانات ہیں کیونکہ سرمایہ داری کی ناکامی اور بے بسی نے مذہب سے دوری کے رجحان کو تقویت دی ہے۔ اعداد و شمار میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ جو شہر اور آبادیاں اچھی یونیورسٹیوں کے قریب ہیں یا یونیورسٹیاں ان ٹاؤن یا شہروں کی پہچان ہیں۔ وہاں مذہب سے دوری کا رجحان زیادہ تیز ہے۔ ان میں 53 فیصد لوگ خود کو کرسچین تو کہتے ہیں لیکن حضرت عیسیٰ کو نہیں مانتے۔ نہ ہی چرچ جاتے ہیں۔ کسی بھی ملک کے لئے مردم شماری کے ذریعے ان رجحانات کو جاننا اس لئے بھی ضروری ہے کہ یہ سب کچھ جانے بغیر مستقبل کی صحیح پلاننگ نہیں ہوسکتی۔ کتنے فیصد لوگ کیا سوچ رکھتے ہیں۔ اور کن مخصوص علاقوں میں کس قسم کے لوگ رہتے ہیں۔ یہ جانے بغیر کوئی بھی منصوبہ بندی اور فنڈز کی تفویض اندھیرے میں تیر چلانے والی بات ہے۔ جس طرح 2001ء کی مردم شماری میں حاصل ہونے والے اعداد وشمار کے نتیجے میں Faith Schools کی تعداد میں اضافہ کیا گیا۔ تفریح گاہوں، لائبریریوں اور دیگر پبلک مقامات پر عبادت کے لئے جگہیں تفویض کی گئیں۔ اسکے علاوہ مذہبی تنظیموں کو پبلک سروس کے بہت سے کام سونپے گئے۔ ایسا ہم نے مساجد میں بھی دیکھا کہ لوکل کونسل اور حکومتی ادارے اپنی سپورٹ یا کسی ایشو پر رائے عامہ استوار کرنے کے لئے مساجد اور دیگر Ethic Community کی عبادت گاہوں کو استعمال کرتے ہیں۔ اور ایسے اداروں کو زیادہ مضبوط کرنے کے لئے زیادہ گرانٹس اور مالی معاونت کا کام بھی کر رہے ہیں۔ اسکے علاوہ ہم جنس پرستوں کی باہم شادی کے رجحان کی سپورٹ میں بھی اضافہ ہوا ہے۔ رضاکارانہ طور پر اپنی زندگی ختم کرنے کاحق استعمال کرنے کی بھی حمایت میں اضافہ ہوا ہے۔ یہ تمام ایسے سماجی رجحانات اور رویے ہیں۔ جو اس ترقی یافتہ دنیا میں ہی دیکھے جاسکتے ہیں۔ یہاں دلچسپ امر یہی ہے کہ ان رویوں میں ریاست اور سوسائٹی منافقت نہیں کر رہی۔ بلکہ جس طرح کا طرزِ زندگی دل میں رکھتے ہٰں اسکا اظہار بھی اسی طرح کر دیتے ہیں۔ جسکے بڑے فائدے ہیں کیونکہ ریاست ان معاملات میں خود کو فریق نہیں بناتی۔ بلکہ غیر جانبدار رہ کر رائے عامہ کی منشا کے مطابق مسئلے کا حل تلاش کرتی ہے۔ جس طریقے سے اورجن میلانات سے لوگ زندگی گزارنا چاہتے ہیں۔ اسکی اجازت دیتی ہے۔ اخلاقیات اور اقدار کا ماخذ بھی عوام کو ہی سمجھتی ہے۔ اور کسی قسم کا پہلے سے طے شدہ Divine formula لاگو نہیں کرتی۔ البتہ جو لوگ کمیونٹی کو کھلا اور آزاد نہیں دیکھنا چاہتے ان پر بھی کوئی پابندی نہیں ہے جوبھی ہوتا ہے جمہوری عمل سے گزر کے ایک شکل اختیار کرتا ہے۔ یہاں جمہوری عمل پارلیمنٹ کے پراسس سے گزر کے مکمل ہوتا ہے۔ اس رویے سے سوسائتی میں Harmony ختم نہیں ہوتی اور مختلف گروہ ایک دوسرے کو طاقت سے ختم کرنے کے درپے نہیں ہوتے۔ یہ برداشت اور درگزر کا رویہ یہاں گزشتہ چند صدیوں کی سرمایہ داری کے نتیجے میں پیدا ہوا ہے۔ گوکہ سرمایہ داری میں استحصال کا عنصر بڑا واضح اور مضبوط ہے لیکن سرمایہ دارانہ نظام بھی تیسری دنیا اور خصوصاً مسلم ممالک میں موجود سیاسی اور معاشی نظاموں سے کافی ایڈوانس اور آگے کی بات کرتا ہے۔ ہم اپنی ذہنی پسماندگی میں بیٹھ کے اس نظام کے سماجی معیار اور اقدار کو غیر اخلاقی اور گرا ہوا تو قرار دے سکتے ہیں بلکہ ہم ایسا کرتے ہی رہتے ہیں۔ لیکن اس ترقی یافتہ نظام میں رہ کر اپنے پسماندہ نظام کی خامیوں کو جانچنے کی سعادت سے محروم ہی رہیں گے۔ کیونکہ ایک ترقی یافتہ معاشرہ تو پسماندہ لوگوں کے ایشوز کو سمجھ سکتا ہے اور اسکا وہ جو بھی حل تجویز کریگا وہ بہرحال اپنے ترقی یافتہ تجربات کی روشنی میں ہی کریگا۔ جبکہ پسماندہ معاشروں کے پاس ایسی کوئی جادو کی چھڑی نہیں ہے۔ جس سے وہ ترقی یافتہ دنیا کے معیار اور رجحانات کا تجزیہ کرسکے۔ ماسوائے اسکے کہ یہ پسماندہ غیر ترقی یافتہ معاشرے معاشی سیاسی اور ذہنی طور پر ترقی کریں۔ پیچھے رہ گئی زندگی کو تیزی سے آگے بڑھائیں۔ اور فقط لیبل لگانے کی بجائے انسانی زندگی کی Diversity کو سمجھنے کی کوشش کریں۔ اسکے علاوہ کوئی اور راستہ نہیں ہے۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں