آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
ہفتہ 8 ؍ربیع الاوّل 1440ھ 17؍نومبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
بشیر احمد بلور شہید کے سانحہ پر بے شمار خبریں اور تعزیتی بیان آئے ہیں۔ میرا کالم اتوار کو چھپتا ہے جس کے لیے مجھے کالم جنگ کو دو تین دن پہلے بھیجنا پڑتا ہے، اس لیے اتوار مورخہ 23 دسمبر 2012 کو حسب ضابطہ چھپ گیا۔ بلور صاحب شہید کی پہلی خبر ٹی وی پر جمعہ 21 دسمبر 2012 شام آئی تھی۔ صرف خبر تھی جبکہ وہ شہید بھی جمعہ کے دن ہوئے ہیں۔ پھر ٹی وی کی خبر رساں ایجنسی مقیم پشاور میں ایسی ایسی تفصیل کی خبریں بھیجی ہیں۔
یقیناً یہ ایک بڑا قومی سانحہ ہے اور ان کے ساتھ آٹھ آدمی اور شہید ہوئے ہیں اور سترہ زخمی، اس لئے اس کی اہمیت اور بھی بڑھ جاتی ہے۔ ہفتہ بتاریخ 22 دسمبر 2012 ٹی وی نے شام کے خبرنامے میں بے شمار متعلقہ خبریں نشر کیں اور ساتھ ہی نیچے سطریں اطلاعات بنتی رہتی ہیں۔ ان کے ذریعے بھی بہت کچھ بتاتا رہا۔ آج کل میرا ہاتھ چل نہیں سکتا ہے پھر بھی میں نے کچھ نوٹس لئے ہیں۔ پھر ٹی وی نے کل اتوار 23 دسمبر 2012 کی شام جنازے اور تدفین کے بڑے تفصیلی اور بڑے دلدوز مناظر بھی دکھائے۔ میں نے کچھ اہم بیانات کے اختصارات بھی نوٹ کیے کیونکہ خیال تھا ان کو اس کالم میں دوہراؤں گا مگر دیکھتا ہوں کہ بے شمار اہم بیانات ہیں جو روزنامہ جنگ میں نقل ہو رہے ہیں (اور ہوتے رہیں گے) چنانچہ میں وہ نہیں دوہرا رہا۔
ٹی وی کی تعریف کرنی چاہئے کہ اس نے عظیم شہید

مرحوم کے بارے میں بڑا اچھا رویہ اپنایا۔ کسی روایتی اختصار سے کام نہیں لیا۔ خدا کرے قومی ہیروز کے بارے میں اس کا رویہ یہی رہے (جس میں اکثر خاصی کمی نظر آتی ہے)۔
میں شہید اعظم کے بھائی جناب غلام احمد بلور کو بہ نظر تحسین دیکھتا ہوں کہ انہوں نے دہشت گردوں سے لڑتے رہنے کا عزم ظاہر کیا۔ اسی طرح جناب اسفند یار ولی خان کے احساسات شائع ہوئے ہیں۔ عظیم بلور شہید کا یہ فقرہ یقیناً بڑی فلسفیانہ اہمیت کا حامل ہے کہ جس قبر میں سونا ہے تو سونا ہی ہے۔ اس سے ایک عظیم مزاج سپاہی کا ایمان جھلکتا ہے۔ تین دن کا قومی سوگ بھی وزیراعظم پاکستان کی دانش و فہم کا اور شہید بلور کی قومی اہمیت دل سے تسلیم کرنے کا ثبوت ہے۔ لندن میں مقیم ایم کیو ایم کے رہنما برادرم الطاف حسین کے تعزیتی بیان کے ساتھ یہ ایک فقرہ بڑی اہمیت رکھتا ہے کہ دہشت گردوں سے لڑنے میں ان کی پارٹی فوج کا ساتھ دے گی۔
معذرت کے ساتھ… جناب غلام احمد بلور نے یہ کہا ہے کہ دشمن کی گولیاں ختم ہو جائیں ہمارے سینے ختم نہیں ہوں گے۔ جذبات کا دباؤ اپنی جگہ مگر ان کا ایسی بات کہنا ضروری نہ تھا۔ خدانخواستہ ہمارے سینے ہمیشہ کیوں دہشت گردوں کا شکار ہوتے رہیں گے۔ فرض کریں وہ پانچ ہزار گولیاں چلاتے ہیں تو کیا ہم ان کو ان سب کے لیے اور مزید سینے پیش کر دیں؟ ہر گز نہیں۔ بلور صاحب کا سینہ اللہ تا عمر سلامت رکھے۔ ہمیں تو دہشت گردوں کا قلا قمع کرنے پر ہی زور دینا چاہیے۔ پاکستان وزیراعظم لیاقت علی خان شہید اور ان کے بعد کے شہیدوں کا بھی پاکستان ہے، لیکن اب یہ بشیر احمد بلور شہید کا پاکستان کہلائے گا۔ بشیر احمد شہید پاکستان کی علامت بن چکے۔ ایک یک سطری دھمکی کل ٹی وی پر یہ دیکھی کہ دہشت گرد کہتے ہیں کہ ہم پاکستان کو ختم کرکے رہیں گے اور اپنے موقف سے ایک انچ پیچھے نہیں ہٹیں گے۔ وہ جو بھی بکواس کریں بلور شہید نے ایک بار پھر ثابت کر دیا کہ پاکستان ٹوٹ نہیں سکتا۔
صحت پاتے ہی میں کچھ اور بھی لکھوں گا، فی الحال تو اس سے زیادہ ڈکٹیٹ بھی نہیں کروا سکتا۔ معافی۔ لیکن ایک آدھ گزارش کردینے کے بوجھ سے نجات نہیں پا سکتا وہ یہ کہ ہمارے ماشاء اللہ اتنے بڑے اور خاصے Budgets رکھتے ہوئے ملک میں اب تک ان دہشت گردوں کا سراغ لگا کر ان کا قلا قمع کیوں نہیں کر سکتے۔
بہرحال اب مرکزی حکومت کو تمام ممکنہ مرکزی اور صوبائی ذرائع کی تمام طاقتیں اور جس قدر ممکن ہو وسائل جمع کرتے ہوئے ……جن میں فوج شامل ہے، دہشت گردوں کے خلاف ایک بہت بڑے آپریشن کا آغاز کر دینا چاہیے۔ مجھے سینیٹر پرویز رشید کا یہ فقرہ برا لگا کہ اب بھی ہماری سیاسی قوتیں متحد نہ ہوں گی۔ کیوں متحد نہ ہوں گی؟ وہ جیسی بھی ہیں مجھے بھی معلوم ہے لیکن وہ محب وطن پاکستانی بھی ہیں۔ کیا وہ اتنے عظیم شہید کی قربانی کو صرف ایک بڑی خبر سمجھ کر کچھ ماتمی مراسم ادا کرتے ہوئے اپنی اپنی اختلافی سیاست میں مصروف رہیں گی۔ جی نہیں۔ اگر ان سب نے اس وقت قومی اتحاد نہ کیا تو تاریخ انہیں بدترین الفاظ سے یاد کرے گی۔ دوسری بات یہ کہ آخر دہشت گرد بالآخر کہاں چھپ جاتے ہیں۔ پہاڑی علاقوں کا ذکر آتا ہے۔ کیا ہماری تمام پولیس فورس اور انٹیلی جنس بیورو اور فوج ان تمام مبینہ پہاڑی پناہ گاہوں کو سنبھال نہیں سکتے۔
اگر خدانخواستہ دہشت گرد کسی ہمسایہ ملک میں جا کر پناہ لیتے ہیں اور ہم اس بات کا ذرا ثبوت بھی حاصل کر لیں تو ہم ان ہمسایوں سے بھی رابطہ کر سکتے ہیں۔ اگر ہمسائے مناسب جواب نہ دیں تو ہم انہیں سیکورٹی کونسل میں لے جا سکتے ہیں۔
سب اہل خاندان، اہل پشاور، اہل خیبر پختونخوا اور پورے پاکستان کی خدمت میں شہیداعظم بشیر بلور اور دوسرے آٹھ مقتولین شہید کے حوالے سے یہ تعزیت حاضر ہے۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں